Wednesday, April 13, 2011

EDUCATION KI DEWANGI

تعلیم کے تئیں ایسی دیوانگی
دہلی ویسے تو ہندوستان کی دارالسلطنت ہے جہاں عام طور پر سرکاری دفاتر، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ وغیرہ وغیرہ ہیں اور اس سے متعلق کاموں کےلئے ہندوستان کے کونے کونے سے لوگ یہاںآتے ہیں،ا س سرزمین کی خاک چھانتے ہیں اور اپنا کام پورا کر کے پھر وطن لوٹ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس یہاںملک کی بہترین اور نامور یونیورسیٹیاں بھی ہیں جس میں داخلے کے لئے بھی طلباءکی ایک بہت بڑی تعداداس دارالسلطنت کے لئے کوچ کرتی ہے۔ یہاں موجود ہے جواہر لال نہرو یونیورسٹی جس نے ملک کو ایک سے بڑھ کر ایک افسر دیا ہے جو اپنی خدمات ملک کے کونے کونے میںدے رہیں۔ دہلی میں دہلی یونیورسٹی موجود ہے جو نہ صرف یہ کہ اپنے وسیع تر شاخوں نارتھ کیمپس و ساﺅتھ کیمپس کے ذریعہ بہتر تعلیم فراہم کررہے ہیں بلکہ یہ یونیورسٹی تو اس وقت طالب علموں کی پہلی پسند بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ مسلم طلبہ و طالبات جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب کافی زیادہ راغب ہورہے ہیں اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ جامعہ ملیہ بہتر ماحول، اعلیٰ تعلیم معیار فراہم جو کررہا ہے۔ ملک کی تقریباً سبھی ریاستوں میںدسویں اور بارہویں کے امتحانات ختم ہوچکے ہیں اور صرف نتائج کا آنا باقی ہے۔ ظاہر ہے کہ دسویں اور بارہویں کے بعد طلبہ و طالبات اپنے بہتر مستقبل کے لئے بہترین ادارے سے نہ صرف یہ کہ اچھا سا کورس کرنے کی سوچ رہے ہیں بلکہ کورس کرنے بعد ایک اچھی سی نوکری اور پھرعیش کوشی کی زندگی گزارنے کی فکر میں مبتلا ہیں جس کی وجہ ہے کہ آج کل دہلی کے تقریباً چہار سو ان سپنوںکو پالے یایوں کہیں کہ تعلیم کے دیوانے اور دیوانی کی فوج سی نظر آنے لگی ہے۔ ہونا بھی چاہئے کیونکہ تعلیم نہ صرف ہمارا بنیادی حق ہے بلکہ سماج اور ملک کی ترقی کی نشونما اس میںہی پیوست ہے۔ آخر یہی دیوانے ہی تو ملک کے مستقبل ہیں جنہیں نہ صرف اپنی بلکہ ملک و قوم، سماج اور فرد کی طرز زندگی کو بدل کر سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے ابوالکلام کے ”ویژن 2020“کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے اور ملک ہندوستان کو عالمی سطح پر سپر پاور بھی بنانا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج کل طلبا و طالبات کہیں ایڈیشن فارم لینے کےلئے ”کاﺅنٹر“پر لائن میںکھڑے نظر آتے ہیں تو کہیں طلبہ کا ہجوم ”نوٹس بورڈ“ کے ارد گرد ایڈمیشن سے متعلق گائڈ لائن کا مشاہدہ کرنے میں مشغول ہیں۔ یعنی ایک ایسی تعلیمی دیوانگی جسے دیکھتے ہی بنتا ہے۔ اس تعلق سے ایک اور خاص بات ہے جو قابل تحسین ہے وہ ہے میڈیا کا تعاون ۔ ملک کے چنندہ اخبارات اس تعلق سے اپنی بے بہا خدمات دے رہے ہیں اورطالب علموں کو ہر وہ سہولیات فراہم کرارہے جن کی ضرورت انہیں درپیش ہے۔ خواہ وہ ادارے کی لسٹ ہو یا اس تک رسائی کے لئے پتہ و فون نمبر، فیکس اور ای میل ایڈریس یا پھر وہاں تک پہنچنے کےلئے کمیونیکیشن جیسے بس، میٹرو روٹ کی جانکاری۔ یہاں تک کہ کچھ اخبارات نے اس تعلق سے ہیلپ لائنیں قائم کررکھی ہیںجہاں سے تمام تر تصفیہ طلب امور کی انفارمیشن بس ایک کال یا ایس ایم ایس سے مل جاتی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ دہلی یونیورسٹی نے آئندہ یکم جون سے ایک اسپیشل بولیٹن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ مکمل اور جامع انفارمیشن طلبہ و طالبات کو مل سکے۔

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...