Wednesday, September 28, 2011

HASSAN FARRUKH KI GHAZAL

غزل
حوصلہ اب کس میں ہے باقی نئی تدبیر کا
کھیل بچوں کا نہیں' ہے سامنا تقدیر کا
ہوگیا مفہوم کیوں سیدھی لکیروں کانہاں
رنگ کیوں دھندلا گیا یکلخت ہر تصویر کا
اور بھی بڑھنے لگا اس وقت لہجے کا جلال
تنگ جب ہونے لگا حلقہ مری زنجیر کا
گو دکھاوا ہی سہی پاس مروت کچھ تو ہو
کون سا انداز ہے ظالم تری تحریر کا
یا بتا کیا ہے خطاا یا پھرہدف تبدیل کر
بے سبب بنتا رہوں کب تک نشانہ تیر کا
اپنے پہلو میں حسن دیکھا تھاتجھ کو خواب میں
منتظر اس وقت سے ہوںخواب کی تعبیر کا

حسن فرخ

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...