ایک کے بدلے ہزار ! یہ وہ فارمولہ ہے جس نے فلسطینیوں کی زندگی میں قیام اسرا ئےل کے بعد پہلی بار خوشی کا رنگ بھردیا۔ تب ہی تو غزہ پٹی میں جشن کا ماحول ہے۔فلسطینی خوشی سے پھولے نہیں سمارہے ہیں۔ پہلی بار ایک اسرائلی فوجی قیدی کے عوض ایک ہزار فلسطینی قیدی رہا ہوئے ہیں۔ گو ابھی غزہ پٹی میں محض اسرائل477 فلسطینی اسرائےلی جیلوں سے رہا ہوکر پہونچے ہیں لیکن جلد ہی تقریباً 600فلسطینی قیدی اسرائلی قید وبندسے آزاد ہوکر غزہ پٹی پہونچ جائےں گے اور یہ اسلئے ممکن ہواکہ حماس نے سن 2006میں ایک نوجوان اسرائےلی قیدی کو گرفتار کرلیاتھا۔ اسکی رہائی کے لئے اسرائل کو حماس کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور اسکو ایک ایسا قیدی آزاد کروانے کے بدلے ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا پڑا۔ان فلسطینی قیدیوں میں جو اسرائےل کے قید وبندسے رہاہوکر غزہ پٹی واپس آئے ہیں ایسے افراد ہیں جو برسہابرس سے اسرائےل کی قید میں تھے۔ مثلاً، ان قیدیوں میں ایک 49برس کے یحیٰ منور ہیں جو پچھلے 25برس سے اسرائےل میں قید تھے۔ در اصل یحےیٰ حما س کی قاسم برےگیڈ کے ہاتھوں میں تھے۔ یہ حماس کا وہ دور تھا کہ جب اسکے پاس ڈھنگ سے اسلحے بھی نہ تھے۔ در اصل حماس کو قائم ہوئے محض ایک ماہ گزراتھا ۔ےحےٰی اسوقت چاقو اور اسی قسم کے معمولی ہتھیاروں سے اسرائےلےوں سے لڑنے کی ٹرےننگ لے رہے تھے کہ یکا یک ایک روز اسرائےل فوجی یحیٰ کو اٹھا کر لے گئے اور اسکو عمر قید کی سزاہوگئی۔ آج کوئی 25 برس بعد یحےیٰ جب واپس غزہ پٹی لوٹ کر آئے ہیں تو انکو یقین نہیں آرہا ہے کہ فلسطین اتنا بدل چکا ہوگا۔ اب حماس کے پاس نہ صرف بندوقیں ہیں بلکہ فلسطےن میزائل تک سے لےس ہے۔ آج کا غزہ ایک دوسرا ہی غزہ ہے۔ گو وہ ابھی بھی اسرائل کی غلامی کا شکار ہے لیکن اب غزہ کی دنیا ہی بدل چکی ہے۔ تب ہی تو یحےیٰ 25سال جیل میں رہنے کے بعد بھی بدلے نہیں ہیں۔ آج بھی آزادی کا جوش انکے دل میں ٹھاٹھیں مار رہاہے۔ ”وہ (اسرائےلی) سمجھتے تھے کہ وہ جیل کو ہماری قبرمیں تبدیل کر دیں گے لیکن ہمارے ساتھیوں نے اپنے ارادوں سے انکے ارادے ناکام کر دیئے “، یحےیٰ نے آزاد ہوکر غزہ میں ایک جشن کے دوران فلسطینیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ان چارسوسے زیادہ فلسطینی قید یوں میں سے جو’ ایک کے بدلے ایک ہزار‘ فارمولے کے تحت رہا ہوکر آئے ہیں،یحےیٰ اکیلے ایسے نہیں ہیں کہ جن کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ اخبارنویسوں نے ان قیدیوں میں سے جن سے بھی بات کی ہر کا حوصلہ بلند تھا۔ مثلاً، وہ نوجوان لڑکی جو تقریباً دس برس اسرئےلی قید میں گزار نے کے بعد اب 26 برس کی ہے وہ بھی نہیں بدلی ہے۔ وفاالبعاث محض 16 برس کی تھی جب وہ اپنی کمر میں بارود کی ا یک بیلٹ باندھ کر اسرائل کی سرحد پار کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور وہ اس وقت پکڑی گئی تھی۔آج 10 بر س بعد جب رہا ہو کر وہ غزہ واپس آئی ہے تو آج بھی وہ کہہ رہی ہے: ”میں اپنی آخری سانس تک ان سے (اسرائےلےوں) سے لڑوںگی۔جب تک ہمارے وطن پر انکا قبضہ ہے، تب تک ان سے ہماری لڑائی جاری رہے گی اور میں اس لڑائی میں برابر کی شریک رہوںگی۔جس قوم کی عورتیں دس برس جیل کاٹنے کے بعد بھی آزادی کے لئے پھر لڑنے کو تیارہوں کیا اس قوم کا جذبہ آزادی اسرائےل کچل سکتاہے! ہر گز نہیں۔ اسلئے آج فلسطینیوں نے ایک کے بدلے ہزار قیدی رہا کروائیں ہیں۔ کل کو فارمولہ ایک کے بد لے لاکھ، اور پھر کچھ برسوں میں مکمل فلسطینی آزادی میں بھی بدل سکتاہے جس کا سبب یہ ہے کہ فلسطینیوں کا جذبہ آزادی لازوال ہے، اسکو اسرائےل و امریکہ کیا، دنیا میں کوئی بھی کسی قسم کی قید و مشقت کے ذریعہ مٹا نہیں سکتاہے۔ ایسی قوم ہمیشہ غلام نہیں رہ سکتی ہے۔ اسلئے آج نہیں تو کل فلسطین آزاد ہو کر رہے گا۔
No comments:
Post a Comment