ہندوستانی منصوبہ بندی کمیشن نے تسلیم کیا ہے ملک کی کل آبادی کا سینتیس فیصد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ادھراین جی اوز نے صرف غربت کی لکیر کے نیچے جینے والے افراد کو اناج کی لازمی فراہمی کے منصوبے کو رد کرتے ہوئے حکومت سے تمام غرباءکے لیے یکساں اصول اپنانے کا مطالبہ کیا ہے۔منصوبہ بندی کمیشن نے اس سلسلے میں تندولکر کمیٹی کی اس رپورٹ کو بنیاد تسلیم کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد میں دس فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اب ملک کی ایک تہائی سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جی رہی ہے۔خوراک کے حق کے بل پر قانون سازی کرنے والے ’امپاورڈ گروپ آف منسٹرز‘ نے نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ پر عوامی حلقوں کی کڑی تنقید کے بعد منصوبہ بندی کمیشن سے کہا تھا کہ وہ ملک میں غریب افراد کی تعداد بتائے۔اس کے جواب مےںہندوستان کے منصوبہ بندی کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ دہلی اور ممبئی جیسے شہروں میں بتیس روپے روزانہ سے زیادہ پرگزارہ کرنے والے لوگوں کو انتہائی غریب افراد کے زمرے میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔کمیشن نے عدالت میں ایک حلفیہ بیان داخل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہروں میں رہنے والے جو لوگ نو سو پینسٹھ روپے ماہانہ خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہیں انتہائی غریب لوگوں کے زمرے سے باہر رکھا جائےگا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو سستے اناج کی شکل میں وہ امداد فراہم نہیں کی جائے گی جو انتہائی غریب لوگوں کومہیا کی جاتی ہے۔غریبوں کا تعین کرنے کے لیے تشکیل دی گئی تندولکر کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ شہروں میں آباد جن پانچ افراد پر مشتمل خاندانوں کی ماہانہ آمدنی چار ہزار آٹھ سو چوبیس روپے سے کم ہے، صرف وہی انتہائی غریب کے زمرے میں شامل کیے جائیں گے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ حد تین ہزار نو سو پانچ روپے رکھی گئی ہے۔کمیشن کا موقف ہے کہ اس رقم میں چار لوگوں کے کنبے کی صحت، خوراک اور تعلیم سے متعلق تمام ضروریات پوری ہوسکتی ہیں۔ اس سے زیادہ خرچ کرنے والے کنبے غریبوں کے زمرے میں تو شامل ہوں گے لیکن انہیں بہت سی رعایتوں سے محروم کر دیا جائے گا۔حکمراں یو پی اے کی چیئر پرسن اور کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کی قیادت والی قومی مشاورتی کونسل کے رکن اور ماہر اقتصادیات ڑوں ڈریز نے کہا ہے کہ کمیشن کے حساب سے حفظان صحت کے لیے روزانہ ایک روپیہ کافی ہے حالانکہ اتنے میں سر کے درد کی ایک گولی بھی نہیں ملتی۔
یہ حلف نامہ سپریم کورٹ کی اس ہدایت کے بعد داخل کیا گیا ہے کہ کمیشن مہنگائی کی موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے اعداد و شمار پر نظر ثانی کرے۔قومی مشاورتی کونسل کی ایک اور رکن ارونا رائے نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت غریبوں کی کتنی ہمدرد ہے۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اس پوری کارروائی کا بظاہر مقصد یہ ہے کہ انتہائی غربت میں رہنے والوں کی تعداد کم کی جائے تاکہ غریبوں کے لیے چلائی جانے والی مختلف سکیموں پر اخراجات کم ہوجائیں۔اس سے پہلے کمیشن نے عدالت کو بتایاتھا کہ شہروں میں رہنے والا جو شخص پانچ سو اناسی روپے ماہانہ خرچ کرسکتا ہے، اسے انتہائی غربب نہیں مانا جاسکتا۔ دیہی علاقوں کےلئے یہ رقم چار سو سینتالیس روپے تھی۔تیندولکر کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا تھا کہ شہری علاقوں میں بیس روپے اور دیہی علاقوں میں پندرہ روپے روزانہ خرچ کرنے والے لوگوں کو خطِ افلاس یا غریبی کی لائن سے نیچے تصور نہیں کیا جاسکتا۔ کمیٹی نے یہ سفارشات دو ہزار چار اور دو ہزار پانچ کی قیمتوں کی بنیاد پر دی تھیں۔ہندوستان میں اس وقت مہنگائی بے قابو ہے اور افراط زر تقریباً دس فیصد کے قریب ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حکومت گزشتہ اٹھارہ مہینوں میں بارہ مرتبہ سود کی شرح بڑھا چکی ہے لیکن اس اقدام کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔

No comments:
Post a Comment