ایک بار پھر مسئلہ فلسطین عالمی منظرنامہ پر ابھر کر سامنے آکھڑا ہوا ہے۔ جب سے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں ریاست فلسطین کے قیام کے لئے درخواست دینے والے ہیں تب سے امریکہ کی قیادت میںمغربی ممالک حیران و پریشان ہیں۔ اسرائیل کی نیند اڑی ہوئی ہے۔ وہ امریکی صدر براک اوباما جو فلسطینی ریاست کے نقیب تھے اب وہی براک اوباما اقوام متحدہ کو یہ پاٹھ پڑھارہے ہیں کہ ”اقوام متحدہ میں قرار داد پاس کرنے سے امن نہیں قائم ہو جاتا ہے“۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم گھڑی گھڑی واشنگٹن فون کرکے اپنے تمام امریکی حلیفوں کو سمجھا رہے ہیں کہ فلسطینی ریاست کا قیام فوراً روکا جائے۔
الغرض ، فلسطینی ریاست کے قیام سے مغربی ممالک اور اسرائیل گھبرائے ہوئے ہیں۔ امریکہ کی قیادت میںمغربی دنیا کے سفارتکار عالمی برادری کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہےں کہ اقوام متحدہ کے ذریعہ فلسطینی ریاست کا قیام بے معنی ہے۔ یوں تو اس مسئلہ پر حتمی فیصلہ آچکا ہے۔ صدر براک اوباما یہ اعلان کرچکے ہیں کہ اگر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی فلسطینی ریاست کے حق میں فیصلہ دے بھی دیتی ہے تو بھی امریکہ سیکورٹی کونسل (جہاں اقوام متحدہ جنرل باڈی کے تمام فیصلوں پر آخری فیصلہ ہوتا ہے) میں اس فیصلے کوا پنے ویٹو پاور کا استعمال کرکے رد کردے گا۔ محمود عباس سمیت سارے عالم کو اس بات کا اندازہ تھا کہ فلسطینی ریاست کا قیام ابھی بھی امریکہ کو منظور نہیں ہے اور آخر میں امریکہ ریاست فلسطین کے قیام پرروک لگادے گا۔ پھر بھی محمود عباس اس کوشش میں لگے تھے کہ یو این میں فلسطینی ریاست کے قیام کا معاملہ اٹھے۔آخر محمود عباس ایسا کیوں کررہے تھے؟ کیا اقوام متحدہ میںامریکہ کے ویٹو کرنے سے فلسطینی ریاست کا قیام پھر ممکن نہیںہوسکتا ہے؟محمود عباس کوئی فلسطینی بچہ تو ہیں نہیں؟ وہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر ہیں اور عالمی سیاست سے بخوبی واقف ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کو امریکی سیاست کا پوری طرح اندازہ ہوگا۔ وہ یہ بات بخوبی سمجھ رہے ہیں کہ صدر اوباما اگر چاہیں تو بھی امریکی نظام اور امریکی سیاست اوباما کو فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دے سکتی ہے۔ امریکی سیاست پر یہودی لابی کا جواثر ہے وہ دنیا پر عیاں ہے ۔ کوئی بھی امریکی صدر اس یہودی لابی کے خلاف نہیں ہوسکتاہے اور پھر امریکہ میں اگلے برس صدارتی چناﺅ ہونے ہیں۔ براک اوباما اس چناﺅ میںصدارت کے دوسری بار دعوےدار ہیں۔ اس لئے اس پس منظر میں اوباما کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ امریکی یہودی لابی اور اسرائیل کو ناخوش کریں۔ان تمام باتوں کا اندازہ محمود عباس کو بخوبی ہے لیکن پھر بھی محمود عباس ریاست فلسطین کا قیام اقوام متحدہ کے ذریعہ کروانے پر بضد ہیں۔ آخر کیوں؟صدر محمود عباس اقوام متحدہ کے ذریعہ فلسطینی ریاست نہیں بنوارہے ہیں ۔ وہ توفلسطینی ریاست کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کی پالیسی کا پردہ فاش کرکے عالمی برادری اور بالخصوص عرب عوام کے دلوں میں جذبہ فلسطین کو گرم کررہے ہیں۔ دراصل سن 1980کی دہائی میں سویت یونین کے خاتمے کے بعد سے مسئلہ فلسطین عالمی فوکس سے ہٹ گیا۔ سویت یونین کے زوال کے بعد امریکہ واحد عالمی سپر پاور کے طور پر ابھر کر آیا۔ سن 1990کی دہائی سے لے کر اور ابھی حال تک اسرائیل نے فلسطین اور فلسطینی عوام کے خلاف وہ ظلم ڈھائے کہ جس کی مثال دوسری جنگ عظیم کے بعد سے آج تک نہیں ملتی ہے۔ آئے دن فلسطینی عوام پر بم باری، ٹینکوں سے فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنا اور آخرش غزہ پٹی میںرہنے والے فلسطینیوں کی ناکہ بندی کر کے انکا آب و دانہ تک اسرائیل نے بند کردیا تھااور ان بیس برسوں میں عالمی سطح پر فلسطینیوں کی آواز اٹھانے والا بھی کوئی نہیں بچا تھا۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ اسرائیل بیت المقدس پر اپنا قبضہ کرنے کی سازش رچ رہا تھا۔ لیکن اللہ رے تاریخ کے اتار چڑھاﺅ! پچھلے چھ مہینوں کے اندر عالم عرب کی سیاست کا نقشہ ہی الٹ گیا اور اس نقشہ میں اسرائیل کی بقا ہی خطرے میںآگئی۔ یہ کیونکر اور کیسے ہوا؟تمام عالم عرب میں پچھلے چھ مہینوں کے اندر آزادی کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ کبھی تیونس تو کبھی مصر، کبھی بحرین تو کبھی یمن، کبھی شام تو کبھی لیبیا۔ الغرض، تمام عرب دنیا میں لاکھوں نوجوان سڑکوں پر نکل پڑے اور ان کے لبوں پر بس ایک نعرہ تھا اور وہ تھا:” آزادی ،آزادی“۔آزادی کے جذبہ سے سرشار ان نوجوانوں نے چشم زدن میںتیونس اور مصر سے اسرائیل کے حامی حاکموں کو برطرف کردیا۔ بس دیکھتے دیکھتے تاریخ کی اس کروٹ نے پورے عالم عرب کی سیاست کا رخ ہی بدل دیا۔ عرب دنیا میں آزادی کا جو انقلاب بپا ہوا اس کے دو اہم نتائج نکلے۔ اولاً تو تمام عالم عرب میں بیٹھے امریکی اور اسرائیلی حامی عناصر و بادشاہ الگ تھلگ پڑ گئے ۔دوسری جانب عرب دنیا میںفلسطین کی آزادی کے لئے ہمدردی کاجو جذبہ دبا تھا وہ پھر سے پےدا ہوگےا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ میں یک و تنہا ہی نہیں بلکہ چاروں طرف سے گھر گیا۔ ابھی چند روز قبل قاہرہ میں مصری نوجوانوں نے اسرائیلی سفارت خانہ پر دھاوا بول دیا۔ چشم زدن میںاس عمارت سے اسرائیلی جھنڈا اتا ر کر فلسطینی پرچم بلند کردیا گیا۔ اسرائیلی سفارت کاروں کو بمشکل تمام ہیلی کاپٹر کے ذریعہ اسرائیل پہنچایا گیا۔ پھر کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کے بعد پہلی بار مصری فوج پھر سے اسرائیل کی سرحدوں کے قریب صحرائے سینا میںتعینات ہو گئی اور اسرائیل خاموش رہا۔ یعنی اسرائیل کی مصری سرحد خطرے میںآگئی۔ ادھر دوسری جانب دہائیوں سے اسرائیل کے حلیف ترکی نے اسرائیل سے آنکھیں پھیر لیں۔ ابھی حال میں ترکی کے صدر نے اعلان کردیا کہ اب جو جہاز غزہ امداد لے کر جائیں گے ان کی حفاظت ترکی بحری بیڑا کرے گا۔ یعنی اگر اب اسرائیل نے ان جہازوں کو روکا تو ترکی اسرائیل کے ساتھ جنگ کرسکتا ہے۔ اس کے معنی ےہ کہ اسرائیل کو ترکی سے بھی خطرہ ہوگیا۔پھر لبنان میںحزب اللہ تو پہلے ہی اسرائیل سے جنگ لڑکر اسرائیلی فوج کو سبق سکھاچکی ہے۔ یعنی لبنان کی اسرائیلی سرحد پہلے سے ہی خطرے میں ہے۔ پھر شام میں ایک انقلاب بپا ہے اور صدر اسد کے جاتے ہی شام میں جو حکومت آئے گی وہ گولان پہاڑیوں سے اسرائیلی فوج کو چلتا کرے گی۔بیچارہ اسرائیل! فلسطینیوں کے خون سے ساٹھ برسوں سے خون کی ہولی کھیلنے والے اور قبلہ اول پر قبضہ کرنے کی تمنا کرنے والے اسرائیل کا اب یہ عالم ہے کہ وہ چاروں طرف سے گھر چکا ہے۔ فلسطےنی صدر محمود عباس اس عالمی پس منظر میںفلسطینی ریاست کے قیام کی کوشش اقوام متحدہ کے ذریعہ کررہے ہیں۔ ان کی اس چال سے فلسطینی ریاست کا قیام ابھی ہویا نہ ہو عالم عرب میںیہ بات تو عام ہوہی جائے گی کہ فلسطین کے دشمن کون ہیں اور دوست کون ہیں؟ آزادی کی جو لہر فی الحال عالم عرب میں چل رہی ہے اس لہر میں امریکہ فلسطینی ریاست کے خلاف ویٹو کرکے عرب عوام میںاور الگ تھلگ پڑجائے گا۔
الغرض ،بیسویں صدی اگر اسرائیل کی صدی تھی تو اکیسویں صدی ریاست فلسطین کی صدی ہے۔آج نہیں تو جلدیقینا ریاست فلسطین کا وقت آچکا ہے اور اس کے قیام کو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ قوت بھی نہیں روک سکتی ہے۔
No comments:
Post a Comment