راہل جی! ےہ ڈرامہ بازی بند کرےں
آج کل سونےا گاندھی و راجےو گاندھی کے چشم و چراغ اور دگ وجے سنگھ کی نظروں مےں مستقبل کے وزےر اعظم کے علاوہ وہ کبھی کبھی دلتوں کے گھروں مےں جاکر دن کی روشنی مےں اےک آدھ روٹی کھا کر بھی اپنی اخلاقی برتری کامظاہرہ کرتے نظر آتے ہےں ۔ کبھی کبھی وہ مسلم علاقوں کا دورہ رکرکے ان کے مسائل کو حل کرنے اور ان کے ساتھ ہونے والے مظالم مےں ان کی مدد کرنے کی بات بھی کرتے ہےں۔ لےکن اصل مےں ےہ سب ان کی ڈرامہ بازی ہے ۔ ان کاموں مےں نہ خلوص ہے ،نہ مسلمانوں سے ہمدردی، نہ اےمانداری ہے، نہ مسلمانوں کو انصاف دلانے کا عزم مصمم کا جذبہ۔
ہم راہل جی کو گانگرےس کے ذرےعہ مسلمانوں کے ساتھ آزادی کے بعد سے آج تک ہونے والی ناانصافی اور ظلم و ستم کاراہل گاندھی، گانگرےس سے لوگوں(خصوصی طور پر مسلمانوں) کو قرےب لانے کے لئے ہر اس جگہ کا دورہ کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہےں جہاں کوئی حادثہ ہو جائے، چاہے وہ بہار کا فاربس گنج ہو ےا نوےڈا کا بھٹہ پارسول کا علاقہ۔اس مختصر تعارف کرائے دےتے ہےں۔ آپ کے بزرگ پنڈت جواہر لال نہرو نے ۹۴۹۱ مےں بابری مسجد مےں مورتےاں رکھوا ئےں۔ آپ کے والد نے۹۸۹۱ مےں اےک ضمےر فروش عالم دےن کو خرےد کر شلانےاس کراےا اور بقول الےاس اعظمی ، سابق اےم۔پی، آپ کے والد نے وےر بہادرسنگھ، وزےر اعلی ےو۔پی۔ کے ذرےعہ مےرٹھ کے ملےانہ ۔ہاشم پورہ کے بے قصور مسلمانوں کو پی۔اے۔سی۔ کے ذرےعہ قتل کرا کر گنگ نہر مےں پھنکوا دےا۔۲۹۹۱ مےں مرکز مےں کانگرےس کی سرکار کے ہوتے ہوئے بابری مسجد کو دن دہاڑے شہےد کر دےا گےا۔جن کے مجرمےن کو کوئی سزا نہےں مل سکی اور مقدمات کا سلسلہ دکھاوے کو آج بھی جاری ہے۔آزادی کے بعد سے آج تک ملک مےں کثےر تعداد مےں بڑے بڑے ہولناک فسادات مےں مسلمانوں کا قتل عام کس نے کراےا؟ آر۔اےس۔اےس اور جن سنگھ کو کھلی چھوٹ کانگرےس نے ہی دی۔ شےو سےنا کو پروان چڑھانے مےں آپکی دادی محترمہ اندرا جی کا بڑا اہم رول رہا ہے۔ آپ کے موجودہ وزےر اعظم من موہن سنگھ ، وزےر اعظم بنتے ہی سکھوں کو معاوضہ دلا دےتے ہےں۔ لےکن ملےانہ ۔ہاشم پورہ کے متاثرےن و مقتولےن ان کو ےاد نہےں آتے؟ دہلی ہائی کورٹ سمی پر سے پابندی ہٹا دےتی ہے، کےوں کہ اس کے کسی کارکن کو دہشت گردی مےں عدالت سے سزا نہےں ملی، مگر آپ کی کانگرےس حکومت اس پابندی کے خلاف عدالت عالےہ مےں اپےل کرتی ہےں۔ ےہ کون سی مسلمانوں سے ہمدردی ہے؟ممبئی و حےدرآباد کی عدالتےں دہشت گردی کے الزام سے مسلمان نوجوانوں کو رہا کرتی ہے تو کانگرےس سرکار سپرےم کورٹ مےں ان کی رہائی کے خلاف اپےل کرتی ہے۔ حال ہی مےں ممبئی کے فہےم انصاری کا واقعہ اس کا کھلا ثبوت ہے۔اوما بھارتی اعلانےہ ہندو دہشت گرد پرگےہ سنگھ سے جےل مےں ملنے جاتی ہے ، اس کے حق مےں بےان دےتی ہے، اس کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہےں اور کوئی مسلمان کسی مسلم نوجوان سے ملنے جےل چلا جائے تو اس کے خلاف قانون، انٹےلی جےنس محکمہ فوراً حرکت مےں آ جاتاہے؟ ےہ کون سی اقلےت نوازی اور مسلمانوں سے ہمدردی ہے؟ راہل جی! آپ سے گذارش ہے کہ مسلمانوں کے معاملے مےں ےہ ڈرامہ بازی بندکرےں، اس سے کوئی فائدہ نہےں۔اصل مےں کانگرےس نے بعض افراد دگ وجے سنگھ جےسے مسلمانوں کی حماےت اور سنگھ پرےوار کو گالےاں دےنے کے لئے تےار کر رکھے ہےں اور دوسری طرف وہ خود وہ سارے کام کر رہی ہے جو سنگھ پرےوار کے منصوبہ مےں شامل ہےں۔ معاملہ ےہ ہے ۔
ہےں کواکب کچھ نظر آتے ہےں کچھ
دھوکہ دےتے ہےں ےہ بازیگر کھلا
No comments:
Post a Comment