Friday, September 2, 2011

اردو کاقانونی موقف



اردو ہمارے ملک کی ایک مشترکہ زبان ہے۔جو ہماری تہذیب و تمدن کی علامت ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تمدن اور زبان کوجدا نہیں کیا جاسکتا۔اردو زبان ہماری تمدنی تہذیب کا جز و لا ینفک ہے۔ہر زبان عوام سے وابستہ اور جڑی ہوئی ہوتی ہے اور اسے عوام سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ زبان کا زندگی سے بھی گہرا اربط ہوتا ہے اور زبان کے ذریعہ مواصلات (ادایئگی جذبات، احساسات و خیالات )زندگی کا ثبوت ہے۔قانون ، دستور اور زندگی ایک دوسرے سے مربوط اور ایک دوسرے کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ اردو دستور ہند کے آٹھویں جدول کے تحت قومی زبانوں میں سے ایک ہے۔آزادءہند کے بعد اردو کو ریاست جموں و کشمیر کی زبان قرار دیا گیا۔ یہ ایک سیاسی فیصلہ تھا کیوں کہ اردو جموں و کشمیر کی زبان نہیں ہے۔ دستور کی دفعہ تین سو پینتالیس کے تحت ریاستی مقننہ قانون کی منظوری کے ذریعہ کسی ایک یا ایک سے زائد زبانوں کو ریاست کے کسی ایک یا تمام مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا اعلان کر سکتی ہے۔اس دستوری گنجائش کے تحت کئی ریاستوں نے قانون کی منظوری کے ذریعہ اردو کوسرکاری موقف عطا کیا۔ان ریاستوں میں کرٹاٹک، اتر پردیش اور مغربی بنگال شامل ہیں۔ بہار میں قانون سرکاری زبان میں ترمیم کے ذریعہ اردو کودوسری سرکاری زبان بنایا گیا ،لیکن اردوکو واقعی دوسری سرکاری زبان کہنا یا سمجھنامحض ایک مذاق یا لطیفہ ہے۔ کیوں کہ جن اغراض کے لیے اردو کو دوسری سرکاری زبان بنایا گیا ،ان میں صرف ناموں کی تختیاں آویزاں کرنااور اردو درخواستوں کی قبولیت شامل ہے۔ 
آندھرا پردیش میںاردو کا موقف قانون کے مطابق بہت مضبوط و مستحکم ہے لیکن عمل آوری کی سطح پر صفر ہے۔ریاست میں قانون سرکاری زبان انیس سو چھیاسٹھ میں نافذ کیا گیا۔اس قانون کے نفاذ کا مقصد آندھرا پردیش میں سرکاری مقاصد کے لیے تلگو زبان کو مروج کرنا تھا،اس کے علاوہ ریاستی مقننہ کی کاروائی بھی تلگو میں چلانا تھا۔
قانون سرکاری زبان کی دفعہ سات کے تحت ، کسی اور زبان کی بھی، ان میں سے کسی ایک یا تمام مقاصد کے لیے استعمال کی گنجائش شامل ہے۔
 دفعہ سات: اردو یا کسی اور زبان یا زبانوں کو تلگو کے علاوہ ریاست کے متعدد علاقوں میں ایسے سرکاری مقاصد کے لیے اور ایسی مدت کے لیے استعمال کیا جاسکے گا،جس کی صراحت آندھرا پریش گزٹ میں اعلامیہ کے اندراج کے ذدیعہکی جاے۔ یہ ہدایت دی جاے کہ اردو یا کسی اور زبان کو تلگو کے علاوہ ایسی زبان یا زبانوں کے بولنے والوں کےمفاد میں، ایسے علاقوں اور ایسے سرکاری مقاصد کے لیے استعمال کیا جاے، جن کی اعلامیہ میں صراحت کی جاے۔اس قانون کے نفاذ کے گیارہ سال کی طویل مدت کے بعد حکومت نے جی بو ایم ایس چار سو بہتر سال انیس سو ستہتر میں جاری کیا گیا جس میں انعلاقوں اور مقاصد کی صراحت کی گیء جن کے لےی اردو ایکسرکاری علاقاءزبان کے طور پر استعمال کی جاے :۔
تلگو کے علاوہ اردو کواضلاع اننت پور ،کڑپہ اورکرنول اور تلنگانہ کے تمام اضلاع میں حسب ذیل مقاصد کے لیے استعمال کر نے کی ہدائت دی :
الف)بطور علاقاءزبان سیکریٹیریئل ، مجسٹیرئیلاور جوڈیشئیل مجسٹیرئیل خدمات میں راست تقررات کے لیے
ب)گزیٹڈ اور نان گزیٹڈخدمات میںایک زبان کے طور پر دوسری زبان ٹسٹکے مقصد سے
ج)جہاں تک قابل عمل ہواردو درخواستوں کا جواب اردو ہی میں بھجا جاے۔
د)آندھرا پردیش ہاءکورٹ کی ماتحت عدالتوں میں دیوانی اور فوج داری مقدمات میں اضلای اننت پور،کڑپہ ، کرنول ،گنٹور ،عادل آباد۔ حیدرآباد، رنگا ریڈی ،، کریم نگر، کھمم ، محبوب نگر ، میدک ، نلگنڈہ، نظام آباد اور ورنگل بطمو زبان اردو استعمال کی جاسکے گی۔
ہ)جہاں کسی بھی عہدہ پرترقی کے لیے، تلگو ٹسٹ ایک اضافہ قابلیتمتصور ہوگی، کسی بھی اردو داںملازم کو جس نے تلگو ٹسٹ کامیاب نہ کیا ہو، اگر وہ بہ اعتبار دیگر استحقاق رکھتا ہو ، تو وہ ترقی کے لیے غور کے قابل ہوگا بشرطیکہ وہ مخصوص مدت میں تلگو ٹسٹ کامیاب کر لے۔
و) اگر دس طلبہ دستیاب رہیں تو اردو جماعت اور اگر پینتالیس طلبہ دستیاب رہیں توتو ایک اردو اسکول قائم کیا جاے گا۔
قانون سرکاری زبان کے نفاذ کے تیس سال بعد سال انیس سو چھیانوے مین اسمبلی ترمیمی قانون منظور کیا کیااور پھر تین سال بعدانیس سو ننانوے میںایک اور ترمیمی قانون منظور کیا گیا جس کے ذریعہ اردو کو حسب ذیل اضلاع میں دوسری سرکاری زبان بنایا گیا:
اننت پور ، کڑپہ ، کرنول ،گنٹور، عادل آباد، حیدرآباد ،رنگا ریڈی، کھمم ، محبوب نگر، میدک ، نلگنڈہ ، نظامآباد ورنگل اور کریم نگر

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...