عامر خان کے جلوے
اگر کہاں عامر خان ۔ لیکن جناب! یہ حقیقت بن کر سامنے آرہی ہے کیونکہ عالمی سطح پربااثر 100لوگوں کی فہرست تیار کرنے والے رسالے ”ٹائم“ کا تجزیہ تو یہی کہتا ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ امریکی رسالہ ”ٹائم“ ہر سال عالمی سطح پر ایک جائزہ کراتی ہے جس کا مقصد ہوتا ہے عام لوگوں کے درمیان مقبولیت کی بنیاد پر 100بااثرشخصیات کا انتخاب کرنا ۔ اس مہم میں 203لوگوں کے نام پیش کئے جاتے ہیں جن میںلوگوں کے انتخاب کی بنیاد پرجانی مانی ہستیاں مقام حاصل کرتی ہیں۔ا سی سلسلے کی کڑی میں اس بار جن لوگوں کے درمیان مقابلہ آرائی ہے ان میںہندوستانی شخصیت بالی ووڈ اداکار عامر خان، کانگریس صدر سونیا گاندھی،مصنف سدھارتھ مکھرجی، مصنف وی ایس رام چندرن ،ریلائنس انڈسٹریز کے مالک مکیش امبانی کے علاوہ بین الاقوامی شخصیات میںامریکی صدر براک اوبامہ، ان کی شریک حیات مثل اوبامہ، ہلیری کلنٹن، مشہور امریکی صنعت کار واین بپھیٹ، ہالی ووڈ اسٹار جانی ڈیپ، اداکار جان کلونی، روس کے وزیر اعظم ولادیمیرپوتن اور صدر دیمتری میدوےوےد، امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس، سری لنکاکے صدر مہندر اراج پکشے اور برطانیہ کے شہزادہ ولیم اور ان کی منگیترکیٹ میڈلٹن کے علاوہ اور بھی لوگ شامل ہیں لیکن عموماً لوگوں کی نظروں میںمذکورہ شخصیات ہی اہمیت رکھتی ہیں ۔
سوبڑی تعداد میں پوری دنیا کے لوگ اپنے اپنے چہیتوں کو اس فہرست میںاول مقام دلانے میں سرگرم ہیں اور ظاہر ہے کہ ہم ہندوستانی نہیںچاہیں گے کہ اس فہرست میں ہمارے لوگ اعلیٰ مقام حاصل نہ کریں۔ گو علاقائی پیمانہ اس فہرست میںکوئی معنی نہیںرکھتا ہے لیکن ہم ہندوستانیوں نے اپنی دریادلی کا مظاہرہ کیا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ بالی ووڈ اداکار عامر خان اب تک نہ صرف اس فہرست میں ہندوستانیوں پر سبقت بنائے ہوئے ہیںبلکہ اس معاملے میںوہ امریکی صدر براک اوبامہ کو بھی پیچھے چھوڑ کر 31ویں مقام پر فائز ہیں اور اگر آپ لوگوں کی فراخ دلی اور مستعدی شامل رہی تو یقینا یہ پوزیشن اور بہتر ہوسکتی ہے۔ یہ بات دیگر ہے کہ اول دوم اور سوم مقام پر کوئی اور ہو۔ جیسا کہ ابھی تک اول مقام پر جنوبی افریقی باپ اسٹار رین قابض ہیں۔
راجا ہندوستانی، لگان اور تھری ایڈیٹس جیسی کامیاب اور سبق آموز فلموں میںاداکاری کا جلوہ بکھیرنے والے عامر کو اس مقام تک لانے میںحالیہ دنوں بدعنوانی کے خلاف انّا ہزارے کی تحریک سے متعلق وزیر اعظم ہند منموہن سنگھ کو خط لکھنے، نرمدا بچاﺅآندولن میںباز آباد کاروں کے حق میںآواز اٹھانے جیسے اہم سماجی کام نے بھی ان کا ساتھ دیا ہے۔ تبھی تو ٹائم میگزین نے ان کا قصیدہ کچھ یوں پڑھاہے ”عامر خاں فلم ساز گھرانے سے ہیں جنہوں نے اداکار کے طور پر اپنا کیریئر شروع کیا اور ایک اعلیٰ مقام حاصل کیا اس کے باوجود انہوں نے ایک کامیاب فلم ساز کی شکل میں بھی خود کو قائم کرلیا ہے“ تو لیجئے جناب اگر ہم ہندوستانی امریکہ کے صدر نہیںبن سکتے تو کیا ہوا آخر ان سے بااثرشخصیت پیدا کرہی سکتے ر آپ سے کوئی یہ کہے کہ ہمارے عامر خان امریکی صدر براک اوبامہ سے بھی بااثر شخص ہیں تو پہلی نظر میںآپ اسے ایک بکواس اور لغو قرار دینگے اور فوراً اپنی جانکاری کے مطابق اسے سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ کہاں براک اوبامہ اوہیں ۔واہ بھائی عامر خان واہ
اگر کہاں عامر خان ۔ لیکن جناب! یہ حقیقت بن کر سامنے آرہی ہے کیونکہ عالمی سطح پربااثر 100لوگوں کی فہرست تیار کرنے والے رسالے ”ٹائم“ کا تجزیہ تو یہی کہتا ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ امریکی رسالہ ”ٹائم“ ہر سال عالمی سطح پر ایک جائزہ کراتی ہے جس کا مقصد ہوتا ہے عام لوگوں کے درمیان مقبولیت کی بنیاد پر 100بااثرشخصیات کا انتخاب کرنا ۔ اس مہم میں 203لوگوں کے نام پیش کئے جاتے ہیں جن میںلوگوں کے انتخاب کی بنیاد پرجانی مانی ہستیاں مقام حاصل کرتی ہیں۔ا سی سلسلے کی کڑی میں اس بار جن لوگوں کے درمیان مقابلہ آرائی ہے ان میںہندوستانی شخصیت بالی ووڈ اداکار عامر خان، کانگریس صدر سونیا گاندھی،مصنف سدھارتھ مکھرجی، مصنف وی ایس رام چندرن ،ریلائنس انڈسٹریز کے مالک مکیش امبانی کے علاوہ بین الاقوامی شخصیات میںامریکی صدر براک اوبامہ، ان کی شریک حیات مثل اوبامہ، ہلیری کلنٹن، مشہور امریکی صنعت کار واین بپھیٹ، ہالی ووڈ اسٹار جانی ڈیپ، اداکار جان کلونی، روس کے وزیر اعظم ولادیمیرپوتن اور صدر دیمتری میدوےوےد، امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس، سری لنکاکے صدر مہندر اراج پکشے اور برطانیہ کے شہزادہ ولیم اور ان کی منگیترکیٹ میڈلٹن کے علاوہ اور بھی لوگ شامل ہیں لیکن عموماً لوگوں کی نظروں میںمذکورہ شخصیات ہی اہمیت رکھتی ہیں ۔
سوبڑی تعداد میں پوری دنیا کے لوگ اپنے اپنے چہیتوں کو اس فہرست میںاول مقام دلانے میں سرگرم ہیں اور ظاہر ہے کہ ہم ہندوستانی نہیںچاہیں گے کہ اس فہرست میں ہمارے لوگ اعلیٰ مقام حاصل نہ کریں۔ گو علاقائی پیمانہ اس فہرست میںکوئی معنی نہیںرکھتا ہے لیکن ہم ہندوستانیوں نے اپنی دریادلی کا مظاہرہ کیا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ بالی ووڈ اداکار عامر خان اب تک نہ صرف اس فہرست میں ہندوستانیوں پر سبقت بنائے ہوئے ہیںبلکہ اس معاملے میںوہ امریکی صدر براک اوبامہ کو بھی پیچھے چھوڑ کر 31ویں مقام پر فائز ہیں اور اگر آپ لوگوں کی فراخ دلی اور مستعدی شامل رہی تو یقینا یہ پوزیشن اور بہتر ہوسکتی ہے۔ یہ بات دیگر ہے کہ اول دوم اور سوم مقام پر کوئی اور ہو۔ جیسا کہ ابھی تک اول مقام پر جنوبی افریقی باپ اسٹار رین قابض ہیں۔
راجا ہندوستانی، لگان اور تھری ایڈیٹس جیسی کامیاب اور سبق آموز فلموں میںاداکاری کا جلوہ بکھیرنے والے عامر کو اس مقام تک لانے میںحالیہ دنوں بدعنوانی کے خلاف انّا ہزارے کی تحریک سے متعلق وزیر اعظم ہند منموہن سنگھ کو خط لکھنے، نرمدا بچاﺅآندولن میںباز آباد کاروں کے حق میںآواز اٹھانے جیسے اہم سماجی کام نے بھی ان کا ساتھ دیا ہے۔ تبھی تو ٹائم میگزین نے ان کا قصیدہ کچھ یوں پڑھاہے ”عامر خاں فلم ساز گھرانے سے ہیں جنہوں نے اداکار کے طور پر اپنا کیریئر شروع کیا اور ایک اعلیٰ مقام حاصل کیا اس کے باوجود انہوں نے ایک کامیاب فلم ساز کی شکل میں بھی خود کو قائم کرلیا ہے“ تو لیجئے جناب اگر ہم ہندوستانی امریکہ کے صدر نہیںبن سکتے تو کیا ہوا آخر ان سے بااثرشخصیت پیدا کرہی سکتے ر آپ سے کوئی یہ کہے کہ ہمارے عامر خان امریکی صدر براک اوبامہ سے بھی بااثر شخص ہیں تو پہلی نظر میںآپ اسے ایک بکواس اور لغو قرار دینگے اور فوراً اپنی جانکاری کے مطابق اسے سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ کہاں براک اوبامہ اوہیں ۔واہ بھائی عامر خان واہ

No comments:
Post a Comment