ٹائپ رائٹر کی رخصتی
ذرا اندازہ لگایئے اس خوشی کا جو ملک ہندوستان کے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے 1955میں اپنے گھر پر ٹائپ رائٹرلگوانے کے بعد محسوس کی ہوگی۔یہ ٹائپ رائٹر اس وقت کے لئے اتنا ہی اہمےت کا حامل اور کار آمد تھا جیسا کہ اب کمپیوٹر ہے ۔ یہ ٹائپ رائٹر کے عروج کا زمانہ تھا اور ہندوستان میںاس کی آمد جواہر لال نہرو کے گھر ہوئی تھی جسے اس وقت کے گودریج کمپنی کے چیئرمین ایس پی گودریج نے آنجہانی نہرو کے تین مورتی واقع رہائش گاہ پر نصب کیاتھا۔ بڑی اہمیت تھی اس وقت ٹائپ رائٹر کی۔ کسی سرکاری بابو کے پاس کوئی عرضی دینی ہو تو اسے ٹائپ کرانا پڑتا تھا۔ کہیں کوئی درخواست دینی ہو تو اسے بھی ٹائپ کرانا پڑتا تھاجس طرح آج کے زمانے میںکمپیوٹر سے ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں کے باشندگان کے لئے تو اس وقت ایک اےسی چےز آگئی تھی جس میں قلم کی کوئی ضرورت نہیں اور الفاظ کا غذ پر اترآتے تھے۔ چشمہ آنکھوں پر لگائے ٹائپ رائٹر بابو بٹن دباتے’ ٹک ٹک‘ اور الفاظ کاغذ پراےسے اترتے چلے جاتے جےسے دل مےں جو سوچا وہ کاعذ پر اترتا چلا گےا۔ حال کے دنوں میںبھی آپکو کورٹ کچہری، بلاک اور ضلع دفاتر میںاور اس کے ارد گرد کہیں ٹینٹوںمیںخیمہ زن تو کہیں عدالتی احاطے میںاستعمال ہوتے ہوئے یہ دیکھنے کو مل جاتی ہےں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کا پورا نام یعنی Typewriterاس مشین میں ایک ہی لائن میںتربیت دیئے گئے ہیں۔ جی ہاں، اس کی حروف کی پہلی قطار میں ہی ان حروف کو اس طرح ترتیب دی گئی ہے کہ اس کا نام واضح ہوجاتا ہے۔
خیر یہ تو رہی اس کی تاریخ، افادیت اور اہمیت اب ذرا دوسرا پہلو دیکھئے۔ وہ یہ کہ اب ٹائپ رائٹر ہمارے درمیان سے کوچ کررہا ہے۔ وجہ تو آپ سمجھ ہی گئے ہونگے۔ کمپیوٹر کازمانہ آگیا ہے سو لوگ اب کمپیوٹر ٹائپنگ کرتے ہیں اور اس کی مانگ ہوچلی ہے۔ ایسے میںبیچارے ٹائپ رائٹر کو کون پوچھے۔ ویسے بھی نئی نسل ”آل اِن ون“ کی عادی ہوگئی ہے یعنی اسے ایک ہی مشین سے اور ایک ہی جگہ بہت ساری چیزیں مثلاً تعلیم کے تعلق سے جانکاری، موج مستی کے لئے فلم وموسےقی اور اب کے زمانے کی سب سے اہم ترین ضرورت انٹرنیٹ درکار ہیں۔ ایسے حالات میں جب کوئی اس کا استعمال کرنے کو تیار نہیں تو بھلا کمپنی اسے تیار کیوں کرے؟ سو گودریج جیسی نامی گرامی کمپنی نے اعلان کردیا ہے کہ وہ اب ٹائپ رائٹر کی پیداوار بند کررہی ہے۔ اس کا اعلان کرتے ہوئے گودریج کمپنی کے جنرل منیجر آر ملندوی ڈکلے نے کہا ”یہ واقعی ہندوستان میں ہمارا ایک لمبا صفر تھا جو 1955سے اب تک جاری تھا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ہم نے ایک سال میں 50,000ٹائپ رائٹر تیار کئے اور فروخت کئے لیکن وقت اور حالات کے بدلنے سے ہمیںایسے مشکل فیصلے کرنے پڑرہے ہیں۔“ یعنی کہ اب ٹائپ رائٹر کا چل چلاﺅ ہے جو نہ صرف یہ کہ ایک مشین کا خاتمہ ہے بلکہ ایک عہد (ٹائپ رائٹر کا دور زمانہ) کا خاتمہ ہے۔ افسوس ہوتا ہے ایسی خبریں سنکر جس نے ہمارے آباﺅ اجداد کو اپنی خدمات دےں، اسے اب ہمارے درمیان سے رخصت ہونا پڑرہا ہے۔ دکھ تو اس بات پر بھی ہوتا ہے آئندہ کی نسل اس کارآمد آلہ سے محروم رہے گی۔ یہ بات دیگر ہے کہ جدیدیت کو اپنا شیوہ بنانا چاہئے۔ خیر جو بھی ہو اب ٹائپ رائٹر صرف اور صرف ہمارے لئے ایک تاریخ بن کر رہ جائے گی۔ اگر حکومت ہند کے دل میںکچھ رحم آجائے تو وہ اسے اپنے میوزیم کی زینت بنادے تو یہ ہمارے لئے وراثت بن جائے لیکن ٹائپ رائٹر نے ہمیں جو دیا اسے ہم کبھی فراموش نہیں کرپائیں گے۔ گڈ بائے ٹائپ رائٹر، گڈ بائے۔

No comments:
Post a Comment