ٹائٹےنک کو ڈوبے ہوئے سو سال ہو گئے ہیں لیکن ابھی بھی اس جہاز میں لوگوں کی بہت دلچسپی ہے۔ ساری دنیا میں اسے یاد کیا گیا کہ کس طرح اس حادثے میں 1500 افراد کی جان چلی گئی تھی لیکن آئر لینڈ کا ایک چھوٹا سا گاو ¿ں ایسا ہے جہاں کے رہنے والے 11 نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی جان چلی گئی تھی۔ یہ سارے وہ لوگ تھے جو کہ بہتر زندگی کی تلاش میں امریکہ جا رہے تھے۔ یہ گاو ¿ں ٹا ئٹےنک کی وراثت سے جڑا ہوا ہے۔ یہ ہے اڈرگول گاو ¿ں۔
اڈرگول گاو ¿ں میں پالن بریٹ کی ایک چھوٹی سی گفٹ کی دکان ہے جو پوری طرح سے ٹائٹےنک سے متعلق اشیاءسے بھری ہے۔ ٹائٹےنک کی تصاویر والی ٹی شرٹ، چابی کا چھلا، پین، ٹوپی، بیس بال کے ساتھ ساتھ ٹائٹےنک کے ماڈل، ٹائٹےنک کی گھڑیاں یہاں موجود ہیں، لیکن دکان مالک پالن بریٹ کو ان اشیاءسے زیادہ دلچسپی ٹائٹےنک کی کہانی میں ہے۔ وہ کہتی ہیںکہمیری نانی کے بھائی جیمز پھلےن ٹائٹےنک پر سوار تھے، اس وقت وہ تقریبا 29 سال کے رہے ہوں گے۔ میں نے اپنی دادی سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہیں ان کے بارے میں کوئی بہت زیادہ پتہ نہیں تھا۔ انہیں صرف اتنا ہی پتہ تھا کہ انہیں کشتی پر سوار نہیں ہونے دیا گیا، کیونکہ خواتین اور بچوں کواہمےت دیا جانا فطری تھا۔ اسی گاو ¿ں کی اینی کیٹ کیلی بھی تھیں۔ وہ واحد زندہ بچی خاتون تھیں جو واپس لوٹ کر آئی تھیں۔ ڈےلےن نالےن کہتے ہیںکہعینی کیٹ کیلی لائف بوٹ تعداد 16 میں سوار ہوئی تھیں۔ انہوں نے حقیقت میں اس تجربے کو محسوس کیا تھا جو 14 اور 15 اپریل کی درمیانی رات کو ہوا تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ جہاز پر سوار ایک شخص پیٹرک نے انہیں کشتی کا راستہ دکھایا اور ہاتھ ہلا کر رخصتی دی۔ انہوں نے ہی اینی کی جان بچائی۔
ولیم بارڈ ٹائٹےنک میموریل کمیٹی کے رکن ہیں۔ گزشتہ کچھ ماہ سے وہ مسلسل محنت کر رہے ہیں تاکہ ٹائٹےنک کا ماضی بھلایا نہ جا سکے۔ ولیم بارڈ کہتے ہیں کہ پہلے لوگ اتنے صدمے میں تھے کہ اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ جس جگہ کے 14 لوگوں میں سے 11 نے جان گنواےا، وہاں کیا ہوا ہوگا۔ یہ لوگ اچھے زندگی کی تلاش میں جا رہے تھے۔ اس وقت آئرلینڈ میں روزگار نہیں تھا۔ سو سال بعد آج پھر سے نقل مکانی بڑھ گئی ہے۔اس گاو ¿ں کے لوگوں کو امید ہے کہ ٹائٹےنک سے وابستہ وراثت کی وجہ سے اڈرگول گاو ¿ں میں سیاحت کی امےد بڑھ سکتی ہیں۔ اس واقعہ کے سو برس ہو چکے ہیں اور اڈرگول گاو ¿ں ٹائٹےنک کی تاریخ کے صفحات میں جگہ بنا چکا ہے۔ سو سال پہلے 15 اپریل کی رات جب دنیا کے سب سے بڑے جہاز (اس وقت کے) ٹائٹےنک نے سمندر کی سطح میں لمبا غوطہ لگایا تھا تو اس کے 1500 مسافروں میں ہندوستان کے چھتیس گڑھ ریاست سے تعلقرکھنے والی ایک خاتون بھی شامل تھیں۔ اےنی کلےمر، چاپا جانجگےر میں مےنونائٹ مشنری کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ اےنی ایک مشنری کے طور پر اس علاقے میں 1906 میں آئیں تھیں اور پھر کئی طرح کے سماجی کاموں کو انجام دیا۔ غیر ملکی ہوتے ہوئے بھی انہوں نے یہاں کی زبان اور ثقافت کو اپنا لیا تھا۔ انہوں نے پرورش سے محروم بچوں کے درمیان کافی کام کیا اور ایک اسکول بھی کھولا جس میں خاص طور پر غریب لڑکیوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی جاتی تھی۔

No comments:
Post a Comment