کوئی چار سال پہلے دھماکوں میں خاندان کے سربراہ کی موت کے بعد اس خاندان میں یہ جشن کا موقع آیا تو اپنوں کے ساتھ سماج کے بہت لوگ ساتھ کھڑے نظر آئے۔جے پور میں 2008 میں ہوئے سلسلہ وار دھماکوں نے 60 سے زیادہ لوگوں کی جان لے لی تھی۔ ان میں تاراچند شرما بھی تھے۔ جمعہ کی رات تاراچند کی بیٹی شوانی کی شادی ہوئی، تو دعائیں دینے کے لیے کئی سرکردہ لوگ پہنچے جن میں فلم اداکار سنجے دت بھی تھے۔ شادی کے منگل گیت اور شہنائی کی دھن نے فضا میں جشن کا احساس بھرا تو دھماکوں کادرد جھیل چکے اس خاندان میں خوشیاں لوٹ آئیں۔ تاراچند تو اس دنیا میں نہیں ہےں، لیکن شوانی کی شادی کے لئے سماج خود کھڑا ہو گیا۔ پنجابیمہا سبھانے اپنے ہاتھوں سے اس شادی کا انتظام کیا اور اپنے جذبے سے ماحول کی روحانےتکو اور بھی پاکےزہ کر دیا۔
پنجابی مہا سبھاکے روی نےئراس شادی میں ایسے مشغول تھے جیسے ان کی اپنی بیٹی رشتوں کی ڈور میں بندھ رہی ہو۔ ایک - ایک مہمان کی مہمان نوازی میں لگے نےئر بتانے لگے کہ دھماکوں کے بعد انہیں میڈیا سے پتہ لگا کہ تاراچند کے خاندان کے سامنے تین بیٹیوں کے شادی کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں،’ اس دکھ کی گھڑی میں جب ہم غمزدہ خاندان میں پہنچے تو منہ سے یہ ہی نکلا، آپ فکر نہ کریں بیٹیوں کی شادی دھوم سے ہوگی، نہ جانے کیسے طاقت اور وسائل ملے، ایک ایک کر تینوں بیٹیوں کی شادی ہو گئی‘۔ کبھی فلم اداکار مرحوم سنیل دت جے پور سے ہی سدبھاو ¿نا کے سپاہی بن کر نکلے تھے لیکن اب ان کے بیٹے سنجے دت جمعہ کو ایک فلم کی شوٹنگ کے سلسلے میں جے پور میں تھے۔ موقع ملا تو شوانی کو دعائیں دینے کے لیے چلے آئے۔ کہنے لگے کہ وہ شوانی اور جےتندر کو دعائیں دینے کے لیے آئے ہیں۔ سنجے دت کہتے ہیں،’ پنجابی مہا سبھا نے اس بارے میں بتایا تو چلا آیا، پنجابی دل کے بڑے اچھے ہوتے ہیں۔ میں اپنے والد کے ادھورے کام پورے کرنا چاہتا ہوں‘۔ اپنی شادی سے شوانی خوش تھیں لیکن پوچھا تو دلہن بنی شوانی کچھ بول نہیں پائیں۔ البتہ دولہے راجہ جےتندر نے کہا کہ وہ سماج کے اس جذبے سے بہت خوش ہیں۔
دراصل شوانی اسی گھر میں دلہن بن کر گئی ہیں جہاں دو بہنےں ان دھماکوں کے بعد بہو بن کر گئی تھیں۔ شوانی کے بہنوئی ونود کہتے ہیں،’ سماج نے یہ بہت نیک کام کیا ہے۔ ہمارے گھر میں تاراچند جی کے خاندان سے یہ تیسری بہو ہوگی‘۔ اس جشن میں سماجی شرکت کا دائرہ بڑا تھا تو سوال بھی بڑا تھا۔ ہر کوئی اس فرق کو نمایاں کر رہا تھا کہ ایک وہ ہاتھ تھے جو دھماکوں میں انسانیت کو لہولہان کر گئے، ایک یہ ہاتھ ہے جو انسان کی خوشی کے لئے بڑھے اور دعا کے لئے اٹھے۔
No comments:
Post a Comment