اپنی کلاسےکلبلے بازی سے زیادہ کپتانی کی وجہ سے کرکٹ کی دنیا میں امٹ نقوش چھوڑنے والے منصور علی خان پٹودی نے ہندوستانی کرکٹ میں قیادت کی نئی مثال اور نئے نظرےےکی اےجاد کی تھی۔ وہ پٹودی ہی تھے جنہوں نےہندوستانی کھلاڑیوں میں یہ اعتماد پےدا کےا تھا کہ وہ بھی جیت سکتے ہیں۔ پٹودی کی پیدائش بھلے ہی پانچ جنوری 1941 کو بھوپال کے نواب خاندان میں ہوئی تھی لیکن انہوں نے ہمیشہ نازک حالات کا سامنا کیا۔ چاہے وہ نجی زندگی ہو یا پھر کرکٹ۔ تب 11 سال کے جونیئر پٹودی نے کرکٹ کھےلنی شروع بھی نہیں کی تھی کہ ٹھیک ان کی یوم پیدائش پر ان کے والد اور سابقہندوستانی کرکٹ کپتان افتخار علی خان پٹودی کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد جب پٹودی نے بین الاقوامی کرکٹ میں کھیلنا شروع کیا تو 1961 میں کار حادثے میں ان کی ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی۔ جس سے انہیں ایک چیز دو دو دکھائی دیتی تھیں وہ بھی چھ چھ انچ کی دوری پر۔ اس کے باوجود نہ صرف انہوں نے اس وقت کے سب سے تیز گیند بازوں فریڈی ٹرومین، ویس حال، چارلی گرفتھ اور گراہم میکنزی کو بخوبی کھیلا بلکہ چھ سنچریاں بھی بنائیں۔انگلینڈ کے خلاف دہلی میں بنائے گئے دو سو تین ناٹ آو ¿ٹ رن ان کے کیرےئر کا بہترین اسکور تھا لیکن 1967 میں میلبورن کی ہری پچ پر انکی75 رنز کی اننگز کو ان کی سب سے بہترین اننگز مانا جاتا ہے۔پچیس رن پرہندوستان کے پانچ وکٹ گر چکے تھے۔ پٹودی کے گھٹنے کے نیچے کی نس ( ہیمسٹرنگ) میں چوٹ لگی ہوئی تھی اور وہ اجیت واڈیکر کے ساتھ رنرر کے طور پر میدان میں اترے۔وہ سامنے کی طرف نہیں جھک سکتے تھے اس لیے صرف ہک، کٹ اور گلانس شاٹس کے سہارے، انہوں نے75 رن بنائے۔ اس اننگ کے بارے میں مہیر باس نے ہسٹری آف انڈین کرکٹ میں لکھا تھا ’ایک آنکھ اور ایک پیر کے سہارے کھیلی گئی اننگز‘۔ایک اچھا بلے باز ہونے کے ساتھ ساتھ پٹودی ایک شاندار بالر بھی تھے۔ کور پر کھڑے ہوکر جس طرح سے وہ گیند کے پیچھے بھاگتے تھے لگتا تھا کہ ایک چیتے کی طرح وہ اپنے شکار کا پیچھا کر رہے ہیں۔شاید اسی وجہ سے ان کا نام ٹائیگر پڑا۔کالر اوپر کھڑا کر کے، کمزور ٹیم کے باوجود ، دنیا کی بہترین ٹیموں کے خلاف اعتماد کے ساتھ کھڑا ہونا پٹودی نے ہی ممکن کر دکھایا تھا۔ اس کے باوجود وہ پٹودی کا جذبہ اور کرکٹ کھےلنے کی صلاحیت ہی تھی کہ انہوں نےہندوستان کی طرف سے نہ صرف 46 ٹیسٹ میچ کھیل کر34.91کی اوسط سے 2793 رن بنائے بلکہ ان میں سے 40 میچ میں ٹیم کی کپتانی بھی کی۔ وہہندوستان کے پہلے کامیاب کپتان تھے۔ ان کی کپتانی میں ہیہندوستان نے بیرون ممالک میں پہلی جیت درج کی تھی۔ہندوستان نے ان کی قیادت میں نو ٹیسٹ میچ جیتے جبکہ 19 میں اسے شکست ہوئی لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ پٹودی سے پہلےہندوستانی ٹیم نے جو 79 مےچ کھےلے تھے ان میں سے اسے صرف آٹھ میں کامیابی ملی تھی اور 31 میں شکست۔ یہی نہیں اس سے قبلہندوستان بیرون ملک میں 33 میں سے کوئی بھی ٹیسٹ میچ نہیں جیت سکا تھا۔ٹائیگر کے نام سے مشہور پٹودی کی کرکٹ کی کہانی دہرا دون کے وےلکم اسکول سے شروع ہوئی تھی لیکن ابھی انہوں نے کرکٹ کھیلنا شروع ہی کیا تھا کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد جونیئر پٹودی کو تمام لوگ بھول گئے۔ اس کے چار سال بعد ہی اخباروں میں ان کا نام چھپا جب ونچےسٹر کی طرف سے کھیلتے ہوئے انہوں نے اپنی بلے بازی سے سب کو متاثر کیا۔ اپنے والد کے انتقال کے کچھ دن بعد ہی پٹودی انگلینڈ آ گئے تھے۔ وہ جس جہاز میں سفر کر رہے تھے اس میں وےنو ماکنڈ ،فرینک وارےل ، اےورٹن وکس اورسنی رامدےن جیسے بڑے کرکٹر بھی تھے۔ وارےل کو اس وقت پتہ نہیں تھا کہ وہ جس بچے سے مل رہے ہیں دس سال بعد وہی ان کے ساتھ میدان پر ٹاس کے لئے اترے گا۔قائدانہ صلاحےت ان کی رگوں میں بسی تھی۔ ونچےسٹر کے خلاف ان کا کیریئر 1959 میں عروج پر تھا جب کہ وہ کپتان تھے۔ انہوں نے اس وقت اسکولی کرکٹ میں ڈگلس جارڈن کا ریکارڈ توڑا تھا۔ پٹودی نے اس کے بعد دہلی کی طرف سے دو رنجی مےچ کھےلے اور دسمبر 1961 میں انگلینڈ کے خلاف فےروز شاہ کوٹلہ میدان پر پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے کا انہےںموقع ملا۔ یہ میچ بارش سے متاثر رہا تھا۔اس میچ میں تو وہ اپنی موجودگی درج نہیں کرا پائے لیکن کلکتہ میں اگلے میچ میں انہوں نے 64 رن بنائے۔ ان کے جاندار شاٹ سے ناظرین تب جھومنے لگے تھے۔ہندوستان نے آخر میں یہ میچ 187 رنز سے جیتا تھا۔ چنئی میں پھر سے انہوں نے 103 رنز کی اننگز کھیل کر خود کو میچ ونر کھلاڑی ثابت کیا تھا۔ اس اننگز میں انہوں نے 14 چوکے اور دو چھکے لگائے تھے۔ ویسٹ انڈیز کے دورے میں وہجسممیںتکلےف کے مسئلے سے جوجھتے رہے لیکن تیسرے اور چوتھے ٹیسٹ میچ میں انہوں نے 48 اور 47 رنز کی دو بہترین اننگ کھیلی تھی۔ اس کے بعد 1964 میں انگلینڈ ٹیم کےہندوستان دورے کے شروع میں وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائے لیکن دہلی میں انہوں نے ناٹ آو ¿ٹ 203 رن کی اننگز کھیل کر اس کی بھرپائی کر دی جو ان کا سب سے زیادہ اسکور بھی ہے۔ آسٹریلوی ٹیم جب تین میچ کے لیے ہندوستانی دورے پر آئی تو پٹودی نے اپنے والد کی طرح اس ٹیم کے خلاف اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں سنچری جڑنے کا انوکھا ریکارڈ بنایا۔ یہ بے حد ےادگار اننگز تھی۔ انہوں نے جس طرح سے وےوےرس اور مارٹن جیسے گےند بازوں کے خلاف دبدبے سے بلے بازی کی اس کی مثال آگے بھی نوجوان کھلاڑیوں کے سامنے دی جاتی رہی۔ اگلے ٹیسٹ میچ میں انہوں نے 86 اور 53 رنز کی دو جاندار بہترین اننگ کھیلی اور ہندوستان کو ڈرامائی جیت دلائی۔ان کے کیریئر کا سب سے یادگار دور 1968 میںہند کا نیوزی لینڈ دورہ تھا۔ہندوستان نے اس وقت پہلی بار غیر ملکی سرزمین پر ٹیسٹ میچ اور ٹیسٹ سیریز 3:1 جیتی تھی۔پٹودی 1969 تک ہندوستانی ٹیم کے کپتان رہے۔اس کے بعد وہ مختلف وجوہات کی بنا پر ٹیم کا حصہ نہیں بن پائے۔ انہیں اگرچہ پھر سے 1973 میں ٹیم میں واپسی کا موقع ملا اور پھر انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پانچ ون ڈے میچوں میں کپتانی کی تھی۔ ان میچوں میں حالانکہ ان کی کارکردگی اچھی نہیں رہی اور انہیں ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔ وہ اس کے بعد بھی ایک سال تک فرسٹ کلاس میچ کھیلتے رہے جس کے بعد انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے 1993 سے 1996 تک آئی سی سی میچ ریفری کا کردار بھی نبھاےا۔ وہ دو ٹیسٹ اور دس ون ڈے میں میچ ریفری رہے۔ انہیں 2008 میں انڈین پریمیئر لیگ کی انتظامی کونسل میں شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے 2010 میں یہ عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے گزشتہ سال کے شروع میں بی سی سی آئی پر ادائیگی نہ کرنے کا معاملہ بھی درج کیا تھا۔ پٹودی کو 1964 میں ارجن ایوارڈ اور 1967 میں پدم شری سے نوازا گیا تھا۔ انہوں نے ہندوستانی سنے اسٹارا شرمےلا ٹیگور سے 1969 میں شادی کی تھی اور ان کے تین بچے سیف علی خان ، سوہا علی خان اور صبا علی خان ہیں۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
सुशासन की त्रासदी
मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...
-
عظیم فن کار کندن لال سہگل کی مقبولیت ہر کوئی خاص وعام میں تھی، لیکن منگیشکر خاندان میں ان کا مقام علیٰحدہ تھا۔ اس گھر میں صرف اور صرف سہگل ...
-
अहमदाबाद। पूरी दुनिया को अपनी जादूगरी से हैरान कर देने वाले और विश्व प्रख्यात जादूगर के. लाल अब अपने जीवन का अंतिम शो करने जा रहे हैं। ...
No comments:
Post a Comment