کرناٹک کے وزیر اعلی بی اےس یدو یورپا بھلے ہی بیرونی ممالک میں چھٹیاں منا رہے ہوں ، پر مشکلات ان کی راہ دیکھ رہی ہیں. ان کے ریاست کرناٹک کی سیاست میں ایک بار پھر اچھال آیا ہے۔ وہاں ہونے والے غیر آئینی کان کنی کے حوالے سے لوکایکت سنتوش ہیگڑے نے اپنی تحقیقات رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ریاست میں ہونے والے غیر آئینی کان کنی میں وزیر اعلی ہی نہیں ، بلکہ ان کے چار وزیر اور 600 اہلکار بھی مجرم ہیں۔ حالانکہ یہ رپورٹ ابھی حکومت کے سامنے پیش نہیں کی گئی ہے ، لیکن وہ لیک ہو گئی ہے۔ بی جے پی سے کھار کھا کر بیٹھی کانگریس کو بیٹھے -- بٹھائے موضوع مل گیا ہے۔ اب تک گھوٹالوں سے گھری حکومت پر بی جے پی دباو ¿ ڈال رہی تھی ، لیکن اب کانگریس کو موقع مل گیا ہے اور اس نے بی جے پی پر بدعنوانی کے مسئلے پر حملہ تیز کر دیے ہیں۔ کانگریس کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایسی صورتحال میں وزیر اعلی یدو یورپا کو استعفی دے دینا چاہئے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی کانگریس کے ساتھ راگ الاپنا شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب وزیر اعلی یدو یورپا کو دوسرا جھٹکا ہائی کورٹ نے دیا۔ جسٹس کے اےن کےشوناراین نے زمین گھوٹالے سے جڑی پانچ نجی شکایات پر سب سے نچلی عدالت کی کارروائی پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔ کےشوناراین نے 200 صفحات کے حکم میں وزیر اعلی کے داماد سوہن کمار ، بیٹوں بیوائی راگھوےندر اور بیوائی وجیندر (ممبر پارلیمنٹ) ، ان کے ذریعہ چلائی جا رہی کمپنی دھولاگری ڈیولپرس اور اس کے فائدہ اٹھانے والے اککا مہادےوی کے ذریعہ نچلی عدالت کے حکم کو چیلنج کرنے والی پانچ درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ اب تک بدعنوانی کے مسئلے پر کانگریس پر شدید پرہار کرنے والی بی جے پی لوکایکت کی رپورٹ لیک ہونے سے حیران ہو گئی ہے۔ بی جے پی خیمے میں امن چھا گئی ہے۔ اب تک شدید پرہار کرنے والے بی جے پی کے لیڈر نہ جانے کہاں چھپ گئے ہیں۔ ادھر کانگریس بھی پرہار کے لئے پوری طرح سے تیار ہے۔ اب بی جے پی کے پاس ایک ہی چارہ ہے۔ وہ اگر یدو یورپا کو پارٹی سے برخاست کر دے تو بدعنوانی کے خلاف ایک مثال پیش کرے گی۔ ہاتھ سے بھلے ہی کرناٹک نکل جائے ، پر دہلی کی سیٹ پکی ہو جائے گی۔ اگر بی جے پی ایسا نہیں کرتی تو اس کی ڈوبتی ناﺅ کو کوئی بچا نہیں سکتا۔ ریڈی برادران کی بے شمار دولت بھی نہیں۔ انا ہزارے نے بدعنوانی کے خلاف جو مہم چھیڑ رکھی ہے ، اس میں سنتوش ہیگڑے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی ہیگڑے صاحب ہیں ، جو کرناٹک کے لوکایکت بھی ہیں۔ انہیں ریاست کی کانوں میں غلط طریقے سے ہونے والے کان کنی اور معدنیات کی چوری کے سلسلہ میں تحقیقات کر اس کی رپورٹ تیار کی ہے۔ یہ رپورٹ ابھی تک حکومت کو نہیں سونپی گئی ہے۔ بہت ہی جلد وہ اپنی رپورٹ حکومت کو سونپ دیں گے۔ حکومت کو سونپنے کے پہلے ہی یہ رپورٹ لیک ہو گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹک کے وزیر اعلی یدو یورپا اور ان کے کابینہ کے چار ساتھی جناردن ریڈی ، کروناکرن ریڈی ، وی۔ سومننا اور بی۔ شری رامولو معدنی کی چوری میں پوری طرح سے ملوث ہیں۔ اس کی جانچ ضروری ہے۔ ہیگڑے کے دعوے کے مطابق ریڈی برادران کی طرف سے کی جا رہی معدنی چوری اور غیر قانونی کان کنی میں وزیر اعلی یدو یورپا نے مکمل تعاون کیا۔ جسٹس ہیگڑے نے انہیں ہی بے نقاب کر دیا۔ جسٹس کی رپورٹ سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ ملک میں آج کتنی گندی سیاست چل رہی ہے۔ دولت کا کس طرح سے بول بالا ہے۔ لیڈر کس طرح سے دوگلاپن کر رہے ہیں۔ ریڈی برادران نے کس طرح سے اوچھی سیاست کر رقم حاصل کی ہے ، آج اسی رقم کی بدولت وہ حکومت چلانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ بےللاری کا چپہ چپہ ان کارگزاریو ںسے واقف ہے۔ بی جے پی یدو یورپا کے خلاف کیا کارروائی کرے گی ، اس کا انکشاف نہیں ہوا ہے۔ پر اس کے لئے بھی یہ فیصلہ کن گھڑی ہے۔ اب اگر وہ یدو یورپاپر اپنے ہی رشتہ داروںکو زمین دینے ، ریڈی برادران کا ساتھ دینے وغیرہ الزام لگا کر انہیں پارٹی سے معطل کر دیتی ہے تو وہ کانگریس کو کرارا جواب دے سکتی ہے۔ اس سے یہ پیغام جائے گا کہ وہ بدعنوان لیڈروں کو تحفظ نہیں دیتی ، بلکہ انہیں پارٹی سے ہی نکال دیتی ہے۔ یدو یورپا کی وجہ سے بی جے پی کی کرناٹک میں کافی بد نامی ہوئی ہے۔ اپنی تصویر بہتر بنانے کا بی جے پی کے پاس اچھا موقع ہے۔ اگر بی جے پی ایسا نہیں کرتی تو یہ سمجھا جائے گا کہ کانگریس اور بی جے پی میں کوئی فرق ہی نہیں ہے۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
सुशासन की त्रासदी
मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...
-
عظیم فن کار کندن لال سہگل کی مقبولیت ہر کوئی خاص وعام میں تھی، لیکن منگیشکر خاندان میں ان کا مقام علیٰحدہ تھا۔ اس گھر میں صرف اور صرف سہگل ...
-
अहमदाबाद। पूरी दुनिया को अपनी जादूगरी से हैरान कर देने वाले और विश्व प्रख्यात जादूगर के. लाल अब अपने जीवन का अंतिम शो करने जा रहे हैं। ...
No comments:
Post a Comment