Thursday, January 8, 2015

دیکھو ،پی کے مت دیکھو PK

ن دنوں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسی تنظیم کچھ زیادہ فعال اور مشتعل تیور میں نظر آ رہے ہیں. اس لئے کہ مرکز میں اب ایسی حکومت ہے جس سے انہیں اپنی طرفداری کا بھروسہ ہے۔ احمد آؓباد، بھوپال اور دوسرے بھی کئی شہروں میں ان تنظیموں کے کارکنوں نے PK فلم پر پابندی لگانے کی مانگ کو لے کر مظاہرہ کرنے کے ساتھ ہی متعلقہ سنیما گھروں میں توڑ پھوڑ کی، فلم کے پوسٹر پھاڑے، آگ لگا دینے کی دھمکیاں دیں۔ مگر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکی ہے! ان تنظیموں کا الزام ہے کہ اس فلم میں ہندوو ¿ں کے دیوی دیوتاو ¿ں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ مگر یہ بات کسی کے گلے نہیں اتر رہی۔ اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ناظرین میں اسے لے کرشوق قائم ہے۔ کچھ دنوں کے اندر ہی اس نے دو سو کروڑ روپے سے زیادہ کی کمائی کر لی۔اصل میں یہ فلم بھی تفریح کے مقصد سے ہی بنائی گئی ہے، جیسے کہ تمام فلمیں بنتی ہیں۔ البتہ اس میں مذہبی پاکھڈو پر طنز ضرور کیا گیا ہے، پر یہ طنز کسی ایک مذہب کے ڈھونگ تک محدود نہیں ہے۔ادب اور مختلف فن میں معاشرے کی بے ضابطگیوں، رسم و رواج پر سوال اٹھانے کی طویل روایت رہی ہے۔ 
فلم پی کے کی کہانی کسی انجان سیارے سے تحقیق کرنے کے مقصد سے آئے ایک شخص کی الجھنوں، مذہبی ’کرم کانڈوں‘پر بھروسہ کرکے ٹھگے جانے اور پھر اس سےمتنفر ہونے کو لے کر بنیہے۔ اس میں اکیلے ہندو مذہب کے نہیں، دیگر مذاہب کے بھی نام نہاد سنتوں، مہتماو ¿ں، پادریوں، مذہبی رہنماو ¿ں سے اس کی ملاقات ہوتی ہے۔تمام جگہ اسے لوگ کرم کانڈوںکے بے معنی اور چھل یا موہ سے ملتے ہیں۔کہیں بھی دلیل کی گنجائش نہیں ہے۔ وہ دلیل دیتا ہے تو کھدےڑا جاتا ہے۔ وہ بھلا کب منطق اور سائنسی نقطہ نظر کا دخل برداشت کریں گے۔ فلم پر پابندی کا مطالبہ کر رہی تنظیموں نے خاص طور پرعامر خان پر نشانہ پر نشانہ لگایا ہے اور اس طرح معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ یہ فلم عامر دماغ کی اختراع نہیں ہے، اس میں ان کا کام محض ایک اداکار کا ہے۔جس فلم کو سینسر بورڈ منظوری دے چکا ہو، اس پر پابندی کیوں لگے؟
اس سے پہلے بھی کئی فلموں کے، کتابیں، پینٹنگ تنگ سوچ کا نشانہ بنی ہیں۔ عظیم مصورمقبول فدا حسین کو توجلاوطنی میں زندگی گزارنے کو مجبور ہونا پڑا تھا۔ وینڈی ڈونگر کی کتاب ان کے ناشر نے مارکیٹ سے واپس لے لی تھی۔ ایک تازہ واقعہ تمل ناڈو کا ہے، جہاں ہندوتوادی تنظیموں نے چار سال پہلے شائع ایک تامل ناول کی کاپیاں جلاکر اس پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ جمہوریت کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا کہ انتخابات ہوتے رہیں اور مختلف جماعتوں کو اقتدار کی اپنی دعویداری آزمانے کا موقع ملتا رہے۔ جمہوریت کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ اظہار کی آزادی سمیت تمام شہری حقوق محفوظ رہیں۔ کیا اب مصنفین، فلم سازوں، فنکاروں وغیرہ کو اپنی تخلیقات پر ثقافت کے ’خود ساختہ ‘محافظوں' کی سفارش لینی پڑے گی!
اوپر سے سبرامنیم سوامی جیسے سرپھرے فلم میں جہادی فنڈ لگنے کی بات کہہ رہے ہیں ۔انہیں اپنی پارٹی کے پریش راول سے سوال کرنا چاہئے کہ ان فلم او مائی گوڈ میں کس کاپیسہ لگا تھا۔ابھینو بھارت کا یہ ہندومہاسبھا کا۔اس کی محافظ تو شیوسینا ہوگی۔اس فلم میں جس قدر ہندو پاکھنڈ کا مذاق بنایا گیا ہے اس کاعشرعشیر بھی پی کے میں نہیں اس لیے کہا جاتا ہے کہ pkدیکھو ’پی کے ‘ مت دیکھو۔
واضح رہے کہ کم وقت میں سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی فلم ’پی کے‘ کے خلاف پورے ہندوستان میںمظاہرے ہوئے ۔ اس کے باوجود بزنس کے اعتبار سے اس فلم نے ’دھوم تھری‘ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔’پی کے‘ کے ڈائریکٹر راجکمار ہیرانی نے بتایا کہ یہ فلم 19 دسمبر کو نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی اور اب تک یہ 278 کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار کر چکی ہے۔ اس فلم کو دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا بھی ہے۔ ان کا مو ¿قف ہے کہ ’پی کے‘ میں ہندو مذہب کی توہین کی گئی ہے۔
بھارتی جنتا پارٹی ’بی جے پی‘ کی سربراہی والی صوبے مہاراشٹر کی حکومت نے عامر خان کی اس فلم پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ۔ صوبائی وزیر داخلہ رام شندے نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے آئی جی پولیس دیوان بھارتی سے اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدار تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پولیس سے درخواست کی ہے کہ اگر فلم کی کہانی یا ڈائیلاگ میں کوئی بھی قابل اعتراض بات سامنے آتی ہے تو فوری طور پر کارروائی کی جائے۔تاہم فلم ڈائریکٹر راجکمار نے ’پی کے‘ پر عائد کیے جانے والے تمام اعتراضات کو مسترد کر دیا ہے۔
اداکار عامر خان اور ڈائریکٹر راجکمار ہیرانی کی یہ دوسری فلم ہے۔ اس سے قبل ان دونوں کی فلم ’تھری ایڈیئٹس‘ نے 202 کروڑ روپے کا کاروبار کیا تھا اور کمائی کے اعتبار سے وہ اپنے وقت کی کامیاب ترین فلم تھی۔ عامر خان کی ’دھوم تھری‘ کو 271 کروڑ، سلمان خان کی ’ کِک‘ 244 اور شاہ رخ خان کی ’چنئی ایکسپریس‘ کو 228 کروڑ کے کاروبار کے حوالے سے بالی ووڈ کی سر فہرست فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ’پی کے‘ بھارت سے باہر بھی تقریباً 124 کروڑ کا بزنس کر چکی ہے۔
دراصل فلم پی کا موضوع ہندی سینما کی روٹین فلموں سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔ یہاں پی کے سے مراد پاکستان نہیں گوکہ اس فلم میں پاکستان کا بھی ذکر ہے اور یہ ذکر اچھے اور مثبت انداز میں ہے بلکہ ایسا شخص ہے جو شراب پیتا ہو لیکن اس فلم میں پی کے پان تو ضرور کھاتا ہے لیکن پیتا نہیں ہے مگر پھر بھی اسے ہر کوئی پی کے نام سے پکارتا ہے اور پھر یہی نام فلم کے مرکزی کردار کا اختتام تک رہتا ہے۔
پی کے کا موضوع بالی ووڈ کی فلم او مائی گاڈ سے ملتا جلتا ہے۔ پی کے کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ جیسے انسان دوسرے سیاروں پر زندگی کو ڈھونڈنے کے لیئے تحقیق کرتے ہیں اور ان پر جاتے ہیں اسی طرح ممکن ہے کہ کسی سیارے پر زندگی ہو اور وہاں کے لوگ اس دنیا پر تحقیق کے لئے آرہے ہوں۔ اسی طرح ایک اسپیس شپ راجستھان میں اترتی ہے جس میں سے پی کے یعنی عامر خان زمین پر قدم رکھتے ہیں۔ اسی صحرا میں پی کے کا ریموٹ کنٹرول جو دراصل اسپیس شپ کو واپس بلانے کا ذریعہ ہوتا ہے ایک چور چھین کر بھاگ جاتا ہے۔ اس کے بعد فلم میں کچھ روایتی مزاح اور گانے شامل ہیں۔ فلم کی اصل کہانی دوسرے حصہ میں شروع ہوتی ہے جب پی کے اپنا ریموٹ کنٹرول تلاش کرنا شروع کرتا ہے۔ وہ مختلف لوگوں سے پوچھتا ہے پولیس کے پاس بھی جاتا ہے سب اس سے یہی کہتے ہیں کہ تمہاری مدد صرف بھگوان ہی کرسکتا ہے یہاں سے وہ حصہ شروع ہے جس پر پورے بھارت میں کافی ہنگامہ ہوا۔یہ فلم اور اس کی کہانی بھگوان خدا یا کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ ہر مذہب کے بڑے یا بقول پی کے مذہب کے ٹھیکے داروںکے خلاف ہے۔

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...