گجرات کے آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو جیل میںتقریباً 48گھنٹے بیت چکے ہیں۔ اس بیچ ان کے گھرپر دوبار پولس کا چھاپہ پڑا اور ایک بار ان کے والد کے گھر کو پولس نے تلاشی کے نام پر اتھل پتھل ڈالا۔ اس دوران سنجیو کے گھر میں اکیلی ان کی بیوی شویتا بھٹ پولس کے مظالم برداشت کررہی ہیں۔ شویتا بھٹ اس مصیبت کا سامنا کیسے کررہی ہیں یہ جاننے کے لئے ظفر آغا نے ان سے فون پر گفتگو کی۔ پیش ہے شویتا بھٹ کے ساتھ ظفر آغا کی گفتگو کے اقتباسات:
سوال: کیا آپ نے گجرات پولس افسران کو کوئی خط لکھ کر یہ کہا ہے کہ آپ کے شوہر سنجیو بھٹ کی جان کو خطرہ ہے؟
شویتا بھٹ: جی ہاں، آپ گجرات کے بارے میںجانتے ہیں کہ یہاں جو بھی زبان کھولتا ہے اس کی جان خطرے میں پڑجاتی ہے، پھر سنجیو تو مودی کے خلاف بول رہے ہیں۔کےا ان کو خطرہ نہیں ہوگا!
سوال : کل جب پولس سنجیو بھٹ کو گرفتار کرنے آئی تو کیا ہوا؟
شویتا بھٹ: کوئی ایک دو پولس کے لوگ نہیں تھے، 35پولس والے تھے جنہوںنے ہمارا گھر گھیر لیا۔ باہر پولس کی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ پہلے دو لوگ اندر آئے۔ سنجیو نے پوچھا کیا بات ہے تو وہ بولے آپ کا بیان لینا ہے۔ اس پر سنجیو نے کہا ،”پوچھئے کیا پوچھنا ہے؟ تو وہ بولے،” نہیںآپ کو تھانے چلنا ہوگا۔ سنجیو بھی پولس والے ہیں۔ وہ سمجھ گئے کہ 35لوگ یوں ہی نہیںآئے۔ اب انہوںنے پوچھا” ٹھیک ٹھیک بتاﺅ کیا بات ہے؟
سوال:پھر کےا ہوا؟
شویتا بھٹ:اب پولس بولی آپ کو گرفتار کرنا ہے، اوپر سے حکم آیا ہے۔
سوال: کیاآپ ان کے ساتھ گئیں؟
شویتا بھٹ: نہیں، انہوںنے سنجیو کے وکیل کو بھی سنجیو کے ساتھ جانے یا ملنے کی اجازت نہیںدی۔
سوال: ہم نے سنا ہے کہ سنجیو کے جانے کے بعد پولس نے آپ کے گھر کی تلاشی بھی لی؟
شویتا بھٹ: ایک نہیں دو-دوبار تلاشی لی۔ تلاشی بھی کیا، پورا گھر الٹ پلٹ دیا۔ پہلے کل رات کو آئے اور ہمارے سامنے گھر کا سارا سامان الٹ دیا۔ حدیہ ہے کہ پانی کی بوتل ، فرج اور بےت الخلائبھی دیکھا۔ میرے گھر کا کوئی سامان نہیں بچا جس کو انہوں نے نہ دیکھا ہو۔
سوال: کیا وہ کچھ ڈھونڈ رہے تھے؟
شویتا بھٹ: لگتا تو ایسا ہی ہے۔ کل رات تلاشی لی، پھر آج دن میں آئے اور تلاشی لی۔ ایک بار میرے سسر کے گھر بھی گئے اور وہاں بھی تلاشی لی۔ پولس کو ضرورکسی چیز کی تلاش ہے۔
سوال: آپ کو اپنے میاں کے بغیر ڈر نہیں لگ رہا ہے؟
شویتا بھٹ: میں سنجیو کی بیوی ہوں، ڈرتی نہیں ہوں۔ ہاں، انہوںنے مجھکو اب تک سنجیو سے ملنے نہیںدیا اس کا بہت صدمہ ہے۔ وہ سنجیو کو ایک پیالی چائے بھی نہیں دے رہے ہیں۔ اس بات سے پریشان ہوں۔
سوال: کیا مودی کی پولیس سنجیو کو ڈرانے دھمکانے میںکامیاب ہوجائے گی؟
شویتا بھٹ : ہر گز نہیں! سنجیو ایک بہادر انسان ہیں۔ انہوں نے نہ تو مودی کے آگے گھٹنے ٹیکے ہیں اور نہ ہی آئندہ کبھی گھٹنے ٹیکےںگے۔

No comments:
Post a Comment