200 کروڑ کا لوک پال ، 100 کروڑ کا ابتدائی خرچ اور 400 کروڑ کی عمارت۔ جی ہاں ، ملک کو بدعنوانی پر لگام لگانے والا لوک پال سستے میں نہیں ملے گا۔ حکومت نے لوک پال بل کے ساتھ جو دستاویزات پارلیمنٹ میں پیش کئے ہیں ان کے مطابق لوک پال پر ایک سال میں 200 کروڑ روپیہ کا خرچ آئے گا۔ لوک پال تنظیم کی شروعات میں ہی حکومت کو ایک بار کا 100 کروڑ کا خرچ اٹھانا پڑے گا۔
حالانکہ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوک پال پر خرچ کتنا آئے گا یہ ٹھیک ٹھیک بتانا ممکن نہیں ہے لیکن اگر لوک پال کے لیے عمارت بنانے کی ضرورت پڑتی ہے تو اس پر ہی حکومت کو 400 کروڑ روپے خرچ کرنے ہوں گے۔لوک پال کے اخراجات کا انتظام ملک کے کنسولڈےٹےڈ فنڈ یعنی جامع فنڈ سے ہوگا۔ اس فنڈ میں ہی سینٹرل ایکسائز ، کسٹم اور انکم ٹیکس سمیت تمام ٹیکس جمع ہوتے ہیں۔ حکومت بانڈ جاری کر کے جو قرض بٹورتی ہے وہ اس فنڈ میں جاتا ہے۔ وہیں حکومت دوسرے ممالک اور ورلڈ بینک یا آئی ایم ایف سے جو قرض لیتی ہے وہ بھی اسی فنڈ میں جاتا ہے لیکن مجموعی طور پر بات یہ ہے کہ لوک پال کے لیے پیسہ آپ کی جیب سے جائے گا۔
No comments:
Post a Comment