Friday, October 28, 2011

فارمولا -ون رےس ےا رفتار کا۔۔۔۔

آخر کار جس لمحے کا انتظار طویل عرصے سے تھا وہ آ گیا ہے۔ ہندوستان میں فارمولا ون کا مکمل رومانچ شروع ہونے والا ہے۔ گریٹر نوئیڈا کے بدھ رےسنگ سرکٹ پر پہلی انڈین گراں پری سے پردہ اٹھنے والا ہے۔ اب سب کے سر چڑھ کر بولے گا رفتار کا رومانچ۔رفتار کے مہامقابلے کی ”رن بھومی“ ہے بدھ رےسنگ سرکٹ۔ ہندوستان کا پہلا ایف- ون ٹریک۔ اس سرکٹ کو دنیا کے سب سے تیز سرکٹ میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ 5.15 کلو میٹر لمبے سرکٹ میں تقریبا ایک لاکھ لوگ رفتار کے نظارے دیکھ سکتے ہیں۔
آج کل ہندوستان اور فارمولا ون مترادف لگتے ہیں لیکن یہ اتنے طویل عرصے تک ایک دوسرے سے دور رہے ہیں ، اس پر یقین ہی نہیں ہوتا۔ فارمولا ون کی دوڑ میں گلیمر ، چمک دمک ، جشن اور رفتار کا جو تڑکا ہے ، ٹھیک ویسی ہی جھلک ہندوستان کی بالی ووڈ کے تئیں دلچسپی اور بین الاقوامی کھیلوں میں رجحان سے دکھائی دیتی ہے۔ بہرحال، دیر آئے ، درست آئے۔کل سے انڈین گراں پری دہلی سے ملحقہ گریٹر نوئیڈا میں ہونے والی ہے۔ دوڑ ٹریک کو بنانے والی کمپنی جے پی اسپورٹس انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسے بنانے میں چار کروڑ ڈالر کا خرچ آیا ہے اور قریب پانچ ہزار مزدوروں نے اسے تیار کیا ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں دنیا کے سب سے تےز رفتار24 ڈرائیور اپنی دوڑ کے کرتب دکھائیں گے لیکن اسی ریس سے ملنے والی ہے ہند کو بین الاقوامی سطح پر شہرت بھی۔قےاس لگ رہے ہیں کہ ہالی ووڈ اسٹار ٹام کروز جیسی نامور ہستیاں صرف اسی ریس کے لئے ہندوستان پہنچےں گے۔ دنیا بھر میں کسی بھی فارمولا ون ریس کے بعد ہونے والی ’امبر پارٹیاں‘ انتہائی مشہور رہی ہیں۔ ابھی تک یہ پارٹی صرف مونےکو ،ابوظہبی اور سنگاپور جیسے تین فارمولا ون کی دوڑ والے شہروں میں ہی منعقد ہوئے ہےں ، اب باری ہے ہندوستان کی! جہاں اس پارٹی میں مائک سنبھالیں گے ارجن رامپال وہیں پارٹی میں موجود رہنے کی امید ہے قریب قریب پورے بالی ووڈ کی۔ شاہ رخ خان ، عمران خان ، ثانیہ مرزا ، ابھیشیک بچن اور نہ جانے کتنے ستاروں نے اس ریس کو دیکھنے اور پارٹی میں شریک ہونے کی منشا ظاہر کی ہے۔ہندوستان کی اب تک کی سب سے مشہور خاتون ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا نے کہا تھا ،”میں نے کبھی بھی ایسی دوڑ نہیں دیکھی ، میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے اے دےکھنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ضرورجاو ¿ں گی“۔ مشہور پاپ گلوکار لیڈی گاگا اس اہتمام کے لئے خاص طور پر مدعو کی گئی ہیں اور وہ افتتاحی گانا گائیں گی ، جسے دیکھنے کے لئے اسٹیڈیم میں ایک لاکھ لوگ اپنے دل تھام کر بیٹھے ہوں گے۔ ظاہر ہے ، جب ہندوستان میں ایک ساتھ اتنے بڑے ستارے ایک جگہ پر موجود ہوں گے تو میڈیا بھی ہوگی ، جو ان خبروں، تصویروں کو دنیا بھر کے گھروں تک پہنچائےںگے۔
تےن دنوں کے اس کھےل مےںجن ستاروں پر نظریں رہیں گی وہ ہےںسباسٹےن وےٹل- ریڈ بل۔ سال 2011 میں وےٹل اور ریڈ بل کے ٹکر میں کوئی کھڑا نہیں ہو پا رہا ہے اور انڈین گراں پری جیتنے کے سب سے بڑے دعویدار بھی و ہی ہیں۔ وےٹل گزشتہ دو سال سے ایف ون چمپئن ہیں لیکن بدھ رےسنگ سرکٹ پر کئی سابق چمپئن بھی رفتارمیں شامل ہوں گے جن مےں لوئس ہےملٹن - مےکلےرن مرسڈےز ، جےسن بٹن- مےکلےرن مرسڈےز ،فرنانڈو الونسو-فراری اور مائیکل شوماکر- مرسڈےز شامل ہےں۔ پہلی ہندوستانی گراں پری کو لے کر ہندوستان میں جوش و خروش تو بہت ہے لیکن ریس کے لحاظ سے ہندوستان کی دعوےداری بہت مضبوط نہیں ہے۔ ایف- ون میں ہندوستان کی دعوےداری کا بیڑا ہے سہارا فورس انڈیا کی ٹیم پر۔ وجے مالیا کی ٹیم میں سبرت رائے نے حصہ داری کر لی ہے لیکن جیت کی دعوےداری کمزور ہے۔ ٹیم میںاےنڈرےن سوتل کے طور پر قابل ڈرائیور بھی ہےں لیکن فورس انڈیا کی کار میں شاید اتنی فورس نہیں کہ وہ ریڈ بل اور باقی بڑی ٹیموں سے ٹکر لے سکے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے نارائن کارتےکےئن بھی اس ورلڈ کپ میں اےچ آرٹی سے ریس گے ۔
لےکن کیا واقعیہندوستان کو فارمولا ون جیسے ایک انعقاد کی ضرورت تھی؟ جانے مانے ایڈ گرو اور ہدایت کار پرہلادککڑ کہتے ہیں ،”دولت مشترکہ کھیلوں کے دوران دنیا بھر میں ہوئی بدنامی کے بعد ہندوستا ن کو ایسے ایک انعقاد کی سخت ضرورت تھی۔ پہلی فارمولا ون ریس سے ہندوستان کی شبیہبہترہونے کی امید ہے۔“لیکن ہندوستان بھی اب بدل رہا ہے۔ ایک ترقی پذیر ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں اب غیر ملکی سرمایہ کاری کی بھرمار ہے اور دنیا کی ہر بڑی کمپنی ہندوستان میں اپنا مقام بنانے کی یا تو فراق میں رہتی ہے یا پھر اپنے دفتر کھول چکی ہے۔ کروڑوں کی لاگت سے ہونے والی اس فارمولا ون ریس سے ہندوستان ایک ابھرتے ہوئے ملک کی چھاپ دوبارہ چھوڑنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ ایسا ماننا ہے دلیپ چیرین کا۔ دلیپ چیرین بتاتے ہیں ،”یہی فرق ہے ہندوستان اور انڈیا میں۔ اب دنیا انڈیا کی طرف امید سے دیکھ رہی ہے۔ ایک ایسا انڈیا جس کے بازاروں اور معیشت پر دنیا بھر کی نگاہ ہے۔“کچھ ہی دیر اور ہے۔ دوڑ کا ایک انوکھا تماشہ ہندوستان میں ہونے کو بے قرار ہے۔ اخباروں اور ٹیلی ویژن چینلوں پر دوڑ ٹریک کی تصاویر ہی تصاوےر پڑی ہیں۔لےکن خاص بات یہ ہے کہ ایسا منظر صرف ہندوستان میں ہی نہیں ہے۔ دنیا بھر کی میڈیا میں اگر ان دنوں ہندوستان کا ذکر ہے تو وہ ہے فارمولا ون کی دوڑ کے اس اہتمام کی بدولت۔ دنیا کے عظیم ترین کار ڈرائیوروں میں شمار سات بار کے فارمولا ون (ایف -1) عالمی چمپئن جرمنی کے مائیکل شوماکر کا کہنا ہے کہ ہندوستان صحیح معنوں میں ایف -1 سرکٹ کا حقدار تھا۔ شوماکر نے کہا کہ وہ انڈین گراں پری میں کار چلانے کو لے کر خاصے بے تاب ہیں۔ شوماکر نے اپنے انٹرویو میں کہا ،”میں نے ہمیشہ سے چاہا ہے کہ اس کھیل میں نئے ملک شامل ہوں۔ میرا خیال ہے کہ عالمی چیمپئن شپ پوری دنیا میں وسعت لے۔ اس لحاظ سے ہندوستان صحیح معنوں میں ایف -1 سرکٹ کا حقدار تھا۔“سال 2010 میں تین سال کے معاہدے کے تحت ایف -1 سرکٹ میں واپس آنے والے شوماکر کا ماننا ہے کہ ایف -1 خطاب کے لئے پوری دنیا میں ریس منعقد ہونی چاہیے اور اس لحاظ سے ہندوستان کا اس نقشے میں جڑنا خوشی کی بات ہے۔

नताशा के हाथों में गंभीर के नाम की मेहंदी


 भारतीय क्रिकेट टीम के स्टार क्रिकेटर गौतम गंभीर दिल्ली की नताशा जैन के साथ शुक्रवार को विवाह बंधन में बंधने जा रहे हैं। उम्‍मीद है, शादी में सचिन और शाहरुख भी शिरकत करेंगे।गुरुवार को नताशा के हाथों में मेहंदी रचाई गई। नताशा के चाचा श्रवण गर्ग के सेक्टर 15 पार्ट टू स्थित घर 697 और 698 नंबर में मेहंदी और गीतों की रस्म की पूरी की गई। गर्ग के घर मेहमानों का आना शाम छह बजे से ही शुरू हो गया था। व्यवस्था की सारी जिम्मेदारी दिल्ली की एक इवेंट मैनेजमेंट कंपनी को सौंपी गई थी।पार्टी को पिंक कलर की थीम दी गई थी। पिंक नताशा का फेवरेट कलर है। इसलिए पार्टी में सभी चीजें उसी के हिसाब से अरेंज की गई थी। मेहमानों को ढोल की थाप नर नचाने के लिए दिल्ली के पटेल नगर से ढोल वालों को बुलाया गया था।पार्टी में जो फूल लगाए गए थे उसमें भी पिंक कलर के फूल ज्यादा थे। गंभीर और नतोश जिस स्‍टेज पर बैठे, उसे सजाने में पिंक कलर के फूलों का ही ज्‍यादा इस्‍तेमाल हुआ था। पार्टी में चर चीज को पिंक कलर में दिल की शेप की दी गई थी। इस अवसर पर सिर्फ घर के विशेष मेहमानों ने ही हिस्सा लिया। मेहंदी रस्म के बाद सभी डीजे और ढोल की थाप पर जमकर थिरके और उसके बाद सभी ने कॉकटेल पार्टी में शिरकत की।

Tuesday, October 25, 2011

لازوال جذبہ آزادی


ایک کے بدلے ہزار ! یہ وہ فارمولہ ہے جس نے فلسطینیوں کی زندگی میں قیام اسرا ئےل کے بعد پہلی بار خوشی کا رنگ بھردیا۔ تب ہی تو غزہ پٹی میں جشن کا ماحول ہے۔فلسطینی خوشی سے پھولے نہیں سمارہے ہیں۔ پہلی بار ایک اسرائلی فوجی قیدی کے عوض ایک ہزار فلسطینی قیدی رہا ہوئے ہیں۔ گو ابھی غزہ پٹی میں محض اسرائل477 فلسطینی اسرائےلی جیلوں سے رہا ہوکر پہونچے ہیں لیکن جلد ہی تقریباً 600فلسطینی قیدی اسرائلی قید وبندسے آزاد ہوکر غزہ پٹی پہونچ جائےں گے اور یہ اسلئے ممکن ہواکہ حماس نے سن 2006میں ایک نوجوان اسرائےلی قیدی کو گرفتار کرلیاتھا۔ اسکی رہائی کے لئے اسرائل کو حماس کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور اسکو ایک ایسا قیدی آزاد کروانے کے بدلے ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا پڑا۔ان فلسطینی قیدیوں میں جو اسرائےل کے قید وبندسے رہاہوکر غزہ پٹی واپس آئے ہیں ایسے افراد ہیں جو برسہابرس سے اسرائےل کی قید میں تھے۔ مثلاً، ان قیدیوں میں ایک 49برس کے یحیٰ منور ہیں جو پچھلے 25برس سے اسرائےل میں قید تھے۔ در اصل یحےیٰ حما س کی قاسم برےگیڈ کے ہاتھوں میں تھے۔ یہ حماس کا وہ دور تھا کہ جب اسکے پاس ڈھنگ سے اسلحے بھی نہ تھے۔ در اصل حماس کو قائم ہوئے محض ایک ماہ گزراتھا ۔ےحےٰی اسوقت چاقو اور اسی قسم کے معمولی ہتھیاروں سے اسرائےلےوں سے لڑنے کی ٹرےننگ لے رہے تھے کہ یکا یک ایک روز اسرائےل فوجی یحیٰ کو اٹھا کر لے گئے اور اسکو عمر قید کی سزاہوگئی۔ آج کوئی 25 برس بعد یحےیٰ جب واپس غزہ پٹی لوٹ کر آئے ہیں تو انکو یقین نہیں آرہا ہے کہ فلسطین اتنا بدل چکا ہوگا۔ اب حماس کے پاس نہ صرف بندوقیں ہیں بلکہ فلسطےن میزائل تک سے لےس ہے۔ آج کا غزہ ایک دوسرا ہی غزہ ہے۔ گو وہ ابھی بھی اسرائل کی غلامی کا شکار ہے لیکن اب غزہ کی دنیا ہی بدل چکی ہے۔ تب ہی تو یحےیٰ 25سال جیل میں رہنے کے بعد بھی بدلے نہیں ہیں۔ آج بھی آزادی کا جوش انکے دل میں ٹھاٹھیں مار رہاہے۔ ”وہ (اسرائےلی) سمجھتے تھے کہ وہ جیل کو ہماری قبرمیں تبدیل کر دیں گے لیکن ہمارے ساتھیوں نے اپنے ارادوں سے انکے ارادے ناکام کر دیئے “، یحےیٰ نے آزاد ہوکر غزہ میں ایک جشن کے دوران فلسطینیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ان چارسوسے زیادہ فلسطینی قید یوں میں سے جو’ ایک کے بدلے ایک ہزار‘ فارمولے کے تحت رہا ہوکر آئے ہیں،یحےیٰ اکیلے ایسے نہیں ہیں کہ جن کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ اخبارنویسوں نے ان قیدیوں میں سے جن سے بھی بات کی ہر کا حوصلہ بلند تھا۔ مثلاً، وہ نوجوان لڑکی جو تقریباً دس برس اسرئےلی قید میں گزار نے کے بعد اب 26 برس کی ہے وہ بھی نہیں بدلی ہے۔ وفاالبعاث محض 16 برس کی تھی جب وہ اپنی کمر میں بارود کی ا یک بیلٹ باندھ کر اسرائل کی سرحد پار کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور وہ اس وقت پکڑی گئی تھی۔آج 10 بر س بعد جب رہا ہو کر وہ غزہ واپس آئی ہے تو آج بھی وہ کہہ رہی ہے: ”میں اپنی آخری سانس تک ان سے (اسرائےلےوں) سے لڑوںگی۔جب تک ہمارے وطن پر انکا قبضہ ہے، تب تک ان سے ہماری لڑائی جاری رہے گی اور میں اس لڑائی میں برابر کی شریک رہوںگی۔جس قوم کی عورتیں دس برس جیل کاٹنے کے بعد بھی آزادی کے لئے پھر لڑنے کو تیارہوں کیا اس قوم کا جذبہ آزادی اسرائےل کچل سکتاہے! ہر گز نہیں۔ اسلئے آج فلسطینیوں نے ایک کے بدلے ہزار قیدی رہا کروائیں ہیں۔ کل کو فارمولہ ایک کے بد لے لاکھ، اور پھر کچھ برسوں میں مکمل فلسطینی آزادی میں بھی بدل سکتاہے جس کا سبب یہ ہے کہ فلسطینیوں کا جذبہ آزادی لازوال ہے، اسکو اسرائےل و امریکہ کیا، دنیا میں کوئی بھی کسی قسم کی قید و مشقت کے ذریعہ مٹا نہیں سکتاہے۔ ایسی قوم ہمیشہ غلام نہیں رہ سکتی ہے۔ اسلئے آج نہیں تو کل فلسطین آزاد ہو کر رہے گا۔

Wednesday, October 19, 2011

चांद पर बसेरे की उम्मीद


चाँद पर घर बसाने का सपना जल्द ही साकार हो सकता है..रूस के अंतरिक्ष वैज्ञानिकों ने ये उम्मीद जताई है इन वैज्ञानिकों के अनुसार उपग्रह चित्रों में चांद पर दिखी गुफाओं से ये संभावना बढ़ गई है कि अगले बीस साल में वहां एक नई बस्ती बसाई जा सकती है रूस के 'कॉसमॉनॉट ट्रेनिंग सेंटर' के अध्यक्ष सर्गेई क्रिकाल्योव के अनुसार ये गुफाएं वहां होने वाले विकिरण और उल्का पिंडों की बरसात से रक्षा कर सकती हैं.हालांकि क्रिकाल्योव ये नहीं बता पाए कि इतनी बड़ी योजना के लिए धन कहां से आएगा.शोधकर्ताओं ने पहले ही ये आसार व्यक्त किए थे कि चांद के ज्वालामुखीय इतिहास के कारण वहां उससे निकले द्वव्य किसी ना किसी रूप में जमा होंगे जो अब इन गुफाओं के रूप में सामने आए हैं.सर्गेई क्रिकाल्योव के अनुसार अगर ये साबित हो जाता है कि चंद्रमा पर पाई गई इन गुफाओं की संख्या काफी ज़्यादा है तो निश्चित तौर पर चांद पर बसेरा बसाने की प्रक्रिया काफी दिलचस्प होगी.चांद पर बनी इन गुफाओं की वजह से ना तो वहां की मिट्टी की खुदाई करनी होगी ना ही दीवारों और छतों का निर्माण करना होगा.वहाँ सिर्फ़ एक हल्की पट्टी का निर्माण करना होगा जिसका बाहरी आवरण सख्त़ हो, जो इन गुफाओं को ढंकने के काम आ सके.रूसी कॉसमोनॉट ट्रेनिंग सेंटर के सहायक विज्ञान अध्यक्ष बोरिस क्रुशकोव का अंदाज़ा है कि 2030 तक चांद पर बस्ती बसाई जा सकेगी.दुनिया भर की अंतरिक्ष एजेंसियां ये पता करने में लगी हैं कि पृथ्वी की निचली कक्षा के अलावा और कहाँ परिक्रमा कर सकते हैं.मंगल और अन्य ग्रहों पर जाने की योजना लंबे समय से की जा रही है, ऐसे में चंद्रमा के बारे में मिली ये जानकारी कहीं ना कहीं उसे और ज़्यादा आकर्षक बनाती है.मार्टिन ज़ेल ने समाचार एजेंसी रॉयटर को बताया कि ईएसए यानि यूरोपियन स्पेस एजेंसी के लिए चांद एक महत्वपूर्ण केंद्र बिंदु है इसलिए अगर उनके मानव स्पेस फ्लाइट कार्यक्रम का अगला पड़ाव चंद्रमा होता है तो इस पर कोई हैरानी नहीं होनी चाहिए.

Monday, October 10, 2011

جگجےت سنگھ:جانے وہ کون سا ملک ہے جہاں تم چلے گئے۔۔۔۔


جانے مانے غزل گلوکار جگجیت سنگھ کاانتقال ہو گیا ۔ وہ 70 سال کے تھے۔ جگجیت سنگھ کو برین ہےمرےج کی وجہ سے ممبئی کے لےلاوتی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انہوں نے آخری سانس لی۔ہندوستان میں سالوں تک غزل گائیکی کا چہرہ بنے رہے جگجیت سنگھ کے چاہنے والے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے تھے۔ جس دن سنگھ کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا اس دن شام کو وہ پاکستان کے نامور غزل گلوکار غلام علی کے ساتھ ایک مشترکہ پروگرام مےں حصہ لےنے والے تھے۔ ہندی ، اردو ، پنجابی ، بھوجپوری سمیت کئی زبانوں میں گانے والے جگجیت سنگھ کو سال 2003 میں حکومت ہندکے اعلی شہری اعزازوں میں سے ایک ’پدم بھوش‘ سے نوازا گیا ۔ جگجیت سنگھ کو عام طور پر ہندوستان میں غزل گائیکی دوبارہ رائج کرنے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ جگجیت سنگھ ان چند مخصوص لوگوں میں سے ایک تھے جنہوں نے 1857 میں ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف ہوئے غدر کی 150 ویں سالگرہ پر آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی غزل پارلیمنٹ میں پیش کی تھی۔ 
موسیقی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور یہی بات جگجیت سنگھ پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ ہندوستان کے علاوہ پاکستان میں بھی ان کے چہےتوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ یہ کیسا اتفاق ہے کہ جس دن جگجیت سنگھ کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ، اس دن ممبئی میں پاکستان کے غزل گلوکار غلام علی کے ساتھ انہیں ایک کنسرٹ میں حصہ لینا تھا۔جگجیت نے غلام علی سمیت کئی دیگرغزل گلوکاروں کے ساتھ کنسرٹ میں حصہ لیا۔ بھلا کوئی کیسے بھول سکتا ہے جب جگجیت نے غزلوں کے شہنشاہ مہدی حسن کے علاج کے لئے تین لاکھ روپے کی مدد کی۔ ان دنوں مہدی حسن صاحب کو پاکستان کی حکومت تک نے نظر انداز کر رکھا تھا۔ہونٹوں پر سدا رہنے والی ایک مسکان ، درد سے لبریز آنکھیں اور ریشم سی ملائم آواز۔ ایکچہرہ جو یادوں کی فریم میں درج ہو چکاہے۔ 80-90 کی دہائی کی ایک پوری نسل نے ان کی غزلوںکے ساتھ اپنے جذبات کو محسوس کیا ، بات چاہے پہلے پیار کی ہو ، خط کی ہو ، جدائی کی ہو یا بے وفائی کی۔ بیگم اختر ، نور جہاں ،ملےکا پوکھراج ،طلعت محمود، مہندی حسن ، غلام علی کی غزل گائیکی اسٹائل کے دور میں جگجیت سنگھ کی گلوکاری کی طرز نے غزل کو نئے زاوےے دیئے۔ ایک ایسے دور میں جہاںغزل مرکی ، آلاپ ، تانوں کے ذریعہ پیش کی جاتی تھی وہاں جگجیت سنگھ نے غزل کے الفاظ لوگوں تک پہنچائے۔ آوازکی پےچےدگی سے بچتے ہوئے براہ راست دھڑکنوں کا گیت گایا۔ یہی وہ بات تھی جس نے انہیں ہر دل میں بسا دیا۔ کلاسیکل موسیقی سے بھاگنے والے نوجوانوں کے دلوں پر وہ چھا گئے اور ہر طبقے کی پسند بن گئے۔ جگجیت سنگھ نے اپنا پرچم ایسے وقت لہرایا جب 70 کی دہائی میں نور جہاں ، ملےکا پوکھراج ، بیگم اختر ،طلعت محمود ، مہندی حسن غزل کی دنیا میں چھائے ہوئے تھے۔ 8 فروری 1941 میں شری گنگانگر راجستھان میں پیدا ہوئے جگجیت سنگھ نے تقریبا 80 البم بنائے۔ چار بہنوں اور دو بھائیوں کے خاندان میں انہیں جیت بلایا جاتا تھا۔ پیدائش کے بعد ان کے خاندان والوں نے ان کا نام جگموہن رکھا تھا جو بعد میں خاندانی لوگوں کے مشورہ پر تبدیل کر کے جگجیت کر دیا گیا تھا۔
والد سردار امر سنگھ دھمانی حکومت ہند کے ملازم تھے۔ جگجیت کا خاندان بنیادی طور پر پنجاب کے روپڑ ضلع کے دلا ّگاو ¿ں کا رہنے والا ہے۔ ماں بچن کور پنجاب کے ہی سمرلاّ کے اٹالن گاو ¿ں کی رہنے والی تھیں۔جگجیت کا بچپن کا نام جیت تھا۔موسیقی کی تعلیم انہوں نے سےنےا گھرانے کے استاد جمال خان سے لی۔جگجیت سنگھ کی ابتدائی تعلیم گنگانگر کے خالصہ اسکول میں ہوئی اور بعد پڑھنے کے لئے جالندھر آ گئے۔ ڈی اے وی کالج سے گریجویشن کی ڈگری لی اور اس کے بعدکروکشےتر یونیورسٹی سے تاریخ میں پوسٹ گریجویشن بھی کیا۔والد کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹاآئی اے ایسبنے لیکن جگجیت پر گلوکار بننے کی دھن سوار تھی۔بچپن میں اپنے جگجیت کو والد سے موسیقی وراثت میں ملا۔ گنگانگر میں ہی پنڈت چھگن لال شرما کی چھاےا میں دو سال تک کلاسیکی موسیقی سیکھنے کی شروعات کی۔ آگے جاکر سےنےا گھرانے کے استاد جمال خان صاحب سے خیال ، ٹھمرو اور دھروپد کی بارےکےاں سےکھےں۔ ان کی آواز دل کی گہرائیوں میں ایسے اترتی رہی گویا نغمے اور سننے والے دونوں کے دل ایک ہو گئے ہوں۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک مقبول کیفے’چائے کھانا‘ میں جگجیت سنگھ کی غزلےں خوب مقبول ہے۔ برین ہےمرےج ہونے کے بعد کیفے میں آنے والے لوگوں نے جگجےت سنگھ کے جلد ٹھیک ہونے کی دعا کی تھی۔ ان کی بیماری کے بعد سے’چائے کھانا‘ کیفے کی ہر میز پر خصوصی پیپر میٹ رکھے گئے تھے۔ ان میں سنگھ کے لیے دعاکرنے سے متعلق سطریں لکھی تھیں۔ان پر سنگھ کی تصویر کے ساتھ ایک پیغام بھی لکھا تھا۔ اس کے مطابق ، ’تقریبا 80 البموں اور لا تعداد گانوں کے ساتھ ، سنگھ کوہندوستان کے تیسرے سب سے بڑے شہری اعزاز ’پدم بھوشن ‘سے نوازا گیا۔ ان کی حالت بہت نازک ہے۔ چائے کھانا ان کے جلد ٹھیک ہونے کی دعا کرتا ہے۔
‘جگجیت سنگھ سالوں تک اپنے بیوی چترا سنگھ کے ساتھ جوڑی بنا کر گاتے رہے۔ دونوں شوہر بیوی نے مل کر کئی بے مثال غزلےں پیش کی ہیں۔ جگجیت سنگھ نے لتا منگیشکر کے ساتھ ایک خاص البم’ سجدہ‘پیش کیا جو بہت ہی مقبول ہوا۔ اس کے علاوہ فلم ساز، مصنف ،شاعر گلزار کے ساتھ بھی جگجیت سنگھ نے خوب کام کیا۔ جگجیت سنگھ گلزار کی رہنمائی میں بنے ٹی وی سیریل’ مرزا غالب‘ میں مرزا غالب کی مخصوص غزلوں کو اپنی آواز دی۔ اس سیریل میں گائے گئے سنگھ کے نغمے بہت ہی مقبول ہوئے اور کئی دہائیوں بعد بھی ےہ البم شائقین کی پسند بنے رہے۔ گلزار کی طرح مشہور شاعر جاوید اختر کے ساتھ مل کر اپنے چاہنے والوں کو ایکخاص البم ’سوز‘ دیا۔ بعد کے سالوں میں سنگھ نے بھجن گانے ، نغمے شروع کئے جو کہ ان کی غزلوں ہی کی طرح ہاتھوں ہاتھ لئے گئے۔ جگجیت سنگھ کے بارے میں بہت ہی کم لوگوں کو یہ پتہ تھا کہ موسےقی کا یہ شہزادہ گھڑسواری کا بہت ہی شوقےن تھا۔ جگجیت نہ صرف گھوڑے پالتے تھے بلکہ ان کے گھوڑے دوڑوں میں حصہ بھی لیتے تھے۔ جگجیت سنگھ نے گھوڑوں کی دیکھ بھال اور ان کی تربیت کے لئے باقاعدہ کئی لوگوں کی خدمات لے رکھےں تھیں۔
1981 میں رمن کمارکی ہداےت مےں بنی فلم’پرےم گےت‘ اور 1982 میں مہیش بھٹ کی ہدایت مےں بنی فلم’'ارتھ‘ کو بھلا کون بھول سکتا ہے۔’ارتھ‘ میں جگجیت جی نے ہی موسیقی دی تھی۔ فلم کا ہر گانا لوگوں کی زبان پر چڑھ گیا تھا۔جگجیت سنگھ نے فلم دشمن میں دل کو چھو لینے والا بے حد جذباتی کر دینے والا گانا گایا تھا۔ اس نغمے کی دھن تھے ”خط نہ کوئی پیغام۔۔۔ جانے وہ کون سا ملک ہے جہاں تم چلے گئے.... آج جگجیت جی بھی ہم سب کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر اسی جگہ چلے گئے ہیں جہاں سے وہ اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ یاد آئیں گے وہ اور ان کی آواز میں گائے ہوئے سدا بہار نغمے۔ کروڑوں سننے والوں کے چلتے سنگھ صاحب کچھ ہی دہائیوں میں جگ کو جیتنے والے جگجیت بن گئے۔















Saturday, October 8, 2011

’رتھ ‘کے دلدادہ اور’وزارت عظمی کی چاہت رکھنے والے‘ اڈوانی کی قسمت


کہتے ہےں وقت اور حالات کب کس کروٹ لے اس کا اندازہ ےا قےاس آرائی کرنا کسی کے بس کی بات نہےں اور اگر بات ہندوستانی سےاست کی ہو اور اس مےں بھی بھگوا پارٹی بی جے پی کی تو ےہ تو اور مشکل ہے۔آج کی بی جے پی جو کل تک ”جن سنگھ“کہلاتی تھی اس کی تو پہچان ہی ےہ ہے کہ وہ اور اس کی پالےسی ’گرگٹ‘کی طرح رنگ بدلتی ہے۔سیاست بھی بہت بے رحم شئے ہے۔ یہاں جو دکھتا ہے ، وہ ہوتا نہیں ہے اور جو ہوتا ہے ، وہ نظر نہیں آتاہے۔ یہاں باہر والوں سے لڑنا آسان ہوتا ہے جبکہ اندر والوں سے پار پانا مشکل۔ عرش اور فرش میں صرف ایک بالشت کا فرق ہوتا ہے۔ اپنے” رتھ ےاتری“ بزرگ اڈوانی جی بھی سیاست کی کچھ ان کہاوتوںسے آج کل دو چار ہو رہے ہیں۔ جس تنظیم اور پارٹی کو اڈوانی جی نے اپنی جوانی سے لے کر پوری زندگی دے دی آج اسی تنظیم میں اپنا وجود ثابت کرنے کے لئے اڈوانی جی کو 84 سال کی بزرگی میں رتھ یاترا پر نکلنا پڑ رہا ہے۔کسی بھی آدمی کی زندگی کی آخری خواہش ہوتی ہے کہ وہ بڑھاپے میں آرام سے بیٹھ کر زندگی کا لطف لے اور جن بچوں کو اس نے پالا پوسا ہے وہ بچے بڑھاپے میں اس کی خدمت کریں۔ لیکن اڈوانی جی اس معاملے میں تھوڑے بد قسمت نکلے۔ جن بچوں کو انہوں نے پال پوس کرر سیاست میں جوان کیا اب وہی بچے ان کے بڑھاپے میں انہیں ہی سیاست سے بے دخل کرنے کے لئے اتاولے ہورہے ہیں ورنہ جس دن اڈوانی جی کی پارلےمنٹ میں سخت بے عزتی ہوئی اور انہیں لوک سبھا میں بولنے نہیں دیا گیا اسی دن بی جے پی چاہتی تو اپنے لیڈر کی بے عزتی کی مخالفت میں پارلےمنٹ ٹھپ کر سکتی تھی ،پارلےمنٹ میں ہنگامہ مچا سکتی تھی ، جس میں اسے مہارت بھی حاصل ہے لیکن حیرت ہے کہ اڈوانی جی کی ان کی زندگی کے آخری دنوں میں توہین ہوتی رہی اور بی جے پی خاموش رہی! اپنی بے عزتی سے دل برداشتہ اڈوانی جی کو آخر’ رتھ یاترا ‘کرنے کا اعلان کرنا پڑاجس کا باضابطہ اعلان بھی ان کے چےلے چپاٹےوں نے ہی کےا ہے۔کل اےک پرےس کانفرنس مےں ارون جیٹلی نے دعوی کیا کہ 11 اکتوبر سے پارٹی کے بڑے لیڈر ایل کے اڈوانی کی قیادت میں 38 دن کی جو قومی ملک گیر ”جن چیتنا یاترا“ شروع ہورہی ہے، وہ ملک کے سیاسی ایجنڈے کا فیصلہ کرے گی۔مسٹر جیٹلی نے کہا کہ ترقی پسند اتحاد حکومت کے دور میں سرمنظر آنے والے مختلف گھوٹالوں نے سیاسی ایجنڈہ کو اچھی حکمرانی اور صاف ستھری سیاست کے امور میں یکجا کرکے سیاسی ایجنڈہ تیار کردیا ہے۔ ”جن چیتنا یاترا“ سروودیہ لیڈرجے پرکاش نارائن کی جائے پیدائش یعنی بہارکےچھپرہ ضلع کے ستاب دےارہ سے شروع ہوگی اور 20 نومبر کو دہلی میں ایک عظیم الشان ریلی کی صورت میں اختتام پذیر ہوگی۔بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار 11 اکتوبر کو بی جے پی کے صدر نتن گڈکری اور دیگر سینئر لیڈروں کی موجودگی میں ستاب دیارا سے اس”جن چیتنا یاترا “کو ہری جھنڈی دکھائیں گے۔ بقول پارٹی لےڈران اس ’یاترا‘ کے دوران بدعنوانی ، اچھی حکمرانی اور صاف ستھری سیاست کے امور پر ساری توجہ مرکوز کی جائے گی۔کارکنوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ عوام کو کانگریس کی قیادت والی ترقی پسند اتحاد حکومت کے بدعنوانی کے کیسوں اور گھوٹالوں سے واقف کرائیں۔اس کے علاوہ نوٹ کے عوض ووٹ گھوٹالہ کے لئے اور سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن کے سیاسی غلط استعمال کے لئے مرکزی حکومت کو مورد الزام قرار دیاگےا ہے۔اپنے بزرگ لےڈر اور ”رتھ کی سواری کرنے اوروزےر اعظم بننے کا خواب پالے“اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہے لال کرشن اڈوانی کی” جن چےتنا ےاترا“ کو لے کر بی جے پی کی پریشانیاں (جسے اگر ےہ کہا جائے کہ ےہ اےک چال ہے )ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہےں۔ پارٹی کے سامنے اب نےا مسئلہ ےاترا کے اختتام پر دہلی میں ہونے والی ریلی ہے۔ اس فورم پر بی جے پی کے تمام سینئر مرکزی رہنما تو رہیں گے ، لیکن وزیر اعلی کو بلانے پر اتفاق نہیں بن پا رہا ہے۔ اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو مانا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر مودی کسی وجہ سے اس میں نہیں آ سکے ، تو ایک اور بکھےڑا کھڑا ہو سکتا ہے۔ےعنی کہ ےہاں بھیاڈوانیکے چےلا اور کبھی اپنے محبوب رہنما اڈوانی کو دےکھنے کےلئے گھنٹوں انتظار کرنے والے مودی کو فوقےت دی جا رہی ہے جس سے اس بات کو سمجھنے مےں دےر نہےں ہونی چاہئے کہ اڈوانی پارٹی کے لئے کون سی حےثےت رکھیے ہےں۔ےہاں بھی معمر لےڈر لال کرشن اڈوانی کو ان کے چےلے کے ذرےعہ ”سےاسی گرو“کو اوقات دکھانے مےں کوئی کور کسر نہےں چھوڑی گئی ہے ۔ےعنی کہ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کی ہری جھنڈی ملنے کے بعد ہی اس بارے میں پارٹی کوئی فیصلہ کرے گی۔ پارٹی کے ایک سینئر رہنما کے مطابق اگر تمام وزرائے اعلی کا آنا یقینی نہیں ہو پاتا ہے تو پارٹی اس ریلی میں این ڈی اے کے اپنے اتحادی جماعتوں کو بلانے پر غور کر سکتی ہے۔ اےسا اسلئے کےا جا رہا ہے تاکہ اس سے پارٹی کا اندرونی بحران تو دبا ہی رہے ساتھ ہی پارلیمنٹ سیشن سے پہلے این ڈی اے متحدہے ،اس کا پیغام بھی جائے ۔قابل ذکر ہے کہ بدعنوانی کے خلاف اڈوانی کی ملک گیر” جن چےتنا ےاترا“ کو لے کر پارٹی سے لے کر آر ایس ایس تک تنازعہ کھڑے ہوتے رہے ہےں۔ وزیراعظم کے عہدے کی دعوےداری کا مسئلہ کسی طرح سے سلجھاہی تھا کہ ےاترا کے گجرات کے بجائے بہار کے ستاب دےارا سے شروع ہونے و نتیش کمار کے اسے ہری جھنڈی دکھانے کی تجویز سے پارٹی(ےہاں ےہ کہنا بے جا نہےں ہوگا کہ اس سے لال کرشن اڈوانی کی مشکلات مےں اضافہ ہوگےا ہے کےونکہ وزےر اعظم بننے کے لئے محض بہار کے ممبران پارلےمنٹ کی ہی ضرورت نہےں ہوتی ہے بلکہ اس کے لئے تو ملک گےر سطح سے نمائندگی درکار ہوتی ہے) کی دقتیں بڑھ گئی۔ دوسری جانب بی جے پی جو ظاہری طورپر تو اڈوانی کو وزےر اعظم بنانا چاہتی ہے لےکن اندرونی طور پر مودی کےلئے پلےٹ فارم تےار کر رہی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگاےا جا سکتا ہے کہ مختلف مواقع پر اس کے لےڈران مختلف بےانات دےتے رہتے ہےں۔حالانکہ بی جے پی نے اپنے لیڈروں کے الگ الگ سر میں بات کرنے کی وجہ سے پارٹی کو ہونے والی شرمندگی سے بچنے کے لئے پارٹی کے تمام لوگوں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کی ”جن چےتنا ےاترا“ کے دوران عام رخ سے ہٹ کر ’نجی رائے‘ظاہر نہ کریں۔ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ اڈوانی کی 11 اکتوبر سے شروع ہو رہی ’جن چےتنا ےاترا‘ کے دوران پارٹی لیڈران اور کارکنوں کا ڈسپلن مےںرہنا بہت ضروری ہے۔ےہ اےسا بےان ہے جس کے پس پردہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اڈوانی کی ”جن چےتنا ےاترا“صرف ےاترا ہی رہے ۔اڈوانی جی کی قسمت کتنی خراب ہے اس بات کا احساس خود اڈوانی کو دلانے کے لئے بی جے پی نے اےک سروے بھی کرا ڈالا ہے۔ےہ بات دےگر ہے کہ اس تعلق سے بی جے پی ظاہری طور پر ناخوش ہے۔نریندر مودی کو بی جے پی کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کا بہترین امیدوار بتاتا ایک سروے سامنے آنے کے بعد پارٹی کے ایک دھڑے نے اسے سازش قرار دیا ، جبکہ دیگر طبقوں نے اس پر رضامندی ظاہر کی۔قابل ذکر ہے کہ ایک سروے میں 68 فیصد لوگوں نے مودی کی وزارت عظمی کی امیدواری کو اپنی حمایت دی ہے۔
لیکن اڈوانی جی کو ریٹائرمنٹ دلانے پر آمادہ ان کے شاگردوں کو اتنے بھر سے اطمینان نہیں ہوا اور شاگردوں کو لگا کہ ان کا گرو تو بڑا استاد ہے اور ابھی سے 2014 کے لئے تےاری کر رہا ہے سو شاگردوں نے گرو کو ”گرو دکشنا“دینے کے مقام پر داو ¿ دینا شروع کر دیا اور نریندر مودی جو کبھی اڈوانی جی کی ایک جھلک پانے کے لئے دھوپ بارش اور سردی میں گھنٹوں کھڑے ہوئے انتظار کرتے رہتے تھے انہوں نے ’اپواس‘ کااعلان کر دیا اور جو تھوڑا سا ماحول اڈوانی جی نے بنایا تھا اس پر پانی پھیر دیا۔ اب یہ اڈوانی جی کی مجبوری نہیں تو اور کیا ہے کہ جن مودی کے لئے کبھی اٹل جی نے کہا تھا کہ انہوں نے (مودی نے) ’راجدھرم‘ پر عمل نہیں کیا انہیں مودی کی تعرےف کرتے ہوئے اڈوانی جی کو کہنا پڑا کہ مودی نے بہترانتظامیہ دیا ہے! لگتا ہے اڈوانی جی اندرونی لڑائی میں نریندر مودی کے سامنے کمزور پڑنے لگے ہیں۔ ویسے بھی ہندو سخت گیروں کے لیے مودی کی درجہ بندی اڈوانی سے اوپر چل رہی ہے۔ ایسے میں اگر مودی کے دل میں لڈو پھوٹنے لگے ہیں تو اڈوانی کا نام خود بخود ویٹنگ لسٹ میں اور پیچھے چلا گیا ہے۔ ویسے بھی اس بار توسنگھ نے بھی اڈوانی جی کا نام ویٹنگ لسٹ سے کاٹا ہوا ہے اور بی جے پی صدر نتن گڈکری تو صاف کہہ چکے ہیں کہ اڈوانی جی اب بی جے پی کے پی ایم ان ویٹنگ نہیں ہیں۔ اب تو 2014 کے لئے سنگھ ”راہل بمقابلہ مودی“ چلّانے لگے ہیں۔ ایسے میں اڈوانی جی کی دھڑکنیں بڑھنا لازمی ہیں۔ویسے اس سارے دور میں اڈوانی جی کے ساتھ حساس لوگوں کی ہمدردی ہونی چاہئے۔ اندرونی طور پر بی جے پی میں آج سب سے
 زیادہ کوشاں شخصیت اڈوانی ہی ہیں۔ لوگوں کو یاد ہوگا کہ جب 1984 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی دو کے اعداد و شمار پر سمٹ گئی تھی تب آر ایس ایس کے چہیتے اور وفادارسنگھ کارکن لال کرشن اڈوانی کو بی جے پی کی کمان بہت ہی مایوسی اور غم کے ماحول میں سونپی گئی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب اپنے قیام (تکنیکی طور پر ، حالانکہ بی جے پی کا پرانا روپ جن سنگھ ہے) کے ابتدائی دور میں ہی اس کا ریاضی گڑبڑانے لگا تھا۔ اٹل بہاری واجپئی یقینی طور سے اس وقت بھی بی جے پی کے بڑے لیڈر اور اسٹار پرچارک تھے ، لیکن جب کمان اڈوانی جی کے ہاتھ آئی تو انہوں نے کٹر ہندوتو کی راہ پکڑا اور’رام مندر- بابری مسجد‘ تنازعہ کو ہوا دی۔ مختصر اتنا ہی کہ بی جے پی کو دو کے اسکور سے اقتدار تک پہنچانے میں جس ایک شخص کا سب سے زیادہ تعاون ہے وہ شخص لال کرشن اڈوانی ہی ہیں۔لیکن قسمت کا کھیل دیکھئے کہ جب اڈوانی جی کی محنت کا پھل ملنے کا موقع آیا تو انہیں پیچھے دھکیل دیا گیا اور لڈو کھائے اٹل جی نے۔ بار بار اڈوانی جی کا یہی درد ان کی حرکتوں میں جھلک پڑتی ہے۔ اتنا ہی نہیں اب تو ان کے چیلے انہیں بڑھاپے میں بڑے بزرگ کا احترام بھی دینے کو تیار نہیں ہیں اور اڈوانی جی اگر وزیر اعظم نہ بن پائے تو کوئی بات نہیں کم سے کم انہیں دین دیال اپادھیائے یا نانا جی دیش مکھ کی طرح تصویر ٹاگنے کے قابل” مہاپروش“ بھی بنے دےنا ان کے چےلے پسند نہےں کر رہے ہےں۔

Friday, October 7, 2011

दुनिया की सबसे ज्यादा सैलरी पाने वाली महिला

दुनिया में महिला शक्ति अब दिखने लगी है और महिलाएं न केवल बड़े-बड़े काम कर रही हैं बल्कि उनकी कमाई भी आकाश छूने लगी है। बड़ी-बड़ी कंपनियों में महिलाएं बड़े-बड़े पदों पर विराजमान हैं और उन्हें मोटी तन्ख्वाह भी मिल रही है।इन महिलाओं में सबसे ऊपर हैं टेक्नोलॉजी कंपनी की प्रेसीडेंट और सीएफओ सैफ्रा ए काट्ज़ जिन्हें पिछले साल सबसे ज्यादा पारिश्रमिक मिला। उन्होंने पिछले साल कुल चार करोड़ बीस लाख डॉलर यानी 207 करोड़ रुपए की राशि मिली थी। 49 वर्षीय काट्ज़ 2004 से इस पद पर हैं। वह सॉफ्टवेयर विशेषज्ञ हैं। 2008 में उन्हें दुनिया की सबसे शक्तिशाली 15 महिलाओं की सूची में रखा गया था।काट्ज़ के साथ एक और खास बात है कि वह इस्राइली मूल की हैं। उनकी शिक्षा अमेरिका में हुई और वे वहीं बस गईं। उनके बारे में बहुत ज्यादा नहीं जाना जाता है।

ماں باپ نے چھوڑالےکن۔۔۔


اپنی جائیداد اور کارپوریٹ دنیا میں کامیابی کے باوجود اسٹےو جابس سلےکن ویلی کے ایک باغی ہیروجےسے بنے رہے۔ ان کے کام کرنے کا طریقہ ایسا تھا کہ ان کے ساتھ کئی بار کام کرنا مشکل ہو جاتا مگر لوگوں کے درمیان کون سا آلہ مقبول ہوگا اس کی سمجھ نے اےپل کو دنیا کے سب سے جانے مانے ناموں میں سے ایک بنا دیا۔ اسٹیو پال جابس کی پیدائش 24 فروری 1955 کو سان فراسسکو میں ہوئی تھی اور ان کے والدین یونیورسٹی کے شادی شدہ طالب علم تھے۔ ماں جوآن شبل تھیں اور شامی نژاد والد کا نامعبد الفتح جندالی تھا۔ ان کے ماں باپ نے بیٹے کو ایک کےلفورنےائی جوڑے پال اورکلارا جابس کو گود دے دیا۔ انہیں گود دینے کے کچھ ہی ماہ بعد اسٹیو کے اصل ماں باپ نے شادی کر لی اور ان کی ایک بیٹی مونا بھی ہوئی۔ مگر مونا کو اپنے بھائی کی پیدائش کے بارے میں اس وقت تک نہیں پتہ چلا جب تک وہ بالغ نہیں ہوئیں۔ وہ سلےکن ویلی میں جابسجوڑے کے یہاں پلے بڑھے۔ ایک مقامی ہائی اسکول میں نوجوان جابس کو گرمیوں کے دنوں میں اےک پلانٹ پالو الٹو میں کام کرنے کا موقع ملا اور انہوں نے وہاں ایک ساتھی طالب علم اسٹےو ووذنےاک کے ساتھ مل کر کام کیا۔ پھر ایک سال بعد انہوں نے کالج چھوڑ دیا اور ویڈیو گیمز بنانے والی کمپنی اٹاری کے ساتھ کام کیا کیونکہ وہہندوستان آنے کے لئے پیسے جمع کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے پھر سے اٹاری میں کام شروع کیا اور اپنے دوسٹ اسٹےو ووذنےاک کے ساتھ مل کر ایک مقامی کمپیوٹر کلب میں جانا شروع کیا۔ ووذنےاک خود کا کمپیوٹر ڈےزائن کر رہے تھے۔ جابس نے 1976 میں ووذنےاک کی 50 مشےنےں ایک مقامی کمپیوٹر اسٹور کو بیچ دیں اور اس آرڈر کی کاپی کے ساتھ ایک الےکٹرانک ڈسٹرےبےوٹر کو کہا کہ وہ انہیںپارٹ پرزے دے دیں جس کی رقم کی ادائیگی کچھ وقت بعد ہو پائے گی ۔ جابس نے اےپل -1 نام سے ایک مشین لنچ کی اور یہ پہلی ایسی مشین تھی جس سے انہوں نے کسی سے رقم ادھار نہیں لیا اور نہ ہی اس بزنس کا حصہ کسی کو دیا۔ انہوں نے اپنی کمپنی کا نام اپنے پسندیدہ پھل پر اےپل رکھا۔ پہلے اےپل سے ہوا فائدہ ایک بہتر ورژن اےپل ٹو بنانے میں لگا دیا گیا جو کہ 1977 کے کیلیفورنیا کے کمپیوٹر میلے میں دکھایا گیا۔ نئی مشینیں مہنگی تھیں اس لیے جابس نے ایک مقامی سرمایہ کار مائک مارکلا کو منایا کہ وہ ڈھائی لاکھ ڈالر کا قرض دیں اور ووذنےاک کو ساتھ لے کر انہوں نے اےپل کمپیوٹرز نام کی کمپنی بنائی۔ اس وقت کے کئی اور کمپیوٹر سے الگ اےپل ٹو چھوٹے چھوٹے حصوں میں نہیں آتا تھا ایک ساتھ ملا کر کمپیوٹر بنانا پڑتا۔ یہ نیا ماڈل کامیاب رہا اور 1993 میں اس کی پیداوار بند ہونے سے پہلے 60 لاکھ سے زیادہ سیٹ بنے۔ جابس نے 1984 میں مےکی ٹاش بنایا ۔ ےہ فروخت کم ہو رہی تھی اور کئی لوگ جابس کے تانا شاہی رویہ سے پریشان تھے۔ اس کے چلتے جابس کو کمپنی سے نکال دیا گیا مگر اس وقت تک انہوں نے اور چیزیں سوچ لی تھیں اور 1985 میں انہوں نے نےکسٹ کمپیوٹر نام سے کمپنی بنائی۔ اس کمپنی نے ایک سال بعد گرافک گروپ کو خرید لیا۔ مقبول فلم اسٹار ورس کے ڈائریکٹر جارج لوکس سے خرےدکر جابس نے اسے نیا نام پکسر دیا۔ اس کمپنی نے ایسا مہنگا کمپیوٹر ہارڈ ویئر بنایا جس کا استعمال ڈژنی سمیت کئی فلم تعمیر کمپنیوں نے کیا۔ جابس نے کمپےوٹر تعمیر سے توجہ ہٹا کر کمپیوٹر کے ذرےعہ اےنےمےشن فلمیں بنانی شروع کر دیں۔ اس علاقے میں بڑی کامیابی ملی۔ 1995 میں ٹوائے ا سٹوری نام کی فلم سے جس نے دنیا بھر میں 35 کروڑ ڈالر بنائے۔ اس کے بعد ا بگس لائف ، پھائنڈنگ نےمو اور منسٹرس انک جیسی فلمیں بھی آئیں۔ ایک سال بعد اےپل نے 40 کروڑ ڈالر میں نےکسٹ کو خرید لیا اور جابس اس کمپنی میں واپس لوٹے جسے انہوں نے قائم کیا تھا۔ جابس نے بغیر وقت گنوائے اس وقت کے اےپل کے چیف ایگزیکٹو کو برطرف کر دیا اورا ےپل کے نقصان کو دیکھتے ہوئے کئی مصنوعات کی تعمیر بند کر دی۔ کمپنی نے اس کے بعد صارفین الیکٹرونکس مارکیٹ کا رخ کیا۔ سال 2001 میں لنچ ہوا آئپاڈ ایک علامت بن گیا۔

दुनिया को अलविदा कहने की तैयारी करने लगे थे जॉब्स


आईपैड के निर्माता स्टीव जॉब्स की मौत की खबर से दुनियाभर में शोक की लहर फैल गई। स्टीव की मौत पर दुनियाभर में लोगों ने कहा 'आईसैड'। आज स्टीव जॉब्स का अंतिम संस्कार किया जाएगा। स्टीव के परिवार में पत्नी लौरेन पावेल और चार बच्‍चे हैं।फरवरी में जॉब्‍स को पता चला कि वो इस दुनिया में अब ज्‍यादा दिन के मेहमान नहीं हैं तो उन्‍होंने अपने करीबियों से मिलना जुलना शुरू कर दिया था। जॉब्‍स के घर उनका हाल-चाल लेने वालों के फोन घनघनाने लगे। उनकी पत्‍नी लॉरेन इनमें अधिक कॉल रिसीव करती थीं। ऐसे कॉल्‍स की तादाद धीरे-धीरे इतनी बढ़ने लगी कि लॉरेन को मना करना पड़ा।कैलीफोर्निया में पालो अल्‍टो स्थित जॉब्‍स के घर शुभचिंतकों का तांता लगने लगा था। उनकी पत्‍नी ने बताया कि आखिरी हफ्तों के दौरान जॉब्‍स बेहद कमजोर हो गए थे और उन्‍हें सीढियां चढ़ने में दिक्‍कत हो रही थी। इसलिए पत्‍नी ने जॉब्‍स के करीबियों को उनसे मिलने से मना करने का फैसला किया।स्टीव जॉब्स की मौत पर इंटरनेट जगत में भी शोक की लहर दौड़ गई। विश्व भर में ट्विटर, फेसबुक और अन्य सोशल नेटवर्किंग वेबसाइटों पर लोगों की संवेदनाओं का सैलाब आ गया। दुनिया को आईपैड, आई पॉड, आई फोन देने वाले स्टीव की मौत पर संवेदना व्यक्त करते हुए लोगों ने कहा 'आईसैड' (मैं दुखी हूं)। स्टीव की मौत की खबर आते ही ट्विटर पर 'आईसैड' ट्रेंडिंग टॉपिक हो गया।स्टीव ने कैलीफोर्निया के पालो अल्तो में अंतिम सांस ली। उनके निधन से एक दिन पहले ही एप्पल कम्पनी के नए मुख्य कार्यकारी अधिकारी (सीईओ) ने नया आईफोन 4एस बाजार में उतारा।अमेरिकी राष्ट्रपति बराक ओबामा ने उन्हें महानतम अमेरिकी अविष्कारकों की श्रेणी में रखा। जबकि पेशेवर प्रतिद्वंद्वी, माइक्रोसॉफ्ट के सह-संस्थापक बिल गेट्स ने स्टीव के योगदान सराहना की।प्रधानमंत्री मनमोहन सिंह ने जॉब्‍स को ऐसा अभिनव व्यक्ति बताया जिसने दुनिया को संचार व सम्पर्क के नए तरीके सिखाए। एक वक्तव्य में उन्‍होंने कहा, "स्टीव जॉब्स के निधन  की खबर सुन कर मुझे गहरा दुख हुआ। वह एक सच्चे, अभिनव व्यक्ति थे। उन्होंने हमें सम्पर्क व संचार के नए तरीके बताए।"फेसबुक के संस्थापक मार्क जुकरबर्ग ने कहा, "एक सलाहकार और दोस्त होने के लिए स्टीव आपका धन्यवाद। आपके बनाए हुए उत्पादों ने दुनिया को बदल दिया। आप मुझे बहुत याद आएंगे।"वहीं, माइक्रोसॉफ्ट के सह-संस्थापक बिल गेट्स ने कहा कि स्टीव का दुनिया पर जितना प्रभाव था उतना प्रभाव मुश्किल से देखने को मिलता है। उनका प्रभाव आने वाली कई पीढ़ियां महसूस करेंगी।ज्ञात हो कि स्टीव ने अपने खराब स्वास्थ्य के चलते अगस्त में कम्पनी के सीईओ पद से इस्तीफा दे दिया था। उन्हें पर्सनल कम्प्यूटर व स्क्रिन पर मौजूद छवियों पर माउस से क्लिक कर इस डिजिटल युग में नए सांस्कृतिक परिवर्तन का सूत्रपात करने का श्रेय दिया जाता है।उन्होंने हाल के वर्षो में आइपॉड पोर्टेबल म्यूजिक प्लेयर, आईफोन व आईपैड टैबलेट पेश किए और इन सब ने डिजीटल युग में लोगों की विभिन्न सामग्रियों तक पहुंच और भी आसान बना दी।एप्पल ने एक वक्तव्य जारी कर कहा है, "स्टीव की प्रतिभा, जुनून और ऊर्जा के कारण ही हमारे जीवन को बेहतर व समृद्ध बनाने वाले अनगिनत नवाचार सम्भव हो सके।"वक्तव्य में कहा गया है कि स्टीव की वजह से अब दुनिया बहुत बेहतर हो गई है। स्टीव सालों से कैंसर से जूझ रहे थे। उन्होंने 2009 में लीवर प्रत्यारोपण कराया था। इसके लिए उन्होंने कम्पनी से छह माह का अवकाश लिया था हालांकि उन्होंने अपनी चिकित्सा के सम्बंध में खुलासा नहीं किया था।24 फरवरी, 1955 को जन्मे स्टीव कैलीफोर्निया के क्यूपर्टिनो में पले-बढ़े थे। क्यूपर्टिनो में ही एप्पल का मुख्यालय है। जब वह 21 साल के थे तब उन्होंने स्टीव वॉजनैक व दो अन्य लोगों के साथ एप्पल कम्प्यूटर इंक. कम्पनी शुरू की। कम्पनी ने सबसे पहले 1976 में स्टीव के अभिभावकों के घर के गैराज में अपना पहला वाणिज्यिक उत्पाद एप्पल 1 बनाया था।स्टीव ने कम्पनी की वित्तीय मदद के लिए अपनी वोक्सवेगन वैन बेच दी थी। शुरुआती कम्प्यूटर की कीमत 666.66 डॉलर थी, इसमें कीबोर्ड व डिस्प्ले की व्यवस्था नहीं थी और उपभोक्ताओं को खुद ही इसे एसेम्बल करना था। इसके बाद अगले ही साल कम्पनी ने एप्पल 2 कम्प्यूटर पेश किया। यह कम्प्यूटर बहुत सफल रहा और यहां से पर्सनल कम्प्यूटर की क्रांति का सूत्रपात हुआ।एप्पल ने अपना अग्रणी मैसिनटोश कम्प्यूटर 1984 के शुरू में पेश किया था। मैसिनटोश की अच्छी बिक्री हुई थी लेकिन नए उत्पाद लाने के लिए उत्साहित स्टीव और उनके साथियों के बीच तनाव की वजह से वह 1986 में एप्पल से अलग हो गए। इसके बाद 10 साल के अंतराल में उन्होंने नेक्स्ट कम्प्यूटर की स्थापना की लेकिन इस कम्पनी के उत्पाद उपभोक्ताओं को नहीं लुभा सके।साल 1996 में एप्पल ने नेक्स्ट को खरीद लिया और एक साल बाद ही स्टीव फिर अपनी पुरानी कम्पनी को चलाने लगे। साल 2001 में उन्होंने मूल आईपोड पेश किया। यह एक छोटा यंत्र था जो पोर्टेबल संगीत को डिजीटल संगीत में बदलता था और इसके साथ ही एप्पल ने बाजार में तेजी से वापसी की। इसके बाद कम्पनी ने सीएनएन के साथ काम शुरू किया।इसके बाद स्टीव की कम्पनी ने एक के बाद एक बेहतरीन इलेक्ट्रॉनिक उत्पाद पेश कर उपभोक्ताओं को आश्चर्यचकित कर दिया। कम्पनी ने 2003 में आईट्यून्स, 2007 में आईफोन, 2008 में एप्प स्टोर और 2010 में आईपैड पेश किया। उल्लेखनीय है कि स्टीव का जन्म 24 फरवरी 1955 को सीरियाई मूल के अब्दलफतह जंदाली और जोआन कैरोल शिबल के यहां हुआ। बाद में स्टीव के माता-पिता ने उन्हें एक कैलीफोर्निया के युगल को गोद दे दिया।  

Thursday, October 6, 2011

دنیا کی پہلی کار نما سپر بس تیار


 ہالینڈ نے دنیا کی پہلی کار نما سپر بس تیار کرلی ہے۔ ستر لاکھ پاو ¿نڈ کی لاگت سے بننے والی سپر بس دو سو پچاس کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑ سکتی ہے۔ اس میں بیک وقت 23 مسافر سفر کر سکتے ہیں۔ بس کی لمبائی49 فٹ ، چوڑائی 8 فٹ اور اونچائی 5 فٹ 5 انچ ہے۔یہ بس متحدہ عرب امارات کے ایک شیخ کے آرڈر پر تیار کی گئی ہے ، تیاری کے بعد اسے ہالینڈ سے اس کے مالک کے پاس بذریعہ جہاز روانہ کردیا گیا ہے ،جہاں یہ بس شیخ کے ذاتی استعمال میں رہے گی۔

हज को चली बिल्ली

इन दिनों ये कहावत बहुत चल रही है... सौ चूहे खाकर बिल्ली हज को चली... इस कहावत को सुनकर जिज्ञासुओं के मन में ये सवाल उठना लाज़िमी है कि आख़िर बिल्ली को हज जाने की जरूरत क्यों पड़ी?क्या उसमें भक्ति भाव जाग गया कि उसने आव देखा न ताव और हज पर जाने का फैसला कर लिया... या फिर उसे अपने किए पर पश्चाताप हो रहा था और वह हज करके प्रायश्चित करना चाहती थी?अगर कहावत की अंतर्ध्वनि सुनें तो ऐसा नहीं लगता... उससे तो यही प्रतीत होता है कि बिल्ली का मक़सद हज करना नहीं कुछ और था... ये इस बात से भी ज़ाहिर होता है कि वह चुपचाप हज करने नहीं जा रही, उसने इसका पूरा प्रचार किया है... सारे प्राणी जगत को मालूम है कि बिल्ली हज को जा रही है और वह भी सौ चूहे खाने के बाद...इस कहावत से ये बात भी साफ़ है कि इसे बनाने वाला बिल्ली को अच्छी तरह से जानता था। वह उसके चाल-चरित्र-चेहरा से भली-भाँति वाकिफ़ था इसलिए उसने एक कहावत गढ़ी और बिल्ली की नीयत और इरादे से सबको वाकिफ़ भी करवा दिया।ये भी स्पष्ट है कि कहावतकार बिल्ली-पक्ष का नहीं था... वह बिल्ली विरोधी था और उसे बिल्ली की नीयत में खोट नज़र आ रहा था... शायद उसका ताल्लुक चूहा-समाज से हो और वह इस बात से दुखी हो कि बिल्ली ने उसके कई मित्रों, परिचितों, परिजनों को हजम कर लिया। ये भी हो सकता है कि इस तज़ुर्बे ने उसकी आँखें खोल दी हों और उसने अपनी चूहा बिरादरी को बिल्ली से बचाने के लिए ये कहावत गढ़ डाली हो। वैसे इससे भी इंकार नहीं किया जा सकता कि कहावत रचने वाला चूहा न हो मगर चूहों का हमदर्द हो, उनका खैरख्वाह हो। एक संभावना ये है कि बिल्ली चूहा-भक्षण की वजह से कुख्यात हो गई हो और चूहों ने उसके आसपास फटकना ही बंद कर दिया हो। ऐसा भी हो सकता है कि अति चूहा भक्षण से बिल्ली के मुखमंडल और आंगिक भाषा में एक तरह की आक्रामकता और खूंख्वारपन आ गया हो जो कि चूहों को डराता हो। ज़ाहिर सी बात है कि इससे बिल्ली को चूहों के लाले पड़ने लगे हों, उसके भूखे मरने की नौबत आने लगी हो। लिहाज़ा उसने अपने सखी-बिल्लियों से सलाह की हो और फिर अपनी इमेज बदलने के लिए हज पर जाने की घोषणा कर दी हो। उसे लगा हो कि इससे चूहों को लगेगा कि बिल्ली का ह्रदय परिवर्तन हो गया है और अब उसके पास जाने में कोई ख़तरा नहीं है। इस तरह वह संत के चोले में चूहा-भक्षण करती रहेगी।उसकी सखी बिल्लियों ने उसे बताया कि यही तरकीब एक बार एक बगुला ने भी लगाई थी... मछलियाँ जब उससे डरकर भागने लगीं और भूखों मरने की नौबत आ गई तो उसने भगत का रूप धर लिया... वह बगुलाभगत ध्यान की मुद्रा में रहता था और जैसे ही मछलियाँ उस पर भरोसा करके करीब आती थीं वह उन्हें अपना शिकार बना लेता था।लेकिन जिज्ञासुओं को ये बात समझ में नहीं आई कि इमेज बिल्डिंग के लिए बिल्ली ने हज यात्रा के बारे में ही क्यों सोचा... वह तीन दिन का उपवास भी तो कर सकती थी...? इसके लिए मीलों की यात्रा करने की मशक्कत करने की क्या ज़रूरत थी। आराम से एक जगह बैठती, लेमन जूस वगैरा पीती रहती। इससे बिल्ली समाज में उसकी धाक भी बन जाती... बड़ी-बड़ी बिल्लियाँ और बिल्ले आकर उससे मिलते और हो सकता है कि वह उनकी मुखिया भी बन जाती।

Wednesday, October 5, 2011

'सिंघम' का तालियों की गडग़ड़ाहट से स्वागत


साबरमती जेल के तत्कालीन पुलिस प्रमुख रह चुके गुजरात कैडर के सस्पेंडेड डीआईजी संजीव भट्ट इस बार जेल में बतौर कैदी पहुंचे। बीते शनिवार को उन्हें साबरमती जेल लाया गया। जैसे ही भट्ट जेल में दाखिल हुए, सारे कैदियों ने जोरदार तालियों की गडग़ड़ाहट से उनका स्वागत किया। यह दृश्य देख भट्ट भी भाव-विभोर हो उठे, उनके मुंह से शब्द नहीं निकले और उन्होंने हाथ हिलाते हुए सभी कैदियों का अभिनंदन स्वीकार किया।

بہار کے تازہ ترےن حالات پر اےک نظر


 سیاست میں آبادی کی منصوبہ بندی! 
اس بار شہری منصبوں کا انتخاب ، چھوٹے دائرے میں صحیح مگر سیاست میں آبادی کی منصوبہ بندی کے قانون کو بخوبی دکھائے گا۔ انتخابات ، اگلے سال مئی میں ہوگا۔ میونسپل کارپوریشن ، شہر کونسل یا شہر پنچایت کے مختلف عہدوں کے لئے انتخابات لڑنے والوں کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ حکومت کی جانب سے طے کٹ آف ڈیٹ کے بعد وہ دو سے زیادہ بچوں کے ماں باپ تو نہیں بن گئے ہیں؟ یہ کٹ آف ڈیٹ 5 اپریل 2007 ہے۔ ایسے لوگ انتخابات لڑنے کے قابل نہ ہوں گے۔ شہر منصبوں کا انتخاب لڑنے والے چاہتے ہیں کہ یہ نظام اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں بھی نافذ ہو۔ واجب بات ہے۔ 
 باندھ کو پار کر گیا پانی 
شکر ہے کہ اب سیلاب کا ویسا قہر نہیں دکھا ، جسے یہ پردیش سالانہ جھےلتا ہے۔ مگر ایک خطرناک اعلان ہے۔ دراصل ، اسی ہفتہ ادھوارا و کھروئی ندی کا پانی مظفرپر اور دربھنگہ ضلعوں میں 14 مقامات پر باندھ کو پار کر گاو ¿ں میں گھس گیا۔ یعنی ، اب سیلاب سے بچاو ¿ کے لئے ڈیم کا بہت مطلب نہیں ہے۔ یہ صورت حال ندیوں کی سطح پر سخت بد انتظامی بتاتا ہے۔ ندیوں کے اندر گاد جمنے کی وجہ سے وہ اتھلی ہو گئی ہیں۔ پھر پشتوں کے مضبوطی کا کام بھی صحیح طریقہ سے نہیں ہو رہا ہے۔ حکومت چلانے والوں کو اس طرف سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ 
اڈوانی کا رتھ بمقابلہ پانی کا بھراﺅ 
بی جے پی لیڈر لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا ، لوک جے پرکاش نارائن کے گاو ¿ں - ستابدیارا سے شاید ہی شروع ہو پائے۔ ستابدیارا کے کرانتی میدان میں پانی بھرا ہے۔ یہاں سبھا منعقد کرنا ناممکن ہے۔ یہاں پہنچنے والی سڑکیں بھی ٹوٹی ہوئی ہیں۔ گاڑی کو موڑنے تک کی دقت ہے۔ یوپی سے ملحقہ علاقہ کی سڑکیں بھی ٹوٹی ہوئی ہیں۔ خیر ، ایک آدھ دن میں نیا مقام بھی طے ہو جائے گا۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ وہ ستابدیارا ضرور جائیں گے۔ 
ایجنڈا بنے گورنر 
ریاستی حکومت اور راجبھون کا ٹکراو ¿ نئے روپ میں سامنے ہے۔ اسی ہفتہ پردیش میں اسمبلی کا اجلاس پروگرام تھا۔ اس میں لوک سبھا صدر محترمہ میرا کمار ، راجیہ سبھا میں لیڈر حزب ارون جیٹلی جیسے بڑے موجود تھے۔ اس میں ریاست کے گورنر ایجنڈا بن گئے۔ وقفہ سوال کے دوران ارکان اسمبلی نے ایسے سوالوں کی جھڑی لگا دی کہ کیا ودھانمنڈل سے منظور بل کو روکنے کا حق گورنر کو ہے؟ ارون جیٹلی نے سب کو سمجھایا کہ نہیں۔ پروگرام پر یہ تنازعہ ہی حاوی رہ گیا۔ 
خصوصی ریاست کا درجہ 
بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ اب قومی ترقی کونسل کی گونج ہے۔ وزیر اعلی نتیش کمار نے یہ بات کہی ہے۔ وہ خود کو اس سے وابستہ حقائق ، دلائل سے لیس کر چکے ہیں۔ حکمران جماعت نے اسے اپنا ایجنڈا بنایا ہوا ہے۔ اس بارے میں سوا کروڑ سے زیادہ دستخط وزیر اعظم کو سونپا جا چکا ہے۔ کمیٹی بن چکی ہے۔ اسے خاص ریاست کا درجہ کے علاقہ میں مضبوط قدم مانا گیا ہے۔ 

وجلےس کی چوک 
وجلےس بیورو کی چوک سے سابق تعلیم نائب ڈائریکٹر ناگا رام کو بڑی راحت مل گئی ہے۔ فی الحال ان کی جائیداد ضبط نہیں ہوگی۔ پٹنہ ہائی کورٹ نے وجلےس کورٹ کے اس فیصلے کو رد کر دیا ہے ، جس میں ناگا رام کی املاک کو ضبط کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ مسئلہ ، این ڈی اے حکومت کا سب سے بڑا خواب ہے۔ جب آئے اے ایس ایس ورما کی جائیداد ضبط ہوئی ، تو وزیر اعلی نے کہا تھا کہ میرا ایک خواب پورا ہوا۔ بدعنوانی کے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی۔ اس سمجھ کو شرمندہ تعبیر کرنے والی ایجنسیاں بھی اسی تناسب میں سنجیدہ ہوں۔ 
جان لیوا لاپرواہی 
مدھیہ پردیش بغیر اطلاع کے ریکارڈ مقدار میں پانی چھوڑ دے رہا ہے۔ یہ بہار کے لئے جان لیوا ثابت ہوا ہے۔ آبی وسائل وزیر وجے کمار چودھری بھڑک اٹھے ہوئے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے پاس اعتراض بھی درج کرایا گیا ہے ، لیکن کوئی فائدہ نہیں۔ ان کے مطابق عام طور پر ایسا دیکھا جاتا ہے کہ سیلاب کے سلسلہ میں جو اطلاعات دی جاتی ہے ، اس سے کہیں زیادہ پانی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ندیوں میں کم از کم پانی کی دستیابی کی صورت میں جس وقت کسانوں کو پٹون کے لئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے ، اس وقت مانگ کے مطابق پانی نہیں دیا جاتا ہے۔ اس وقت ُُٓٓ پانی جتنا بتایا جاتا ہے ، اس سے بھی کم پانی ملتا ہے۔ 
گواہ بنا کیمرے 
کیمرے نے گواہی دی اور آٹھ افراد اسپیڈی ٹرائل قابل مان لئے گئے۔ ڈی جی پی ابھیاند نے گزشتہ دنوں پولیس کی شوٹ نہیں ، شوٹنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ لوگ شوٹنگ میں پکڑے گئے لوگ ہیں۔ سپیڈی ٹرائل کروا کر انہیں سزا یافتہ کیا جانا ہے۔ 

Tuesday, October 4, 2011

محبت سے آسان ہے گھوٹالہ


وہ دونوں تہاڑ جیل میں اسی طرح ملے ، جیسے امریکہ میں کشمیر کا آدمی کنےاکماری کے آدمی سے ملتا ہے۔ دونوں میں سے ایک محبت علاقے سے تھا ، تو دوسرا سیاست کے علاقے سے۔ سیاسی شعبے والے نے کوئی گھوٹالہ کیا تھا ، جبکہ عاشق نے محلے کی لڑکی کو بھگاےا تھا۔ کچھ دنوں بعد لڑکی کا عاشق سے اسی طرح موہ بھنگ ہوا ، جیسے عام ہندوستانیوں کا اپنی حکومت سے ہو گیا ہے۔ موہ بھنگ ہونے پر اچھائی میں بھی برائی نظر آنے لگتی ہے۔ اس لیے لڑکی نے گھر لوٹ کر پولیس کو بتایا کہ نوجوان نے اس کا اغوا کیا تھا۔ نوجوان ’پرےم‘ کی اس کےمسٹری کو سمجھنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے جیل میں تھا ، جبکہ گھوٹالے بازلیڈر نے گھوٹالے کی کےمسٹری ضرورت سے زیادہ سمجھی تھی۔ لیڈر نے کبھی’پرےم‘ نہیں کیا اس لیے عاشق کی باتیں اس کے سر کے اوپر سے نکل جاتی تھیں ، مگر جیل کی حالات نے دونوں کو دوستی کے بندھن میں باندھ دیا تھا۔ دوستی میں دونوں ایک دوسرے کے تجربات کو شیئر کرنے لگے اور اس چکر میں دونوں ہی شاعری پر اتر آئے۔ نوجوان نے عشق کو آگ کا دریا بتایا ، مگر یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ اس دریا کو ڈوب کر پار نہیں کر سکا۔ نوجوان عاشق چپ ہوا ، تو سیاست داں بھائی نے کہا ، ہمیں اپنوں نے ڈبوےا غےرو ںمیں کہاں دم تھا۔ سیاست والے بھائی نے نوجوان سے پوچھا ، یار تمہیں’پرےم‘ کیسے ہو گیا؟نوجوان آہ بھرتے ہوئے بولا ، پرےم کیسے ہوتا ہے اس کی کوئی تھیوری نہیں ہے۔ محبت کبھی بھی ، کہیں بھی ، کسی سے بھی اور کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے۔ آپ یہ جانو کہ’پرےم‘ بس یوں ہی ہو گیا۔ دراصل محبت پہلی نظر میں ہی ہو جاتا ہے ، باقی کا کام حالات کرتی ہیں۔ حالات ایسے بن گئے کہ ہمیں بھاگنا پڑا۔ میرے لیے ’پرےم‘ کسی حادثے سے کم نہیں ہے۔پھر عاشق نے سیاست داں بھائی سے پوچھا ، تم بتاو ¿ ، تم سے گھوٹالہ کیسے ہو گیا؟ ڈنلپ (اےک قسم کا کےمےکل) کو یاد کرتے ہوئے چبھتے کمبل کے بستر پرکروٹےں بدلتے نیتا جی بولے ، ’محبت کی طرح گھوٹالہ ایک نظر میں تو نہیں ہوتا ، مگرکمزور حکومت میں اپنے آپ ہو جاتا ہے۔ یہ سمجھ لو کہ مجھ سے بھی گھوٹالہ بس یوں ہی ہو گیا۔ میں نے گھوٹالہ کرنے کے لئے کوئی منصوبہ نہیں بنایا تھا۔ہونی کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ ہم نے تو حکومت کے سربراہ کو یہ بھی بتا دیا تھا۔ ‘نیتا جی کی بات سن کر نوجوان کافی متاثر ہوا اور اعلان کیا کہ جیل سے چھوٹتے ہی وہ سیاست میں ہاتھ آزمائےگا۔ کیونکہہندوستان میں محبت کرنے سے زیادہ آسان ہے گھوٹالہ کرنا۔

Monday, October 3, 2011

क्‍यों जरूरी है शादी ?


विवाह न सिर्फ परिवार में बॉडिंग को बढ़ाता है बल्कि आपके अंदर के अपराधी प्रवृति को खत्‍म करता है। साथ ही विवाह के बाद व्यक्ति का आत्म-नियंत्रण बढ़ जाता है।मोनाश विश्वविद्यालय के अपराधविज्ञानी वाल्टर फॉरेस्ट व फ्लोरिडा स्टेट विश्वविद्यालय के सहायक प्रोफेसर कार्टर हेय ने एक अध्ययन में पाया कि गांजे का इस्तेमाल करने वाले युवाओं ने विवाह के बाद अविवाहितों की तुलना में इसका इस्तेमाल कम कर दिया।   शोध में लोगों में होने वाले इस बदलाव की प्रमुख वजह भी खोज ली गई है। विवाह से लोगों के आत्म-नियंत्रण में महत्वपूर्ण सुधार होता है।'क्रिमनोलॉजी एंड क्रिमिनल जस्टिस' जर्नल के मुताबिक फॉरेस्ट कहते हैं कि अपराध में सक्रिय लोगों में आने वाले बदलावों में आत्म-नियंत्रण की महत्वपूर्ण भूमिका होती है।उन्होंने कहा कि विवाह के बाद लोग जोखिम लेने से बचना चाहते हैं और अपने आवेगों पर नियंत्रण रखने की कोशिश करते हैं। यह अध्ययन 1997 के 'नेशनल लांगीट्यूडिनल सर्वे ऑफ यूथ' के विश्लेषण पर आधारित था। इस सर्वेक्षण में अमेरिकी किशोर व वयस्क शामिल थे।ज्यादातर अपराधविज्ञानियों को मानना है कि से अपराध कम करने में इसलिए मदद मिलती है क्योंकि विवाहित लोग महसूस करते हैं कि अपराध को अंजाम देकर वे बहुत कुछ खो सकते हैं।

فاقہ کشی سے زیادہ خطرناک ہے دولت



ایک طرف توہندوستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں غربت کو ہی واحد مسئلہ مان کر اس سے نمٹنے کے لئے موثر قدم اٹھانے جیسے دعوے کئے جا رہے ہیں ، وہیں دوسری طرف غذائی سیکورٹی کی ایک نئی رپورٹ نے یہ ثابت کیا ہے کہ دولت ، غربت سے بھی زیادہ مہلک ہو سکتی ہے. انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈکرےسےنٹ سوسائٹی کی طرف سے جاری عالمی ڈےزاسٹرس رپورٹ کے مطابق فی الحال دنیا میں مکمل یا جزوی فاقہ کشی کے شکار لوگوں کی تعداد 92 کروڑ 50 لاکھ ہے ، جبکہ تقریبا ڈیڑھ ارب لوگ بیماری کی حد تک پہنچے موٹاپے کے شکار ہیں. اتنا ہی نہیں ، اس رپورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک سال میں بھوک سے مرنے والے 10 لاکھ افراد کی نسبت تقریبا 15 لاکھ لوگوں کی موت موٹاپے سے متعلق مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہوئی ہے. پیش اعداد و شمار پر غور کیا جائے تو بے شک یہ حالت ایک بڑی مشکل کی طرف اشارہ کر رہی ہے. قابل ذکر ہے کہ نوے کی دہائی میں گلوبلائزیشن جیسی پالیسیوں کےہندوستان آمد سے ہندوستانی لوگوں کے اقتصادی حالات میں تو بہتری آئی ہے لیکن ان کی طرز زندگی اور عادات پر بھی بہت گہرا اثر پڑا ہے. پچھلے کچھ عرصے میں ہندوستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں اچانک آئی فراغت کی وجہ سے لوگوں کی طرز زندگی منفی طریقے سے متاثر ہوئی ہیں. ان نئی اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے تیزی سے ابھرےمڈل کلاس کی طرز زندگی میں پےزا، برگر جیسے جنک فوڈ نے اپنی جگہ بڑی آسانی سے بنا لی ہے لیکن مقابلہ آج کی بھاگتی چلتی طرز زندگی میں وقت کی کمی کی وجہ سے جسمانی ورزش کے لیے وقت نکال پانا ایک چیلنج بن کر ابھرا ہے جس کے نتیجے میں آسانی سے کم وقت میں بننے والے ان فاسٹ فوڈ ، جن میں کےلوری کی مقدار بھرپور ہوتی ہے ، کا مسلسل استعمال کرنے سے جسم میں چربی کی مقدار بڑھنے لگتی ہے اور آخر میں کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے. سکے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایک طرف تو غلط اور انتہائیگھٹےا کھانا کھانے سے لوگوں کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے ، وہیں malnutritionسے مرنے والے لوگوں کی موت کی شرح میں بھی دن بدن اضافہ ہوتا جا رہی ہے. ایکبارگی ترقی پذیر ممالک میں جنک فوڈ جیسا مہنگا اور انتہائی کھانا کھانے سے ہونے والی اموات در کو فاقہ کشی یاmalnutrition موت کی شرح سے باہمی تعلق کرنا تھوڑا اٹپٹا لگے لیکن ورلڈ ڈیزاسٹر کی اس رپورٹ نے ترقی پذیر ممالک میں غذائی اجناس کی کمی کو درکنار کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ فاقہ کشی سے مرنے کی براہ راست وجہ خوردنی اشیاءکی نامناسب اور خراب تقسیم ہے.ہندوستان جیسے ملک میں جہاں زراعت کو مضبوط بنانے کے لئے نئے نئے طرےقے استعمال ہوتے رہتے ہیں ، اتنا ہی نہیں ضرورت پڑنے پر درآمد کرنے کا انتظام بھی کیاجاتا ہے ، ایسے ملکوں میں بھوک سے مرنا فطری نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی ہے.غذائی اجناس کی مناسب مقدار ہونے کے باوجود غریب اورکم آمدنی والے طبقات کے لوگوں کی خوراک تک پہنچ دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف تو بڑھتی مہنگائی اور دوسری طرف خوردنی اشیاءکی کالابازاری ، اسمگلنگ وغیرہ کئی ایسی غیر اخلاقی اور غےرسماجی سرگرمیاں ہیں جن کے وجہ سے معاشرے میں عدم مساوات اور گہری ہوتی جا رہی ہے. غریب اور غریب ہوتے جا رہے ہیں ، لیکن دولتمند اور خوشحال لوگ مسلسل ترقی کر رہے ہیں. عام طور پر یہی دیکھا جاتا ہے کہ امیر طبقے کے لوگ موٹاپے کے زیادہ شکار ہوتے ہیں ، جس کا سبب یہ ہے کہ نہ تو وہ اپنےکھانے پےنے میں کسی طرح کی احتیاط برتتے ہیں اور نہ ہی جسمانی محنت کو اہمیت دیتے ہیں. ان کا ماننا ہے کہ جتنا مہنگا اور ماڈرن کھانا کھائیں گے ، سماجی وقار اتنا ہی بڑھتا ہے اور مادی وسائل کی مطابقت ہونے کی وجہ سے انہیں جسمانی محنت بھی زیادہ نہیں کرنا پڑتا. فاقہ کشی ہو یا موٹاپا ، دونوں ہی مسائل کی جڑ بازارواد اور لبرلزم نظام میں پنہاں ہے جس نے معاشرے میں غریب اور امیر کے درمیان کی گہرائی کو بڑھا دیا ہے.ہندوستان میں تو یہ صورت حال دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اپنے پاو ¿ں پسار رہی ہے. ایسے میںغذائی اجناس کی تقسیم میں عدم توازن ہونا فطری ہے. نئی اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے جہاں غریب اور بے سہارا لوگوں کو کم از کم کھانا بھی حاصل نہیں ہو پا رہا ہے وہیں روپیہ دولت سے لیس ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ضرورت سے زیادہ ذرائع کا فائدہ اٹھا رہا ہے. اس رپورٹ کی بنیاد پر یہ کہنا قطعی غلط نہیں ہوگا کہ بھلے ہی انتہائی غربت اور فاقہ کشی جیسے مسائل ایکسنگےن صورتحال احتےارکئے ہمارے سامنے موجود ہےں ، لیکن دولت کی وجہ سے موٹاپے کے مسئلے کو بھی کم نہیں مانا جا سکتا. خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کواےسے قوانےن نافذ کرنے چاہئےں جس کی وجہ سے اس کھائی کو پاٹا جا سکے۔

गरीबी का नया पैमाना – हकीकत या फ़साना


लगता है भारत में गरीबी अचानक बहुत तेजी से विलुप्त हो जाने वाली है। बचे-खुचे गरीब भी कुछ ही समय में अमीर की श्रेणी में आ जाएंगे और कोई भी गरीब शख्स ढूंढ़ना बेहद मुश्किल काम होगा। जी हां, यह चमत्कार किया है भारत के योजना आयोग ने जिसने उच्चतम न्यायालय में एक हलफनामा दाखिल करते हुए बताया है कि भारत के शहरों में बत्तीस रुपए व गांवों में छब्बीस रुपए एक दिन में खर्च कर सकने वाले लोगों को गरीब नहीं माना जाना चाहिए। योजना आयोग के अनुसार ऐसे लोग जो उपरोक्त सीमा से ऊपर आय अर्जित करते हैं उन्हें गरीबों के लिए चल रही सरकारी योजनाओं का लाभ नहीं मिलना चाहिए और उनको बीपीएल कार्ड भी नहीं दिया जाना चाहिए।योजना आयोग ने नई गरीबी रेखा को परिभाषित करते हुए कहा है कि दिल्ली, मुंबई, बेंगलुरु और चेन्नई में चार सदस्यों वाला परिवार यदि महीने में 3860 रुपये खर्च करता है, तो वह गरीब नहीं कहा जा सकता। लेकिन यदि योजना आयोग की गरीबी की नई परिभाषा को जमीनी हकीकत से जोड़कर देखा जाए तो बात गले नहीं उतरती। दिल्ली, मुंबई, बंगलुरु और चेन्नई जैसे महानगरों की अत्यधिक महंगी जिंदगी की बात ही क्या करनी, जहॉ आमजन को शहर में विकार्जन के लिए आवागमन में ही पचास-साठ रुपए प्रतिदिन खर्च करना पड़ता है। क्या कोई व्यक्ति बिना कुछ खाए-पीए या आवासीय किराया दिए बिना निर्वाह कर लेगा। अगर योजना आयोग ने हलफनामा दायर करते समय इस सामान्य से तथ्य को ध्यान में रखा होता तो ज्यादा अच्छा होता।योजना आयोग की गरीबी संबंधी इस रिपोर्ट को सरकार और कुछ महत्वपूर्ण अर्थशास्त्रियों का समर्थन प्राप्त है लेकिन देश के अधिकांश लोगों को इस रिपोर्ट में भारी खामी नजर आ रही है। कुछ बौद्धिक वर्गों ने इस रिपोर्ट को सिरे से खारिज करते हुए कहा है कि योजना आयोग सच का सामना करने से कतरा रहा है इसलिए उसने ऐसी रिपोर्ट पेश की है ताकि सरकारी नाकामी पर पर्दा डाला जा सके। इस रिपोर्ट पर सवाल उठाने वाले लोगों के अनुसार, योजना आयोग व सरकार के पास व्यावहारिक दृष्टिकोण का अभाव है और आंकलन करते समय नित्य प्रति बढ़ती बेलगाम महंगाई और मूल्य वृद्धि की उपेक्षा कर दी गई है। यहॉ तक कि आरोप ये भी लगाए जा रहे हैं कि ऐसा करके सरकार दिखाना चाहती है कि देश में गरीबी पर प्रभावी रूप से रोक लगी है।गरीबी पर योजना आयोग के हलफनामे को देखते हुए कुछ बेहद जरूरी सवाल उत्पन्न होते हैं, जैसे:
1. क्या वाकई शहरों में बत्तीस रुपए व गांवों में छब्बीस रुपए एक दिन में खर्च कर सकने वाले लोगों को गरीब नहीं माना जाना चाहिए?
2. क्या योजना आयोग का गरीबी संबंधी आंकलन व्यावहारिक है?
3. भारत में गरीबी में अचानक कमी आ गई है या यह सरकारी छलावा मात्र है?
4. क्या सरकार गरीबी के नाम पर राजनीतिक रोटियां सेंकने की तैयारी में है?

'मेरा कसूर सिर्फ इतना है कि


'मेरा कसूर सिर्फ इतना है कि मैंने दंगे में घायल पीड़ितों का इलाज कर दिया। इस अपराध के लिए 30 पुलिसवाले सादी वर्दी में मेरे घर आए, और आधी रात को मुझे घसीटते हुए ले गए। जांच केंद्र पर उनकी आंखों पर पट्टी बांधी गई थी, उन्हें प्रताड़ित किया गया यहां तक कि यौनाक्रमण भी किया जाता रहा, जब तक कि मैने अपना 'गुनाह' कबूल नहीं कर लिया'। ये किस्सा है बहरीन में पुलिस की क्रूरता का। जिसे बयां किया डॉक्टर फातिमा हाजी ने।डॉक्टर हाजी उन 20 डॉक्टर और नर्सो में हैं जिन्हें बहरीन के विशेष सैन्य प्राधिकरण ने शुक्रवार को 5 से 15 साल की सजा सुनाई है। डॉक्टर हाजी पर राजशाही को उखाड़ फेंकने के षडयंत्र में शामिल होने और हाल के वर्षों में सरकार विरोधी हुए प्रदर्शनों को समर्थन करने का आरोप है। इसके अलावा प्रदर्शन में घायल पीड़ितों को चिकित्सीय सुविधा मुहैया कराने का आरोप है।गौरतलब है कि इस सजा की पश्चिमी देशों और मानवाधिकार समूहों ने निंदा की है। ब्रिटेन के विदेश सचिव विलियम हेग ने कोर्ट के इस फैसले पर चिंता जताई। उन्होंने कहा कि ये चिंताजनक मामला है, इसको लेकर मैं गंभीर रूप से चिंतित हूं।बता दें कि बहरीन में लोकतंत्र समर्थक सड़कों पर हैं जो अल-खलीफा परिवार के शासन के विरुद्ध आवाज बुलंद किये हुए हैं और अधिक लोकतांत्रिक अधिकारों की मांग कर रहे हैं। इस प्रदर्शन के दौरान हिंसक प्रदर्शनों कम से कम 35 लोग मारे जा चुके हैं।लोकतंत्र समर्थक घायलों की मदद और समर्थन के आरोपों से घिरीं डॉ हाजी मनामा के सलमानिया मेडिकल काम्प्लेक्स हॉस्पिटल में काम करती हैं। इस समय वह जमानत पर रिहा हैं लेकिन वह चिंतित है कि सरकारी सुरक्षा बल कभी भी उन्हें गिरफ्तार कर सकते हैं। अनहोनी की आशंका से ग्रस्त हाजी बताती हैं कि वह इस फैसले के खिलाफ अपील करेंगी।डॉक्टर हाजी जिनका तीन वर्षीय बच्चा युसुफ है, जो हर समय उनके गले लगा रहता है। वह कहती हैं कि मैं उसे हर समय अपने पास रखती हूं क्योंकि मैं जानती हूं कि ये दौर मेरा आखिरी हो सकता है।अप्रैल की एक रात का पुलिसया क्रूरता का किस्सा बयां करते हुए डॉक्टर हाजी बताती हैं कि 30 पुलिसवाले उन्हें गिरफ्तार करने उनके घर घुसे और उन्हें घसीटते हुए ले गए। तब उनके पति डॉक्टर जलाल अल मजरूक, जो डॉक्टर हाजी के हॉस्पिटल में ही काम करते हैं, घर पर नहीं थे।डॉक्टर हाजी कहती हैं कि उन्हें गिरफ्तारी के बाद रहस्यमय जांच केंद्र ले जाया गया। वहां उन्हें लात-घूंसों से पीटा गया। कई दिनों तक उन्हें भोजन और पानी नहीं दिया गया। इतना ही नहीं यौनाक्रमण भी किया गया।उन्होंने बताया कि मुझे नहीं पता कि वह संख्या में कितने थे, मेरे आंखों पर पट्टी बंधी थी लेकिन मैने कई आवाजें सुनी। डॉक्टर हाजी का कहना था कि वे लोग बोले कि मेरे साथ बलात्कार करेंगे।पुलिसवालों ने तीन वर्षीय बच्चे के बारे में भी जानना चाहा, वे उसे ढाल बनाना चाहते थे, तब मैने उनसे कहा कि आप जो भी चाहते हैं मैं करने के लिए तैयार हूं। इसके बाद पुलिसवालों ने मुझसे कई सारे डॉक्यमेंट पर दस्तखत करवाए, जो बाद में मेरे कबूलनामे के तौर पर इस्तेमाल हुए।डॉक्टर हाजी विश्वास नहीं कर पाती हैं कि कैसे साल 2011 की शुरुआत के साथ इतनी तेजी से सब कुछ बदल गया। जब वह अपने परिवार के साथ लंदन में छुट्टियां मना रही थीं।अब वह निराश हैं, कहती हैं कि मैं निर्दोष हूं, मैं केवल अपना दायित्व निभा रही थी। मुश्किलों से घिरी हाजी अपने जिंदगी और बेटे को लेकर चिंतित हैं।बहरीन सरकार ने कहा कि सजा पाए 20 मेडिकल स्टाफ के खिलाफ पक्के सबूत हैं। बहरीन सरकार के लंदन स्थित दूतावास के एक अधिकारी ने कस्टडी के दौरान प्रताड़ित किये जाने के आरोपों से इंकार किया।एक प्रवक्ता ने जोड़ा कि आरोपियी गंभीर अपराध के दोषी ठहराए गए हैं, लेकिन ये न्यायिक प्रक्रिया का पहला चरण है, सजा पाए लोगों को सिविल कोर्ट में अपील करने का अधिकार है। हम उन पर लगे अन्य आरोपों की जांच के लिए स्वतंत्र आयोग नियुक्त कर चुके हैं।

Saturday, October 1, 2011

سنجےو مودی کے آگے گھٹنے نہےں ٹےکےں گے:شوےتا بھٹ


گجرات کے آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو جیل میںتقریباً 48گھنٹے بیت چکے ہیں۔ اس بیچ ان کے گھرپر دوبار پولس کا چھاپہ پڑا اور ایک بار ان کے والد کے گھر کو پولس نے تلاشی کے نام پر اتھل پتھل ڈالا۔ اس دوران سنجیو کے گھر میں اکیلی ان کی بیوی شویتا بھٹ پولس کے مظالم برداشت کررہی ہیں۔ شویتا بھٹ اس مصیبت کا سامنا کیسے کررہی ہیں یہ جاننے کے لئے ظفر آغا نے ان سے فون پر گفتگو کی۔ پیش ہے شویتا بھٹ کے ساتھ ظفر آغا کی گفتگو کے اقتباسات:
سوال: کیا آپ نے گجرات پولس افسران کو کوئی خط لکھ کر یہ کہا ہے کہ آپ کے شوہر سنجیو بھٹ کی جان کو خطرہ ہے؟
شویتا بھٹ: جی ہاں، آپ گجرات کے بارے میںجانتے ہیں کہ یہاں جو بھی زبان کھولتا ہے اس کی جان خطرے میں پڑجاتی ہے، پھر سنجیو تو مودی کے خلاف بول رہے ہیں۔کےا ان کو خطرہ نہیں ہوگا!
سوال : کل جب پولس سنجیو بھٹ کو گرفتار کرنے آئی تو کیا ہوا؟
شویتا بھٹ: کوئی ایک دو پولس کے لوگ نہیں تھے، 35پولس والے تھے جنہوںنے ہمارا گھر گھیر لیا۔ باہر پولس کی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ پہلے دو لوگ اندر آئے۔ سنجیو نے پوچھا کیا بات ہے تو وہ بولے آپ کا بیان لینا ہے۔ اس پر سنجیو نے کہا ،”پوچھئے کیا پوچھنا ہے؟ تو وہ بولے،” نہیںآپ کو تھانے چلنا ہوگا۔ سنجیو بھی پولس والے ہیں۔ وہ سمجھ گئے کہ 35لوگ یوں ہی نہیںآئے۔ اب انہوںنے پوچھا” ٹھیک ٹھیک بتاﺅ کیا بات ہے؟ 
سوال:پھر کےا ہوا؟
شویتا بھٹ:اب پولس بولی آپ کو گرفتار کرنا ہے، اوپر سے حکم آیا ہے۔ 
سوال: کیاآپ ان کے ساتھ گئیں؟
شویتا بھٹ: نہیں، انہوںنے سنجیو کے وکیل کو بھی سنجیو کے ساتھ جانے یا ملنے کی اجازت نہیںدی۔
سوال: ہم نے سنا ہے کہ سنجیو کے جانے کے بعد پولس نے آپ کے گھر کی تلاشی بھی لی؟
شویتا بھٹ: ایک نہیں دو-دوبار تلاشی لی۔ تلاشی بھی کیا، پورا گھر الٹ پلٹ دیا۔ پہلے کل رات کو آئے اور ہمارے سامنے گھر کا سارا سامان الٹ دیا۔ حدیہ ہے کہ پانی کی بوتل ، فرج اور بےت الخلائبھی دیکھا۔ میرے گھر کا کوئی سامان نہیں بچا جس کو انہوں نے نہ دیکھا ہو۔
سوال: کیا وہ کچھ ڈھونڈ رہے تھے؟
شویتا بھٹ: لگتا تو ایسا ہی ہے۔ کل رات تلاشی لی، پھر آج دن میں آئے اور تلاشی لی۔ ایک بار میرے سسر کے گھر بھی گئے اور وہاں بھی تلاشی لی۔ پولس کو ضرورکسی چیز کی تلاش ہے۔
سوال: آپ کو اپنے میاں کے بغیر ڈر نہیں لگ رہا ہے؟
شویتا بھٹ: میں سنجیو کی بیوی ہوں، ڈرتی نہیں ہوں۔ ہاں، انہوںنے مجھکو اب تک سنجیو سے ملنے نہیںدیا اس کا بہت صدمہ ہے۔ وہ سنجیو کو ایک پیالی چائے بھی نہیں دے رہے ہیں۔ اس بات سے پریشان ہوں۔
سوال: کیا مودی کی پولیس سنجیو کو ڈرانے دھمکانے میںکامیاب ہوجائے گی؟
شویتا بھٹ : ہر گز نہیں! سنجیو ایک بہادر انسان ہیں۔ انہوں نے نہ تو مودی کے آگے گھٹنے ٹیکے ہیں اور نہ ہی آئندہ کبھی گھٹنے ٹیکےںگے۔

عدالت نے دےا مودی کو جھٹکا،بھٹ کو رےمانڈ نہےں


آج شام مودی حکومت اور گجرات پولیس کو اس وقت سخت صدمہ پہنچا جب احمد آباد کی ایک عدالت نے گجرات کے معطل آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو پولیس حراست میں دینے سے انکار کردیا۔تقریباً چار گھنٹے کی دونوں جانب سے ہوئی بحث کے بعد مجسٹریٹ نے پولیس کی سنجیو بھٹ کو حراست میں لےنے کی درخواست کو رد کر دیا۔اس کے بعد سنجیو بھٹ کو فوراً پولیس حراست سے نکال کر سابر متی جیل بھیج دیا گیا۔ سنجیو بھٹ کے حامیو ںکاکہنا ہے کہ یہ سنجیو بھٹ کی پہلی قانونی جیت ہے۔سنجیو بھٹ کی اہلیہ شویتا بھٹ کا خیال ہے کہ ”اب سنجیو جلد ہی ضمانت پر بھی رہا ہو جائیں گے“۔کل گجرات کے آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو احمد آباد میں واقع ان کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ سنجیو بھٹ اور گجرات کے وزیراعلی نریندرمودی کے درمیان اس وقت سے تعلقات بد سے بدتر ہوتے چلے آئے ہیں جب سے سنجیو نے مودی کے خلاف دائر حلف نامہ میں مودی کو گجرات فسادات کا ذمہ دار ٹھہرایا۔سنجیو کو چند ہفتے قبل ملازمت سے معطل کر دیا گیا اور کل دوپہر ایک کانسٹبل سے زبر دستی کاغذات پر دستخط کرانے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔سنجیو بھٹ کی گرفتاری کے بعد سے آج دوپہر تک پولیس نے ان کے اہل خانہ پر طرح طرح سے قہر ڈھایا۔سنجیو بھٹ کو کل احمد آباد میں ان کے گھر سے پولیس گرفتار کر کے احمد آباد کے ایک بد نام پولیس تھانہ میں لے گئی جو ملزمین کو ٹارچر کرنے کے لئے مشہور ہے۔کل رات اور آج صبح سے گجرات سول سوسائٹی کے ممبران نے سنجیو بھٹ سے ملنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے ان کوسنجیو بھٹ سے ملنے کی اجازت نہیں دی۔اسی کے ساتھ گجرات پولیس نے آج سنجیو بھٹ کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ194لگا کر ان پر کسی کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کا الزام لگا دیا۔اس دفعہ کے تحت سنجیو بھٹ کو سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔
آج سول سوسائٹی کے ارکان اور سنجیو بھٹ کی اہلیہ نے جب تھانے میں ان سے ملاقات کرنے کی کوشش کی توکسی کو بھی ان سے ملنے نہیں دیا گیا۔صبح تقریباًگیارہ بجے سب سے پہلے مشہور سول سوسائٹی کارکن ملیکا سارا بھائی احمد آباد کے سابق پولیس کمشنر شری کمار کے ساتھ سنجیو بھٹ سے ملاقات کرنے کےلئے تھانہ پہنچیں۔”ہمیں تھانے میں پولیس نے بٹھائے رکھا اور ملنے کی اجازت نہیں دی“،ملیکا نے ’جدیدمیل‘کو بتایا۔تقریباً بارہ بجے جب پولیس نے ان کو حویلی تھانے سے منتقل کیا تو ملیکا ایک منٹ کو سنجیو سے ملیں اور ہاتھ بھی ملایا۔”لیکن ہمیںسنجیو سے بات نہیں کرنے دی گئی“۔سہ پہر پولیس نے سنجیو بھٹ کو ان کے وکیل سے ملنے کی اجازت دی جس کے بعد ان کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں پولیس نے ان کو ہفتے بھر کی حراست میں رکھنے کی درخواست کی جسے مجسٹریٹ نے رد کر دیا۔اس سے قبل جب سنجیو بھٹ کی اہلیہ شویتا بھٹ نے ان سے ملنے کی کوشش کی تو ان کو بھی اپنے شوہر سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔سنجیو بھٹ کی گرفتاری کے بعد کل رات احمد آباد پولیس نے ان کے گھر چھاپہ مارا اور گھر کی تلاشی لی۔سنجیو کی اہلیہ شویتا بھٹ نے جدید میل کو بتایا”رات گئے کوئی 30-35پولیس اہلکاروں نے ہمارے گھر کو گھیر لیا،وہ اندر آئے پھر انہوں نے ہمارے گھر کی تلاشی ہی نہیں لی بلکہ پورے گھر کے سامانوں کو الٹ پلٹ دیا۔الماری ،بستریہاںتک کہ فرج اور باتھ روم تک کی تلاشی لی۔ہمارے گھر کو دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے گھر لوٹا گیا ہو“۔شویتا بھٹ کے مطابق پولیس نے ان کے گھر کی دو بار اسی طرح تلاشی لی ۔اسی کے ساتھ ساتھ سنجیو بھٹ کے والد کے گھر کی بھی تلاشی لی گئی۔شویتا نے جدید میل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایسا لگتا تھا کہ ان کو کسی چیز کی تلاش ہے جو نہیں مل رہی ہے۔ادھر سنجیو بھٹ کی گرفتاری پر پورے ہندوستان کی سول سوسائٹی میں ایک کہرام مچ گیا۔ سنجیو بھٹ کی گرفتاری پر تیستا سیتلواڑ نے دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گرفتار ی کو ”آئین کی کھلی خلاف ورزی “بتایا۔مہیش بھٹ نے گجرات کے بگڑتے حالات کو ”ایمر جنسی جیسے حالات“سے تشبیہ دی۔شبنم ہاشمی نے اپنی تنظیم کی جانب سے سنجیو بھٹ کی گرفتاری کے خلاف دہلی میں گجرات بھون کے سامنے 3اکتوبر کو احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔شبنم ہاشمی نے جدید میل کو بتایا کہ ان کی تنظیم’انہد‘ دوسری سول سوسائٹیوںکے ساتھ مل کر ہندوستان کے 20شہروں میں احتجاج کرنے والی ہے۔مودی سرکار سنجیو بھٹ سے اس وقت سے ناراض ہے جب سے سنجیو بھٹ نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کر کے مودی کو 2002کے گجرات فسادات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔اس حلف نامے کے داخل کرنے کے چند ہفتوں بعد سنجیو بھٹ کو ملازمت سے بر خاست کر دیا گیا ۔کل دوپہر اچانک گجرات پولیس نے سنجیو بھٹ کو ان کے گھر سے گرفتار کر لیا۔عدالت میں پیشی کے بعد آج شام سنجیو بھٹ کو عدالت نے ریمانڈ پر دینے سے انکا ر کردیا۔اس کے بعد سنجیو بھٹ کو سابر متی جیل منتقل کر دیا گیا۔

दबंग, सिंघम और अब फोर्स....

दबंग, सिंघम और अब फोर्स.... लगता है जैसे दक्षिण के रास्ते बॉलीवुड में एक्शन सिनेमा की वापसी हो चुकी है। एक ईमानदार पुलिस अफसर...एक दमदार विलेन....कानूनी हदों में उसे सबक सिखाने का जूनून...एक खूबसूरत सी लड़की, फर्ज औऱ प्यार की जंग। अंत में सब खुशनुमा। अस्सी के दशक में अमिताभ की ऐसी ही फिल्मों का क्रेज लोगों के सिर चढ़कर बोलता था। दंबग औऱ सिंघम ने साबित किया है कि रियलिस्टिक फिल्मों से ऊबे लोग एक्शन का अतिरेक जबर्दस्त तरीके से पसंद कर रहे हैं। सलमान और अजय के बाद जॉन अब्राहम उसी तरह के सुपर कॉप के रोल में आ रहे हैं जिसे वे सर्वश्रेष्ठ तरीके से निभा सकते हैं। बस एक माइनस पाइंट है जॉन के पास सलमान जैसा फैन मेल नहीं है, तो एक्टिंग में अजय देवगन जैसी गहराई का भी अभाव है। लेकिन जॉन ने इस फिल्म में अपना सबकुछ झोंका है। जेनेलिया के साथ उनकी कैमिस्ट्री भी जोरदार लगी है। निर्देशक निशिकांत कामत की ‘फोर्स’ साउथ की सुपरहिट तमिल फिल्म ‘काखा काखा’ का हिंदी रीमेक है। कामत की सफलता है कि उन्होंने साधारण कहानी होने के बावजूद भी दर्शकों को कहीं बोर नहीं होने दिया है। 'फोर्स' कहानी है सीनियर नारकोटिक्स ऑफिसर यशवर्धन (जॉन अब्राहम) की। वह नशे के बेहद खिलाफ है और डिपार्टमेंट का सबसे सख्त ऑफिसर माना जाता है। उसका मानना है कि दुनिया से अपराध तभी मिट सकता है जब हर अपराधी को मार गिराया जाए। इसके लिए वह किसी भी रिश्ते में नहीं बंधना चाहता है लेकिन अपने खतरनाक मिशन के दौरान ही उसकी मुलाकात बबली गर्ल माया (जेनेलिया) से होती है और फिर उसकी दुनिया ही बदल जाती है। देश भर में फैले ड्रग कार्टेल का खात्मा करने के एक स्पेशल ऑपरेशन में यश की भिड़त एक खूंखार अपराधी से होती है। यह अपराधी नारकोटिक्स टीम से अपना बदला लेना चाहता है क्योंकि उनकी वजह से उसका भाई मारा जाता है। और अंततः हर फिल्म की तरह इसमें भी विलेन हीरो के हाथों अपनी जान गंवाता है और दर्शक ताली बजाते हुए सिनेमाहॉल से बाहर निकल जाते हैं।जॉन अब्राहम हमेशा की तरह एक जैसा चेहरा लिए हुए ही इस फिल्म में नजर आएं हैं। हालांकि जॉन ने इस कैरेक्टर के लिए जरूरी बॉडी बनाने में आठ महीने तक मेहनत की है। जॉन का एक नारकॉटिक्स ऑफिसर के तौर पर परफॉर्मेंस काबिलेतारीफ है। जेनेलिया डिसूजा ने अपनी बबली छवि को इस फिल्म में बरकरार रखा है। मोहनीश बहल बेहद प्रभावी हैं जबकि राज बब्बर बुरी तरह निराश करते हैं। संध्या मृदुल ने अपना बेस्ट दिया है। कमलेश सावंत अपनी एक्टिंग से प्रभाव छोड़ने में कामयाब हुए हैं। सबसे जबर्दस्त काम विद्युत जामवाल का है जिन्होंने एक बार फिर से फिल्मों में खलनायकों की मजबूत वापसी करवाई है। कई दृश्यों में जॉन पर भारी पड़े हैं। निशिकांत ने दो से तीन घटनाक्रमों को एक साथ चलाया है, जिससे कई बार देख चुके दृश्यों में भी ताजगी नजर आती है। निशिकांत की फिल्म माध्यम पर अच्छी पकड़ है इसके बावजूद भी इन्होंने यह स्क्रिप्ट चुनी, यदि वे और उम्दा स्क्रिप्ट चुनते तो फिल्म में और निखार आ सकता था। डायलॉग्स फिल्म के मूड और स्क्रिनप्ले को पूरी तरह जस्टीफाई करते हैं। सुनने में तो यह बहुत साधारण लेकिन काफी इम्पैक्टफुल हैं। सिनेमैटोग्राफी साधारण है। फिल्म का बैकग्राउंड स्कोर सीन में एक्शन और सस्पेंस को और भी ज्यादा उभारने में सहायक हैं। गाना 'दिल की है तमन्ना' रोमांटिक अहसास कराता है।यह फिल्म उनके लिए है जो एक्शन के शौकीन हैं, जॉन के दीवाने हैं, जेनेलिया की मासूमियत को शिद्दत से पसंद करते हैं और एक सुपरकॉप को पूरी गैंग से भिड़ते देखना चाहते हैं।

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...