Sunday, September 4, 2011

Amjad Islam Amjad Ka Kalam




میرا فن، میری کاوش، مرا ریاض
اک نا تمام گیت کے مصرے ہیں جنکے بیچ
معنی کا ربط ہے نہ کسی قافیے کا میل
انجام جسکا طے نہ ہوا ہو ،اک ایسا کھیل

مری متاع بس یہی جادو ہے عشق کا
سیکھا ہے جسکو میں نے بڑی مشکلوں کے ساتھ

لیکن یہ سحرِ عشق کا تحفہ عجیب ہے
کھلتا نیہں ہے کچھ کہ حقیقت میں کیا ہے یہ
!تقدیر کی عطا ہے یا کوئی سزا ہے یہ

کس سے کہیں اے جاں کہ یہ قصہ عجیب ہے
کہنے کو یوں تو عشق کا جادو ہے میرے پاس
پر میرے دل کے واسطے اتنا ہے اسکا بوجھ
سینے سے اک پہاڑ سا ، ہٹتتا نیہں ہے یہ

لیکن اثر کے باب میں ہلکا ہے اسقدر
تجھ پر اگر چلاوں تو چلتا نیہں ہے یہ


-- 

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...