آخر کار جس لمحے کا انتظار طویل عرصے سے تھا وہ آ گیا ہے۔ ہندوستان میں فارمولا ون کا مکمل رومانچ شروع ہونے والا ہے۔ گریٹر نوئیڈا کے بدھ رےسنگ سرکٹ پر پہلی انڈین گراں پری سے پردہ اٹھنے والا ہے۔ اب سب کے سر چڑھ کر بولے گا رفتار کا رومانچ۔رفتار کے مہامقابلے کی ”رن بھومی“ ہے بدھ رےسنگ سرکٹ۔ ہندوستان کا پہلا ایف- ون ٹریک۔ اس سرکٹ کو دنیا کے سب سے تیز سرکٹ میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ 5.15 کلو میٹر لمبے سرکٹ میں تقریبا ایک لاکھ لوگ رفتار کے نظارے دیکھ سکتے ہیں۔
آج کل ہندوستان اور فارمولا ون مترادف لگتے ہیں لیکن یہ اتنے طویل عرصے تک ایک دوسرے سے دور رہے ہیں ، اس پر یقین ہی نہیں ہوتا۔ فارمولا ون کی دوڑ میں گلیمر ، چمک دمک ، جشن اور رفتار کا جو تڑکا ہے ، ٹھیک ویسی ہی جھلک ہندوستان کی بالی ووڈ کے تئیں دلچسپی اور بین الاقوامی کھیلوں میں رجحان سے دکھائی دیتی ہے۔ بہرحال، دیر آئے ، درست آئے۔کل سے انڈین گراں پری دہلی سے ملحقہ گریٹر نوئیڈا میں ہونے والی ہے۔ دوڑ ٹریک کو بنانے والی کمپنی جے پی اسپورٹس انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسے بنانے میں چار کروڑ ڈالر کا خرچ آیا ہے اور قریب پانچ ہزار مزدوروں نے اسے تیار کیا ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں دنیا کے سب سے تےز رفتار24 ڈرائیور اپنی دوڑ کے کرتب دکھائیں گے لیکن اسی ریس سے ملنے والی ہے ہند کو بین الاقوامی سطح پر شہرت بھی۔قےاس لگ رہے ہیں کہ ہالی ووڈ اسٹار ٹام کروز جیسی نامور ہستیاں صرف اسی ریس کے لئے ہندوستان پہنچےں گے۔ دنیا بھر میں کسی بھی فارمولا ون ریس کے بعد ہونے والی ’امبر پارٹیاں‘ انتہائی مشہور رہی ہیں۔ ابھی تک یہ پارٹی صرف مونےکو ،ابوظہبی اور سنگاپور جیسے تین فارمولا ون کی دوڑ والے شہروں میں ہی منعقد ہوئے ہےں ، اب باری ہے ہندوستان کی! جہاں اس پارٹی میں مائک سنبھالیں گے ارجن رامپال وہیں پارٹی میں موجود رہنے کی امید ہے قریب قریب پورے بالی ووڈ کی۔ شاہ رخ خان ، عمران خان ، ثانیہ مرزا ، ابھیشیک بچن اور نہ جانے کتنے ستاروں نے اس ریس کو دیکھنے اور پارٹی میں شریک ہونے کی منشا ظاہر کی ہے۔ہندوستان کی اب تک کی سب سے مشہور خاتون ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا نے کہا تھا ،”میں نے کبھی بھی ایسی دوڑ نہیں دیکھی ، میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے اے دےکھنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ضرورجاو ¿ں گی“۔ مشہور پاپ گلوکار لیڈی گاگا اس اہتمام کے لئے خاص طور پر مدعو کی گئی ہیں اور وہ افتتاحی گانا گائیں گی ، جسے دیکھنے کے لئے اسٹیڈیم میں ایک لاکھ لوگ اپنے دل تھام کر بیٹھے ہوں گے۔ ظاہر ہے ، جب ہندوستان میں ایک ساتھ اتنے بڑے ستارے ایک جگہ پر موجود ہوں گے تو میڈیا بھی ہوگی ، جو ان خبروں، تصویروں کو دنیا بھر کے گھروں تک پہنچائےںگے۔
تےن دنوں کے اس کھےل مےںجن ستاروں پر نظریں رہیں گی وہ ہےںسباسٹےن وےٹل- ریڈ بل۔ سال 2011 میں وےٹل اور ریڈ بل کے ٹکر میں کوئی کھڑا نہیں ہو پا رہا ہے اور انڈین گراں پری جیتنے کے سب سے بڑے دعویدار بھی و ہی ہیں۔ وےٹل گزشتہ دو سال سے ایف ون چمپئن ہیں لیکن بدھ رےسنگ سرکٹ پر کئی سابق چمپئن بھی رفتارمیں شامل ہوں گے جن مےں لوئس ہےملٹن - مےکلےرن مرسڈےز ، جےسن بٹن- مےکلےرن مرسڈےز ،فرنانڈو الونسو-فراری اور مائیکل شوماکر- مرسڈےز شامل ہےں۔ پہلی ہندوستانی گراں پری کو لے کر ہندوستان میں جوش و خروش تو بہت ہے لیکن ریس کے لحاظ سے ہندوستان کی دعوےداری بہت مضبوط نہیں ہے۔ ایف- ون میں ہندوستان کی دعوےداری کا بیڑا ہے سہارا فورس انڈیا کی ٹیم پر۔ وجے مالیا کی ٹیم میں سبرت رائے نے حصہ داری کر لی ہے لیکن جیت کی دعوےداری کمزور ہے۔ ٹیم میںاےنڈرےن سوتل کے طور پر قابل ڈرائیور بھی ہےں لیکن فورس انڈیا کی کار میں شاید اتنی فورس نہیں کہ وہ ریڈ بل اور باقی بڑی ٹیموں سے ٹکر لے سکے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے نارائن کارتےکےئن بھی اس ورلڈ کپ میں اےچ آرٹی سے ریس گے ۔
لےکن کیا واقعیہندوستان کو فارمولا ون جیسے ایک انعقاد کی ضرورت تھی؟ جانے مانے ایڈ گرو اور ہدایت کار پرہلادککڑ کہتے ہیں ،”دولت مشترکہ کھیلوں کے دوران دنیا بھر میں ہوئی بدنامی کے بعد ہندوستا ن کو ایسے ایک انعقاد کی سخت ضرورت تھی۔ پہلی فارمولا ون ریس سے ہندوستان کی شبیہبہترہونے کی امید ہے۔“لیکن ہندوستان بھی اب بدل رہا ہے۔ ایک ترقی پذیر ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں اب غیر ملکی سرمایہ کاری کی بھرمار ہے اور دنیا کی ہر بڑی کمپنی ہندوستان میں اپنا مقام بنانے کی یا تو فراق میں رہتی ہے یا پھر اپنے دفتر کھول چکی ہے۔ کروڑوں کی لاگت سے ہونے والی اس فارمولا ون ریس سے ہندوستان ایک ابھرتے ہوئے ملک کی چھاپ دوبارہ چھوڑنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ ایسا ماننا ہے دلیپ چیرین کا۔ دلیپ چیرین بتاتے ہیں ،”یہی فرق ہے ہندوستان اور انڈیا میں۔ اب دنیا انڈیا کی طرف امید سے دیکھ رہی ہے۔ ایک ایسا انڈیا جس کے بازاروں اور معیشت پر دنیا بھر کی نگاہ ہے۔“کچھ ہی دیر اور ہے۔ دوڑ کا ایک انوکھا تماشہ ہندوستان میں ہونے کو بے قرار ہے۔ اخباروں اور ٹیلی ویژن چینلوں پر دوڑ ٹریک کی تصاویر ہی تصاوےر پڑی ہیں۔لےکن خاص بات یہ ہے کہ ایسا منظر صرف ہندوستان میں ہی نہیں ہے۔ دنیا بھر کی میڈیا میں اگر ان دنوں ہندوستان کا ذکر ہے تو وہ ہے فارمولا ون کی دوڑ کے اس اہتمام کی بدولت۔ دنیا کے عظیم ترین کار ڈرائیوروں میں شمار سات بار کے فارمولا ون (ایف -1) عالمی چمپئن جرمنی کے مائیکل شوماکر کا کہنا ہے کہ ہندوستان صحیح معنوں میں ایف -1 سرکٹ کا حقدار تھا۔ شوماکر نے کہا کہ وہ انڈین گراں پری میں کار چلانے کو لے کر خاصے بے تاب ہیں۔ شوماکر نے اپنے انٹرویو میں کہا ،”میں نے ہمیشہ سے چاہا ہے کہ اس کھیل میں نئے ملک شامل ہوں۔ میرا خیال ہے کہ عالمی چیمپئن شپ پوری دنیا میں وسعت لے۔ اس لحاظ سے ہندوستان صحیح معنوں میں ایف -1 سرکٹ کا حقدار تھا۔“سال 2010 میں تین سال کے معاہدے کے تحت ایف -1 سرکٹ میں واپس آنے والے شوماکر کا ماننا ہے کہ ایف -1 خطاب کے لئے پوری دنیا میں ریس منعقد ہونی چاہیے اور اس لحاظ سے ہندوستان کا اس نقشے میں جڑنا خوشی کی بات ہے۔

No comments:
Post a Comment