مبارک ہو تمکو یہ شادی تمہاری
تاریخ میںاب تک ہم 29اپریل کو اس وجہ سے یاد رکھتے ہیں کہ اسی دن یعنی 1639کو ہندوستان کی تاریخی عمارت لال قلعہ کی بنیاد شاہ جہاںنے رکھی۔ اسی دن دنیا کے عظیم مصور راجاروی رمن کی 1848میںپیدائش ہوئی اور اسی دن 1856میںانگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان امن سمجھوتہ ہوا۔ لیکن اب اس باب میںاضافہ ہوگیا ہے۔ ظاہر ہے اس میںاضافے اسی وقت ممکن ہوتے ہیں جب کوئی عظیم کارنامہ ، واقعہ یا پھر کچھ ایسا ہوجائے جس کی ساری دنیا میںدھوم ہو۔ آج ایسا ہوا۔ جی ہاں، آج ہوئی ہے برطانیہ کے شہزادہ پرنس ولیم کی کیٹ مڈلٹن سے شادی ۔ شادی بھی ایسی ویسی نہیں۔ اس شادی کی تقریبات پر جہاں 20ارب روپئے کا صرفہ ہوا ہے وہیں اسے دنیا کے 180ممالک میںلائیو ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔ آپ اندازہ لگاسکتے ہیں اس شادی کی اہمیت کا۔ شادی تو عموماً ہر روز ہوا کرتی ہے۔لیکن ایسی شادی جس میںایک راجکمار ایک معمولی سے خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکی کے پیار میں گرفتار ہوکر اسے اپنی زندگی کا حصہ بنالے یہ واقعی ایک مثال ہے جس کو تاریخ کے اوراق میںلکھ دینا ہی بہتر ہے۔ باور رہے کہ کیٹ مڈلٹن آسٹریلیا کی رہنے والی ہیں اور ایسامانا جارہا ہے کہ ان کے آباﺅ اجداد کانکنی میںکام کرتے تھے۔ لیکن کیٹ جب اپنی پڑھائی کررہی تھی تو اسی وقت شہزادہ ولیم سے ان کا عشق ہوگیا اور پھر جیسے ”ایک عام لڑکی کا سپنوںکا راجکمارآتا ہے اور اس کا ہاتھ تھام کر سپنوں کے محل میںلےجاتا ہے“ کے مصداق مڈلٹن پہنچ گئی برلنگھم پیلیس۔
تبھی تو جمعرات کو ایک بیان میںپرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن نے اس یاد گار اور تاریخی لمحہ کو الفاظ دیتے ہوئے کہا”ہم خوش ہیں کہ آپ سب اس جشن میںشامل ہیں۔ یہ ہماری زندگی میںبے حد خوشی کا دن ہے۔ آپ لوگوں کے پیار نے ہمیں ایسی خوشی دی ہے جس کا اظہار ہم نہیںکرسکتے“۔ عموماً اس طرح کا عوامی جوش وولولہ کچھ ایک مواقع جیسے کرکٹ ورلڈکپ، فٹبال ورلڈ کپ وغیرہ میںبھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ ساری دنیا کے لوگ اس منظر کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس اس شاہی شادی نے اپنا جادو ایسا بکھیرا ہے کہ لندن کی سڑکوں پر اور ہر جگہ صرف اور صرف کیٹ ولیم کی شادی کے ہی قصے قصیدے پڑھے جاتے رہے اور ان کے متعلق ہی باتیں ہوتی رہیں۔ لوگوں نے اس جشن کو اپنے اپنے تئیں بھی بڑے ہی پرجوش انداز میںمنایا۔ کسی نے سڑکوں پر ڈانس کیا تو کسی نے پارکوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میںرقص و موسیقی کی محفلیں سجا کر اس تقریبات کو یاد گار بنایا۔
دنیا کے ہر خطے میںشادیاں ہوتیں ہیں لیکن کیٹ اور ولیم کی شادی نے تو گذشتہ ہفتے سے پوری دنیا پر اپنا غلبہ جما رکھاتھا۔ دنیا کا کوئی بھی ٹی وی چینل ، اخبار اور دیگر نشریاتی ادارہ اس سے اچھوتا نہیںرہا۔ تبھی تو ہم نے کہا ہے کہ اب آئندہ جب بھی آپ تاریخ کے اوراق پلٹیںگے اس دن کی تاریخ میں یہ جملہ بھی آپ کی نظر سے گزرے گا ”آج ہی کے دن یعنی 29اپریل 2011کو برطانیہ کی شاہی خاندان کے شہزادہ ولیم کی شادی کیٹ مڈلٹن سے ہوئی۔“ ایسے میں جب ساری دنیا کے لوگوں نے اس شاہی شادی کے جشن کو اپنی آنکھوں سے دیکھا بھلے ہی وہ ٹی وی اسکرین پر ہی صحیح اس شادی کی ایک اور خاص بات رہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس شادی میںہماری یعنی ہندوستان کی بھی شرکت قابل فخر رہی ۔ مہارانی الیزابیتھ نے اپنے خاص مدعوین مہمانان جن کی تعداد تقریباً 1900تھی انہیںبطور تحفہ ایک ایک اسکارف پیش کیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ خاص مہمان ہیں اور ان کو تحفہ مل رہا ہے تو وہ بھی تو منفرد اور اہمیت کا حامل ہوگا۔ اور آپ کو معلوم ہو کہ وہ اسکارف کہیںاور نہیں بلکہ ہندوستان کے شہر لدھیانہ میںتیار ہوا ہے۔ جناب یہ ہے ہمارے ہندوستان کے آرٹ کا جادو جو آج پوری دنیا میںسرچڑھ کر بول رہا ہے۔
تبھی تو جمعرات کو ایک بیان میںپرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن نے اس یاد گار اور تاریخی لمحہ کو الفاظ دیتے ہوئے کہا”ہم خوش ہیں کہ آپ سب اس جشن میںشامل ہیں۔ یہ ہماری زندگی میںبے حد خوشی کا دن ہے۔ آپ لوگوں کے پیار نے ہمیں ایسی خوشی دی ہے جس کا اظہار ہم نہیںکرسکتے“۔ عموماً اس طرح کا عوامی جوش وولولہ کچھ ایک مواقع جیسے کرکٹ ورلڈکپ، فٹبال ورلڈ کپ وغیرہ میںبھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ ساری دنیا کے لوگ اس منظر کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس اس شاہی شادی نے اپنا جادو ایسا بکھیرا ہے کہ لندن کی سڑکوں پر اور ہر جگہ صرف اور صرف کیٹ ولیم کی شادی کے ہی قصے قصیدے پڑھے جاتے رہے اور ان کے متعلق ہی باتیں ہوتی رہیں۔ لوگوں نے اس جشن کو اپنے اپنے تئیں بھی بڑے ہی پرجوش انداز میںمنایا۔ کسی نے سڑکوں پر ڈانس کیا تو کسی نے پارکوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میںرقص و موسیقی کی محفلیں سجا کر اس تقریبات کو یاد گار بنایا۔
دنیا کے ہر خطے میںشادیاں ہوتیں ہیں لیکن کیٹ اور ولیم کی شادی نے تو گذشتہ ہفتے سے پوری دنیا پر اپنا غلبہ جما رکھاتھا۔ دنیا کا کوئی بھی ٹی وی چینل ، اخبار اور دیگر نشریاتی ادارہ اس سے اچھوتا نہیںرہا۔ تبھی تو ہم نے کہا ہے کہ اب آئندہ جب بھی آپ تاریخ کے اوراق پلٹیںگے اس دن کی تاریخ میں یہ جملہ بھی آپ کی نظر سے گزرے گا ”آج ہی کے دن یعنی 29اپریل 2011کو برطانیہ کی شاہی خاندان کے شہزادہ ولیم کی شادی کیٹ مڈلٹن سے ہوئی۔“ ایسے میں جب ساری دنیا کے لوگوں نے اس شاہی شادی کے جشن کو اپنی آنکھوں سے دیکھا بھلے ہی وہ ٹی وی اسکرین پر ہی صحیح اس شادی کی ایک اور خاص بات رہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس شادی میںہماری یعنی ہندوستان کی بھی شرکت قابل فخر رہی ۔ مہارانی الیزابیتھ نے اپنے خاص مدعوین مہمانان جن کی تعداد تقریباً 1900تھی انہیںبطور تحفہ ایک ایک اسکارف پیش کیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ خاص مہمان ہیں اور ان کو تحفہ مل رہا ہے تو وہ بھی تو منفرد اور اہمیت کا حامل ہوگا۔ اور آپ کو معلوم ہو کہ وہ اسکارف کہیںاور نہیں بلکہ ہندوستان کے شہر لدھیانہ میںتیار ہوا ہے۔ جناب یہ ہے ہمارے ہندوستان کے آرٹ کا جادو جو آج پوری دنیا میںسرچڑھ کر بول رہا ہے۔


No comments:
Post a Comment