مکہ و مشاعر مقدسہ
جدید و قدیم تاریخ کا حسین امتزاج!
ویسے تو مکہ مکرمہ عالم مشرق و مغرب کی توجہ کا کئی پہلوو ¿ں سے توجہ کا مرکز رہا ہے تاہم مسلمانان عالم کے ہاں اس کی مرکزیت کی سب سے اہم اور بنیادی وجہ یہاں کے مقدس روحانی مقامات اور مشاعر ہیں۔ انہی مقدس مقامات کی بدولت ازمنہ قدیم سے فرزندان توحید اس کی حرمت وتقدیس کو اپنے جسم و جاں سے عزیز رکھتے چلے آ رہے ہیں۔حرم مکہ کی اس روحانی مرکزیت کو اجاگر کرنے کی ایک بڑی کاوش گذشتہ برس برطانیہ کی جانب سے دیار مقدسہ کے بارے میں لندن میں ایک نمائش میں کی گئی۔ نمائش میں حرم پاک کے قریب موجود تاریخی میوزیم اور شاہ عبدالعزیز لائبریری کو تاریخ مکہ کے اہم ترین تاریخی ورثے کے طور پرشامل کیا گیا۔تاریخ اور تقدیس کے چشمہ صافی سے دھ ±لے حرم مکہ کی روحانی شعائیں مکان اور لامکان سب کو روشن اور منور کر رہی ہیں۔ کیا زمانہ قدیم اور کیا دور حاضر، کرہ ارض کا یہ مقام بلند ہمیشہ اپنی روحانی تقدیس میں کسی بھی آلودگی سے پاک اور ہر طرح کی ملاوٹ سے صاف رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی اصلیت اور حرمت کی گواہی آج بھی اسی طرح دی جاتی ہے جس طرح صدیوں پہلے دی جاتی تھی۔عصر حاضر میں مکہ معظمہ ایک حسین وجمیل لوح (تختی) کی مانند ہے۔ تقدیس اور حرمت جس کا متن اور فقید المثال مقامات اس کے حواشی ہیں۔ شہر مقدس کا یہ حقیقی شاہانہ مزاج ہے جس کا اصلی قدیم اور جدید نسب آج اکیسویں صدی میں بھی ثابت ہے۔یہ اس کے مشاعر مقدسہ ہیں جو جدید وقدیم کی خوبیوں کو اپنے اندر سموئے وقت کے ساتھ وسعت پذیر ہیں۔ انہی میں لوگوں کے مکانات، مساجد، تاریخی بازار حسن وخوبی کے ساتھ جدت کے سفر پر بھی گامزن ہیں۔حرم کے سائے میں وہ قدیم ہوٹل، کالونیاں، عمارات، بازار، شاہرائیں، ان پر بنے روشن وچمکدار پ ±ل، ریل کی پٹڑیاں نہ صرف شہر کی رونق میں اضافے کا موجب ہیں بلکہ بجائے خود حرم کے مشاعر ہی کا درجہ رکھتے ہیں۔ زمان ومکان ان کی حرمت کے گواہ ہیں کہ ان جیسا مقام کائنات میں اور کہیں نہیں۔

No comments:
Post a Comment