آج شام مودی حکومت اور گجرات پولیس کو اس وقت سخت صدمہ پہنچا جب احمد آباد کی ایک عدالت نے گجرات کے معطل آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو پولیس حراست میں دینے سے انکار کردیا۔تقریباً چار گھنٹے کی دونوں جانب سے ہوئی بحث کے بعد مجسٹریٹ نے پولیس کی سنجیو بھٹ کو حراست میں لےنے کی درخواست کو رد کر دیا۔اس کے بعد سنجیو بھٹ کو فوراً پولیس حراست سے نکال کر سابر متی جیل بھیج دیا گیا۔ سنجیو بھٹ کے حامیو ںکاکہنا ہے کہ یہ سنجیو بھٹ کی پہلی قانونی جیت ہے۔سنجیو بھٹ کی اہلیہ شویتا بھٹ کا خیال ہے کہ ”اب سنجیو جلد ہی ضمانت پر بھی رہا ہو جائیں گے“۔کل گجرات کے آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو احمد آباد میں واقع ان کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ سنجیو بھٹ اور گجرات کے وزیراعلی نریندرمودی کے درمیان اس وقت سے تعلقات بد سے بدتر ہوتے چلے آئے ہیں جب سے سنجیو نے مودی کے خلاف دائر حلف نامہ میں مودی کو گجرات فسادات کا ذمہ دار ٹھہرایا۔سنجیو کو چند ہفتے قبل ملازمت سے معطل کر دیا گیا اور کل دوپہر ایک کانسٹبل سے زبر دستی کاغذات پر دستخط کرانے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔سنجیو بھٹ کی گرفتاری کے بعد سے آج دوپہر تک پولیس نے ان کے اہل خانہ پر طرح طرح سے قہر ڈھایا۔سنجیو بھٹ کو کل احمد آباد میں ان کے گھر سے پولیس گرفتار کر کے احمد آباد کے ایک بد نام پولیس تھانہ میں لے گئی جو ملزمین کو ٹارچر کرنے کے لئے مشہور ہے۔کل رات اور آج صبح سے گجرات سول سوسائٹی کے ممبران نے سنجیو بھٹ سے ملنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے ان کوسنجیو بھٹ سے ملنے کی اجازت نہیں دی۔اسی کے ساتھ گجرات پولیس نے آج سنجیو بھٹ کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ194لگا کر ان پر کسی کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کا الزام لگا دیا۔اس دفعہ کے تحت سنجیو بھٹ کو سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔
آج سول سوسائٹی کے ارکان اور سنجیو بھٹ کی اہلیہ نے جب تھانے میں ان سے ملاقات کرنے کی کوشش کی توکسی کو بھی ان سے ملنے نہیں دیا گیا۔صبح تقریباًگیارہ بجے سب سے پہلے مشہور سول سوسائٹی کارکن ملیکا سارا بھائی احمد آباد کے سابق پولیس کمشنر شری کمار کے ساتھ سنجیو بھٹ سے ملاقات کرنے کےلئے تھانہ پہنچیں۔”ہمیں تھانے میں پولیس نے بٹھائے رکھا اور ملنے کی اجازت نہیں دی“،ملیکا نے ’جدیدمیل‘کو بتایا۔تقریباً بارہ بجے جب پولیس نے ان کو حویلی تھانے سے منتقل کیا تو ملیکا ایک منٹ کو سنجیو سے ملیں اور ہاتھ بھی ملایا۔”لیکن ہمیںسنجیو سے بات نہیں کرنے دی گئی“۔سہ پہر پولیس نے سنجیو بھٹ کو ان کے وکیل سے ملنے کی اجازت دی جس کے بعد ان کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں پولیس نے ان کو ہفتے بھر کی حراست میں رکھنے کی درخواست کی جسے مجسٹریٹ نے رد کر دیا۔اس سے قبل جب سنجیو بھٹ کی اہلیہ شویتا بھٹ نے ان سے ملنے کی کوشش کی تو ان کو بھی اپنے شوہر سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔سنجیو بھٹ کی گرفتاری کے بعد کل رات احمد آباد پولیس نے ان کے گھر چھاپہ مارا اور گھر کی تلاشی لی۔سنجیو کی اہلیہ شویتا بھٹ نے جدید میل کو بتایا”رات گئے کوئی 30-35پولیس اہلکاروں نے ہمارے گھر کو گھیر لیا،وہ اندر آئے پھر انہوں نے ہمارے گھر کی تلاشی ہی نہیں لی بلکہ پورے گھر کے سامانوں کو الٹ پلٹ دیا۔الماری ،بستریہاںتک کہ فرج اور باتھ روم تک کی تلاشی لی۔ہمارے گھر کو دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے گھر لوٹا گیا ہو“۔شویتا بھٹ کے مطابق پولیس نے ان کے گھر کی دو بار اسی طرح تلاشی لی ۔اسی کے ساتھ ساتھ سنجیو بھٹ کے والد کے گھر کی بھی تلاشی لی گئی۔شویتا نے جدید میل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایسا لگتا تھا کہ ان کو کسی چیز کی تلاش ہے جو نہیں مل رہی ہے۔ادھر سنجیو بھٹ کی گرفتاری پر پورے ہندوستان کی سول سوسائٹی میں ایک کہرام مچ گیا۔ سنجیو بھٹ کی گرفتاری پر تیستا سیتلواڑ نے دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گرفتار ی کو ”آئین کی کھلی خلاف ورزی “بتایا۔مہیش بھٹ نے گجرات کے بگڑتے حالات کو ”ایمر جنسی جیسے حالات“سے تشبیہ دی۔شبنم ہاشمی نے اپنی تنظیم کی جانب سے سنجیو بھٹ کی گرفتاری کے خلاف دہلی میں گجرات بھون کے سامنے 3اکتوبر کو احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔شبنم ہاشمی نے جدید میل کو بتایا کہ ان کی تنظیم’انہد‘ دوسری سول سوسائٹیوںکے ساتھ مل کر ہندوستان کے 20شہروں میں احتجاج کرنے والی ہے۔مودی سرکار سنجیو بھٹ سے اس وقت سے ناراض ہے جب سے سنجیو بھٹ نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کر کے مودی کو 2002کے گجرات فسادات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔اس حلف نامے کے داخل کرنے کے چند ہفتوں بعد سنجیو بھٹ کو ملازمت سے بر خاست کر دیا گیا ۔کل دوپہر اچانک گجرات پولیس نے سنجیو بھٹ کو ان کے گھر سے گرفتار کر لیا۔عدالت میں پیشی کے بعد آج شام سنجیو بھٹ کو عدالت نے ریمانڈ پر دینے سے انکا ر کردیا۔اس کے بعد سنجیو بھٹ کو سابر متی جیل منتقل کر دیا گیا۔

No comments:
Post a Comment