Friday, July 29, 2011

بھارت پاک تعلقات میں حنا کے رنگ



بھارت اور پاکستان کے باہمی مذاکرات میں بھلے ہی کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی ہو لیکن بھارتی میڈیا کو اس کا غم نہیں، اس کی توجہ پاکستان کی نئی وزیر خارجہ کی پرکشش شخصیت پر مرکوز رہی۔منگل کی دوپہر جب چونتیس سالہ حنا ربانی کھر نے دلی کے ہوائی اڈے پر قدم رکھا تب سے ہی دو باتوں کا ذکر شروع ہوگیا تھا: کیا وہ پیچیدہ باہمی مذاکرات میں اپنے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا کا مقابلہ کر پائیں گی؟ اور کیا ان سے زیادہ حسین اور فیشن ایبل وزیر نے کبھی اس ملک کی سرزمین پر قدم رکھا ہے؟پائیونئر اخبار نے اپنے صفحہ اول پر ان کی ایک بڑی تصویر کے نیچے کیپشن دیا: ہیڈ ٹرنر (یعنی اتنی خوبصورت کے لوگ مڑ کر دیکھنے پر مجبور ہو جائیں) جبکہ ٹائمز آف انڈیا نے کہا: پاکستان کا بہترین چہرہ۔
بات چیت سے پہلے دفاعی تجزیہ نگار معروف رضا ان ماہرین میں شامل تھے جو پاکستانی وزیر کے تجربے پر سوال اٹھا رہے تھے: ’انہوں نےصرف ایک ہفتے قبل ہی وزیر خارجہ کی ذمہ داری سنبھالی ہے، اس عہدے کے لیے ان کی اہلیت شاید صرف یہ ہے کہ وہ ایک بااثر سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، وہ بظاہر امریکہ نواز ہیں اس لیے شاید تلخ تعلقات کے اس دور میں امریکہ کو خوش کرنے کے لیے انہیں یہ عہدہ دیا گیا ہے۔۔۔‘چوبیس گھنٹے بعد مذاکرات ختم ہوتے ہی جب حنا ربانی کھر اور ایس ایم کرشنا نے پریس سے مختصر خطاب کیا، تو معروف رضا کی رائے بدل چکی تھی: ’یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ حنا ربانی کھر نے بہت پراعتماد اور واضح انداز میں اپنی حکومت کا موقف پیش کیا۔۔۔‘
اور باقی میڈیا کی بھی یہی رائے تھی: نوجوان وزیر نے کوئی غلط قدم نہیں رکھا، اپنے بات چیت کے انداز اور خوبصورت مسکراہٹ سے انہوں نے لوگوں کے دل جیت لیے۔۔۔اس طرح کے مشاہدوں سے اخبارات بھرے رہے۔

پاکستان کا بہترین چہرہ: ٹائمز آف انڈیا
بریفنگ کے انتظار میں کھڑے صحافیوں میں مذاکرات کا ذکر کم، حنا ربانی کا زیادہ رہا۔ کئی صحافیوں کو میں نے مذاق میں کہتے سنا: ’کشمیر تو گیا!‘
ایک اعلی سفارتی اہلکار سے جب گزشتہ ہفتے پوچھا گیا کہ حنا ربانی کھر کے بارے میں وزارت خارجہ میں کیا رائے ہے، کیا ان کے بات چیت میں شامل ہونے سے مذاکرات کے عمل میں ایک نئی تازگی اور نئی سوچ آسکتی ہے، تو سفارتکار کا محتاط جواب تھا کہ ’محتربہ کھر اپنی بات بہت موثر انداز میں پیش کرتی ہیں، ایک طرف یوتھ (نوجوان) ہوگا اور دوسری طرف تجربہ۔۔۔‘ ( ایس ایم کرشنا ان سے عمر میں پینتالیس سال بڑے ہیں)
اور جب بریفنگ روم میں قہقہے گونجنے لگے تو انہوں نے پوچھا: ’میں نے ایسا کیا کہہ دیا جس پر آپ ہنس رہے ہیں؟‘
سفارتی اہلکار نے تو کوئی قابل اعتراض بات نہیں کہی تھی لیکن صحافیوں کو تو آپ جانتے ہیں۔ بہرحال، دو دن تک حنا ربانی کھر میڈیا میں چھائی رہیں۔ اور ایک اخبار کے مطابق ایس ایم کرشنا مشکل سے ہی نظر آئے۔
ان کے کپڑوں سے لیکر ان کے چشمے، ہیرے کی انگوٹھی، ڈیزائنر ہینڈبیگ، ان کےجوتے اور ان کی مسکراہٹ، ہر بات کا ہر پہلو سے تجزیہ کیا گیا۔
ٹائمز آف انڈیا نے پاکستانی وزیر کے ’فیشن سٹیٹمنٹ‘ پر ایک مضمون شائع کیا جس میں کہا گیا ہےکہ فیشن کو سمجھنے والوں میں ان کے ’برینڈڈ‘ سامان کا ہی چرچہ رہا۔
میں نے اپنے کچھ دوست صحافیوں کو کہتے سنا: بھارتی وزیر کتنے بورنگ ہوتے ہیں، تقریر کرتے ہیں توجاگنا مشکل ہوجاتا ہے اور حنا ربانی کھر کی شخصیت دیکھیے، ان کے بولنے کا انداز کتنا پر اعتماد ہے، کرشنا اٹک اٹک کر ایک کاغذ سے پڑھ رہے تھے اور وہ۔۔۔‘

ایس ایم کرشنا حنا ربانی کھر کے سامنےمشکل سے ہی نظر آئے: اخبار
اردو کے اخبار ہمارا سماج نے جمعرات کو لکھا: ہند پاک تعلقات میں حنا نے بھرا رنگ!
بات چیت سے قبل بھارت کے ایک سابق خارجہ سیکریٹری نے کہا تھا کہ حنا ربانی کھر کی شخصیت کی وجہ سے اس دورے میں ’امیج ایڈوانٹیج‘ پاکستان کو حاصل رہے گا، جہاں تک ٹھوس اقدامات کا سوال ہے، وہ پاکستان کی فوج کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔اور شاید یہی ہوا بھی۔
بھارتی وزیر خارجہ خود قیمتی سوٹ پہننے کےبہت شوقین ہیں اور ٹینس کے بڑے مداح بھی، لیکن لگتا ہے کہ حنا ربانی کھر کے ساتھ اپنے اس میچ کا پہلا سیٹ وہ یک طرفہ طور پر ہار گئے ہیں۔

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...