Thursday, September 29, 2011

کے اےل سہگل کی دےوانی لتا۔۔۔


عظیم فن کار کندن لال سہگل کی مقبولیت ہر کوئی خاص وعام میں تھی، لیکن منگیشکر خاندان میں ان کا مقام علیٰحدہ تھا۔ اس گھر میں صرف اور صرف سہگل کے نغمے گانے کی اجازت تھی اور بلبلِ ہند لتا منگیشکر نے اپنی جوانی میں کے ایل سہگل سے شادی کا خواب دیکھا تھا۔ لتا منگیشر نے یہ انکشاف اپنی کتاب میں کیا۔ ”لتا منگیشکر ان ہر اون وائس“ نامی باپنی کتاب کہتی ہیں:”بچپن ہی سے میں سہگل صاحب سے ملنا چاہتی تھی۔ میں جب لڑکپن میں تھی تو میں کہا کرتی تھی کہ میں بڑی ہوکر سہگل سے شادی کروں گی۔ میرے والد مذاق میں کہتے، لیکن اس وقت تک وہ (سہگل) بوڑھے ہوجائیں گے۔ اس پر میں جواب دیتی کہ کوئی بات نہیں، پھر بھی میں ان ہی سے شادی کروں گی۔“اس کتاب میں لندن میں مقیم دستاویزی فلم ساز نسرین نے لتا منگیشکر کی زندگی کے ایسے کئی پہلوو ¿ں کو اجاگر کیا ہے جو ابھی تک عوام سے مخفی تھے۔ کتاب کے مطابق کے ایل سہگل سے لتا منگیشکر کی عقیدت اس قدر تھی کہ وہ ان سے شادی کا خواب دیکھ رہی تھیں، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ لتا کی کبھی بھی سہگل سے ملاقات نہیں ہو سکی۔لتا جنہوں نے چھ دہائیوں تک بالی ووڈ پر راج کیا ہے، کتاب میں آگے چل کر کہتی ہیں کہ مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ میں کبھی بھی سہگل صاحب سے ملاقات نہ کر سکی۔ ان کے بھائی مہندر سہگل کی شکر گذار ہوں جنہوں نے سہگل صاحب کی اہلیہ اوشا رانی جی اور ان کے بچوں سے ملاقات کرائی۔ سہگل صاحب کے فرزند نے اپنے والد کی ایک انگوٹھی بطور یادگار مجھے پیش کی۔“لتا منگیشکر کے مطابق ان کے گھر میں فلمی موسیقی کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا تھا:”بابا ہمیشہ سہگل صاحب کو پسند کرتے تھے اور میں نے بھی یہی کیا۔ میں گھرمیں اکثر ان کا گانا ’اک بنگلہ بنے نیارا‘ گاتی تھی، جو فلم ’پریزیڈنٹ‘ کا ہے۔ مجھے گھر میں سہگل صاحب کے علاوہ کسی اور کے نغمے گانے کی اجازت نہیں تھی اور میں دوسروں کے نغموں پر توجہ بھی نہیں دیتی تھی۔“لتا منگیشکر کا کہنا ہے کہ میرے خاندان میں کلاسیکی موسیقی پسند کی جاتی تھی اور میرے والد خاصے قدامت پسند تھے۔ وہ ہمارے لباس کے بارے میں بھی کافی سخت تھے۔ ہم نے کبھی بھی چہرے پر پاو ¿ڈر نہیں لگایا اور نہ میک اپ کیا۔ بابا رات دیر گئے گھر سے باہر رہنے کو پسند نہیں کرتے تھے، بھلے ہی ہم ان کے تیار کردہ ڈرامے دیکھنے کے لیے ہی کیوں نہ جائیں۔“لتا منگیشکر کے والد فلموں کو پسند نہیں کرتے تھے اورانھیں فلمیں دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ صرف مراٹھی فلم ساز بھالجی پنڈھارکر اور کلکتہ نیو تھیٹرز کی فلمیں دیکھنے کی اجازت تھی۔ ویسے تو 1949ءتک لتا کئی فلموں میں گیت گا چکی تھی، لیکن اس سال محل میں ان کے گانے ”آئے گا آنے والا“ نے ہندوستانی فلمی سنگیت کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ لتا کو فلمی دنیا سے متعلق ہر اعزاز مل چکا ہے۔ 2001ءمیں حکومتِ ہند نے لتا کو ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز’ بھارت رتن‘ سے نوازا۔ تاہم اس قدر شہرت اور مقبولیت کے باوجود لتا منگیشکر شہرت اور گلیمر سے دور رہنا پسند کرتی ہیں۔اپنے متعلق لتا نے اےک اور دلچسپ اور ےادگار بات بھی اس کتاب مےں بتائی ہے وہ ےہ کہیہ بات شاید کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ مشہور پلے بیک سنگر لتا منگیشکر کو اردو میں مہارت پیدا کرنے کی جانب سب سے پہلے اداکار دلیپ کمار نے رغبت دلائی تھی۔ اس طرح وہ لتا کی رہنمائی کرنے والے واحد سرپرست رہے ہیں۔ دلیپ کمار نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ لتا کو اردو الفاظ کا صحیح تلفظ اداکرنا چاہیئے، چنانچہ اس روز کے بعد سے لتا اردو زبان میں مہارت حاصل کرنے پر توجہ دینے لگیں۔ لتا منگیشکر نے اس واقعے کی یاد تازہ کرتے ہوئے بتایا:’ایک دن انل بسواس، یوسف بھائی (دلیپ کمار) اور میں ایک ٹرین میں سفر کررہے تھے۔ یہ بات 1947 یا 48 کی ہے۔ ان دنوں یوسف بھائی ٹرین کے ذریعہ سفر کیا کرتے تھے کیوں کہ انہیں کوئی پہچانتا نہیں تھا۔ ہم ایک کمپارٹمنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے اور یوسف بھائی نے میرے بارے میں دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟ انیل دا نے بتایا کہ یہ ایک نئی گلوکارہ ہیں اور اچھا گاتی ہیں۔ جب انیل دا نے بتایا کہ میرا تعلق مہاراشٹر سے ہے، تب یوسف بھائی نے کہا لیکن ان کا اردو کا تلفظ درست نہیں ہے اور ان کے گانے میں آپ ”دال بھات“ کی خوشبو سونگھ سکتے ہیں (ایسا مراٹھی لہجہ جو اردو الفاظ کے تلفظ کے وقت پیدا ہوتا ہو)۔‘لتا نے مزید بتایاکہ ’مجھے ان کے اس طرح کہنے سے واقعی کمتری کا احساس ہوا۔ میں کمپوزر محمد شفیع کو جانتی تھی جو انیل دا اور نوشاد صاحب کے اسسٹنٹ رہ چکے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں اردو سیکھنا چاہتی ہوں تاکہ اس کے الفاظ کی درست طور پر ادائی کر سکوں۔ انہوں نے اردو سیکھنے کے لیے ایک مولانا کو بھیجا جن کا نام محبوب تھا۔ انہوں نے کچھ عرصہ تک مجھے اردو پڑھائی۔‘یہ واقعہ لتا کی اپنے فن سے لگن کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اگرچہ لتا اردو زبان پر مہارت نہیں رکھتیں، لیکن گانوں میں ان کا شین قاف اچھے اچھے اردو دانوں سے بہتر ہے۔ 

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...