Sunday, July 1, 2012

کون بنےگا یورپ کا بادشاہ؟


جس وقت ےہ اخبار آپ کے ہاتھوں مےں ہوگا اس وقت ےہ طے ہوچکا ہوگا کہ ےورو کپ 2012کا فاتح کون بنا ۔ےعنی کہ اس وقت تک ےہ طے ہوچکا ہوگا کہ دنےائے فٹبال کا کو ن ہے ’شہنشاہ‘۔لےکن ےہ بھی جاننا کم دلچسپ نہےں کہ قسمت کے دھنی عالمی فاتح اور گزشتہ چمپئن اسپین اور جرا ¿ت کی علامت اٹلی اتوار کو جب اولمپک اسٹیڈیم میں یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے خطابی مقابلہ مےں آمنے سامنے تھے تو دونوں کی ہی نظریں تاریخ بنانے پر لگی تھےں۔ دنیا کی نمبر ایک ٹیم اسپین نے سیمی فائنل میں پرتگال کو پنالٹی شوٹ آو ¿ٹ میں 4-2 سے شکست دے کر اور دنیا کی 12 ویں نمبر کی ٹیم اٹلی نے الٹ پھےر کرتے ہوئے جرمنی کو 2-1 سے شکست دے کر خطابی مقابلے میں جگہ بنائی تھی۔ فائنل میں اب قسمت اور ہمت کے درمیان کا مقابلہتھا۔ اسپین اور اٹلی کی ٹیمیں فائنل میں تاریخ بنانے کی دہلےز پر کھڑیتھےں۔ اگرا سپیننے خطاب پر قبضہ کےا تو وہ جرمنی کے تین یورو خطاب جےتنے کے رےکارڈ کی برابری کر لے گا۔ اسپین نے اس سے پہلے 1964 اور 2008 میں یورو خطاب جےتے تھے۔ اسپین 1984 کے یورو فائنل میں میزبان فرانس سے ہارگےاتھا۔ اٹلی کی پچھلی واحد یورو کامیابی 1968 میں رہی تھی۔ تب وہ میزبان تھا اور اس نے فائنل میں یوگوسلاویہ کو ہراےا تھا۔ اٹلی سال 2000 میں فرانس سے اضافی وقت میں گولڈن گول کے ذریعے 1-2 سے ہار کر رنراپ رہا تھا۔ا سپین اور اٹلی کا اس ٹورنامنٹ کے گروپ مرحلے میں مقابلہ 1-1 کی برابری پر چھوٹا تھا۔
ےہی سبب ہے کہ اقتصادی بحران سے دو چار یورو زون کے ےہ دو مممالک اٹلی اورا سپین مےں سے جو بھی فاتح ہوااس ملک کے لوگوں کو کچھ دنوں کے لئے بیل آو ¿ٹ پیکج اور اقتصادی اصلاحات کی باتوں سے دور ہو کر جشن منانے کا موقع ملے گا جبکہ ہارنے والے ملک کے لوگوں کے زخموں پر تھوڑا سا نمک اور گر جائے گا۔ ٹورنامنٹ کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اس وقت اٹلی خطاب کامضبوط دعویدار نظر آ رہا ہے جبکہ موجودہ یورپی اور عالمی چمپئن ہسپانوی ٹیم کی کارکردگی دےکھناابھی باقی ہے۔ دونوں ٹیمیں گروپ سطح کے مقابلے میں ایک بار مدمقابل ہوچکی ہےں اور وہ مقابلہ 1-1 کی برابری پر رہا تھا۔ ایسے میں دونوں ٹیموں کے درمیان ایک دلچسپ مقابلے کی امید ہے۔ا سپین نے اس ٹورنامنٹ پر اب تک دو بار قبضہ کیا ہے۔ اس نے پہلی بار 1964 میں جبکہ دوسری بار 2008 میں اس ٹورنامنٹ کو اپنے نام کیا تھا۔ اٹلی نے اس ٹورنامنٹ کو ایک بار اپنے نام کیا ہے۔ 1968 میں اٹلی نے اس باوقار ٹورنامنٹ کو جیتا تھا۔ اٹلی کی ٹیم 2000 میں نائب فاتح رہی تھی۔ ایسے میں 12 سال بعد اٹلی کی ٹیم فائنل میں پہنچی ہے اور اس کی نظر44 سال کے خطابی خشک سالی کو ختم کرنے پر ہوگی۔ 
اٹلی کا فائنل تک کاسفر نااےک ناٹک کی طرح رہا۔ ماریو بالوٹےلی کے دم پر سیمی فائنل میں جرمنی کو 2-1 سے شکست دینے کے بعد لگتا ہے کہ اجوری صحیح وقت پر فارم میں لوٹ آئے ہیں۔ موجودہ عالمی اور یورپی چمپئن اسپین مسلسل تین اہم ٹورنامنٹ جیتنے والی پہلی ٹیم بننے کی دہلےز پر ہے۔ پرتگال کے خلاف سیمی فائنل میں پنالٹی شوٹ آو ¿ٹ کی جیت کے دوران حالانکہ اس کی ٹیم نے امےدوں کے مطابق مظاہرہ نہیں کےالےکن شروع سے ہی خطاب کے مضبوط دعوےدار رہے اسپین نے کوارٹر فائنل میں فرانس کے خلاف 2-0 کی جیت میں دبدبہ قائم رکھا تھا، لیکن پرتگال کے خلاف وہ اس طرح کا مظاہرہ نہیں کر پایا۔ اس کے برعکس جس اٹلی کو ٹورنامنٹ سے پہلے خطاب کے مضبوط دعویداروں میں نہیں شمار کیا جا رہا تھا، اس نے انگلینڈ اور پھر جرمنی کو باہر کا راستہ دکھایا اور اب وہ دوسری بار یورپی چمپئن بننے سے صرف ایک قدم دور ہے۔

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...