کہتے ہےں وقت اور حالات کب کس کروٹ لے اس کا اندازہ ےا قےاس آرائی کرنا کسی کے بس کی بات نہےں اور اگر بات ہندوستانی سےاست کی ہو اور اس مےں بھی بھگوا پارٹی بی جے پی کی تو ےہ تو اور مشکل ہے۔آج کی بی جے پی جو کل تک ”جن سنگھ“کہلاتی تھی اس کی تو پہچان ہی ےہ ہے کہ وہ اور اس کی پالےسی ’گرگٹ‘کی طرح رنگ بدلتی ہے۔سیاست بھی بہت بے رحم شئے ہے۔ یہاں جو دکھتا ہے ، وہ ہوتا نہیں ہے اور جو ہوتا ہے ، وہ نظر نہیں آتاہے۔ یہاں باہر والوں سے لڑنا آسان ہوتا ہے جبکہ اندر والوں سے پار پانا مشکل۔ عرش اور فرش میں صرف ایک بالشت کا فرق ہوتا ہے۔ اپنے” رتھ ےاتری“ بزرگ اڈوانی جی بھی سیاست کی کچھ ان کہاوتوںسے آج کل دو چار ہو رہے ہیں۔ جس تنظیم اور پارٹی کو اڈوانی جی نے اپنی جوانی سے لے کر پوری زندگی دے دی آج اسی تنظیم میں اپنا وجود ثابت کرنے کے لئے اڈوانی جی کو 84 سال کی بزرگی میں رتھ یاترا پر نکلنا پڑ رہا ہے۔کسی بھی آدمی کی زندگی کی آخری خواہش ہوتی ہے کہ وہ بڑھاپے میں آرام سے بیٹھ کر زندگی کا لطف لے اور جن بچوں کو اس نے پالا پوسا ہے وہ بچے بڑھاپے میں اس کی خدمت کریں۔ لیکن اڈوانی جی اس معاملے میں تھوڑے بد قسمت نکلے۔ جن بچوں کو انہوں نے پال پوس کرر سیاست میں جوان کیا اب وہی بچے ان کے بڑھاپے میں انہیں ہی سیاست سے بے دخل کرنے کے لئے اتاولے ہورہے ہیں ورنہ جس دن اڈوانی جی کی پارلےمنٹ میں سخت بے عزتی ہوئی اور انہیں لوک سبھا میں بولنے نہیں دیا گیا اسی دن بی جے پی چاہتی تو اپنے لیڈر کی بے عزتی کی مخالفت میں پارلےمنٹ ٹھپ کر سکتی تھی ،پارلےمنٹ میں ہنگامہ مچا سکتی تھی ، جس میں اسے مہارت بھی حاصل ہے لیکن حیرت ہے کہ اڈوانی جی کی ان کی زندگی کے آخری دنوں میں توہین ہوتی رہی اور بی جے پی خاموش رہی! اپنی بے عزتی سے دل برداشتہ اڈوانی جی کو آخر’ رتھ یاترا ‘کرنے کا اعلان کرنا پڑاجس کا باضابطہ اعلان بھی ان کے چےلے چپاٹےوں نے ہی کےا ہے۔کل اےک پرےس کانفرنس مےں ارون جیٹلی نے دعوی کیا کہ 11 اکتوبر سے پارٹی کے بڑے لیڈر ایل کے اڈوانی کی قیادت میں 38 دن کی جو قومی ملک گیر ”جن چیتنا یاترا“ شروع ہورہی ہے، وہ ملک کے سیاسی ایجنڈے کا فیصلہ کرے گی۔مسٹر جیٹلی نے کہا کہ ترقی پسند اتحاد حکومت کے دور میں سرمنظر آنے والے مختلف گھوٹالوں نے سیاسی ایجنڈہ کو اچھی حکمرانی اور صاف ستھری سیاست کے امور میں یکجا کرکے سیاسی ایجنڈہ تیار کردیا ہے۔ ”جن چیتنا یاترا“ سروودیہ لیڈرجے پرکاش نارائن کی جائے پیدائش یعنی بہارکےچھپرہ ضلع کے ستاب دےارہ سے شروع ہوگی اور 20 نومبر کو دہلی میں ایک عظیم الشان ریلی کی صورت میں اختتام پذیر ہوگی۔بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار 11 اکتوبر کو بی جے پی کے صدر نتن گڈکری اور دیگر سینئر لیڈروں کی موجودگی میں ستاب دیارا سے اس”جن چیتنا یاترا “کو ہری جھنڈی دکھائیں گے۔ بقول پارٹی لےڈران اس ’یاترا‘ کے دوران بدعنوانی ، اچھی حکمرانی اور صاف ستھری سیاست کے امور پر ساری توجہ مرکوز کی جائے گی۔کارکنوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ عوام کو کانگریس کی قیادت والی ترقی پسند اتحاد حکومت کے بدعنوانی کے کیسوں اور گھوٹالوں سے واقف کرائیں۔اس کے علاوہ نوٹ کے عوض ووٹ گھوٹالہ کے لئے اور سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن کے سیاسی غلط استعمال کے لئے مرکزی حکومت کو مورد الزام قرار دیاگےا ہے۔اپنے بزرگ لےڈر اور ”رتھ کی سواری کرنے اوروزےر اعظم بننے کا خواب پالے“اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہے لال کرشن اڈوانی کی” جن چےتنا ےاترا“ کو لے کر بی جے پی کی پریشانیاں (جسے اگر ےہ کہا جائے کہ ےہ اےک چال ہے )ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہےں۔ پارٹی کے سامنے اب نےا مسئلہ ےاترا کے اختتام پر دہلی میں ہونے والی ریلی ہے۔ اس فورم پر بی جے پی کے تمام سینئر مرکزی رہنما تو رہیں گے ، لیکن وزیر اعلی کو بلانے پر اتفاق نہیں بن پا رہا ہے۔ اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو مانا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر مودی کسی وجہ سے اس میں نہیں آ سکے ، تو ایک اور بکھےڑا کھڑا ہو سکتا ہے۔ےعنی کہ ےہاں بھیاڈوانیکے چےلا اور کبھی اپنے محبوب رہنما اڈوانی کو دےکھنے کےلئے گھنٹوں انتظار کرنے والے مودی کو فوقےت دی جا رہی ہے جس سے اس بات کو سمجھنے مےں دےر نہےں ہونی چاہئے کہ اڈوانی پارٹی کے لئے کون سی حےثےت رکھیے ہےں۔ےہاں بھی معمر لےڈر لال کرشن اڈوانی کو ان کے چےلے کے ذرےعہ ”سےاسی گرو“کو اوقات دکھانے مےں کوئی کور کسر نہےں چھوڑی گئی ہے ۔ےعنی کہ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کی ہری جھنڈی ملنے کے بعد ہی اس بارے میں پارٹی کوئی فیصلہ کرے گی۔ پارٹی کے ایک سینئر رہنما کے مطابق اگر تمام وزرائے اعلی کا آنا یقینی نہیں ہو پاتا ہے تو پارٹی اس ریلی میں این ڈی اے کے اپنے اتحادی جماعتوں کو بلانے پر غور کر سکتی ہے۔ اےسا اسلئے کےا جا رہا ہے تاکہ اس سے پارٹی کا اندرونی بحران تو دبا ہی رہے ساتھ ہی پارلیمنٹ سیشن سے پہلے این ڈی اے متحدہے ،اس کا پیغام بھی جائے ۔قابل ذکر ہے کہ بدعنوانی کے خلاف اڈوانی کی ملک گیر” جن چےتنا ےاترا“ کو لے کر پارٹی سے لے کر آر ایس ایس تک تنازعہ کھڑے ہوتے رہے ہےں۔ وزیراعظم کے عہدے کی دعوےداری کا مسئلہ کسی طرح سے سلجھاہی تھا کہ ےاترا کے گجرات کے بجائے بہار کے ستاب دےارا سے شروع ہونے و نتیش کمار کے اسے ہری جھنڈی دکھانے کی تجویز سے پارٹی(ےہاں ےہ کہنا بے جا نہےں ہوگا کہ اس سے لال کرشن اڈوانی کی مشکلات مےں اضافہ ہوگےا ہے کےونکہ وزےر اعظم بننے کے لئے محض بہار کے ممبران پارلےمنٹ کی ہی ضرورت نہےں ہوتی ہے بلکہ اس کے لئے تو ملک گےر سطح سے نمائندگی درکار ہوتی ہے) کی دقتیں بڑھ گئی۔ دوسری جانب بی جے پی جو ظاہری طورپر تو اڈوانی کو وزےر اعظم بنانا چاہتی ہے لےکن اندرونی طور پر مودی کےلئے پلےٹ فارم تےار کر رہی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگاےا جا سکتا ہے کہ مختلف مواقع پر اس کے لےڈران مختلف بےانات دےتے رہتے ہےں۔حالانکہ بی جے پی نے اپنے لیڈروں کے الگ الگ سر میں بات کرنے کی وجہ سے پارٹی کو ہونے والی شرمندگی سے بچنے کے لئے پارٹی کے تمام لوگوں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کی ”جن چےتنا ےاترا“ کے دوران عام رخ سے ہٹ کر ’نجی رائے‘ظاہر نہ کریں۔ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ اڈوانی کی 11 اکتوبر سے شروع ہو رہی ’جن چےتنا ےاترا‘ کے دوران پارٹی لیڈران اور کارکنوں کا ڈسپلن مےںرہنا بہت ضروری ہے۔ےہ اےسا بےان ہے جس کے پس پردہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اڈوانی کی ”جن چےتنا ےاترا“صرف ےاترا ہی رہے ۔اڈوانی جی کی قسمت کتنی خراب ہے اس بات کا احساس خود اڈوانی کو دلانے کے لئے بی جے پی نے اےک سروے بھی کرا ڈالا ہے۔ےہ بات دےگر ہے کہ اس تعلق سے بی جے پی ظاہری طور پر ناخوش ہے۔نریندر مودی کو بی جے پی کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کا بہترین امیدوار بتاتا ایک سروے سامنے آنے کے بعد پارٹی کے ایک دھڑے نے اسے سازش قرار دیا ، جبکہ دیگر طبقوں نے اس پر رضامندی ظاہر کی۔قابل ذکر ہے کہ ایک سروے میں 68 فیصد لوگوں نے مودی کی وزارت عظمی کی امیدواری کو اپنی حمایت دی ہے۔
لیکن اڈوانی جی کو ریٹائرمنٹ دلانے پر آمادہ ان کے شاگردوں کو اتنے بھر سے اطمینان نہیں ہوا اور شاگردوں کو لگا کہ ان کا گرو تو بڑا استاد ہے اور ابھی سے 2014 کے لئے تےاری کر رہا ہے سو شاگردوں نے گرو کو ”گرو دکشنا“دینے کے مقام پر داو ¿ دینا شروع کر دیا اور نریندر مودی جو کبھی اڈوانی جی کی ایک جھلک پانے کے لئے دھوپ بارش اور سردی میں گھنٹوں کھڑے ہوئے انتظار کرتے رہتے تھے انہوں نے ’اپواس‘ کااعلان کر دیا اور جو تھوڑا سا ماحول اڈوانی جی نے بنایا تھا اس پر پانی پھیر دیا۔ اب یہ اڈوانی جی کی مجبوری نہیں تو اور کیا ہے کہ جن مودی کے لئے کبھی اٹل جی نے کہا تھا کہ انہوں نے (مودی نے) ’راجدھرم‘ پر عمل نہیں کیا انہیں مودی کی تعرےف کرتے ہوئے اڈوانی جی کو کہنا پڑا کہ مودی نے بہترانتظامیہ دیا ہے! لگتا ہے اڈوانی جی اندرونی لڑائی میں نریندر مودی کے سامنے کمزور پڑنے لگے ہیں۔ ویسے بھی ہندو سخت گیروں کے لیے مودی کی درجہ بندی اڈوانی سے اوپر چل رہی ہے۔ ایسے میں اگر مودی کے دل میں لڈو پھوٹنے لگے ہیں تو اڈوانی کا نام خود بخود ویٹنگ لسٹ میں اور پیچھے چلا گیا ہے۔ ویسے بھی اس بار توسنگھ نے بھی اڈوانی جی کا نام ویٹنگ لسٹ سے کاٹا ہوا ہے اور بی جے پی صدر نتن گڈکری تو صاف کہہ چکے ہیں کہ اڈوانی جی اب بی جے پی کے پی ایم ان ویٹنگ نہیں ہیں۔ اب تو 2014 کے لئے سنگھ ”راہل بمقابلہ مودی“ چلّانے لگے ہیں۔ ایسے میں اڈوانی جی کی دھڑکنیں بڑھنا لازمی ہیں۔ویسے اس سارے دور میں اڈوانی جی کے ساتھ حساس لوگوں کی ہمدردی ہونی چاہئے۔ اندرونی طور پر بی جے پی میں آج سب سے
زیادہ کوشاں شخصیت اڈوانی ہی ہیں۔ لوگوں کو یاد ہوگا کہ جب 1984 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی دو کے اعداد و شمار پر سمٹ گئی تھی تب آر ایس ایس کے چہیتے اور وفادارسنگھ کارکن لال کرشن اڈوانی کو بی جے پی کی کمان بہت ہی مایوسی اور غم کے ماحول میں سونپی گئی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب اپنے قیام (تکنیکی طور پر ، حالانکہ بی جے پی کا پرانا روپ جن سنگھ ہے) کے ابتدائی دور میں ہی اس کا ریاضی گڑبڑانے لگا تھا۔ اٹل بہاری واجپئی یقینی طور سے اس وقت بھی بی جے پی کے بڑے لیڈر اور اسٹار پرچارک تھے ، لیکن جب کمان اڈوانی جی کے ہاتھ آئی تو انہوں نے کٹر ہندوتو کی راہ پکڑا اور’رام مندر- بابری مسجد‘ تنازعہ کو ہوا دی۔ مختصر اتنا ہی کہ بی جے پی کو دو کے اسکور سے اقتدار تک پہنچانے میں جس ایک شخص کا سب سے زیادہ تعاون ہے وہ شخص لال کرشن اڈوانی ہی ہیں۔لیکن قسمت کا کھیل دیکھئے کہ جب اڈوانی جی کی محنت کا پھل ملنے کا موقع آیا تو انہیں پیچھے دھکیل دیا گیا اور لڈو کھائے اٹل جی نے۔ بار بار اڈوانی جی کا یہی درد ان کی حرکتوں میں جھلک پڑتی ہے۔ اتنا ہی نہیں اب تو ان کے چیلے انہیں بڑھاپے میں بڑے بزرگ کا احترام بھی دینے کو تیار نہیں ہیں اور اڈوانی جی اگر وزیر اعظم نہ بن پائے تو کوئی بات نہیں کم سے کم انہیں دین دیال اپادھیائے یا نانا جی دیش مکھ کی طرح تصویر ٹاگنے کے قابل” مہاپروش“ بھی بنے دےنا ان کے چےلے پسند نہےں کر رہے ہےں۔

No comments:
Post a Comment