Wednesday, April 6, 2011

ANNA ki ana ko Salam

 انّا کی انا کو سلام
کشن بابو راﺅہزارے۔ یہ وہ نام تھا جس نے عام انسان کی شکل میں 15جون 1938کومہاراشٹر کے احمد نگر میںایک مزدور کے گھر میںجنم لیا اور جیسے تیسے ساتویں تک کی پڑھائی کرنے کے بعد چالیس روپئے ماہانہ کی نوکری کرتے ہوئے فوج میں بطور ڈرائیور شامل ہوئے۔ بات چھٹی دہائی کی ہے۔ اس زمانے میں پاکستانی فوج کے حملے میں وہ موت کو چکما دے کر آگے کے لئے آگے کی شمع روشن کرنے کے لئے بچ نکلے تھے۔ لیکن جیسے ہی کشن بابو راﺅ ہزار نے وویکا نند کی ایک کتاب” کال ٹو دی یوتھ فارنیشن“ خرید کر پڑھی مانو کشن بابو راﺅ کی زندگی بدل گئی، طرز زندگی بدل گئی۔ اور وہ ایسی بدلی کہ انھوںنے ایک ایسا فیصلہ کرڈالا کہ جس نے انہیں کشن بابو راﺅ ہزارے سے بدل کر انّا ہزارے کرڈالا۔ جی ہاں، وہی انّا ہزارے جو آج ملک ہندوستان کو کرپشن، بے ایمانی، بدعنوانی، گھپلے گھوٹالے سے پاک کرانے کی خا طر دہلی کی جنتر منتر پر تا مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ چھ دہائیوں تک یعنی آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد کے بھارت کی تصویر کو دیکھنے والے انّا ہزارے نے جب ہندوستان کی حالت زار دیکھی تو ان کے دل سے آہ نکلی اور اس کی کسک نے انہیں مجبور کیا کہ وہ کچھ کریں۔ آج انّا ہزارے پورے ملک کے لئے ایک نادر و نایاب شخصیت بن چکے ہیں۔ا نّا ہزارے نے نہ صرف یہ کہ بدعنوانی، کرپشن اور گھپلے گھوٹالے کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی ہے بلکہ انھوں نے ”بدعنوانی سے پاک ہندوستان“ کےلئے ایک ایسی تحریک کا آغاز کیاہے جو یقینی طور پر اپنے انجام کو پہنچے گا اور ”پاک صاف ہوگا ہمارا ہندوستان“۔ جس میں ان کے شانہ بشانہ نظر آرہی ہیں سابق آئی پی ایس کرن بیدی،مےدھا پاٹےکر،بابا رام دےو،شری شری روی شنکر،اروند کےجرےوال،اےڈووکےٹ پرشانت بھوشن،شنتوش ہےگڑے اور سوامی اگنےوےش ودےگر شماجی کارکنان بلکہ سارا ہندوستان ۔اس سلسلے مےںممبئی کے سی ایس ٹی علاقے میں ان کے حامیوں نے 100کاروں اور بائیکوں پر ان کی حمایت میںریلی نکالی ہے تو حیدرآباد میںہزاروں لوگ ان کی ہاں میںہاں ملانے کو سڑکوں پر نکل پڑے ہیں۔ سول سوسائٹیاں آگے آرہی ہیں اور دیکھتے جائیے آگے آگے ہوتا ہے کیا۔ انّا ہزارے نے جو تحریک کی شروعات کی ہے یقینا اس کے دور رس نتائج برآمد ہونگے کیونکہ یہ تحریک ایک ایسی شخصیت نے شروع کی ہے جو اپنا سب کچھ اسی سماج، اسی ہندوستان کےلئے وقف کرچکا ہے۔ انھوں نے اپنی زمین بچوں کے ہاسٹل کے لئے وقف کردیں۔ لوگ پنشن کی رقم سے عیش و عشرت کا سامان اکٹھا کرتے ہیں لیکن انّا ہزارے کو ملنے والی پنشن کی رقم گاﺅں والوں کی فلاح وبہبود میںصرف ہورہی ہے۔ آج جب کہ دنیا اچھے سے اچھا کھانا،رہائش اور پوشاک کی دلدادہ ہے انّا ہزارے اپنے آبائی گاﺅں رالیگن کے مندر میں رہتے ہیں اور ہاسٹل میںبچوں کے لئے بننے والا کھانا کھاتے ہیں۔ کشن بابو راﺅ ہزارے عرف انّا ہزارے کی حمایت میںآج جب کہ سارا ہندوستان آرہا ہے ہم اس عظیم شخصیت کو اپنا اور قوم کا سلام عرض کرتے ہیں اور دعا گو ہیںکہ بدعنوانی ، کرپشن، گھپلے اور گھوٹالے کے لئے اٹھی یہ آواز جس کو ملک کے عوام آزادی کی دوسری تحریک کا نام دے رہے ہیں، ہندوستانی نظام کو بدلنے میں نیک فال ثابت ہو۔
انّا ہزارے آپ کی عظمت ، کاوش، ارادے اور تحریک کو سلام!

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...