Friday, April 22, 2011

BINAYAK SEN:Haque-o-Insaf Ka Sipahi




بنائک سین :حق و انصاف کاسپاہی 
ریاست چھتیس گڑھ کے دیہی علاقوں کے باشندگان اور آدی واسیوں کے مسیحا 58سالہ بنائک سین کی سادہ طرز زندگی اور ان کے پوشاک کو دیکھ کر پہلی نظر میںیہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ معمولی سا دکھنے والا انسان اپنے عمل و گفتار اور کردار کے تعلق سے اتنی بڑی شخصیت ہوسکتی ہے کہ وہ اصول کے کچھ بھی کر گزرے ۔ اس سادہ لوح انسان کو آپ دیکھ کر ان کی شخصیت کا اندازہ نہیں لگا سکتے ہیں۔ نکسلی لٹریچر رکھنے اور نکسلی لیڈر سانیال سے جیل میںملنے کی پاداش میںجب نچلی عدالت نے انہیں سزا سنائی جس کے تحت وہ دو سال جیل میںرہے۔ اس سے قبل ایک لمبی داڑھی والے بنائک سےن اےک عام سماجی کارکن کی شکل میں عوام میںجانے جاتے تھے جب کہ کچھ لوگ انہیں علمی مفکر بھی کہتے تھے۔ پیشے سے ڈاکٹر بنائک سین زمانہ طالب علمی سے ہی سیاست میںدل جمعی کے ساتھ سرگرم حصہ داری نبھاتے رہے ہیں۔ سماجی خدمات کو اپنے اولین فریضہ میںشامل رکھنے والے ڈاکٹر سین نے سماجی خدمات کی شروعات اپنے ایک ہمنوا اور مزدور لیڈر شنکر گوہانیوگی کے ساتھ کی تھی اور مزدوروں کےلئے بنائے گئے شہید اسپتال میںاپنی خدمات دینے لگے تھے۔مزدوروں، غریبوں اور افلاس کی بہتری اور بہبود کی خاطر اپنے آپ کو وقف کرنے والے ڈاکٹر سین ایک لمبے وقفہ تک ریاست چھتیس گڑھ کے مختلف اضلاع کے لوگوں کے لئے سستی طبی خدمات دستیاب کرانے کے مقصد کے تحت طریقہ کار تلاش کرتے رہے۔ لےکن محض ڈاکٹری سے بنائک متمعن نہےں ہو سکے ۔انکا رخ انسانی حقوق کے تحفظ کے جانب بھی ہو گےا۔ ڈاکٹر سین نے حقوق انسانی تنظیم پی یوسی ایل کی چھتیس گڑھ برانچ کے نائب صدر رہتے ہوئے ریاست چھتیس گڑھ میںبھوک سے ہوئی اموات جیسے اہم امور پر کھل کر احتجاج کیا اور اپنی آواز بلند کی۔
 دیکھنے میںعام انسان لگنے والے ڈاکٹر سین نے چھتیس گڑھ حکومت کو متعدد بار کٹہرے میںلا کھڑا کیا۔ انہوں نے ہی سب سے پہلے وہاںجاری نکسلی تحریک کے خلاف لئے گئے ایکشن کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا تھا۔ جس کا نتیجہ تھا کہ اس قانون ”سلوا جوڑم، کے خلاف حقوق انسانی کے کارکنان اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کوشش کو سپریم کورٹ نے بھی سراہا اور نتیجتاً 2010میںریاستی حکومت کو سلوا جوڑم اسکےم کوبند کردینا پڑا۔ ایک ایسی شخصیت جس نے اپنے آپ کو غریبوں ، درد مندوں اور مفلسوں کے لئے وقف کررکھاہواس کو ملک کا غدار کہہ دیا جائے ےہ کتنی بڑ ی ناانصافی ہے۔ ان کے خلاف جو الزامات عائد کئے گئے اس سے عام تاثر یہ بھی پےدا ہو گےا کہ اس ملک میں اچھے کام کرنے والوں کی کوئی قدر و قیمت ہی نہیں۔ لیکن قابل تعریف اور قابل مبارکباد ہیںملک کی اعلی عدلیہ جس نے نہ صرف انہیں ضمانت پر رہا کردیا ہے بلکہ ایک ایسی زمینی حقیقت کو بھی اجاگر کردیا کہ جسکے بعد ہمارے سیاست دانوں، حکمرانوں اور متعصبانہ ذہنیت کے حامل افراد کو سوچنے پر مجبور ہوناپڑا۔ چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے انہیں جب ضمانت پررہا کرنے کا حکم دیا تو اس فیصلے میںجو اہم بات لوگوں کےلئے بطور مثال پیش کی وہ حقیقت پر مبنی ہے۔ عدالت نے اس جملے کو بنیاد بناتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کیاکہ” محض نکسلی لٹریچر رکھ لینے سے کوئی نکسلی نہیں ہوسکتا جیسا کہ اگر کوئی گاندھیائی لٹریچر اپنے پاس رکھ کر گاندھی نہیں بن سکتا“یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو اب ان نام نہاد دہشت گردوںپر بھی لاگو ہونی چاہئے جو کسی بھی جھوٹے کاغذ کی برآمدگی پر سالوں قید و بند کی صعوبتیں اٹھاتے ہیں۔بنائک سین جیسے حق و انصاف کے سپاہی کو ہمارا سلام !





No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...