Wednesday, July 13, 2011
اتحادکامذہب ؛پرانے سرجن کا غلط آپریشن
مرکزی کابینہ میں وزارتوں کی تبدیلی نے ایک نیاسیاسی بحران پیدا کردیا ہے ۔ کیوں؟ وجہ صاف ہے ‘ جب کسی عمل جراحی کا کوئی ایک نگراں نہ ہو توپرانے طبیبوں کا تجربہ کچھ کام نہیں آتا۔ منگل کو کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے ساتھ مشاورت میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی طرف سے شروع کئے گئے ردوبدل کا نتیجہ بھی ایک ایسی ہی مثال ہے ۔موجودہ اٹھا پٹخ قطعی مایوسی کن ثابت ہی ہوئی ہے۔ یہ ردوبدل کوئی مثبت سیاسی پیغام دینے میںبھی ناکام رہی ہے اوراس میں کوئی شک نہیںرہا ہے کہ وزیر اعظم کی موجودہ کوشش محض اتباع خواہش کی غماز ہے ۔سیاسی حلقوں میںاسے ایک ایسے سرجیکل آپریشن کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو غلط کیا گیا ہو اور نتائج کے خطرات کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہو۔سرجن نے بظاہر اس طرح آپریشن کیا ہے کہ قینچی مریض کے پیٹ میں رہ گئی ہے اورانفیکشن کے خدشات کو بڑھنے کیلئے چھوڑ دیاگیا ہے۔جنوری میںجب منموہن سنگھ نے اپنی کابینہ میں توسیع کا پیغام دیا تھا توپوری یو پی اے کے کان کھڑے ہوگئے تھے جب کہا گیا تھا کہ حکومت میں بہتری لانے کیلئے وہ بجٹ سیشن کے اختتام پرہم ایک اہم عمل سے گذریں گے جبکہ یہ واضح تھا کہ کابینہ میں کس کے کیا کرتوت ہیںاور یو پی اے کس سے خوش نہیں ہے۔عوام سمجھتے تھے کہ وزیر اعظم اور ان کی حکومت کو کرپشن کے سنگین الزامات کا سامنا ہے لہٰذا وہ اس کو درست اور چست بنانے کے لئے کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے ۔شبیہ تو کیا خاک درست ہوتی اس کے بر عکس موجودہ تبدیلی سے منموہن پر لگنے والے کٹھ پتلی ہونے کے الزامات کو مزید تقویت ملی ہے۔ زیادہ تر وزراءنہ صرف اپنے عہدوں پر قائم ہیں بلکہ ان کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے جس کے تحت چار پر خصوصی نظر عنایت کی گئی ہے تو چار حاشیہ پر چلے گئے ہیں۔منظور نظر وزراءکے اصل پورٹ فولیو کو برقرار رکھتے ہوئے انھیں کئی اضافی چارجوں سے سرفراز کیا گیاہے۔ان میںآنند شرما کوٹیکسٹائل پورٹ فولیو مل گیا ہے جبکہ ولاسراو دیشمھ جن کا مبینہ طور پر ملوث آدرش اسکینڈل میں اہم رول رہا ہے۔سونے پر سہاگہ متنازع ماحول وزیر جے رام رمیش کو دیہی ترقی کی جگہ میں سائنس اور ٹیکنالوجی الاٹ کیا گیا ہے۔یہ سچ ہے کہ ایم ایس گل ، مرلی دیورا اور کچھ دیگر نے عہدے گنوائے ہیں لیکن وہ تو سیاسی قیمت تھی جسے انھوں نے اداکیا ہے۔ملند اور جتےندر سنگھ راہل گاندھی کے قریبی ہیں۔ کانگریس کے سیکرٹری جنرل نے وزراءکی کونسل میںان دونوں کے ذریعے اپنے پیر جمائے رکھنے کی صورت پیدا کرلی ہے۔ ان دو نوجوانوںکی شمولیت کی وجہ ان کی راہول سے قربت ہے۔2009 کی کامیابی کے بعد لوگ حیرت زدہ تھے کہ سلمان خورشید اور بینی پرساد ورماکو مرکزی کابینہ میںکیوں شامل نہیں کیا گیا جبکہ موجودہ منطق کے تحت یو پی انتخابات میں مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کیلئے سلمان خورشید کو کابینہ میں شامل کیا گیاہے جبکہ پنجاب کے اگلے سال انتخابات کو صرف نظر کیا گیا ہے۔اس دوران چارناراض رہنماو ¿ں نے کھلے عام اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ ان میں گرداس کامت ، سری کانت جےنا اور ویرپا موئلی کے نام شامل ہیں۔موئلی قانون وزارت جیسے اہم وزارت سے ہٹا کر کمپنی کے معاملات کی وزارت دئے جانے سے ناراض ہیں۔ کابینہ میں توسیع کی خبر عام ہونے کے بعد موئلی میڈیا کے سامنے آئے اور یہ کہہ کر سنسنی مچا دی کہ کچھ ایسے گروپوں نے دباو ¿ بنا کر انہیں قانون وزارت سے ہٹوایا ہے۔ موئلی کے اس بیان سے کانگریس پارٹی میں سکتے میں آ گئی۔ شام ہوتے ہوتے پارٹی کے رہنما ستیہ ورت چتروےدی نے کہا کہ موئلی کو جب وزیر اعظم پر اعتماد نہیں ہے تو وہ کابینہ سے استعفی دے دیں۔دوسری طرف ممبئی سے کانگریسی لیڈر گرداس کامت نے پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کی وزارت کا انچارج دیئے جانے سے ناراض ہوکر کابینہ سے استعفی دے دیا۔ ابھی تک گرداس کامت کا استعفی رسمی طور پر منظور نہیں ہوا ہے۔ کانگریس ذرائع کے مطابق گرداس کامت کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔کانگریس ذرائع نے بتایا کہ کامت کا استعفی ان کے لئے خودکشی ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن ہائی کمان کی ناراضگی کے بعد کامت نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صبح ہی اس بارے میں وزیر اعظم اور پارٹی صدر سونیا گاندھی کو خط لکھا تھا۔ خط میں انہوں نے وزیر کے عہدے سے خود کو آزاد کرنے کی درخواست کی ہے۔ ایسا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ پارٹی سے ناراض چل رہے ہیں اور ان کا یہ قدم اسی طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ممبئی میں گرداس کامت نے کہا ، 'وزیر اعظم اور سونیا گاندھی کے لئے میرے دل میں بہت عزت ہے۔ میں نے انہیں خط لکھ کر مجھے وزیر کے عہدے سے آزاد کرنے کی درخواست کی ہے۔ مایوسی کا کوئی سوال نہیں ہے لیکن میں پارٹی کے لئے کام کرنا چاہتا ہوں۔ وزارت کے سلسلے میںغم کرنے کاکوئی سوال ہی نہیں ، وہ تو اہم ہے۔ میرے حلف نہ لینے کی وجہ تو نجی ہے اور یہ پارٹی قیادت کی توہین کرنا نہیں ہے جبکہ کابینہ درجہ بندی نہ دیئے جانے سے اڑیسہ سے آنے والے کانگریس کے رہنما سری کانت جےنا بھی ناراض ہو گئے ہیں تاہم جےنا کو کیمیائی اور کھادوزیر مملکت کاآزادانہ چارجج دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جےنا شماریات وزارت کا کام بھی دیکھیں گے لیکن جےنا اس ذمہ داری سے ناخوش ہیں اور وہ جلد ہی سونیا گاندھی اور وزیراعظم منموہن سنگھ سے اس سلسلے میں ملاقات کریں گے تاہم ، جےنا نے کہا ہے کہ وہ استعفی نہیں دیں گے۔اس سب سے قطع نظر وزیر اعظم نے اسے ’اتحادکے مذہب‘کا نام دیا ہے۔منگل کو صدارتی محل میں ہوئے 11 وزیروں کے حلف برداری کی تقریب کے بعد منموہن سنگھ نے صحافیوں سے خطاب کے دوران کہا کہ اس ردوبدل سے ریاستوں کی نمائندگی میں مساوات ،کارکردگی کو اہمیت اور تسلسل کے جذبہ کو تقویت ملے گی۔آئندہ انتخابات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جہاں تک میرا سوال ہے تو 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے پہلے کا یہ آخری ردوبدل ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کابینہ میں ہوئے ردوبدل سے کیا لوگ ناراض ہیں وزیر اعظم نے کہا کہ جب بھی محکموں کا بٹوارا ہوتا ہے تب کچھ دقتیںپیش آ یا کرتی ہی ہیں۔ ہم نے ملک کے بہتر مفاد کا خیال رکھا ہے۔ساتھ ہی وزیر اعظم نے اپنی اتحادی جماعت ڈی ایم کے کے کابینہ میں دو خالی جگہوں کے بارے میں بھی بتایا کہ یہ ہمارے’اتحادکے مذہب ‘کا حصہ ہے۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
सुशासन की त्रासदी
मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...
-
عظیم فن کار کندن لال سہگل کی مقبولیت ہر کوئی خاص وعام میں تھی، لیکن منگیشکر خاندان میں ان کا مقام علیٰحدہ تھا۔ اس گھر میں صرف اور صرف سہگل ...
-
अहमदाबाद। पूरी दुनिया को अपनी जादूगरी से हैरान कर देने वाले और विश्व प्रख्यात जादूगर के. लाल अब अपने जीवन का अंतिम शो करने जा रहे हैं। ...
No comments:
Post a Comment