غزل
حوصلہ اب کس میں ہے باقی نئی تدبیر کا
کھیل بچوں کا نہیں' ہے سامنا تقدیر کا
ہوگیا مفہوم کیوں سیدھی لکیروں کانہاں
رنگ کیوں دھندلا گیا یکلخت ہر تصویر کا
اور بھی بڑھنے لگا اس وقت لہجے کا جلال
تنگ جب ہونے لگا حلقہ مری زنجیر کا
گو دکھاوا ہی سہی پاس مروت کچھ تو ہو
کون سا انداز ہے ظالم تری تحریر کا
یا بتا کیا ہے خطاا یا پھرہدف تبدیل کر
بے سبب بنتا رہوں کب تک نشانہ تیر کا
اپنے پہلو میں حسن دیکھا تھاتجھ کو خواب میں
منتظر اس وقت سے ہوںخواب کی تعبیر کا
حسن فرخ
No comments:
Post a Comment