Sunday, September 25, 2011

راولپنڈی ایکسپریس پھرپٹری سے اتری


پاکستان کے سابق مایہ ناز اور تاریخ کے تیز ترین باﺅلر شعیب اختر کی آپ بیتی منظرعام پر آگئی، راولپنڈی ایکسپریس نے الزام عائد کیا ہے کہ وسیم اکرم نے ان کا کیریئر تباہ کرنے کی کوشش کی، سچن تندولکر اور راہل ڈراوڈ میچ وننگ پلیئر نہیں، شاہ رخ خان نے دھوکہ دیا۔ شعیب اختر کو کرکٹ کی 134 سالہ تاریخ میں تیز ترین گیند پھینکنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینک کر عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ شعیب اختر نے 2011ء کے ورلڈ کپ کے بعد کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ اس کے بعد سے شعیب کرکٹ سے دور تھے اس دوران انہوں نے ”آپ کا متنازع“ کا ”دھماکہ“ کر دیا۔ شعیب اختر کا کرکٹ کیرئیر اتار چڑھاﺅ کا شکار رہا ۔کبھی فٹنس پرابلم، کبھی ڈسپلن کی خلاف ورزی اور کبھی ڈوپ ٹیسٹ پازیٹو آنے پر قومی ٹیم سے باہر ہوئے۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بہت سے کھلاڑی جن کی قسمت نے یاوری کی پاکستان کرکٹ بورڈ میں انتظامی عہدوں پر فائز ہونے میں کامیاب ہوئے اور بیشتر باﺅلنگ، بیٹنگ اور اسسٹنٹ کوچ کی”معراج“ ہی حاصل کر پائے۔ کچھ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سفیر بن گئے اور کچھ نے اپنا کاروبار چمکا لیا اور کچھ صرف تبصروں کے لئے ہی رہ گئے۔ چند ہفتے قبل شاہد آفریدی نے ایمبرائیڈڈ کپڑوں کی نمائش کا اہتمام کیا تھا ۔حال ہی میں خبر آئی ہے کہ انضمام الحق اور سعید انور نے دبئی میں گوشت کمپنی کی فرنچائز کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔شعیب اختر کے سامنے بھی کھلا میدان ہے۔ کرکٹ گراﺅنڈ سے باہر ہونے کے بعد وہ اپنے جوہر کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں دکھا سکتے ہیں۔کتاب کی رونمائی کرکے وہ ایک”دھماکہ“ تو کر ہی چکے ہیں اور تمام توپیں اپنی گھن گرج کے ساتھ شعیب پر”جوابی کارروائی“ میں مصروف ہیں۔راولپنڈی ایکسپریس کس جانب کا رخ کرتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔پاک کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ باﺅلر شعیب اختر کی متنازعہ آپ بیتی کی کتاب controversially yoursکی تقریب رونمائی ممبئی میں ہوگئی۔ کتاب کی تقریب رونمائی سے قبل ہی کتاب کے متنازعہ مندرجات منظر عام پر آنے کے بعد کتاب کی تقریب رونمائی کو منتظمین کی جانب سے منسوخ کر دیا گیا ہے۔ کتاب میں فلم اسٹار شاہ رخ خان، بلے بازتندولکر، سابق عظیم فاسٹ باﺅلر وسیم اکرم، وقار یونس اور دیگر کے خلاف الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ یہ بات ضرور غور طلب ہے کہ کتاب کی تقریب رونمائی کیلئےہندوستان کا انتخاب کیونکر کیا گیا۔ شعیب اختر اپنے تمام کیرئیر میں متنازعہ کرکٹر رہے۔ اپنے کیرئیر کے دوران ان کے کئی اسکینڈلز منظر عام پر آئے اور ان کی آپ بیتی اپنے نام کی طرح انتہائی متنازع بن گئی۔ کسی بھی مصنف کو کتاب کی رونمائی سے قبل اس کی تشہیر کیلئے کچھ اہم چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جس میں اہم کردار میڈیا بھی ہے۔ شعیب اختر کے ممبئی میں کتاب کی رونمائی کرنے کے فیصلے کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ممبئی ہندوستانی میڈیا کا گڑھ ہے اور ایشین میڈیا میںہندوستانی میڈیا کو جو مقام حاصل ہے وہ کسی اور ملک کے میڈیا کے پاس نہیں۔ ہندوستانی میڈیا کے دنیا بھر میں کروڑوں ناظرین ہیں اور بڑے بڑے کردارہندوستانی میڈیا سے تعلق قائم رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اسی پس منظر میں شعیب اختر نے بھی کتاب کی ممبئی میں رونمائی کا فیصلہ کیا تاکہ میڈیا کے ذریعے کتاب کی بھرپور طریقے سے تشہیر کی جا سکے۔ دوسری بڑی وجہ ممبئی میں کتاب چھاپنے والے ناشرین کی جانب سے کاپی رائٹ کی مد میں اچھی رقم دینا بھی ہے۔ اس کی ایک جھلک گزشتہ چند دنوں میں ممبئی میں دیکھی جا سکتی ہے۔ کتاب کے اقتباسات منظر عام پر آتے ہی ان پر انگلیاں اٹھنا اور پھر کئی چینلز کی جانب سے ان کے انٹرویوز اس بات کا مظہر ہیں کہ وہ اپنے مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی رہے۔ کتاب کی ممبئی میں رونمائی کی دوسری وجہ وہاں فیشن اور فلم انڈسٹری کا گڑھ ہونا بھی ہے۔ شعیب اختر کا کرکٹ کیرئیر اختتام پذیر ہوچکا ہے اور وہ فیشن کے دلدادہ بھی ہیں۔ واضح رہے کہ وہ ایک بار ممبئی میں فیشن شو میں ماڈلنگ بھی کرچکے ہیں۔ شعیب اختر ریٹائرمنٹ کے بعد بوٹیک کھولنے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں اور وہ ماڈلنگ کے ساتھ فلمی صنعت میں بھی قسمت آزمائی کرنا چاہتے ہیں ۔غالبا کتاب کی تقریب رونمائی اور اس سے حاصل ہونے والی شہرت کو وہہندوستانی فیشن انڈسٹری اور فلمی صنعت میں قدم رکھنے کیلئے استعمال کریں۔ اب شعیب اختر کو کاپی رائٹ کی مد میں کتنا معاوضہ ملتا ہے، وہ کتاب کی تقریب رونمائی سے اپنے مقررہ اہداف حاصل کرپاتے ہیں یا نہیں یہ فیصلہ تو وقت کرے گا۔ اس وقت دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستانی عوام اور اسٹار کھلاڑیوں کی شدید تنقید کے بعد شعیب اختر ممبئی میں کتاب کی تقریب رونمائی کر پاتے ہیں یا انہیں اس کیلئے کسی اور ملک کا سہارا لینا پڑے گا۔

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...