راڈیا کے کمال
کارپوریٹ گھرانوں کے لئے لابنگ کر کے سرخیوں میںرہنے والی نیرا راڈیا نے اولاً تو پورے نظام کو اپنی پروفیشنل چالوں سے الجھا کر حکومت کوتو 2جی اسپیکٹرم جیسے گھوٹالے میں گرفتار کردیا لیکن خود وہ 9سالوں میں 3سو کروڑ کی مالکن بن بیٹھیں۔ خبروں کے مطابق ’گلیمرس ‘اورشاطرمزاج راڈیا فی الحال اب پارلیمنٹ کی جانچ ایجنسی پی اے سی کو بھی چکما دینے میں مصروف ہیں۔ نیرا نے فون ٹیپ اور 2جی اسپیکٹرم معاملے میں الجھے ہوئے سوالوں کا جواب جاننے کے لئے پارلیمنٹ کی تشکیل کردہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے سامنے جب زیادہ تر معاملے میں یہ جواب دیا کہ ”مجھے کچھ یاد نہیں“ تو 2جی معاملہ کی گتھی اور الجھ گئی ۔شاید پردے کے پیچھے ’گیم ‘کھیلنے والی راڈیا اب کھلے عام گیم کھیل رہی ہےں۔
1995میں کام کی تلاش میںہندوستان آئی کینیا نژاد نیرا شرما نے یہ مقام ایسے ہی حاصل نہیںکرلیا کہ وہ آج سرخیوں میںرہتی ہیں بلکہ انہوں نے اس کے لئے اپنی ادا اور آواز کا سہارابھی لیا۔ جب وہ فون پر صحافیوں سے مخاطب ہوتی ہیں تو ایک اسکول ٹیچر کے انداز میں بات کرتی ہیں۔ ضرورت پڑتی ہے تو صحافیوں تک کو ہندی میںڈانٹ پھٹکار بھی سنادیتی ہیں اور انگریزی میںتجارت کی اے بی سی ڈی بھی ان کو اچھی طرح سمجھادیتی ہیں۔ لیکن جب صنعت کار رتن ٹاٹا سے محفو گفتگو ہوتیں ہیں تو ایک اسکولی بچی کی طرح توتلی آواز نکال رتن ٹاٹاجیسے صنعت کارکے حواس باختہ کردیتی ہیں۔انہیں نیراراڈیا نے اٹل بہاری واجپئی کے داماد رنجن بھٹاچاریہ کو اپنی دوستی کے جال میں پھنسا کر اس وقت کی واجپئی حکومت کے شہری ہوا بازی کے وزیر اننت کمار کو اپنا ہمدم بنایا ۔ظاہر سی بات ہے کہ یہ دوستی صرف دوستی ہی نہیںرہی ہوگی بلکہ اس دوستی نے بہت سے گل کھلانے میںنیرا کی مدد کی ہوگی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آخرش ان پر 2جی اسپیکٹرم جیسے گھوٹالے میں ملوث ہونے کا الزام لگا۔وہ اس گھوٹالے سے اننت کمار کا کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ دہلی اور این سی آر میںبڑے بڑے پلاٹ ، فارم ہاﺅس اور مکانات خریدے جن کے بارے میں ان کے دشمنوں کا خیال ہے کہ اس گڑبڑ گھوٹالے کے کمیشن سے حاصل کئے گئے ہوںگے۔
2004میں جب این ڈی اے حکومت کا دور اقتدار ختم ہوا تو نیرا کو تلاش تھی ایک نئے متبادل کی جس سے وہ اپنا کام نکلوا سکے۔’راڈیا ٹیپس ‘سے اب یہ راز افشاں ہوچکا ہے کہ راڈیا کی اس تلاش میں ملک کے مشہور و معروف صحافیوںنے بھی راڈیا کی بڑھ چڑھ کر مدد کی ۔اس سلسلے میں ’راڈیاٹیپس‘ پر این ڈی ٹی وی کی برکھا دت اور ہندوستان ٹائمس کے سابق ایڈیٹر ویر سانگھوی کو بھی راڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے ۔اس لئے انھوں نے ٹاٹا ٹیلی سروسیز کے بہانے راجہ سے دوستی کرلی اور کہا جاتا ہے کہ جب پہلی بار اے راجہ نے وزیر مواصلات بننے کے بعد آفس کارخ کیا تو ان کو ملنے والا پہلا تحفہ نیرا راڈیا کی جانب سے بھیجا جانے والا ایک انتہائی بیش قیمتی تحفہ تھا جسے راجہ نے قبول کرنے کے بعدفوراً اپنے آقا کروناندھی کے خدمت میں پیش کردیا۔ نیرا کے مدھوکوڑا کے علاوہ ادھوٹھاکرے سے بھی گہرے مراسم تھے۔ لب لباب یہ کہ جس نیرا راڈیا کو لابسٹ کہاجاتا ہے وہ نہ صرف ایک لابسٹ ہےںبلکہ وہ کارپوریٹ ورلڈ اور سیاست کی دنیا کے سنگم کا ایک ایسا چہرہ بھی ہیں جو کچھ لوگوں کی رائے میں جمہوریت کو کھوکھلا کرنے کا ایک ذریعہ بنتا جارہا ہے۔ نیرا راڈیا نے پارلیمنٹ کی تشکیل کردہ پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کے سامنے جس طرح کا منفی رخ اختیار کیا ہوا ہے وہ ایک قابل غور پہلو ہے جس کا تدارک لازمی ہے۔
بہرکیف نیرا راڈیا ہندوستانی سیاست اور کارپوریٹ دنیا کا وہ سنگم ہے جہاں سے ہزاروں کروڑ کے گھوٹالوں کا ایک سلسلہ چلا کہ جس نے اے راجہ سمیت پوری ڈی ایم کے کو اپنے بھنور میں گرفتار کرلیا ۔ لیکن واہ رے نیرا راڈیا واہ !راجہ تو جیل کی ہوا کھاررہے ہیں اور نیرا ابھی بھی مزے سے کھلے عام گھوم رہی ہیں۔
کارپوریٹ گھرانوں کے لئے لابنگ کر کے سرخیوں میںرہنے والی نیرا راڈیا نے اولاً تو پورے نظام کو اپنی پروفیشنل چالوں سے الجھا کر حکومت کوتو 2جی اسپیکٹرم جیسے گھوٹالے میں گرفتار کردیا لیکن خود وہ 9سالوں میں 3سو کروڑ کی مالکن بن بیٹھیں۔ خبروں کے مطابق ’گلیمرس ‘اورشاطرمزاج راڈیا فی الحال اب پارلیمنٹ کی جانچ ایجنسی پی اے سی کو بھی چکما دینے میں مصروف ہیں۔ نیرا نے فون ٹیپ اور 2جی اسپیکٹرم معاملے میں الجھے ہوئے سوالوں کا جواب جاننے کے لئے پارلیمنٹ کی تشکیل کردہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے سامنے جب زیادہ تر معاملے میں یہ جواب دیا کہ ”مجھے کچھ یاد نہیں“ تو 2جی معاملہ کی گتھی اور الجھ گئی ۔شاید پردے کے پیچھے ’گیم ‘کھیلنے والی راڈیا اب کھلے عام گیم کھیل رہی ہےں۔
1995میں کام کی تلاش میںہندوستان آئی کینیا نژاد نیرا شرما نے یہ مقام ایسے ہی حاصل نہیںکرلیا کہ وہ آج سرخیوں میںرہتی ہیں بلکہ انہوں نے اس کے لئے اپنی ادا اور آواز کا سہارابھی لیا۔ جب وہ فون پر صحافیوں سے مخاطب ہوتی ہیں تو ایک اسکول ٹیچر کے انداز میں بات کرتی ہیں۔ ضرورت پڑتی ہے تو صحافیوں تک کو ہندی میںڈانٹ پھٹکار بھی سنادیتی ہیں اور انگریزی میںتجارت کی اے بی سی ڈی بھی ان کو اچھی طرح سمجھادیتی ہیں۔ لیکن جب صنعت کار رتن ٹاٹا سے محفو گفتگو ہوتیں ہیں تو ایک اسکولی بچی کی طرح توتلی آواز نکال رتن ٹاٹاجیسے صنعت کارکے حواس باختہ کردیتی ہیں۔انہیں نیراراڈیا نے اٹل بہاری واجپئی کے داماد رنجن بھٹاچاریہ کو اپنی دوستی کے جال میں پھنسا کر اس وقت کی واجپئی حکومت کے شہری ہوا بازی کے وزیر اننت کمار کو اپنا ہمدم بنایا ۔ظاہر سی بات ہے کہ یہ دوستی صرف دوستی ہی نہیںرہی ہوگی بلکہ اس دوستی نے بہت سے گل کھلانے میںنیرا کی مدد کی ہوگی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آخرش ان پر 2جی اسپیکٹرم جیسے گھوٹالے میں ملوث ہونے کا الزام لگا۔وہ اس گھوٹالے سے اننت کمار کا کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ دہلی اور این سی آر میںبڑے بڑے پلاٹ ، فارم ہاﺅس اور مکانات خریدے جن کے بارے میں ان کے دشمنوں کا خیال ہے کہ اس گڑبڑ گھوٹالے کے کمیشن سے حاصل کئے گئے ہوںگے۔
2004میں جب این ڈی اے حکومت کا دور اقتدار ختم ہوا تو نیرا کو تلاش تھی ایک نئے متبادل کی جس سے وہ اپنا کام نکلوا سکے۔’راڈیا ٹیپس ‘سے اب یہ راز افشاں ہوچکا ہے کہ راڈیا کی اس تلاش میں ملک کے مشہور و معروف صحافیوںنے بھی راڈیا کی بڑھ چڑھ کر مدد کی ۔اس سلسلے میں ’راڈیاٹیپس‘ پر این ڈی ٹی وی کی برکھا دت اور ہندوستان ٹائمس کے سابق ایڈیٹر ویر سانگھوی کو بھی راڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے ۔اس لئے انھوں نے ٹاٹا ٹیلی سروسیز کے بہانے راجہ سے دوستی کرلی اور کہا جاتا ہے کہ جب پہلی بار اے راجہ نے وزیر مواصلات بننے کے بعد آفس کارخ کیا تو ان کو ملنے والا پہلا تحفہ نیرا راڈیا کی جانب سے بھیجا جانے والا ایک انتہائی بیش قیمتی تحفہ تھا جسے راجہ نے قبول کرنے کے بعدفوراً اپنے آقا کروناندھی کے خدمت میں پیش کردیا۔ نیرا کے مدھوکوڑا کے علاوہ ادھوٹھاکرے سے بھی گہرے مراسم تھے۔ لب لباب یہ کہ جس نیرا راڈیا کو لابسٹ کہاجاتا ہے وہ نہ صرف ایک لابسٹ ہےںبلکہ وہ کارپوریٹ ورلڈ اور سیاست کی دنیا کے سنگم کا ایک ایسا چہرہ بھی ہیں جو کچھ لوگوں کی رائے میں جمہوریت کو کھوکھلا کرنے کا ایک ذریعہ بنتا جارہا ہے۔ نیرا راڈیا نے پارلیمنٹ کی تشکیل کردہ پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کے سامنے جس طرح کا منفی رخ اختیار کیا ہوا ہے وہ ایک قابل غور پہلو ہے جس کا تدارک لازمی ہے۔
بہرکیف نیرا راڈیا ہندوستانی سیاست اور کارپوریٹ دنیا کا وہ سنگم ہے جہاں سے ہزاروں کروڑ کے گھوٹالوں کا ایک سلسلہ چلا کہ جس نے اے راجہ سمیت پوری ڈی ایم کے کو اپنے بھنور میں گرفتار کرلیا ۔ لیکن واہ رے نیرا راڈیا واہ !راجہ تو جیل کی ہوا کھاررہے ہیں اور نیرا ابھی بھی مزے سے کھلے عام گھوم رہی ہیں۔

No comments:
Post a Comment