Saturday, February 25, 2012

UP election ke door ras ntayej


انتخابات کے بعد اتر پردیش میں صدر راج کی بات پر مچے ہنگامہ کے بعد مرکزی وزیر شری پرکاش جیسوال بھلے ہی پلٹ گئے ہوں، لیکن سماج وادی پارٹی کانگریس کی اس چال کو ہلکے میں نہیں لے رہی ہے۔ پارٹی نے کانگریس کی ایسی کسی بھی کوشش پر نہ صرف نظر رکھنا شروع کر دیاہے، بلکہ ہوشیار بھی ہے۔ پھر بھی وہ اسے طول نہیں دینا چاہتی۔ اسے انتظار ہے انتخابی نتائج کا، جسے دیکھنے کے بعد وہ پھر سے کانگریس کے ساتھ رشتے طے کرے گی۔ذرائع کے مطابق کانگریس کے اتر پردیش میں صدر راج والے رخ سے سماج وادی پارٹی حیرت میں ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ کیا کانگریس نے کسی پارٹی کے پاس مکمل اکثریت نہیں ہونے پر ریاست میں واقعی صدر راج کے نفاذ کا من بنا لیا ہے۔بتاتے ہیں کہ اگر کانگریس نے ایسی کوئی منشا پال رکھی ہے، تو ایس پی اس کا بھی حل نکالے۔ ذرائع کی مانیں تو پارٹی مان کر چل رہی ہے کہ ریاست میں اس کی مکمل اکثریت نہیں آتی تو بھی انتخابات کے بعد وہی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔ وہ حکومت بنانے کے اعداد و شمار کے ارد گرد بھی خود کا تعین کر کے چل رہی ہے۔ ایسے میں ایس پی نتائج کو دیکھنے کے بعد ہی طے کرے گی کہ کانگریس کے ساتھ اس کے آگے کے رشتے کیا ہوں گے؟ سماج وادی پارٹی کے سپریمو ملائم سنگھ یادو نے جمعرات کو اٹاوا میں کہا کہ انتخابات کے بعد پارٹی کی حکمت عملی کے بارے میں 6 مارچ کو ہی بتایا جائے گا۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ کے اس بیان کو پارٹی کی مستقبل کی حکمت عملی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ دراصل پارٹی اس بار اتر پردیش میں ہر حال میں اپنی حکومت بنانے کا تعین کر کے چل رہی ہے۔ لہذا انتخابات کے باقی دو مرحلوں کے درمیان کانگریس سے وہ صدر راج کے سوال پر نہیں الجھنا چاہتی۔ باوجود اس کے کہ اتر پردیش میں کانگریس کی ہر کوشش ایس پی کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے اور 2014 کے لوک سبھا انتخابات سے جڑا ہوا ہے۔البتہ، سماج وادی پارٹی کو یہ بھی پتہ ہے کہ کئی مرکزی مسائل پر ترنمول کانگریس کے سربراہ ممتا بنرجی کے تلخ رخ کی وجہ سے کانگریس کی قیادت والی مرکز کی یو پی اے حکومت آسان نہیں ہے۔ وہاں کانگریس کو بھی کسی بڑے سہارے کی ضرورت ہے۔ لہذا ساری باتیں صحیح وقت پر ہی ہوں گی۔ حالانکہ، پارٹی کانگریس کے صدر راج کی بالواسطہ وارننگ کو اس کے الیکشن جیتنے کے ہتھکنڈے کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...