Thursday, April 14, 2011

BEST OF LUCK PAULVALTHATY


بیسٹ آف لک والتھاٹی
نام پال چندر شیکھر والتھاٹی اور کام؟ ارے جناب کام آپنے دیکھا نہیں۔ تعجب ہے؟کیا آپ آج کل آئی پی ایل-4کے مقابلے نہیں دیکھ رہے ہیں؟ کوئی بات نہیں۔ آیئے! ہم بتاتے ہیں کہ پال والتھاٹی کا کام کیا ہے۔ پال والتھاٹی کا کام ہے گیند بازوںکی دھنائی کرنا۔ جی ہاں، اس 27سالہ کنگز الیون پنجاب کے بلے باز کی بلے بازی کو دیکھ کر تو یہی لگ رہا تھا کہ وہ گیند بازوں کی دھنائی کررہے ہیں۔ انڈر-19ورلڈ کپ 2002سے کرکٹ کے صفحہ ہستی پرباضابطہ نمودار ہوئے پال والتھاٹی نے گذشتہ دنوں چنئی سپر کنگس کے خلاف موہالی کرکٹ گراﺅنڈ پر ایسی طوفانی اننگ کھیلی کہ دنیا دیکھتی رہ گئی۔ 7دسمبر 1983کو ممبئی میںپیدا ہوئے والتھاٹی نے پہلے تو ریکارڈ ساز 52گیندوں پر سنچری لگائی اور پھر 19چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے مجموعی طور پر 63گیندوں پر 120رنوں کا اسکور بناڈالا۔ پال کی یہ اننگ کئی معنوں میں نہ صرف یاد گار رہے گی بلکہ ریکارڈ بک میں درج ہوچکی ہے۔ والتھاٹی نے اس میچ کی اپنی ناٹ آﺅٹ 120رنوں کی اننگ میں 19چوکے لگائے یعنی کہ ایک ساتھ دو دو ریکارڈ کئے۔ پہلا ریکارڈ یہ کہ آئی پی ایل-4کی پہلی سنچری اور دوسرا ریکارڈ یہ کہ ٹی- 20کرکٹ میں سب سے زیادہ چوکا لگانے والے پہلے بلے باز ۔
واقعی پال والتھاٹی نے غضب کا قہر ڈھایا جس میںایک جوش دکھائی دے رہا تھا، ایک ولولہ انگیز جذبہ نظر آرہا تھا اورکرکٹ کے تئیں دیوانگی کا نظارہ دکھائی دے رہا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ نہ صرف چنئی سپرکنگس کو ایک شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ کرکٹ کی دنیا میں ایک اور اسٹار کا نام جڑ گیا۔ سوچئے اس وقت موہالی اسٹیڈیم اور پویلین میں بیٹھے شائقین کا کیا حال رہا ہوگا جب ایک کے بعد ایک زور دار چوکے اور چھکے کی برسات ہورہی تھی۔ اس وقت تو شائقین کے ہاتھ بھی تالیاں بجا بجا کر تھک گئے ہونگے۔ ظاہر ہے ایسی خوشی کا سامان فراہم کرانے والے بھی اب دنیائے کرکٹ کے آنکھ کا تارا ہوگیا۔
 2006میں ممبئی کی طرف سے رنجی ٹرافی کھیلنے کے باوجود یہ کھلاڑی اب تک گمنامی کی زندگی جی رہا تھا لیکن قسمت اور محنت نے آج اسے فرش سے عرش پر لاکھڑا کیا ہے۔ حالانکہ والتھاٹی نے آئی پی ایل-2میںکولکاتہ نائٹ رائڈرس کے خلاف جنوبی افریقہ کے کیپ ٹاﺅن میںمیچ کھیلا تھا یہ بات دیگر ہے کہ وہ بطور سلامی بلے باز کامیاب نہیں ہوئے اور 16رن پر آﺅٹ ہوکر گمنامی کے اندھیرے میں چلے گئے۔ وقت بدلا، حالات بدلے اور آئی پی ایل کا کریز بڑھا تو پھر اس گمنام کرکٹر کے سر سے گمنامی کا سایہ بھی ہٹا اور آج اسٹار کا تاج سرپر چڑھ گیا۔ اپنے آپ کو کرکٹ میںقائم و دائم رکھنے اور چھا جانے کے جذبے سے لبریز اس نوجوان کھلاڑی کے مصمم عزم اور ان کے ذریعہ کھیلی گئی ریکارڈ ساز اننگ کا راز جس بات میںچھپا تھا اسے انہوں نے کچھ یوں ظاہر کیا ”سچ کہوں تو یہ پچ بہترین تھی، جیسا سوچا تھا سب کچھ بالکل ویسا ہی ہوا۔ میںنے جیسی تیاری کی تھی اس کا ثمرہ ہمیں مل گیا ہے۔ یہ میرے لئے ایک یاد گار لمحہ ہے جسے میں زندگی میںکبھی نہیں بھولوں گا۔“تبھی تو آج چاروں جانب صرف اور صرف پال والتھاٹی کے قصے اور قصیدے پڑھے جارہے ہیں۔ اخبارات، چینلز سبھی کے سبھی اس اسٹار کی تعریفوں کی کہانیاںبیان کررہے ہیں۔ ایسے میں ہم بھی انہیں ان کی بہترین کارکردگی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کنگز الیون کا یہ کنگ آئندہ بھی ایسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کی آنکھوں کا تارا بنا رہے۔ بیسٹ آف لک پال والتھاٹی ۔




No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...