Friday, September 30, 2011

جب خون سے بھیگی غریب کی روٹی


 اس لڑکے کی آنکھیں سرخ ہیں ، بال پریشان اور چہرے پر دہشت کے سائے ہیں۔ ایک دن پہلے وہ دوسری بستی سے آیا ہے اور چڑھی چڑھی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھتا ہے۔ پھر کہتا ہے ،’میں نے اپنی آنکھوں سے اسے مرتا دیکھا ہے ، اپنی آنکھوں سے‘ ۔اس کی آوازکانپتی ہے۔ چند لمحوں کے لیے وہ خاموش ہو جاتا ہے۔ پھر کہتا ہے ،’'اس کا کوئی قصور نہیں تھا۔ وہ سائیکل پر جا رہا تھا۔ چند لڑکوں نے اسے بیچ سڑک پر روکا اور اس کا شناختتی کارڈ طلب کر لیا۔ وہ ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کہنے لگا غریب آدمی ہوں۔ روزی روٹی کمانے آیا تھا ، اب واپس جا رہا ہوں۔ ان لوگوں نے شناختی کارڈ پیچھے کیا اور جب وہ اپنا کارڈ جیب میں رکھ رہا تھا تو ان میں سے دو نے پستول نکال لی۔ ایک نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے نالی رکھ کر لبلبی دبا دی '’ وہ جھرجھری لیتا ہے اور پھر آگے کہتا ہے ،’دوسرے نے اس کے پیٹ میں گولی مار دی۔ وہ گرا ،اس کی سائیکل گری۔ کیریئر پر ایک تھےلا تھا ، وہ بھی گرا اور سڑک پر سارا آٹا بکھر گیا۔ وہ پھیلے ہوئے آٹے پر گرکر تڑپنے لگا۔ پھر مر گیا۔ جی ہاں ، مر گیا۔‘'اس کی آوازہسٹری ےارڈ ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ دیکھنے لگتا ہے ، جیسے اپنے ہاتھوں پر خون کے دھبے ڈھونڈ رہا ہو۔ اس کا سر جھکا ہوا ہے۔ پھر وہ بڑبڑاتا ،’میں ان لوگوں کے ساتھ تھا۔ مگر آپ یقین کریں۔ میں قاتل نہیں ہوں۔ میں نے تو کبھی بقرعےد پر بکرے کی گردن پر بھی چھری نہیں چلائی۔‘پھر زور زور سے رونے لگتا ہے۔ لڑکے کی ماں بے قرار ہو کر اس کے الجھے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگتی ہے ،' جب سے آیا ہے یہی حال ہے۔ روٹی دیکھتے ہی اس پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ کہتا ہے اس پر خون لگا ہے آپ ہی اسے سمجھائےے۔’لیکن سننے والے کس کوسمجھائیں ، کسے سلامتی دیں؟ ان کی آنکھوں میں وہی بچے گھوم رہے ہیں ، جو باپ اور باپ کی سائیکل کے کیریئر پر رکھے آٹے کی راہ دیکھتے ہوں گے ، ان کی روٹی خون میں بھیگ گئی ہے۔ یہ کسی افسانے کا ذکر نہیں ہے۔ کسی کہانی کا حصہ نہیں ہے۔ یہ واقعہ جیتا جاگتا واقعہ ہے ، جس کا ایک کردار مٹی میں مل گیا ہے اور جس کا دوسرا کردار زندہ ہے اور زندہ رہنے والے لوگوں میں اس لڑکے کے علاوہ کسی کے ضمےر پر کوئی بوجھ نہیں ہے ۔ یہ واقعہ اور اس جیسے دوسرے واقعات جو ہمارے یہاں ہو رہے ہیں ، ان کی بنیاد کیا ہے؟ جو لوگ ختم ہو گئے اور جنہوں نے بےگناہوں کو ختم کیا ، ان کے درمیان جھگڑے کی وجہ کیا تھی۔ وہ سب انسان تھے۔ سندھ میں آباد تھے۔ پاکستان کے شہری تھے۔ ایک مذہب کو ماننے والے اور ایک علاقے کے رہنے والے تھے۔ ان کے لباس بھی ایک تھے اور ان کے جینے مرنے کے طریقے بھی ایک سے تھے۔ یہی نہیں ان کے تو سکھ دکھ بھی ایک سے تھے۔ مرنے والے غریب تھے اور مارنے والے بھی سیٹھ ساہوکاروں کے بیٹے نہ تھے۔ تو پھر کیا چیز تھی جو انہیں ایک دوسرے سے الگ کرتی تھی؟ بہت سوچ وچار کے بعد یہ بات سامنے آئی۔ ان کے درمیان فرق صرف زبان کا تھا۔ یہ نہیں کہ ان کی زبان کی بناوٹ ، اس کے رےشے میں گردش کرتا ہوا خون اور اس کو حرکت دینے والے حصوں میں کہیں کوئی فرق نہیں تھا۔ نہیں مارنے والوں اور مرنے والوں کی زبان کی بناوٹ بھی ایک سی تھی۔ ان میں دوڑنے والا خون بھی ایک سا تھا۔ فرق تھا تو صرف ایک بات کا ، کہ ان میں سے ایک کی زبان جب حرکت کرتی تھی تو اس میں سے نکلنے والی آوازیں ایک الگ بولی سے تعلق رکھتی تھیں۔ میں اس فرق کے بارے میں سوچتی رہی اور میرے سامنے بہت سی روہےں ولاپ کرتی رہیں۔ موت نے ان کی بولیوں کا فرق مٹا دیا تھا۔ یہ روہےں بے بسی کی زبان میں رو رہی تھیں۔ یہ ان کی روہےں تھیں جو نسل اور بولی کے جھگڑوں میں مارے گئے۔ ان کا سوال درست تھا کہ میرے جیتے جاگتے بدن کا قصور کیا تھا؟ میں نے کیا خطا کی تھی؟ یہ کسی مزدور ، کسی کلرک ، کسی دوکاندار کی روہےں تھیں۔ ایک نے کہا کہ میں ٹی بی سے مر رہا تھا ، مجھےاےسے مارنے کی کیا ضرورت تھی۔ دوسرے کا کہنا تھا ، میرا بچہ پولےوزدہ ہے ، اس کی دوا کون لائے گا۔ تیسرا اپنے کھیتوں کو رو رہا تھا ، جن میں حل چلانے والا کوئی نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا ہماری محنت کے ایندھن سے ہمارے گھروں کا چولہا جلتا تھا اور ہماری ہی کمائی سے ہمارے بچوں کا پیٹ بھرتا تھا۔ ہمارے مارنے والوں کو ایک پل کو بھی یاد نہیں آیا کہ ہم بھی ان جیسے ہیں۔ انہی کی طرح غریب ، پریشان حال۔ ہم جو مر گئے اور جنہوں نے ہمیں مارا ، سب ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ دونوں کا قبیلہ بھوک کا قبیلہ تھا۔ ان کی اور ہماری زبان غربت کی زبان تھی۔ اس سے بھلا کیا فرق پڑتا ہے کہ انہوں نے ہم سے ہمارا نام پوچھا تو ہم نے اس زبان میں جواب دیا جو وہ نہیں بولتے تھے۔ میں سر جھکائے بیٹھی رہی ، کیونکہ میرے پاس ان کے ان سوالوں کے جواب نہیں تھے اور کھوکھلی دلیلوں اور جھوٹی تسلےوں سے انہیں بہلانے کا حوصلہ مجھ میں نہیں تھا ، کیونکہ وہ جیتے جاگتے انسانوں کے کسی کام کی نہیں ، پھر بھلا روہوں کے کس کام کی؟

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...