Tuesday, October 4, 2011

محبت سے آسان ہے گھوٹالہ


وہ دونوں تہاڑ جیل میں اسی طرح ملے ، جیسے امریکہ میں کشمیر کا آدمی کنےاکماری کے آدمی سے ملتا ہے۔ دونوں میں سے ایک محبت علاقے سے تھا ، تو دوسرا سیاست کے علاقے سے۔ سیاسی شعبے والے نے کوئی گھوٹالہ کیا تھا ، جبکہ عاشق نے محلے کی لڑکی کو بھگاےا تھا۔ کچھ دنوں بعد لڑکی کا عاشق سے اسی طرح موہ بھنگ ہوا ، جیسے عام ہندوستانیوں کا اپنی حکومت سے ہو گیا ہے۔ موہ بھنگ ہونے پر اچھائی میں بھی برائی نظر آنے لگتی ہے۔ اس لیے لڑکی نے گھر لوٹ کر پولیس کو بتایا کہ نوجوان نے اس کا اغوا کیا تھا۔ نوجوان ’پرےم‘ کی اس کےمسٹری کو سمجھنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے جیل میں تھا ، جبکہ گھوٹالے بازلیڈر نے گھوٹالے کی کےمسٹری ضرورت سے زیادہ سمجھی تھی۔ لیڈر نے کبھی’پرےم‘ نہیں کیا اس لیے عاشق کی باتیں اس کے سر کے اوپر سے نکل جاتی تھیں ، مگر جیل کی حالات نے دونوں کو دوستی کے بندھن میں باندھ دیا تھا۔ دوستی میں دونوں ایک دوسرے کے تجربات کو شیئر کرنے لگے اور اس چکر میں دونوں ہی شاعری پر اتر آئے۔ نوجوان نے عشق کو آگ کا دریا بتایا ، مگر یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ اس دریا کو ڈوب کر پار نہیں کر سکا۔ نوجوان عاشق چپ ہوا ، تو سیاست داں بھائی نے کہا ، ہمیں اپنوں نے ڈبوےا غےرو ںمیں کہاں دم تھا۔ سیاست والے بھائی نے نوجوان سے پوچھا ، یار تمہیں’پرےم‘ کیسے ہو گیا؟نوجوان آہ بھرتے ہوئے بولا ، پرےم کیسے ہوتا ہے اس کی کوئی تھیوری نہیں ہے۔ محبت کبھی بھی ، کہیں بھی ، کسی سے بھی اور کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے۔ آپ یہ جانو کہ’پرےم‘ بس یوں ہی ہو گیا۔ دراصل محبت پہلی نظر میں ہی ہو جاتا ہے ، باقی کا کام حالات کرتی ہیں۔ حالات ایسے بن گئے کہ ہمیں بھاگنا پڑا۔ میرے لیے ’پرےم‘ کسی حادثے سے کم نہیں ہے۔پھر عاشق نے سیاست داں بھائی سے پوچھا ، تم بتاو ¿ ، تم سے گھوٹالہ کیسے ہو گیا؟ ڈنلپ (اےک قسم کا کےمےکل) کو یاد کرتے ہوئے چبھتے کمبل کے بستر پرکروٹےں بدلتے نیتا جی بولے ، ’محبت کی طرح گھوٹالہ ایک نظر میں تو نہیں ہوتا ، مگرکمزور حکومت میں اپنے آپ ہو جاتا ہے۔ یہ سمجھ لو کہ مجھ سے بھی گھوٹالہ بس یوں ہی ہو گیا۔ میں نے گھوٹالہ کرنے کے لئے کوئی منصوبہ نہیں بنایا تھا۔ہونی کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ ہم نے تو حکومت کے سربراہ کو یہ بھی بتا دیا تھا۔ ‘نیتا جی کی بات سن کر نوجوان کافی متاثر ہوا اور اعلان کیا کہ جیل سے چھوٹتے ہی وہ سیاست میں ہاتھ آزمائےگا۔ کیونکہہندوستان میں محبت کرنے سے زیادہ آسان ہے گھوٹالہ کرنا۔

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...