ایک طرف توہندوستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں غربت کو ہی واحد مسئلہ مان کر اس سے نمٹنے کے لئے موثر قدم اٹھانے جیسے دعوے کئے جا رہے ہیں ، وہیں دوسری طرف غذائی سیکورٹی کی ایک نئی رپورٹ نے یہ ثابت کیا ہے کہ دولت ، غربت سے بھی زیادہ مہلک ہو سکتی ہے. انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈکرےسےنٹ سوسائٹی کی طرف سے جاری عالمی ڈےزاسٹرس رپورٹ کے مطابق فی الحال دنیا میں مکمل یا جزوی فاقہ کشی کے شکار لوگوں کی تعداد 92 کروڑ 50 لاکھ ہے ، جبکہ تقریبا ڈیڑھ ارب لوگ بیماری کی حد تک پہنچے موٹاپے کے شکار ہیں. اتنا ہی نہیں ، اس رپورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک سال میں بھوک سے مرنے والے 10 لاکھ افراد کی نسبت تقریبا 15 لاکھ لوگوں کی موت موٹاپے سے متعلق مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہوئی ہے. پیش اعداد و شمار پر غور کیا جائے تو بے شک یہ حالت ایک بڑی مشکل کی طرف اشارہ کر رہی ہے. قابل ذکر ہے کہ نوے کی دہائی میں گلوبلائزیشن جیسی پالیسیوں کےہندوستان آمد سے ہندوستانی لوگوں کے اقتصادی حالات میں تو بہتری آئی ہے لیکن ان کی طرز زندگی اور عادات پر بھی بہت گہرا اثر پڑا ہے. پچھلے کچھ عرصے میں ہندوستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں اچانک آئی فراغت کی وجہ سے لوگوں کی طرز زندگی منفی طریقے سے متاثر ہوئی ہیں. ان نئی اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے تیزی سے ابھرےمڈل کلاس کی طرز زندگی میں پےزا، برگر جیسے جنک فوڈ نے اپنی جگہ بڑی آسانی سے بنا لی ہے لیکن مقابلہ آج کی بھاگتی چلتی طرز زندگی میں وقت کی کمی کی وجہ سے جسمانی ورزش کے لیے وقت نکال پانا ایک چیلنج بن کر ابھرا ہے جس کے نتیجے میں آسانی سے کم وقت میں بننے والے ان فاسٹ فوڈ ، جن میں کےلوری کی مقدار بھرپور ہوتی ہے ، کا مسلسل استعمال کرنے سے جسم میں چربی کی مقدار بڑھنے لگتی ہے اور آخر میں کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے. سکے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایک طرف تو غلط اور انتہائیگھٹےا کھانا کھانے سے لوگوں کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے ، وہیں malnutritionسے مرنے والے لوگوں کی موت کی شرح میں بھی دن بدن اضافہ ہوتا جا رہی ہے. ایکبارگی ترقی پذیر ممالک میں جنک فوڈ جیسا مہنگا اور انتہائی کھانا کھانے سے ہونے والی اموات در کو فاقہ کشی یاmalnutrition موت کی شرح سے باہمی تعلق کرنا تھوڑا اٹپٹا لگے لیکن ورلڈ ڈیزاسٹر کی اس رپورٹ نے ترقی پذیر ممالک میں غذائی اجناس کی کمی کو درکنار کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ فاقہ کشی سے مرنے کی براہ راست وجہ خوردنی اشیاءکی نامناسب اور خراب تقسیم ہے.ہندوستان جیسے ملک میں جہاں زراعت کو مضبوط بنانے کے لئے نئے نئے طرےقے استعمال ہوتے رہتے ہیں ، اتنا ہی نہیں ضرورت پڑنے پر درآمد کرنے کا انتظام بھی کیاجاتا ہے ، ایسے ملکوں میں بھوک سے مرنا فطری نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی ہے.غذائی اجناس کی مناسب مقدار ہونے کے باوجود غریب اورکم آمدنی والے طبقات کے لوگوں کی خوراک تک پہنچ دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف تو بڑھتی مہنگائی اور دوسری طرف خوردنی اشیاءکی کالابازاری ، اسمگلنگ وغیرہ کئی ایسی غیر اخلاقی اور غےرسماجی سرگرمیاں ہیں جن کے وجہ سے معاشرے میں عدم مساوات اور گہری ہوتی جا رہی ہے. غریب اور غریب ہوتے جا رہے ہیں ، لیکن دولتمند اور خوشحال لوگ مسلسل ترقی کر رہے ہیں. عام طور پر یہی دیکھا جاتا ہے کہ امیر طبقے کے لوگ موٹاپے کے زیادہ شکار ہوتے ہیں ، جس کا سبب یہ ہے کہ نہ تو وہ اپنےکھانے پےنے میں کسی طرح کی احتیاط برتتے ہیں اور نہ ہی جسمانی محنت کو اہمیت دیتے ہیں. ان کا ماننا ہے کہ جتنا مہنگا اور ماڈرن کھانا کھائیں گے ، سماجی وقار اتنا ہی بڑھتا ہے اور مادی وسائل کی مطابقت ہونے کی وجہ سے انہیں جسمانی محنت بھی زیادہ نہیں کرنا پڑتا. فاقہ کشی ہو یا موٹاپا ، دونوں ہی مسائل کی جڑ بازارواد اور لبرلزم نظام میں پنہاں ہے جس نے معاشرے میں غریب اور امیر کے درمیان کی گہرائی کو بڑھا دیا ہے.ہندوستان میں تو یہ صورت حال دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اپنے پاو ¿ں پسار رہی ہے. ایسے میںغذائی اجناس کی تقسیم میں عدم توازن ہونا فطری ہے. نئی اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے جہاں غریب اور بے سہارا لوگوں کو کم از کم کھانا بھی حاصل نہیں ہو پا رہا ہے وہیں روپیہ دولت سے لیس ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ضرورت سے زیادہ ذرائع کا فائدہ اٹھا رہا ہے. اس رپورٹ کی بنیاد پر یہ کہنا قطعی غلط نہیں ہوگا کہ بھلے ہی انتہائی غربت اور فاقہ کشی جیسے مسائل ایکسنگےن صورتحال احتےارکئے ہمارے سامنے موجود ہےں ، لیکن دولت کی وجہ سے موٹاپے کے مسئلے کو بھی کم نہیں مانا جا سکتا. خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کواےسے قوانےن نافذ کرنے چاہئےں جس کی وجہ سے اس کھائی کو پاٹا جا سکے۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
सुशासन की त्रासदी
मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...
-
عظیم فن کار کندن لال سہگل کی مقبولیت ہر کوئی خاص وعام میں تھی، لیکن منگیشکر خاندان میں ان کا مقام علیٰحدہ تھا۔ اس گھر میں صرف اور صرف سہگل ...
-
अहमदाबाद। पूरी दुनिया को अपनी जादूगरी से हैरान कर देने वाले और विश्व प्रख्यात जादूगर के. लाल अब अपने जीवन का अंतिम शो करने जा रहे हैं। ...


No comments:
Post a Comment