Saturday, April 30, 2011

MUBARAK HO TUMKO YE SHAADI TUMHARI

مبارک ہو تمکو یہ شادی تمہاری
تاریخ میںاب تک ہم 29اپریل کو اس وجہ سے یاد رکھتے ہیں کہ اسی دن یعنی 1639کو ہندوستان کی تاریخی عمارت لال قلعہ کی بنیاد شاہ جہاںنے رکھی۔ اسی دن دنیا کے عظیم مصور راجاروی رمن کی 1848میںپیدائش ہوئی اور اسی دن 1856میںانگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان امن سمجھوتہ ہوا۔ لیکن اب اس باب میںاضافہ ہوگیا ہے۔ ظاہر ہے اس میںاضافے اسی وقت ممکن ہوتے ہیں جب کوئی عظیم کارنامہ ، واقعہ یا پھر کچھ ایسا ہوجائے جس کی ساری دنیا میںدھوم ہو۔ آج ایسا ہوا۔ جی ہاں، آج ہوئی ہے برطانیہ کے شہزادہ پرنس ولیم کی کیٹ مڈلٹن سے شادی ۔ شادی بھی ایسی ویسی نہیں۔ اس شادی کی تقریبات پر جہاں 20ارب روپئے کا صرفہ ہوا ہے وہیں اسے دنیا کے 180ممالک میںلائیو ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔ آپ اندازہ لگاسکتے ہیں اس شادی کی اہمیت کا۔ شادی تو عموماً ہر روز ہوا کرتی ہے۔لیکن ایسی شادی جس میںایک راجکمار ایک معمولی سے خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکی کے پیار میں گرفتار ہوکر اسے اپنی زندگی کا حصہ بنالے یہ واقعی ایک مثال ہے جس کو تاریخ کے اوراق میںلکھ دینا ہی بہتر ہے۔ باور رہے کہ کیٹ مڈلٹن آسٹریلیا کی رہنے والی ہیں اور ایسامانا جارہا ہے کہ ان کے آباﺅ اجداد کانکنی میںکام کرتے تھے۔ لیکن کیٹ جب اپنی پڑھائی کررہی تھی تو اسی وقت شہزادہ ولیم سے ان کا عشق ہوگیا اور پھر جیسے ”ایک عام لڑکی کا سپنوںکا راجکمارآتا ہے اور اس کا ہاتھ تھام کر سپنوں کے محل میںلےجاتا ہے“ کے مصداق مڈلٹن پہنچ گئی برلنگھم پیلیس۔
تبھی تو جمعرات کو ایک بیان میںپرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن نے اس یاد گار اور تاریخی لمحہ کو الفاظ دیتے ہوئے کہا”ہم خوش ہیں کہ آپ سب اس جشن میںشامل ہیں۔ یہ ہماری زندگی میںبے حد خوشی کا دن ہے۔ آپ لوگوں کے پیار نے ہمیں ایسی خوشی دی ہے جس کا اظہار ہم نہیںکرسکتے“۔ عموماً اس طرح کا عوامی جوش وولولہ کچھ ایک مواقع جیسے کرکٹ ورلڈکپ، فٹبال ورلڈ کپ وغیرہ میںبھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ ساری دنیا کے لوگ اس منظر کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس اس شاہی شادی نے اپنا جادو ایسا بکھیرا ہے کہ لندن کی سڑکوں پر اور ہر جگہ صرف اور صرف کیٹ ولیم کی شادی کے ہی قصے قصیدے پڑھے جاتے رہے اور ان کے متعلق ہی باتیں ہوتی رہیں۔ لوگوں نے اس جشن کو اپنے اپنے تئیں بھی بڑے ہی پرجوش انداز میںمنایا۔ کسی نے سڑکوں پر ڈانس کیا تو کسی نے پارکوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میںرقص و موسیقی کی محفلیں سجا کر اس تقریبات کو یاد گار بنایا۔
دنیا کے ہر خطے میںشادیاں ہوتیں ہیں لیکن کیٹ اور ولیم کی شادی نے تو گذشتہ ہفتے سے پوری دنیا پر اپنا غلبہ جما رکھاتھا۔ دنیا کا کوئی بھی ٹی وی چینل ، اخبار اور دیگر نشریاتی ادارہ اس سے اچھوتا نہیںرہا۔ تبھی تو ہم نے کہا ہے کہ اب آئندہ جب بھی آپ تاریخ کے اوراق پلٹیںگے اس دن کی تاریخ میں یہ جملہ بھی آپ کی نظر سے گزرے گا ”آج ہی کے دن یعنی 29اپریل 2011کو برطانیہ کی شاہی خاندان کے شہزادہ ولیم کی شادی کیٹ مڈلٹن سے ہوئی۔“ ایسے میں جب ساری دنیا کے لوگوں نے اس شاہی شادی کے جشن کو اپنی آنکھوں سے دیکھا بھلے ہی وہ ٹی وی اسکرین پر ہی صحیح اس شادی کی ایک اور خاص بات رہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس شادی میںہماری یعنی ہندوستان کی بھی شرکت قابل فخر رہی ۔ مہارانی الیزابیتھ نے اپنے خاص مدعوین مہمانان جن کی تعداد تقریباً 1900تھی انہیںبطور تحفہ ایک ایک اسکارف پیش کیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ خاص مہمان ہیں اور ان کو تحفہ مل رہا ہے تو وہ بھی تو منفرد اور اہمیت کا حامل ہوگا۔ اور آپ کو معلوم ہو کہ وہ اسکارف کہیںاور نہیں بلکہ ہندوستان کے شہر لدھیانہ میںتیار ہوا ہے۔ جناب یہ ہے ہمارے ہندوستان کے آرٹ کا جادو جو آج پوری دنیا میںسرچڑھ کر بول رہا ہے۔

Monday, April 25, 2011

دفتر جدید میل میں شاندار تقریب تقسیم انعامات

ورلڈ کپ QUIZ مقابلے کے فاتح کو چیک دیتےہوئے  معراج نوری

دفتر جدید میل میں شاندار تقریب تقسیم انعامات
کرکٹ ورلڈ کپ کوئز مقابلہ کے کامیاب خوش نصیب افراد انعامی رقوم کے چیک سے سرفرازنئی دہلی،25اپریل(میل نیوز) آج دفتر جدید میل میںورلڈ کرکٹ کپ کوئز مقابلہ جیتنے والے اصحاب کے اعزاز میںایک شاندار تقریب تقسیم انعات منعقد ہوئی اور انہیں انعامی رقوم کے چیک دیئے گئے۔ تقریب کی صدارت روزنامہ جدید میل کے چیف ایڈیٹر جناب ظفر آغا نے کی جبکہ مہمانوں کا استقبال منیجنگ ایڈیٹر جناب علی حیدر رضوی نے کیا۔مہمانِ خصوصی کے طور پر روز نامہ سیاسی اُفق کے منیجنگ ایڈیٹر جناب تنویر احمد نے شرکت کی۔ پہلے انعام کے مستحق اکرم فیاضی کو دوہزار روپئے کا چیک جناب ظفر آغا، جناب ڈاکٹر نذر عباس اور جناب علی حیدر رضوی کے دست مبارک سے پیش کیا گیا۔ جناب فیاضی کا تعلق بڑوت سے ہے اور دفتر جدید میل آکر انہوںنے چیک قبول کیا۔ انہوںنے اسپورٹس کے فروغ کے لئے جدید میل کی تعریف کی اور کہا کہ جدید میل نے اس ورلڈ کپ سے متعلق عمدہ رپورٹنگ کی اور پر مغز تجزیے شائع کئے۔ انہوںنے اس ضمن میں رکن ادارت جناب معراج نوری اور فرخ حسن راہی کی کاوشوں کی خصوصی طور پر تحسین کی۔ اس موقعہ پر اپنے صدارتی کلمات میںجناب ظفر آغا نے کہا کہ جدید میل ملت کو جدید زمانے سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اپنے کالموں میںبصیرت افروز مضامین اور خبریں شائع کررہا ہے۔ یہ محض ایک اخبار نہیںہے، بلکہ، یہ ایک تحریک کا عزم لے کر دنیائے صحافت پر چھا گیا ہے۔ آپ نے کہا کہ جدید میل نے اردو صحافت میں قلیل مدت کے دوران ایسے صحافتی سنگ میل قائم کئے ہیں جن کی نظیر نہیں ملتی جس کا نتیجہ ہے کہ نہ صرف اردو بلکہ دیگر زبانوں کے اخبارات بھی اس کی طرز نگارش اور لے آﺅٹ کی تقلید کرنے لگے ہیں۔ ورلڈ کپ کوئز میںدوسرے انعام کے حقدار محمد صلاح الدین کومبلغ پندرہ سو روپئے کا چیک پیش کیا گیا جو جدید میل کے نیوز ایڈیٹر زاہد فاروق اور مارکیٹنگ منیجر جناب اقبال خاں کے دست مبارک سے انہیں پیش کیا گیا۔ جناب صلاح الدین ذاتی طور پر دیو بند سے انعام وصول کرنے آئے تھے۔ انہوںنے جدید میل کے اسٹاف کو اس کی محنت، لگن اور معیاری صحافت کے لئے خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ اخبار ایک روز اردو صحافت کا سورج بن کر روشن ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ جدید میل کی جانب سے ورلڈ کپ کے دوران کوئز مقابلے کے تحت روزانہ ایک سوال پوچھا جاتا تھا اور درست جواب دینے والے پہلے تین خوش نصیبوں کے اسمائے گرامی اگلے روز شائع کئے جاتے تھے۔ ورلڈ کپ کے اختتام پر 113خوش نصیبوںکے ناموں کی قرعہ اندازی 11اپریل کو ہوئی تھی جس میں اکرم فیاضی، محمد صلاح الدین اور محمد رحمت کاتب (دیوبند) پہلے ، دوسرے و تیسرے انعام کے حقدار پائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ دس دیگر افراد کا بھی انتخاب ہوا تھا جن کے نام ایک ماہ کے لئے جدید میل کا ایک ایک شمارہ جاری کیا گیا۔اس موقع پر اسٹاف جدید میل کی اکثریت موجود تھی جن کے اسمائے گرامی ہیں : محمد محسن ذکیر، نیلم اعظمی، عطاءاللہ، فرخ حسن راہی، محمد احمد خاں، معراج نوری،مشتاق احمد، سرور احمد، شاکر عادل، عظمت اللہ، شہزاد عالم، جاوید اقبال، ستیہ وان غیرہ۔

Sunday, April 24, 2011

'ब्रेक-अप' के बाद बाल क्यों कटवाती हैं महिलाएं?

'ब्रेक-अप' के बाद बाल क्यों कटवाती हैं महिलाएं?
 प्राची निगम (23) ने चार साल बाद अपने लम्बे बाल कटवाकर कंधे तक रख लिए। यह उनके दोस्तों के लिए आश्चर्यजनक था। पर वास्तव में वह अपने पूर्व प्रेमी को बताना चाहती थीं कि तुम अब मेरी जिंदगी में नहीं हो और तुम्हें मुझमें जो चीज सबसे अधिक पसंद थी, मैंने वे खत्म कर दी हैं।
यह सिर्फ निगम की कहानी नहीं है, बल्कि बहुत सी युवा महिलाएं 'ब्रेक-अप' के अपने बाल कटवाकर 'ब्रेक-फ्री' छवि की घोषणा करती हैं। यह हालांकि बेहद आकर्षक या पूरी तरह नीरस भी हो सकता है।
हॉलीवुड की कुछ हस्तियों ने भी 'ब्रेक-अप' के बाद अपने बाल कटवा लिए। गायिका माइली साइरस ने 2007 में निक जोनास से 'ब्रेक-अप' के कुछ महीने बाद ही अपना केश विन्यास और इसका रंग बदल दिया। वहीं, उसी साल केवेन फेडरलाइन के साथ 'ब्रेक-अप' के बाद ब्रिटनी स्पीयर्स ने खुद को गंजा कर लिया था।

सम्बंधों के विशेषज्ञ कमल खुराना के अनुसार, सामान्यतया, पुरुष महिलाओं के लम्बे बालों को पसंद करते हैं, इसलिए 'ब्रेक-अप' के बाद महिलाएं अपने बाल कटवाकर यह संदेश देना चाहती हैं कि 'मैं अपने बालों की देखभाल नहीं करने जा रही है, जैसा कि तुम चाहते थे। जब तुम मेरी जिंदगी से चले गए तो ये भी चले गए।
वहीं, सिक्के का दूसरा पहलू भी है। यह भी हो सकता है कि महिला अधिक आत्मविश्वासी तथा उत्तेजक दिखना और 'ब्रेक-अप' से उबरना चाहती हो।मनोवैज्ञानिक संजय चुग ने बताया कि कभी-कभी ऐसा इसलिए होता है, क्योंकि व्यक्ति बदलाव चाहता है। बाल कटवाना उसके रूप और दिखावट में परिवर्तन कर उसे ताजगी देता है।
बाल कटवाने का एक और सिद्धांत है। 27 वर्षीया ऋतु कनेजा ने 'ब्रेक-अप' के बाद अपने बाल बॉब-कट करवा लिए। हालांकि यह उनके चेहरे पर अच्छा नहीं लगता, लेकिन कई साल तक उनका यही केशविन्यास रहा।
खुराना के अनुसार, वह तनाव में थीं, जहां अच्छा दिखना कोई मायने नहीं रखता। वह कहते हैं कि देखिये, यह व्यक्ति पर निर्भर करता है। इस मामले में, व्यक्ति बहुत तनाव में है। वह अपने विफल सम्बंधों के साथ बाहर नहीं आना चाहती। उसमें अच्छा महसूस करने का कारक भी समाप्त हो चुका है और वह नाराज है।

MEDIA,ANNA HAZARE AUR MAHATMA

भ्रष्टाचार की चिंता
जिन्होंने अपनी जिंदगी में कभी भी सदाचार अपनाया ही नहीं, उन्हें भ्रष्टाचार की चिंता सताती जा रही हैं। उन्हें देश में बढ़ते भ्रष्टाचार और उससे प्रभावित होते विकास की तीव्र चिंता हैं। ये वे लोग हैं जो लाखों-करोड़ों नहीं, बल्कि अरबों – खरबों में खेलते हैं। जिनकी दिन की शुरुआत ही भ्रष्टाचार और दिन की समाप्ति भ्रष्टाचार पर ही खत्म हो जाती हैं। इन्होंने आजकल गांधी नाम जप शुरु कर दिया हैं, ठीक उसी प्रकार जैसे देश के गांवों – मुहल्लों में हरे राम संकीर्तन चल रहा होता हैं। आज से ठीक पांच दिन पहले अन्ना हजारे ने एक प्लान के तहत दिल्ली में लोकपाल विधेयक और भ्रष्टाचार मुद्दे पर आमरण – अनशन क्या शुरु किया।
पूरे देश में प्रिंट और इलेक्ट्रानिक मीडिया के लोगों ने इनकी तुलना गांधी से कर दी। पूरे देश में गांधी और गांधीवाद तथा बाकी बचे तो अन्ना हजारे छाये रहे, लेकिन ये अन्ना खेतों और खलिहानों में नहीं, बल्कि सिर्फ अखबारों और इलेक्ट्रानिक मीडिया में ही थे, इधर लगातार अखबारों और इलेक्ट्रानिक मीडिया में छाये रहने के कारण केन्द्र सरकार सकते में आ गयी, अंततः आनन फानन में अन्ना की सारी बातें केन्द्र द्वारा मान ली गयी । हालांकि जानकार ये भी कहते हैं कि केन्द्र सरकार और उसके समर्थकों ने एक कूटनीति के तहत इस प्रकार के कार्यक्रम आयोजित कराये और ठीक एकदिवसीय वर्ल्ड कप के बाद इसे शुरु कराया और आईपीएल शुरु होने के पूर्व ही इस कार्यक्रम को समाप्त करने की योजना को मुर्त रुप दे दिया, क्योंकि ये जानते थे कि मीडिया की भी अपनी मजबूरियां हैं, और इसे आईपीएल शुरु होने के बाद, बड़ा मुद्दा मीडिया नहीं बना सकती। इसलिए देश में बड़े घरानों के सौजन्य से चल रहे प्रिंट और इलेक्ट्रानिक मीडिया में काम कर रहे लाखों का मासिक वेतन उठानेवालों ने अन्ना हजारे के आमरण अनशन को हाईलाईट करना शुरु कर दिया और अन्ना हजारे की तुलना गांधी और उसके कार्यक्रमों की तुलना गांधीवाद से शुरु कर दी, साथ ही देश में एक तरह से ऐलान करा दिया कि अन्ना हजारे देश में भ्रष्टाचार के खिलाफ दूसरी क्रांति शुरु कर दी हैं, लोगों को इनका साथ देने के लिए बिना विज्ञापन राशि लिए, विज्ञापन शुरु कर दी कि लोग समर्थन करे, इस महापुरुष का।
जो बूढ़ा होते हुए भी, युवाओं जैसा काम कर रहा है। ये हल्ला और प्रोपेगंडा करनेवाले वे तथाकथित देश के मूर्धन्य पत्रकार थे, जो अपने मुफ्स्सिल संवाददाताओं के अरमानों का गला घोंटकर, उन्हें औने पौने पैसे देकर, खुद लाखों का वेतन उठाते हैं, और ऐशो-आराम की जिंदगी जीते हैं। जो अपने अखबारों के प्रचार प्रसार में अरबों खर्च कर देते हैं ये कहकर कि अब घर में आपकी बीबी की नहीं, आपकी चलेगी मर्जी यानी नारी की स्वतंत्रता का हनन करने में भी, जिन्हें शर्म नहीं आती। वे लोग भ्रष्टाचार पर रोक लगाने के लिए संपादकीय तक लिख डाले थे। जो देश के तथाकथित मूर्धन्य पत्रकार इस प्रकार की हरकतें कर रहे थे, उनकी सोच और उनकी गिरगिट की तरह रंग बदलने की प्रवृति देख, हमें पूर्व के आंदोलन और उसकी वर्तमान अवस्था पर शर्म महसूस हो रही थी।
जरा देखिये, अन्ना के आंदोलन का, आज अऩ्ना ने अपना आंदोलन समाप्त कर दिया पर उसके बदले में क्या उसने पाया। सिविल सोसाईटी की ओर से खुद ड्राफ्टिंग कमेटी के सदस्य बन गये हैं। जो ड्राफ्टिंग कमेटी बनी हैं, उसके अध्यक्ष शांति भूषण हैं तो बेटे प्रशांत भूषण सदस्य है। इस मुद्दे पर जब किसी ने अऩ्ना से सवाल किया तो अन्ना का कहना था कि दोनों ईमानदार थे, इसलिए उन्हें रखा गया। क्या देश में इन्हीं बाप बेटों में इनको सबसे ज्यादा ईमानदारी दिखी और देश के 121 करोंड़ों में कोई ईमानदार नहीं था। अरे जिसकी बुनियाद ही इतनी छिछोरी हो, तो वो भ्रष्टाचार से कैसे लड़ेगा। अरे गांधी के नाम को बेचकर अपनी दुकान चलानेवालो, जरा सोचों क्या गांधी ने अपने आंदोलन की कभी कीमत वसूली, जैसा कि अन्ना ने वसूला। खूद सदस्य बनकर। क्या गांधी ने कभी भी अपने जीवन में कोई पद पाया। गर नहीं तो फिर गांधी और गांधीवाद के नाम पर इतना नौटंकी क्यों।
जो लोग आंदोलन को मूर्तरुप दे रहे थे, जरा पूछिये कि उनकी पृष्ठभूमि क्या रही हैं, जो स्वामी अग्निवेश खुद नक्सलियों के साथ और उसके आंदोलन को प्रत्य़क्ष समर्थन देता हैं, क्या वो स्वामी हो सकता हैं। जो लोग कश्मीर के विघटनकारियों को समर्थन देने में अपनी शान समझते हैं, क्या वे भ्रष्टाचार के खिलाफ और गांधीवाद के समर्थन में कभी भी आगे आ सकते हैं गर नहीं तो फिर गांधी और गांधीवाद के साथ इतनी बड़ी सौदेबाजी क्यों। मैं उनलोगों से पूछना चाहता हूं जिन्होंने इस नौटंकी को गांधीवाद कह डाला। क्या वे बता सकते हैं कि जिस प्रकार गांधी ने भारत में अंग्रेजी सत्ता को उखाड़ फेंका, क्या इस प्रकार की नौटंकी से अब देश में भ्रष्टाचार का खात्मा हो गया या हो जायेगा।
अरे जिस देश में पढ़ाई के नाम पर क्लर्क बनाने और पैसे कमाने की मशीन बनाने की ट्रेनिंग शुरु हो गयी हो, वहां अब भगत सिंह और चंद्रशेखर कहां से पैदा होंगे, और जब ये पैदा ही नहीं होंगे तो फिर भ्रष्टाचार पर अंकुश कैसे लगेगा। इतनी छोटी बात आंदोलनकरनेवाले लोगों को समझ में नहीं आती। गर नहीं समझ में आती तो वे जाने, पर यहां की जनता जानती हैं। इसीलिए देश के अन्य भागों में अन्ना के इस तथाकथित आंदोलन मे वे लोग शरीक हुए, जो किसी न किसी प्रकार से भ्रष्टाचार में लिप्त हैं, जिन्होंने मां भारती को पग-पग पर अपमानित करने का संकल्प कर रखा हैं।
खेतों-खलिहानों अथवा विभिन्न कल कारखानों में काम करनेवाले या प्रिंट अथवा इलेक्ट्रानिक मीडिया में ही काम करनेवाले उन पत्रकारों ने इस आंदोलन से अपनी दूरी बना ली थी, जो सच में बिना किसी शोर-शराबे के देश को नयी दिशा देने के लिए सतत प्रयत्नशील हैं, जो देश को भ्रष्टाचार मुक्त करने के लिए, कानून बनाने की बात नहीं, बल्कि खुद कानून बनने की कोशिश कर रहे हैं।

Friday, April 22, 2011

BINAYAK SEN:Haque-o-Insaf Ka Sipahi




بنائک سین :حق و انصاف کاسپاہی 
ریاست چھتیس گڑھ کے دیہی علاقوں کے باشندگان اور آدی واسیوں کے مسیحا 58سالہ بنائک سین کی سادہ طرز زندگی اور ان کے پوشاک کو دیکھ کر پہلی نظر میںیہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ معمولی سا دکھنے والا انسان اپنے عمل و گفتار اور کردار کے تعلق سے اتنی بڑی شخصیت ہوسکتی ہے کہ وہ اصول کے کچھ بھی کر گزرے ۔ اس سادہ لوح انسان کو آپ دیکھ کر ان کی شخصیت کا اندازہ نہیں لگا سکتے ہیں۔ نکسلی لٹریچر رکھنے اور نکسلی لیڈر سانیال سے جیل میںملنے کی پاداش میںجب نچلی عدالت نے انہیں سزا سنائی جس کے تحت وہ دو سال جیل میںرہے۔ اس سے قبل ایک لمبی داڑھی والے بنائک سےن اےک عام سماجی کارکن کی شکل میں عوام میںجانے جاتے تھے جب کہ کچھ لوگ انہیں علمی مفکر بھی کہتے تھے۔ پیشے سے ڈاکٹر بنائک سین زمانہ طالب علمی سے ہی سیاست میںدل جمعی کے ساتھ سرگرم حصہ داری نبھاتے رہے ہیں۔ سماجی خدمات کو اپنے اولین فریضہ میںشامل رکھنے والے ڈاکٹر سین نے سماجی خدمات کی شروعات اپنے ایک ہمنوا اور مزدور لیڈر شنکر گوہانیوگی کے ساتھ کی تھی اور مزدوروں کےلئے بنائے گئے شہید اسپتال میںاپنی خدمات دینے لگے تھے۔مزدوروں، غریبوں اور افلاس کی بہتری اور بہبود کی خاطر اپنے آپ کو وقف کرنے والے ڈاکٹر سین ایک لمبے وقفہ تک ریاست چھتیس گڑھ کے مختلف اضلاع کے لوگوں کے لئے سستی طبی خدمات دستیاب کرانے کے مقصد کے تحت طریقہ کار تلاش کرتے رہے۔ لےکن محض ڈاکٹری سے بنائک متمعن نہےں ہو سکے ۔انکا رخ انسانی حقوق کے تحفظ کے جانب بھی ہو گےا۔ ڈاکٹر سین نے حقوق انسانی تنظیم پی یوسی ایل کی چھتیس گڑھ برانچ کے نائب صدر رہتے ہوئے ریاست چھتیس گڑھ میںبھوک سے ہوئی اموات جیسے اہم امور پر کھل کر احتجاج کیا اور اپنی آواز بلند کی۔
 دیکھنے میںعام انسان لگنے والے ڈاکٹر سین نے چھتیس گڑھ حکومت کو متعدد بار کٹہرے میںلا کھڑا کیا۔ انہوں نے ہی سب سے پہلے وہاںجاری نکسلی تحریک کے خلاف لئے گئے ایکشن کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا تھا۔ جس کا نتیجہ تھا کہ اس قانون ”سلوا جوڑم، کے خلاف حقوق انسانی کے کارکنان اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کوشش کو سپریم کورٹ نے بھی سراہا اور نتیجتاً 2010میںریاستی حکومت کو سلوا جوڑم اسکےم کوبند کردینا پڑا۔ ایک ایسی شخصیت جس نے اپنے آپ کو غریبوں ، درد مندوں اور مفلسوں کے لئے وقف کررکھاہواس کو ملک کا غدار کہہ دیا جائے ےہ کتنی بڑ ی ناانصافی ہے۔ ان کے خلاف جو الزامات عائد کئے گئے اس سے عام تاثر یہ بھی پےدا ہو گےا کہ اس ملک میں اچھے کام کرنے والوں کی کوئی قدر و قیمت ہی نہیں۔ لیکن قابل تعریف اور قابل مبارکباد ہیںملک کی اعلی عدلیہ جس نے نہ صرف انہیں ضمانت پر رہا کردیا ہے بلکہ ایک ایسی زمینی حقیقت کو بھی اجاگر کردیا کہ جسکے بعد ہمارے سیاست دانوں، حکمرانوں اور متعصبانہ ذہنیت کے حامل افراد کو سوچنے پر مجبور ہوناپڑا۔ چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے انہیں جب ضمانت پررہا کرنے کا حکم دیا تو اس فیصلے میںجو اہم بات لوگوں کےلئے بطور مثال پیش کی وہ حقیقت پر مبنی ہے۔ عدالت نے اس جملے کو بنیاد بناتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کیاکہ” محض نکسلی لٹریچر رکھ لینے سے کوئی نکسلی نہیں ہوسکتا جیسا کہ اگر کوئی گاندھیائی لٹریچر اپنے پاس رکھ کر گاندھی نہیں بن سکتا“یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو اب ان نام نہاد دہشت گردوںپر بھی لاگو ہونی چاہئے جو کسی بھی جھوٹے کاغذ کی برآمدگی پر سالوں قید و بند کی صعوبتیں اٹھاتے ہیں۔بنائک سین جیسے حق و انصاف کے سپاہی کو ہمارا سلام !





Thursday, April 14, 2011

BEST OF LUCK PAULVALTHATY


بیسٹ آف لک والتھاٹی
نام پال چندر شیکھر والتھاٹی اور کام؟ ارے جناب کام آپنے دیکھا نہیں۔ تعجب ہے؟کیا آپ آج کل آئی پی ایل-4کے مقابلے نہیں دیکھ رہے ہیں؟ کوئی بات نہیں۔ آیئے! ہم بتاتے ہیں کہ پال والتھاٹی کا کام کیا ہے۔ پال والتھاٹی کا کام ہے گیند بازوںکی دھنائی کرنا۔ جی ہاں، اس 27سالہ کنگز الیون پنجاب کے بلے باز کی بلے بازی کو دیکھ کر تو یہی لگ رہا تھا کہ وہ گیند بازوں کی دھنائی کررہے ہیں۔ انڈر-19ورلڈ کپ 2002سے کرکٹ کے صفحہ ہستی پرباضابطہ نمودار ہوئے پال والتھاٹی نے گذشتہ دنوں چنئی سپر کنگس کے خلاف موہالی کرکٹ گراﺅنڈ پر ایسی طوفانی اننگ کھیلی کہ دنیا دیکھتی رہ گئی۔ 7دسمبر 1983کو ممبئی میںپیدا ہوئے والتھاٹی نے پہلے تو ریکارڈ ساز 52گیندوں پر سنچری لگائی اور پھر 19چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے مجموعی طور پر 63گیندوں پر 120رنوں کا اسکور بناڈالا۔ پال کی یہ اننگ کئی معنوں میں نہ صرف یاد گار رہے گی بلکہ ریکارڈ بک میں درج ہوچکی ہے۔ والتھاٹی نے اس میچ کی اپنی ناٹ آﺅٹ 120رنوں کی اننگ میں 19چوکے لگائے یعنی کہ ایک ساتھ دو دو ریکارڈ کئے۔ پہلا ریکارڈ یہ کہ آئی پی ایل-4کی پہلی سنچری اور دوسرا ریکارڈ یہ کہ ٹی- 20کرکٹ میں سب سے زیادہ چوکا لگانے والے پہلے بلے باز ۔
واقعی پال والتھاٹی نے غضب کا قہر ڈھایا جس میںایک جوش دکھائی دے رہا تھا، ایک ولولہ انگیز جذبہ نظر آرہا تھا اورکرکٹ کے تئیں دیوانگی کا نظارہ دکھائی دے رہا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ نہ صرف چنئی سپرکنگس کو ایک شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ کرکٹ کی دنیا میں ایک اور اسٹار کا نام جڑ گیا۔ سوچئے اس وقت موہالی اسٹیڈیم اور پویلین میں بیٹھے شائقین کا کیا حال رہا ہوگا جب ایک کے بعد ایک زور دار چوکے اور چھکے کی برسات ہورہی تھی۔ اس وقت تو شائقین کے ہاتھ بھی تالیاں بجا بجا کر تھک گئے ہونگے۔ ظاہر ہے ایسی خوشی کا سامان فراہم کرانے والے بھی اب دنیائے کرکٹ کے آنکھ کا تارا ہوگیا۔
 2006میں ممبئی کی طرف سے رنجی ٹرافی کھیلنے کے باوجود یہ کھلاڑی اب تک گمنامی کی زندگی جی رہا تھا لیکن قسمت اور محنت نے آج اسے فرش سے عرش پر لاکھڑا کیا ہے۔ حالانکہ والتھاٹی نے آئی پی ایل-2میںکولکاتہ نائٹ رائڈرس کے خلاف جنوبی افریقہ کے کیپ ٹاﺅن میںمیچ کھیلا تھا یہ بات دیگر ہے کہ وہ بطور سلامی بلے باز کامیاب نہیں ہوئے اور 16رن پر آﺅٹ ہوکر گمنامی کے اندھیرے میں چلے گئے۔ وقت بدلا، حالات بدلے اور آئی پی ایل کا کریز بڑھا تو پھر اس گمنام کرکٹر کے سر سے گمنامی کا سایہ بھی ہٹا اور آج اسٹار کا تاج سرپر چڑھ گیا۔ اپنے آپ کو کرکٹ میںقائم و دائم رکھنے اور چھا جانے کے جذبے سے لبریز اس نوجوان کھلاڑی کے مصمم عزم اور ان کے ذریعہ کھیلی گئی ریکارڈ ساز اننگ کا راز جس بات میںچھپا تھا اسے انہوں نے کچھ یوں ظاہر کیا ”سچ کہوں تو یہ پچ بہترین تھی، جیسا سوچا تھا سب کچھ بالکل ویسا ہی ہوا۔ میںنے جیسی تیاری کی تھی اس کا ثمرہ ہمیں مل گیا ہے۔ یہ میرے لئے ایک یاد گار لمحہ ہے جسے میں زندگی میںکبھی نہیں بھولوں گا۔“تبھی تو آج چاروں جانب صرف اور صرف پال والتھاٹی کے قصے اور قصیدے پڑھے جارہے ہیں۔ اخبارات، چینلز سبھی کے سبھی اس اسٹار کی تعریفوں کی کہانیاںبیان کررہے ہیں۔ ایسے میں ہم بھی انہیں ان کی بہترین کارکردگی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کنگز الیون کا یہ کنگ آئندہ بھی ایسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کی آنکھوں کا تارا بنا رہے۔ بیسٹ آف لک پال والتھاٹی ۔




Wednesday, April 13, 2011

EDUCATION KI DEWANGI

تعلیم کے تئیں ایسی دیوانگی
دہلی ویسے تو ہندوستان کی دارالسلطنت ہے جہاں عام طور پر سرکاری دفاتر، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ وغیرہ وغیرہ ہیں اور اس سے متعلق کاموں کےلئے ہندوستان کے کونے کونے سے لوگ یہاںآتے ہیں،ا س سرزمین کی خاک چھانتے ہیں اور اپنا کام پورا کر کے پھر وطن لوٹ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس یہاںملک کی بہترین اور نامور یونیورسیٹیاں بھی ہیں جس میں داخلے کے لئے بھی طلباءکی ایک بہت بڑی تعداداس دارالسلطنت کے لئے کوچ کرتی ہے۔ یہاں موجود ہے جواہر لال نہرو یونیورسٹی جس نے ملک کو ایک سے بڑھ کر ایک افسر دیا ہے جو اپنی خدمات ملک کے کونے کونے میںدے رہیں۔ دہلی میں دہلی یونیورسٹی موجود ہے جو نہ صرف یہ کہ اپنے وسیع تر شاخوں نارتھ کیمپس و ساﺅتھ کیمپس کے ذریعہ بہتر تعلیم فراہم کررہے ہیں بلکہ یہ یونیورسٹی تو اس وقت طالب علموں کی پہلی پسند بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ مسلم طلبہ و طالبات جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب کافی زیادہ راغب ہورہے ہیں اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ جامعہ ملیہ بہتر ماحول، اعلیٰ تعلیم معیار فراہم جو کررہا ہے۔ ملک کی تقریباً سبھی ریاستوں میںدسویں اور بارہویں کے امتحانات ختم ہوچکے ہیں اور صرف نتائج کا آنا باقی ہے۔ ظاہر ہے کہ دسویں اور بارہویں کے بعد طلبہ و طالبات اپنے بہتر مستقبل کے لئے بہترین ادارے سے نہ صرف یہ کہ اچھا سا کورس کرنے کی سوچ رہے ہیں بلکہ کورس کرنے بعد ایک اچھی سی نوکری اور پھرعیش کوشی کی زندگی گزارنے کی فکر میں مبتلا ہیں جس کی وجہ ہے کہ آج کل دہلی کے تقریباً چہار سو ان سپنوںکو پالے یایوں کہیں کہ تعلیم کے دیوانے اور دیوانی کی فوج سی نظر آنے لگی ہے۔ ہونا بھی چاہئے کیونکہ تعلیم نہ صرف ہمارا بنیادی حق ہے بلکہ سماج اور ملک کی ترقی کی نشونما اس میںہی پیوست ہے۔ آخر یہی دیوانے ہی تو ملک کے مستقبل ہیں جنہیں نہ صرف اپنی بلکہ ملک و قوم، سماج اور فرد کی طرز زندگی کو بدل کر سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے ابوالکلام کے ”ویژن 2020“کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے اور ملک ہندوستان کو عالمی سطح پر سپر پاور بھی بنانا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج کل طلبا و طالبات کہیں ایڈیشن فارم لینے کےلئے ”کاﺅنٹر“پر لائن میںکھڑے نظر آتے ہیں تو کہیں طلبہ کا ہجوم ”نوٹس بورڈ“ کے ارد گرد ایڈمیشن سے متعلق گائڈ لائن کا مشاہدہ کرنے میں مشغول ہیں۔ یعنی ایک ایسی تعلیمی دیوانگی جسے دیکھتے ہی بنتا ہے۔ اس تعلق سے ایک اور خاص بات ہے جو قابل تحسین ہے وہ ہے میڈیا کا تعاون ۔ ملک کے چنندہ اخبارات اس تعلق سے اپنی بے بہا خدمات دے رہے ہیں اورطالب علموں کو ہر وہ سہولیات فراہم کرارہے جن کی ضرورت انہیں درپیش ہے۔ خواہ وہ ادارے کی لسٹ ہو یا اس تک رسائی کے لئے پتہ و فون نمبر، فیکس اور ای میل ایڈریس یا پھر وہاں تک پہنچنے کےلئے کمیونیکیشن جیسے بس، میٹرو روٹ کی جانکاری۔ یہاں تک کہ کچھ اخبارات نے اس تعلق سے ہیلپ لائنیں قائم کررکھی ہیںجہاں سے تمام تر تصفیہ طلب امور کی انفارمیشن بس ایک کال یا ایس ایم ایس سے مل جاتی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ دہلی یونیورسٹی نے آئندہ یکم جون سے ایک اسپیشل بولیٹن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ مکمل اور جامع انفارمیشن طلبہ و طالبات کو مل سکے۔
عامر خان کے جلوے
اگر کہاں عامر خان ۔ لیکن جناب! یہ حقیقت بن کر سامنے آرہی ہے کیونکہ عالمی سطح پربااثر 100لوگوں کی فہرست تیار کرنے والے رسالے ”ٹائم“ کا تجزیہ تو یہی کہتا ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ امریکی رسالہ ”ٹائم“ ہر سال عالمی سطح پر ایک جائزہ کراتی ہے جس کا مقصد ہوتا ہے عام لوگوں کے درمیان مقبولیت کی بنیاد پر 100بااثرشخصیات کا انتخاب کرنا ۔ اس مہم میں 203لوگوں کے نام پیش کئے جاتے ہیں جن میںلوگوں کے انتخاب کی بنیاد پرجانی مانی ہستیاں مقام حاصل کرتی ہیں۔ا سی سلسلے کی کڑی میں اس بار جن لوگوں کے درمیان مقابلہ آرائی ہے ان میںہندوستانی شخصیت بالی ووڈ اداکار عامر خان، کانگریس صدر سونیا گاندھی،مصنف سدھارتھ مکھرجی، مصنف وی ایس رام چندرن ،ریلائنس انڈسٹریز کے مالک مکیش امبانی کے علاوہ بین الاقوامی شخصیات میںامریکی صدر براک اوبامہ، ان کی شریک حیات مثل اوبامہ، ہلیری کلنٹن، مشہور امریکی صنعت کار واین بپھیٹ، ہالی ووڈ اسٹار جانی ڈیپ، اداکار جان کلونی، روس کے وزیر اعظم ولادیمیرپوتن اور صدر دیمتری میدوےوےد، امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس، سری لنکاکے صدر مہندر اراج پکشے اور برطانیہ کے شہزادہ ولیم اور ان کی منگیترکیٹ میڈلٹن کے علاوہ اور بھی لوگ شامل ہیں لیکن عموماً لوگوں کی نظروں میںمذکورہ شخصیات ہی اہمیت رکھتی ہیں ۔
سوبڑی تعداد میں پوری دنیا کے لوگ اپنے اپنے چہیتوں کو اس فہرست میںاول مقام دلانے میں سرگرم ہیں اور ظاہر ہے کہ ہم ہندوستانی نہیںچاہیں گے کہ اس فہرست میں ہمارے لوگ اعلیٰ مقام حاصل نہ کریں۔ گو علاقائی پیمانہ اس فہرست میںکوئی معنی نہیںرکھتا ہے لیکن ہم ہندوستانیوں نے اپنی دریادلی کا مظاہرہ کیا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ بالی ووڈ اداکار عامر خان اب تک نہ صرف اس فہرست میں ہندوستانیوں پر سبقت بنائے ہوئے ہیںبلکہ اس معاملے میںوہ امریکی صدر براک اوبامہ کو بھی پیچھے چھوڑ کر 31ویں مقام پر فائز ہیں اور اگر آپ لوگوں کی فراخ دلی اور مستعدی شامل رہی تو یقینا یہ پوزیشن اور بہتر ہوسکتی ہے۔ یہ بات دیگر ہے کہ اول دوم اور سوم مقام پر کوئی اور ہو۔ جیسا کہ ابھی تک اول مقام پر جنوبی افریقی باپ اسٹار رین قابض ہیں۔
راجا ہندوستانی، لگان اور تھری ایڈیٹس جیسی کامیاب اور سبق آموز فلموں میںاداکاری کا جلوہ بکھیرنے والے عامر کو اس مقام تک لانے میںحالیہ دنوں بدعنوانی کے خلاف انّا ہزارے کی تحریک سے متعلق وزیر اعظم ہند منموہن سنگھ کو خط لکھنے، نرمدا بچاﺅآندولن میںباز آباد کاروں کے حق میںآواز اٹھانے جیسے اہم سماجی کام نے بھی ان کا ساتھ دیا ہے۔ تبھی تو ٹائم میگزین نے ان کا قصیدہ کچھ یوں پڑھاہے ”عامر خاں فلم ساز گھرانے سے ہیں جنہوں نے اداکار کے طور پر اپنا کیریئر شروع کیا اور ایک اعلیٰ مقام حاصل کیا اس کے باوجود انہوں نے ایک کامیاب فلم ساز کی شکل میں بھی خود کو قائم کرلیا ہے“ تو لیجئے جناب اگر ہم ہندوستانی امریکہ کے صدر نہیںبن سکتے تو کیا ہوا آخر ان سے بااثرشخصیت پیدا کرہی سکتے ر آپ سے کوئی یہ کہے کہ ہمارے عامر خان امریکی صدر براک اوبامہ سے بھی بااثر شخص ہیں تو پہلی نظر میںآپ اسے ایک بکواس اور لغو قرار دینگے اور فوراً اپنی جانکاری کے مطابق اسے سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ کہاں براک اوبامہ اوہیں ۔واہ بھائی عامر خان واہ

ज़हीर खान इसी साल एक्ट्रेस ईशा शरवानी से रचाएंगे निकाह

ज़हीर खान इसी साल एक्ट्रेस ईशा शरवानी से रचाएंगे निकाह
 किसना, यू मी और हम व लक बाई चांस जैसी फिल्मों में दिखायी दे चुकी बॉलीवुड अभिनेत्री ईशा शरवानी को अब जीवनसाथी मिल गया है। जहीर खान के रुप में। जी हां, क्रिकेटर जहीर खान। जहीर खान इसी साल ईशा से निकाह रचा सकते हैं। जहीर और ईशा काफी वक्त से एक-दूसरे के साथ हैं, और अब वर्ल्ड कप जीतने के बाद जहीर खान की प्राथमिकता में शादी करना भी है। सूत्रों की मानें तो घरवालों का जहीर पर खासा दबाव है कि वह अब अपनी गर्लफ्रेंड ईशा से शादी रचा ले।
प्रशिक्षित कत्थक नृत्यांगना ईशा की पढ़ाई-लिखाई कई शहरों में हुई है और उनका एक घर तिरुअंतपुरम में है। ईशा अक्सर वहीं रहती हैं। सूत्रों की मानें तो जहीर भी छुट्टियों में वहां कई बार गए हैं।
दक्ष सेठ डांस कंपनी की प्रमुख डांसर ईशा का पहला प्यार नृत्य है। लेकिन, इस नृत्य के बीच कब उन्हें जहीर से प्यार हो गया-पता ही नहीं चला। जहीर के कुछ खास मित्रों की मानें तो जहीर ने ईशा को मुंबई में आशियाना दिलाने में मदद की और यहीं से दोनों की दोस्ती कुछ आगे निकल गई।
ईशा और जहीर 2005 में उस समय मिले थे, जब ऑस्ट्रेलियाई टीम अपना दौरा खत्म कर लौट रही थी। विदाई समारोह में एक सांस्कृतिक कार्यक्रम हुआ था, जिसमें ईशा ने भी डांस किया था। हालांकि दो साल बाद 2007 में दोनों के बीच अनबन की खबरें भी आईं, लेकिन इस चिंगारी ने उनका प्यार का आशियाना तबाह नहीं किया। या यूं कहें दोनों प्रेमी इतने संतुलित थे कि उन्होंने कुछ गलतफहमियों से अपने रिश्ते खराब नहीं होने दिये।
फिलहाल,जहीर और ईशा दोनों ने इस बाबत कोई प्रतिक्रिया नहीं दी है, लेकिन ठोस सूत्रों के मुताबिक इसी साल दोनों शादी रचा लेंगे। वैसे,दोनों की ही उम्र शादी लायक भी है!

Saturday, April 9, 2011

75 साल का हो गया लोधी गार्डेन
पुराना लेडी विलिंगडन पार्क और अब लोधी गार्डन के नाम से मशहूर लुटियन जोन में आने वाला उद्यान नौ अप्रैल को 75 साल का हो जाएगा। पहले इतना घना जंगल था कि दिन में जाने में भी कोई सौ बार सोचे, मगर अप्रैल 1962 में जब इस उद्यान के रखरखाव का जिम्मा एनडीएमसी के पास आया तो इसे सजाने- संवारने की कवायद शुरू हो गई थी। अब एनडीएमसी इसे सांस्कृतिक केंद्र के रुप में विकसित करना चाहता है।
लोधी गार्डन के 75 साल पूरे होने के पल को यादगार बनाने के लिए एनडीएमसी ने शनिवार को विशेष कार्यक्रम आयोजित करने जा रही है। जिसमें दिल्ली के नामी-गिरामी लोग भी शिरकत करेंगे। एनडीएमसी के प्रवक्ता आनंद तिवारी कहते हैं, विशेष कार्यक्रम में सबसे मुख्य होगा तरह-तरह के पौधों को लगाना। जिसे शहर के गणमान्य लोग अपने हाथों से लगाएंगे, मगर अभी इनके नाम तय नहीं हुए हैं। इसके अलावा पर्यावरण संरक्षण को लेकर इंडिया इंटरनेशनल सेंटर में एक सेमिनार का आयोजन किया जाएगा।
लोदी गार्डन के मध्य में सैयद वंश के तीसरे शासक मुहम्मद शाह का मकबरा है जो अष्टभुजाकार है। एनडीएमसी के उद्यान विभाग के निदेशक शिव कुमार शर्मा बताते हैं कि दिल्ली जब देश की राजधानी बनी तो उसके बाद इसे सजाने- संवारने की कड़ी में अंग्रेजों ने नौ अप्रैल 1936 में मकबरे के आसपास के हिस्से को उद्यान के रुप में विकसित किया और इसका नाम लेडी विलिंगडन पार्क दिया। वर्ष 1962 में इस पार्क के रखरखाव का जिम्मा एनडीएमसी के पास आया तो इसको नया नाम लोधी गार्डन दिया गया।
गत वर्ष संपन्न हुए राष्ट्रमंडल खेल के लिए जब पूरी दिल्ली को सजाया संवारा जा रहा था तो 9.5 एकड़ में फैले लोधी गार्डन को भी आकर्षक रुप दिया गया। वहां जौगिंग ट्रैक के दोनों तरफ आकर्षक प्लांट लगाए जाने सहित गार्डन के बीच में फुलवारी में आधे दर्जन से ज्यादा रंग-बिरंगे फूल- पौधे लगाए गए हैं। गार्डन की झील में तीन तरह की बतखों के अलावा 24 तरह की तितलियों और मोर की भी व्यवस्था की गई है। एनडीएमसी अब इसे उद्यान के साथ-साथ सांस्कृतिक कला केंद्र के रुप में विकसित करना चाहती है, ताकि इसकी रौनक में चार चांद लग जाए।

Friday, April 8, 2011

Govt agrees to Anna Hazare's demands on Lokpal Bill

Govt agrees to Anna Hazare's demands on Lokpal Bill

NEW DELHI: Anna Hazare's crusade against corruption is believed to have won the battle on Friday with the government relenting to the demands made by the veteran social activist, TV reports said.

However, Hazare on Friday night announced that his fast has not ended and further added that he will take a final decision on Saturday.

A three member team, Arvind Kejriwal, Kiran Bedi and Swami Agnivesh, had met the government representatives and it is believed that government has relented to Anna Hazare's demands.

According to reports, Pranab Mukherjee will be the chairman and Shanti Bhushan will be co-chairman of the proposed joint committee to draft an effective Lokpal Bill. The draft of the Lokpal bill will be formally notified.

Anna Hazare had demanded the appointment of a chairman and a co-chairman for the proposed joint committee to draft the Lokpal Bill and rejected the government's offer of setting up of the committee by a letter of the law ministry.

He also said there should be no "tainted" ministers in the joint committee comprising civil society members and ministers.

The government had sent a draft on Friday afternoon, following which Hazare sent his draft. "We replied to it and spoke to the three ministers (Union HRD minister Kapil Sibal, law minister Veerappa Moily and minority affairs minister Salman Khurshid) about it," Swami Agnivesh, one of Hazare's three emissaries had said.

Earlier on Friday, the three emissaries held talks with the government on the proposed formation of a committee for drafting the Lokpak Bill.

Wednesday, April 6, 2011

RADIA ke KAMAL

راڈیا کے کمال
کارپوریٹ گھرانوں کے لئے لابنگ کر کے سرخیوں میںرہنے والی نیرا راڈیا نے اولاً تو پورے نظام کو اپنی پروفیشنل چالوں سے الجھا کر حکومت کوتو 2جی اسپیکٹرم جیسے گھوٹالے میں گرفتار کردیا لیکن خود وہ 9سالوں میں 3سو کروڑ کی مالکن بن بیٹھیں۔ خبروں کے مطابق ’گلیمرس ‘اورشاطرمزاج راڈیا فی الحال اب پارلیمنٹ کی جانچ ایجنسی پی اے سی کو بھی چکما دینے میں مصروف ہیں۔ نیرا نے فون ٹیپ اور 2جی اسپیکٹرم معاملے میں الجھے ہوئے سوالوں کا جواب جاننے کے لئے پارلیمنٹ کی تشکیل کردہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے سامنے جب زیادہ تر معاملے میں یہ جواب دیا کہ ”مجھے کچھ یاد نہیں“ تو 2جی معاملہ کی گتھی اور الجھ گئی ۔شاید پردے کے پیچھے ’گیم ‘کھیلنے والی راڈیا اب کھلے عام گیم کھیل رہی ہےں۔
 1995میں کام کی تلاش میںہندوستان آئی کینیا نژاد نیرا شرما نے یہ مقام ایسے ہی حاصل نہیںکرلیا کہ وہ آج سرخیوں میںرہتی ہیں بلکہ انہوں نے اس کے لئے اپنی ادا اور آواز کا سہارابھی لیا۔ جب وہ فون پر صحافیوں سے مخاطب ہوتی ہیں تو ایک اسکول ٹیچر کے انداز میں بات کرتی ہیں۔ ضرورت پڑتی ہے تو صحافیوں تک کو ہندی میںڈانٹ پھٹکار بھی سنادیتی ہیں اور انگریزی میںتجارت کی اے بی سی ڈی بھی ان کو اچھی طرح سمجھادیتی ہیں۔ لیکن جب صنعت کار رتن ٹاٹا سے محفو گفتگو ہوتیں ہیں تو ایک اسکولی بچی کی طرح توتلی آواز نکال رتن ٹاٹاجیسے صنعت کارکے حواس باختہ کردیتی ہیں۔انہیں نیراراڈیا نے اٹل بہاری واجپئی کے داماد رنجن بھٹاچاریہ کو اپنی دوستی کے جال میں پھنسا کر اس وقت کی واجپئی حکومت کے شہری ہوا بازی کے وزیر اننت کمار کو اپنا ہمدم بنایا ۔ظاہر سی بات ہے کہ یہ دوستی صرف دوستی ہی نہیںرہی ہوگی بلکہ اس دوستی نے بہت سے گل کھلانے میںنیرا کی مدد کی ہوگی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آخرش ان پر 2جی اسپیکٹرم جیسے گھوٹالے میں ملوث ہونے کا الزام لگا۔وہ اس گھوٹالے سے اننت کمار کا کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ دہلی اور این سی آر میںبڑے بڑے پلاٹ ، فارم ہاﺅس اور مکانات خریدے جن کے بارے میں ان کے دشمنوں کا خیال ہے کہ اس گڑبڑ گھوٹالے کے کمیشن سے حاصل کئے گئے ہوںگے۔
2004میں جب این ڈی اے حکومت کا دور اقتدار ختم ہوا تو نیرا کو تلاش تھی ایک نئے متبادل کی جس سے وہ اپنا کام نکلوا سکے۔’راڈیا ٹیپس ‘سے اب یہ راز افشاں ہوچکا ہے کہ راڈیا کی اس تلاش میں ملک کے مشہور و معروف صحافیوںنے بھی راڈیا کی بڑھ چڑھ کر مدد کی ۔اس سلسلے میں ’راڈیاٹیپس‘ پر این ڈی ٹی وی کی برکھا دت اور ہندوستان ٹائمس کے سابق ایڈیٹر ویر سانگھوی کو بھی راڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے ۔اس لئے انھوں نے ٹاٹا ٹیلی سروسیز کے بہانے راجہ سے دوستی کرلی اور کہا جاتا ہے کہ جب پہلی بار اے راجہ نے وزیر مواصلات بننے کے بعد آفس کارخ کیا تو ان کو ملنے والا پہلا تحفہ نیرا راڈیا کی جانب سے بھیجا جانے والا ایک انتہائی بیش قیمتی تحفہ تھا جسے راجہ نے قبول کرنے کے بعدفوراً اپنے آقا کروناندھی کے خدمت میں پیش کردیا۔ نیرا کے مدھوکوڑا کے علاوہ ادھوٹھاکرے سے بھی گہرے مراسم تھے۔ لب لباب یہ کہ جس نیرا راڈیا کو لابسٹ کہاجاتا ہے وہ نہ صرف ایک لابسٹ ہےںبلکہ وہ کارپوریٹ ورلڈ اور سیاست کی دنیا کے سنگم کا ایک ایسا چہرہ بھی ہیں جو کچھ لوگوں کی رائے میں جمہوریت کو کھوکھلا کرنے کا ایک ذریعہ بنتا جارہا ہے۔ نیرا راڈیا نے پارلیمنٹ کی تشکیل کردہ پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کے سامنے جس طرح کا منفی رخ اختیار کیا ہوا ہے وہ ایک قابل غور پہلو ہے جس کا تدارک لازمی ہے۔
بہرکیف نیرا راڈیا ہندوستانی سیاست اور کارپوریٹ دنیا کا وہ سنگم ہے جہاں سے ہزاروں کروڑ کے گھوٹالوں کا ایک سلسلہ چلا کہ جس نے اے راجہ سمیت پوری ڈی ایم کے کو اپنے بھنور میں گرفتار کرلیا ۔ لیکن واہ رے نیرا راڈیا واہ !راجہ تو جیل کی ہوا کھاررہے ہیں اور نیرا ابھی بھی مزے سے کھلے عام گھوم رہی ہیں۔

ANNA ki ana ko Salam

 انّا کی انا کو سلام
کشن بابو راﺅہزارے۔ یہ وہ نام تھا جس نے عام انسان کی شکل میں 15جون 1938کومہاراشٹر کے احمد نگر میںایک مزدور کے گھر میںجنم لیا اور جیسے تیسے ساتویں تک کی پڑھائی کرنے کے بعد چالیس روپئے ماہانہ کی نوکری کرتے ہوئے فوج میں بطور ڈرائیور شامل ہوئے۔ بات چھٹی دہائی کی ہے۔ اس زمانے میں پاکستانی فوج کے حملے میں وہ موت کو چکما دے کر آگے کے لئے آگے کی شمع روشن کرنے کے لئے بچ نکلے تھے۔ لیکن جیسے ہی کشن بابو راﺅ ہزار نے وویکا نند کی ایک کتاب” کال ٹو دی یوتھ فارنیشن“ خرید کر پڑھی مانو کشن بابو راﺅ کی زندگی بدل گئی، طرز زندگی بدل گئی۔ اور وہ ایسی بدلی کہ انھوںنے ایک ایسا فیصلہ کرڈالا کہ جس نے انہیں کشن بابو راﺅ ہزارے سے بدل کر انّا ہزارے کرڈالا۔ جی ہاں، وہی انّا ہزارے جو آج ملک ہندوستان کو کرپشن، بے ایمانی، بدعنوانی، گھپلے گھوٹالے سے پاک کرانے کی خا طر دہلی کی جنتر منتر پر تا مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ چھ دہائیوں تک یعنی آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد کے بھارت کی تصویر کو دیکھنے والے انّا ہزارے نے جب ہندوستان کی حالت زار دیکھی تو ان کے دل سے آہ نکلی اور اس کی کسک نے انہیں مجبور کیا کہ وہ کچھ کریں۔ آج انّا ہزارے پورے ملک کے لئے ایک نادر و نایاب شخصیت بن چکے ہیں۔ا نّا ہزارے نے نہ صرف یہ کہ بدعنوانی، کرپشن اور گھپلے گھوٹالے کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی ہے بلکہ انھوں نے ”بدعنوانی سے پاک ہندوستان“ کےلئے ایک ایسی تحریک کا آغاز کیاہے جو یقینی طور پر اپنے انجام کو پہنچے گا اور ”پاک صاف ہوگا ہمارا ہندوستان“۔ جس میں ان کے شانہ بشانہ نظر آرہی ہیں سابق آئی پی ایس کرن بیدی،مےدھا پاٹےکر،بابا رام دےو،شری شری روی شنکر،اروند کےجرےوال،اےڈووکےٹ پرشانت بھوشن،شنتوش ہےگڑے اور سوامی اگنےوےش ودےگر شماجی کارکنان بلکہ سارا ہندوستان ۔اس سلسلے مےںممبئی کے سی ایس ٹی علاقے میں ان کے حامیوں نے 100کاروں اور بائیکوں پر ان کی حمایت میںریلی نکالی ہے تو حیدرآباد میںہزاروں لوگ ان کی ہاں میںہاں ملانے کو سڑکوں پر نکل پڑے ہیں۔ سول سوسائٹیاں آگے آرہی ہیں اور دیکھتے جائیے آگے آگے ہوتا ہے کیا۔ انّا ہزارے نے جو تحریک کی شروعات کی ہے یقینا اس کے دور رس نتائج برآمد ہونگے کیونکہ یہ تحریک ایک ایسی شخصیت نے شروع کی ہے جو اپنا سب کچھ اسی سماج، اسی ہندوستان کےلئے وقف کرچکا ہے۔ انھوں نے اپنی زمین بچوں کے ہاسٹل کے لئے وقف کردیں۔ لوگ پنشن کی رقم سے عیش و عشرت کا سامان اکٹھا کرتے ہیں لیکن انّا ہزارے کو ملنے والی پنشن کی رقم گاﺅں والوں کی فلاح وبہبود میںصرف ہورہی ہے۔ آج جب کہ دنیا اچھے سے اچھا کھانا،رہائش اور پوشاک کی دلدادہ ہے انّا ہزارے اپنے آبائی گاﺅں رالیگن کے مندر میں رہتے ہیں اور ہاسٹل میںبچوں کے لئے بننے والا کھانا کھاتے ہیں۔ کشن بابو راﺅ ہزارے عرف انّا ہزارے کی حمایت میںآج جب کہ سارا ہندوستان آرہا ہے ہم اس عظیم شخصیت کو اپنا اور قوم کا سلام عرض کرتے ہیں اور دعا گو ہیںکہ بدعنوانی ، کرپشن، گھپلے اور گھوٹالے کے لئے اٹھی یہ آواز جس کو ملک کے عوام آزادی کی دوسری تحریک کا نام دے رہے ہیں، ہندوستانی نظام کو بدلنے میں نیک فال ثابت ہو۔
انّا ہزارے آپ کی عظمت ، کاوش، ارادے اور تحریک کو سلام!

Sunday, April 3, 2011

Ballers ka baller ZAHEER KHAN

بالروں کا بالرظہیر  خان

ورلڈ کپ 2011کے سیمی فائنل کے تعلق سے ایک خبر آئی تھی کہ ٹیم انڈیا بھوکے پیاسے رہ کر میچ کھیلی تھی اور پاکستان کو شکست سے دوچار کیاتھا۔ اس وقت بھوک تھی کھانے کی ، پیاس تھی پانی کی ۔ لیکن فائنل میںبھی ظہیر خان بھوکے تھے پیاسے تھے۔ آج وہ بھوک تھی ورلڈ کپ 2011جےتنے کی، پیاس تھی جیت کے جشن میں شرابور جام کی۔ جی ہاں ،آج ظہیر کے چہرے کی لکیریں اس بات کو صاف واضح کررہی تھیں کہ ہم بھوکے پیاسے رہ کر بھی دکھادیں گے وہ کھیل جس کا متمنی ہے سارا ہندوستان ۔ آج ظہیرنے وہ کمال کر دکھایا جو اوروںکے بس سے باہر کی بات تھی ۔ آج ظہیر خان نے نہ صرف یہ کہ شاہد آفریدی کے ذریعہ اس ورلڈ کپ میںلئے گئے 21وکٹوں کی برابری کی بلکہ ”بیسٹ بالر آف دی ورلڈ کپ 2011“کاخطاب اپنے نام کرلیا۔ ظہیر نے آج 10اوور کی گیند بازکی، تین میڈن اوور کرتے ہوئے 60رن دیئے اور دو وکٹ حاصل کئے۔ کل اس طرح ملاکر ظہیر اس ورلڈ کپ میں21 وکٹ لے کر شاہد آفرےدی کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے ۔
7اکتوبر 1978کو شری رامپور (مہاراشٹر) میںپیدا ہوئے ظہیر نے اپنی لیفٹ آرم فاسٹ میڈیم گیندوں سے نہ صرف یہ کہ قہر برپا کیا بلکہ ٹیم انڈیا کو جب جب ضرورت ہوئی اس نے وکٹ ایسے چٹکائے جیسے ”دے گھما کے“۔ مختلف مواقع پر اپنے بلے سے رن کا بیش قیمتی تعاون دیتے ہوئے اس گیند باز نے ایسا نہیں ہے کہ اس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ پہلی بار کیا ہے ظہےر نے تو اس ورلڈکپ میں ہر موڑ پر ٹیم انڈیا کی ڈو بتی نیا کو منجدھار سے باہر نکالا ہے۔چاہے ورلڈ چمپئن آسٹریلیا کے خلاف میچ ہو یا پھر پڑوسی پاکستان کے خلاف ۔ ظہیر نے اپنی یارکر کا آج ایسا استعمال کیا جیسے سونامی کے جھٹکے آئےں اورظہےر اپنی سونامی مےں بہا لے گئے کھلا شیکھرااور کپو گیدراکو اور ان کی بالنگ کی سونامی مےں بہہ گئی سری لنکائی ٹیم۔
 واقعی کیا کمال کی گیند بازی کی ہے ظہیر نے۔ گیند بازی ایسی جس میں وکٹ حاصل کرنے میں فراخدلی کا مظاہرہ اور رن دینے میں، مت پوچھئے جناب! ایسی کنجوسی جسے دیکھ کر زبان سے بے ساختہ نکل پڑے کہ” آج ظہیر نے رن کو دانتوں تلے دبا رکھا ہے“ کیا مجال کہ کوئی ایک بھی رن لے لے۔واقعی اس پوری سےرےز مےں ظہیر خان اور ظہیر اٹیک کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ اب تک190میچوں میں ٹیم انڈےا کی نمائندگی کرتے ہوئے 271وکٹ حاصل کرنے والے ظہیر آج توہندوستان کے ایک ارب 21کروڑ ہندوستانی دلوں کی دھڑکن بن گئے ہےں۔واہ رے ظہیر واہ۔واہ رے تیری قسمت ۔ مبارک ہو تم کو تمہاری جادو گری کے جس کے ذرےعہ ظہےر خان ورلڈ کپ 2001کے لئے ہمےشہ ےاد کئے جائےں گے۔

धोनी जैसा कोई नहीं: ये है कैप्टन कूल की पूरी कहानी


28 साल बाद एक बार फिर भारत को विश् कप दिलाने वाले कप्तान महेंद्र सिंह धोनी इतिहास पुरुष बन गए हैं। 7 जुलाई 1981 को तत्कालीन बिहार की राजधानी रांची में जन्मे धोनी ने अपना क्रिकेट करियर 1999-2000 में शुरू किया था। पहली बार एकदिवसीय मैच खेलने का मौका उन्हें बांग्लादेश के खिलाफ  23 दिसंबर 2004 को मिला। हालांकि इस मैच में वे पहली ही गेंद पर आउट हो गए थे। इसके बाद अगले चार मैचों में उनकी बल्लेबाजी किसी को प्रभावित नहीं कर पाई थी। विशाखापट्टनम में पाकिस्तान के खिलाफ अपने पांचवे मैच में उनका जो कमाल दिखा, उससे उनके प्रति लोगों की सोच ही बदल गई। इस मैच में उन्होंने 123 गेंदो पर 148 रन बनाए। धोनी ने 15 चौके और चार छक्के लगाए और अपनी जिंदगी का पहला मैन ऑफ मैच अवार्ड जीता। धोनी ने खुद को सिर्फ एक अच्छा विकेटकीपर बल्कि अव्वल बल्लेबाज भी साबित किया है।
धोनी के नेतृत् में भारत टी20 वर्ल् कप पहले ही जीत चुका है और वह टेस् क्रिकेट में भारतीय टीम को नंबर 1 रैंकिंग भी दिला चुके हैं। वर्ल् कप में जीत के बाद टीम वनडे क्रिकेट में भी नंबर 1 हो गई है। बस आईसीसी की ओर से इसकी औपचारिक घोषणा होनी बाकी है।धोनी को बिहार के अंडर 19 टीम में 1998-99 में शामिल किया गया। तब उन्होंने 5 मैचों में 176 रन बनाए। बिहार टीम में रणजी ट्रॉफी के लिए उन्होंने 1999–2000 के सीज़न में पहली बार खेला। 2003/04 के सीज़न में रणजी मुकाबले में धोनी ने असम के खिलाफ शतक लगाया जिससे उन्हें पहचान मिली और उन्हें भारत- में जिम्बाववे और केन्या के दौरे में मौका दिया गया। इस दौरे के दौरान उनके प्रदर्शन को काफी सराहना और पहचान मिली। कई बड़े खिलाड़ियों के साथ साथ उन्होंने तत्कालीन भारतीय कप्तान सौरव गांगुली का ध्यान आकर्षित किया।

18
सितंबर 2007 को वनडे टीम की कप्तानी उन्हें मिली। उस दौरान ट्वेंटी-20 वर्ल्ड कप का टूर्नामेंट चल रहा था। अंतत: 24 सितंबर को वह शुभ घड़ी आई जब भारत ने उनके नेतृत् में आईसीसी ट्वेंटी-20 वर्ल्ड कप का खिताब जीता लिया। उसके बाद भारत ने 2007-08 में कॉमनवेल्थ बैंक सीरीज, कॉम्पैक कप (2009-10) और एशिया कप (2010) जीत लिया।
धोनी ने कभी भी क्रिकेट करियर में रैंकिग को महत्व नहीं दिया। उनकी नज़र में रैंक से बढ़कर टीम का प्रदर्शन और खेल जीतना है।
 
रांची में पले-बड़े धोनी के परिवार में उनकी मां देवकी देवी और पिता पान सिंह के अलावा एक बहन और एक भाई है। धोनी को म्यूज़िक सुनना बहुत पसंद है और खासतौर पर वे लता मंगेशकर और किशोर कुमार को सुनना पसंद करते हैं। बाइक्स का धोनी को खासतौर पर बेहद शौक है। उनका कहना है कि उन्हे स्पीड बहुत पसंद है। धोनी भगवान में पक्का विश्वास रखने वाले शख् हैं। इसके अलावा उन्हें कंप्यूटर गेम्स और बैडमिंटन खेलना भी पसंद है। धोनी एडम गिलक्रिस्ट के बड़े फैन हैं।
धोनी आत्मविश्वास से भरे हुए रहते हैं। मैदान पर वह आक्रामक प्रदर्शन के लिए जाने जाते हैं। धोनी की सबसे बड़ी खूबी यह है कि वह सकारात्मक विचार रखते हैं और अपना आपा नहीं खोते हैं। तभी उन्हें कैप्टन कूल कहा जाता है। धोनी में सही फैसले लेने की गजब की क्षमता है। इसके अलावा वह अपनी गलतियों की जिम्मेदारी भी बखूबी लेना जानते हैं।
धोनी यूथ आइकन हैं। उनके लंबे बाल कभी युवाओं के बीच चर्चा का विषय थे। पूर्व पाकिस्तानी राष्ट्रपति परवेज मुशर्रफ भी उनकी उस हेयरस्टाइल के कायल हो गए थे। प्यार से लोग उन्हे माही बुलाते हैं। धोनी मैदान पर जितने आक्रामक दिखते हैं, निजी जिंदगी में वैसे बिलकुल नहीं है। उनके मुताबिक वे निजी जिंदगी में बड़े लापरवाह हैं और उन्हें बातें करना बिलकुल पसंद नहीं हैं। वे ज़्यादातर चुप रहना पसंद करते हैं। वे काफी मस्तमौला और मजाकिया किस्म के इंसान हैं।
 
कप्तान के तौर पर धोनी की खूबियां 
-
खिलाडिय़ों में टीम भावना को बढ़ाने का काम किया।
-
परिस्थिति के मद्देनजर सही खिलाडिय़ों को सही मौके पर आजमाया।
-
वरिष्ठ खिलाडिय़ों से सलाह-मशविरा करने में पीछे नहीं हटे।
-
मानसिक आवेग पर अंकुश रखा और चेहरे पर विश्वास को कायम रखा।
लकी कप्तान : एम एस धोनी
मैदानी रणनीति में माहिर हैं तथा कुशल कप्तानी से खिलाडिय़ों को सौ प्रतिशत देने के लिए प्रेरित किया। खिलाडिय़ों को बदलने मैदानी निर्णय लेने के मामले में किसी दबाव में नहीं आए। सभी खिलाडिय़ों को खेलने का मौका दिया। वे दूसरों को प्रेरित करते रहे। सेमीफाइनल तक उनका बल्ला खामोश ही रहा। लेकिन फाइनल में विजयी पारी खेली।

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...