Sunday, April 3, 2011

Ballers ka baller ZAHEER KHAN

بالروں کا بالرظہیر  خان

ورلڈ کپ 2011کے سیمی فائنل کے تعلق سے ایک خبر آئی تھی کہ ٹیم انڈیا بھوکے پیاسے رہ کر میچ کھیلی تھی اور پاکستان کو شکست سے دوچار کیاتھا۔ اس وقت بھوک تھی کھانے کی ، پیاس تھی پانی کی ۔ لیکن فائنل میںبھی ظہیر خان بھوکے تھے پیاسے تھے۔ آج وہ بھوک تھی ورلڈ کپ 2011جےتنے کی، پیاس تھی جیت کے جشن میں شرابور جام کی۔ جی ہاں ،آج ظہیر کے چہرے کی لکیریں اس بات کو صاف واضح کررہی تھیں کہ ہم بھوکے پیاسے رہ کر بھی دکھادیں گے وہ کھیل جس کا متمنی ہے سارا ہندوستان ۔ آج ظہیرنے وہ کمال کر دکھایا جو اوروںکے بس سے باہر کی بات تھی ۔ آج ظہیر خان نے نہ صرف یہ کہ شاہد آفریدی کے ذریعہ اس ورلڈ کپ میںلئے گئے 21وکٹوں کی برابری کی بلکہ ”بیسٹ بالر آف دی ورلڈ کپ 2011“کاخطاب اپنے نام کرلیا۔ ظہیر نے آج 10اوور کی گیند بازکی، تین میڈن اوور کرتے ہوئے 60رن دیئے اور دو وکٹ حاصل کئے۔ کل اس طرح ملاکر ظہیر اس ورلڈ کپ میں21 وکٹ لے کر شاہد آفرےدی کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے ۔
7اکتوبر 1978کو شری رامپور (مہاراشٹر) میںپیدا ہوئے ظہیر نے اپنی لیفٹ آرم فاسٹ میڈیم گیندوں سے نہ صرف یہ کہ قہر برپا کیا بلکہ ٹیم انڈیا کو جب جب ضرورت ہوئی اس نے وکٹ ایسے چٹکائے جیسے ”دے گھما کے“۔ مختلف مواقع پر اپنے بلے سے رن کا بیش قیمتی تعاون دیتے ہوئے اس گیند باز نے ایسا نہیں ہے کہ اس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ پہلی بار کیا ہے ظہےر نے تو اس ورلڈکپ میں ہر موڑ پر ٹیم انڈیا کی ڈو بتی نیا کو منجدھار سے باہر نکالا ہے۔چاہے ورلڈ چمپئن آسٹریلیا کے خلاف میچ ہو یا پھر پڑوسی پاکستان کے خلاف ۔ ظہیر نے اپنی یارکر کا آج ایسا استعمال کیا جیسے سونامی کے جھٹکے آئےں اورظہےر اپنی سونامی مےں بہا لے گئے کھلا شیکھرااور کپو گیدراکو اور ان کی بالنگ کی سونامی مےں بہہ گئی سری لنکائی ٹیم۔
 واقعی کیا کمال کی گیند بازی کی ہے ظہیر نے۔ گیند بازی ایسی جس میں وکٹ حاصل کرنے میں فراخدلی کا مظاہرہ اور رن دینے میں، مت پوچھئے جناب! ایسی کنجوسی جسے دیکھ کر زبان سے بے ساختہ نکل پڑے کہ” آج ظہیر نے رن کو دانتوں تلے دبا رکھا ہے“ کیا مجال کہ کوئی ایک بھی رن لے لے۔واقعی اس پوری سےرےز مےں ظہیر خان اور ظہیر اٹیک کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ اب تک190میچوں میں ٹیم انڈےا کی نمائندگی کرتے ہوئے 271وکٹ حاصل کرنے والے ظہیر آج توہندوستان کے ایک ارب 21کروڑ ہندوستانی دلوں کی دھڑکن بن گئے ہےں۔واہ رے ظہیر واہ۔واہ رے تیری قسمت ۔ مبارک ہو تم کو تمہاری جادو گری کے جس کے ذرےعہ ظہےر خان ورلڈ کپ 2001کے لئے ہمےشہ ےاد کئے جائےں گے۔

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...