Monday, October 10, 2011

جگجےت سنگھ:جانے وہ کون سا ملک ہے جہاں تم چلے گئے۔۔۔۔


جانے مانے غزل گلوکار جگجیت سنگھ کاانتقال ہو گیا ۔ وہ 70 سال کے تھے۔ جگجیت سنگھ کو برین ہےمرےج کی وجہ سے ممبئی کے لےلاوتی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انہوں نے آخری سانس لی۔ہندوستان میں سالوں تک غزل گائیکی کا چہرہ بنے رہے جگجیت سنگھ کے چاہنے والے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے تھے۔ جس دن سنگھ کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا اس دن شام کو وہ پاکستان کے نامور غزل گلوکار غلام علی کے ساتھ ایک مشترکہ پروگرام مےں حصہ لےنے والے تھے۔ ہندی ، اردو ، پنجابی ، بھوجپوری سمیت کئی زبانوں میں گانے والے جگجیت سنگھ کو سال 2003 میں حکومت ہندکے اعلی شہری اعزازوں میں سے ایک ’پدم بھوش‘ سے نوازا گیا ۔ جگجیت سنگھ کو عام طور پر ہندوستان میں غزل گائیکی دوبارہ رائج کرنے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ جگجیت سنگھ ان چند مخصوص لوگوں میں سے ایک تھے جنہوں نے 1857 میں ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف ہوئے غدر کی 150 ویں سالگرہ پر آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی غزل پارلیمنٹ میں پیش کی تھی۔ 
موسیقی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور یہی بات جگجیت سنگھ پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ ہندوستان کے علاوہ پاکستان میں بھی ان کے چہےتوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ یہ کیسا اتفاق ہے کہ جس دن جگجیت سنگھ کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ، اس دن ممبئی میں پاکستان کے غزل گلوکار غلام علی کے ساتھ انہیں ایک کنسرٹ میں حصہ لینا تھا۔جگجیت نے غلام علی سمیت کئی دیگرغزل گلوکاروں کے ساتھ کنسرٹ میں حصہ لیا۔ بھلا کوئی کیسے بھول سکتا ہے جب جگجیت نے غزلوں کے شہنشاہ مہدی حسن کے علاج کے لئے تین لاکھ روپے کی مدد کی۔ ان دنوں مہدی حسن صاحب کو پاکستان کی حکومت تک نے نظر انداز کر رکھا تھا۔ہونٹوں پر سدا رہنے والی ایک مسکان ، درد سے لبریز آنکھیں اور ریشم سی ملائم آواز۔ ایکچہرہ جو یادوں کی فریم میں درج ہو چکاہے۔ 80-90 کی دہائی کی ایک پوری نسل نے ان کی غزلوںکے ساتھ اپنے جذبات کو محسوس کیا ، بات چاہے پہلے پیار کی ہو ، خط کی ہو ، جدائی کی ہو یا بے وفائی کی۔ بیگم اختر ، نور جہاں ،ملےکا پوکھراج ،طلعت محمود، مہندی حسن ، غلام علی کی غزل گائیکی اسٹائل کے دور میں جگجیت سنگھ کی گلوکاری کی طرز نے غزل کو نئے زاوےے دیئے۔ ایک ایسے دور میں جہاںغزل مرکی ، آلاپ ، تانوں کے ذریعہ پیش کی جاتی تھی وہاں جگجیت سنگھ نے غزل کے الفاظ لوگوں تک پہنچائے۔ آوازکی پےچےدگی سے بچتے ہوئے براہ راست دھڑکنوں کا گیت گایا۔ یہی وہ بات تھی جس نے انہیں ہر دل میں بسا دیا۔ کلاسیکل موسیقی سے بھاگنے والے نوجوانوں کے دلوں پر وہ چھا گئے اور ہر طبقے کی پسند بن گئے۔ جگجیت سنگھ نے اپنا پرچم ایسے وقت لہرایا جب 70 کی دہائی میں نور جہاں ، ملےکا پوکھراج ، بیگم اختر ،طلعت محمود ، مہندی حسن غزل کی دنیا میں چھائے ہوئے تھے۔ 8 فروری 1941 میں شری گنگانگر راجستھان میں پیدا ہوئے جگجیت سنگھ نے تقریبا 80 البم بنائے۔ چار بہنوں اور دو بھائیوں کے خاندان میں انہیں جیت بلایا جاتا تھا۔ پیدائش کے بعد ان کے خاندان والوں نے ان کا نام جگموہن رکھا تھا جو بعد میں خاندانی لوگوں کے مشورہ پر تبدیل کر کے جگجیت کر دیا گیا تھا۔
والد سردار امر سنگھ دھمانی حکومت ہند کے ملازم تھے۔ جگجیت کا خاندان بنیادی طور پر پنجاب کے روپڑ ضلع کے دلا ّگاو ¿ں کا رہنے والا ہے۔ ماں بچن کور پنجاب کے ہی سمرلاّ کے اٹالن گاو ¿ں کی رہنے والی تھیں۔جگجیت کا بچپن کا نام جیت تھا۔موسیقی کی تعلیم انہوں نے سےنےا گھرانے کے استاد جمال خان سے لی۔جگجیت سنگھ کی ابتدائی تعلیم گنگانگر کے خالصہ اسکول میں ہوئی اور بعد پڑھنے کے لئے جالندھر آ گئے۔ ڈی اے وی کالج سے گریجویشن کی ڈگری لی اور اس کے بعدکروکشےتر یونیورسٹی سے تاریخ میں پوسٹ گریجویشن بھی کیا۔والد کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹاآئی اے ایسبنے لیکن جگجیت پر گلوکار بننے کی دھن سوار تھی۔بچپن میں اپنے جگجیت کو والد سے موسیقی وراثت میں ملا۔ گنگانگر میں ہی پنڈت چھگن لال شرما کی چھاےا میں دو سال تک کلاسیکی موسیقی سیکھنے کی شروعات کی۔ آگے جاکر سےنےا گھرانے کے استاد جمال خان صاحب سے خیال ، ٹھمرو اور دھروپد کی بارےکےاں سےکھےں۔ ان کی آواز دل کی گہرائیوں میں ایسے اترتی رہی گویا نغمے اور سننے والے دونوں کے دل ایک ہو گئے ہوں۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک مقبول کیفے’چائے کھانا‘ میں جگجیت سنگھ کی غزلےں خوب مقبول ہے۔ برین ہےمرےج ہونے کے بعد کیفے میں آنے والے لوگوں نے جگجےت سنگھ کے جلد ٹھیک ہونے کی دعا کی تھی۔ ان کی بیماری کے بعد سے’چائے کھانا‘ کیفے کی ہر میز پر خصوصی پیپر میٹ رکھے گئے تھے۔ ان میں سنگھ کے لیے دعاکرنے سے متعلق سطریں لکھی تھیں۔ان پر سنگھ کی تصویر کے ساتھ ایک پیغام بھی لکھا تھا۔ اس کے مطابق ، ’تقریبا 80 البموں اور لا تعداد گانوں کے ساتھ ، سنگھ کوہندوستان کے تیسرے سب سے بڑے شہری اعزاز ’پدم بھوشن ‘سے نوازا گیا۔ ان کی حالت بہت نازک ہے۔ چائے کھانا ان کے جلد ٹھیک ہونے کی دعا کرتا ہے۔
‘جگجیت سنگھ سالوں تک اپنے بیوی چترا سنگھ کے ساتھ جوڑی بنا کر گاتے رہے۔ دونوں شوہر بیوی نے مل کر کئی بے مثال غزلےں پیش کی ہیں۔ جگجیت سنگھ نے لتا منگیشکر کے ساتھ ایک خاص البم’ سجدہ‘پیش کیا جو بہت ہی مقبول ہوا۔ اس کے علاوہ فلم ساز، مصنف ،شاعر گلزار کے ساتھ بھی جگجیت سنگھ نے خوب کام کیا۔ جگجیت سنگھ گلزار کی رہنمائی میں بنے ٹی وی سیریل’ مرزا غالب‘ میں مرزا غالب کی مخصوص غزلوں کو اپنی آواز دی۔ اس سیریل میں گائے گئے سنگھ کے نغمے بہت ہی مقبول ہوئے اور کئی دہائیوں بعد بھی ےہ البم شائقین کی پسند بنے رہے۔ گلزار کی طرح مشہور شاعر جاوید اختر کے ساتھ مل کر اپنے چاہنے والوں کو ایکخاص البم ’سوز‘ دیا۔ بعد کے سالوں میں سنگھ نے بھجن گانے ، نغمے شروع کئے جو کہ ان کی غزلوں ہی کی طرح ہاتھوں ہاتھ لئے گئے۔ جگجیت سنگھ کے بارے میں بہت ہی کم لوگوں کو یہ پتہ تھا کہ موسےقی کا یہ شہزادہ گھڑسواری کا بہت ہی شوقےن تھا۔ جگجیت نہ صرف گھوڑے پالتے تھے بلکہ ان کے گھوڑے دوڑوں میں حصہ بھی لیتے تھے۔ جگجیت سنگھ نے گھوڑوں کی دیکھ بھال اور ان کی تربیت کے لئے باقاعدہ کئی لوگوں کی خدمات لے رکھےں تھیں۔
1981 میں رمن کمارکی ہداےت مےں بنی فلم’پرےم گےت‘ اور 1982 میں مہیش بھٹ کی ہدایت مےں بنی فلم’'ارتھ‘ کو بھلا کون بھول سکتا ہے۔’ارتھ‘ میں جگجیت جی نے ہی موسیقی دی تھی۔ فلم کا ہر گانا لوگوں کی زبان پر چڑھ گیا تھا۔جگجیت سنگھ نے فلم دشمن میں دل کو چھو لینے والا بے حد جذباتی کر دینے والا گانا گایا تھا۔ اس نغمے کی دھن تھے ”خط نہ کوئی پیغام۔۔۔ جانے وہ کون سا ملک ہے جہاں تم چلے گئے.... آج جگجیت جی بھی ہم سب کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر اسی جگہ چلے گئے ہیں جہاں سے وہ اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ یاد آئیں گے وہ اور ان کی آواز میں گائے ہوئے سدا بہار نغمے۔ کروڑوں سننے والوں کے چلتے سنگھ صاحب کچھ ہی دہائیوں میں جگ کو جیتنے والے جگجیت بن گئے۔















No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...