معراج نوری
حالیہ دنوں میں جس طرح سے مغربی بنگال کی منتخب ترنمول کانگریس حکومت کو مختلف حیلے بہانے کے ذریعہ پریشان اور بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ نہ صرف یہ کہ محض اتفاق ہے بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔تقریباً تین دہائی تک کمیونسٹ حکومت ہونے کے بعد اقتدار میں آئی ترنمول کانگریس کو ۶۱مئی کے بعد ایک منظم طریقے سے رڈار پر رکھا گیا ہے۔چونکہ عام انتخابات میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آرایس ایس کے ایڑی چوٹی کا زور لگا دینے کے باوجود بھی مغربی بنگال میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی سوائے اس کے کہ ایک لوک سبھا سیٹ جیت پائی ،اس بے عزتی اور ناکامی نے سنگھ اور بی جے پی کے پیٹ میں درد پیداکردیا ۔حالانکہ جس کے پیچھے بی جے پی اور سنگھ اس قدر ہاتھ دھوکرپڑا ہے وہی ممتا بنرجی کبھی بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کا حصہ رہ چکی ہیں۔لیکن اب چونکہ وہ بی جے پی کو آنکھیں دکھا رہی ہیں اس لئے بی جے پی ان کے پیچھے پڑگئی ہے۔دراصل سیاست میں یہی وہ اہم چیز ہے جو سبھی کا سایہ بن کر ہروقت اس کے ساتھ ہواکرتی ہے۔اپنے خیمے کے مکیں ہیں تو پارسااورایماندار ہیں اور خیمے سے باہر قدم رکھتے ہی بے ایمان ،بدعنوان اور نہ جانے کیا کیا ہوجاتے ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ اس وقت سیاست میں کوئی دودھ کا دھلا بھی نہیں ہے۔یہ بات دیگر ہے کہ برسراقتدار ہونے کا فائدہ ہوتا ہے کہ اس کے تمام تر گناہوں اور بدعنوانیوں پر کچھ وقت کے لئے ہی صحیح پردہ پڑا ہوتا ہے۔اس کے برعکس آج کل ہندوستان میں ایک ایسی سیاست نے زورپکڑا ہے جس میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے مذہب ،منافرت اور نام نہاد دہشت گردی کی آڑ میں مخالفین پر حملہ آور ہوکر نہ صرف یہ کہ فضاکو مکدر کیا جائے بلکہ سیاسی زمین کو پوری طرح زہر آلود کرکے اپنی سیاسی روٹی سینکی جائے۔یوں تو وقتاً فوقتاً سبھی سیاسی پارٹیوں نے مختلف حربے کے ذریعہ مخالفین کو زیر کرکے کرسی حاصل کی ہے اور اقتدار کا مزہ لوٹا ہے لیکن مذہب ،منافرت اور نام نہاد دہشت گردی کی آڑ میں ہندوستان میں کرسی حاصل کرنے کے ساتھ عوامی جذبات کو مجروح کرنے کا باضابطہ سلسلہ انیسویں صدی کے آخری عشرے میں شروع ہوا جب ہندوستان میں یہودیوں کی ٹولی کو داخلہ دیا گیا۔ اسی ٹولی کی شہ اور سیاست نے ہندوستانی سیاست دانوں کی ذہنیت اورسیاست کو پوری طرح پراگندہ کرنا شروع کیا جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔یہودیوں کی ٹولی کے ہندوستانی کارکنان نے اب اپنا رنگ دکھا نا شروع کردیا ہے۔ہرطرف نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں۔کہیں ’لوجہاد‘تو کہیں تبدیلی مذہب،کہیں ہندوراشٹر تو کہیں ’چاربچے ‘۔یہ سب تو ظاہری طور طریقے ہیں جن سے مذہبی منافرت کا زہر بویا جارہا ہے ۔اس کے برعکس بھی کھیل ہے جو بی جے پی کی زیر قیادت آرایس ایس نواز حکومت کھیل ہے ۔وہ ہے دہشت گردی کے نام پر منتخب حکومتوں کو بدنام اور غیر مستحکم کرنا۔اس کی شروعات بی جے پی حکومت نے مغربی بنگال سے کی ہے جہاں ممتا بنرجی کی حکومت ہے اور خاص بات یہ ہے کہ وہاں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے جو ممتا کے ساتھ ہے۔بات کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ مغربی بنگال کے وردمان میں ایک گھر میں دھماکہ ہوتا ہے جس میں بم بنانے والے شکیل اور سوون منڈل کی موت ہوجاتی ہے۔رپورٹ درج ہوتی ہے اور اس پر کارروائی شروع ہوتی ہے۔جیسے ہی اس دھماکہ کے معاملے میں شکیل نام سامنے آتا ہے ملک کی میڈیا اور سنگھ کے لوگوں کو ایک ہتھیار مل جاتا ہے ۔چاروں طرف سے دہشت گردانہ کارروائی ،حزب المجاہدین،لشکرطبیہ اور ہوجی جیسی تنظیموں کی کارروائی کا شور سنائی دینے لگتا ہے۔بس پھر شروع ہوتا ہے بی جے پی اور آرایس ایس کا کھیل ۔مرکز کی بی جے پی حکومت اسے ملک کی سالمیت اور نہ جانے کس کس چیز کو خطرہ تسلیم کرلیتی ہے اور این آئی اے کو جانچ کا حکم دے دیا جاتا ہے۔افسران کا تانتا لگ جاتا ہے مغربی بنگال میں۔حد تو یہ ہوتی ہے کہ اس ادنیٰ سے معاملے کو تل کا تار بناکر پیش کیا جاتا ہے اور اسے مکمل طور پر دہشت گردانہ کارروائی ثابت کرنے میں کوئی کورکسر نہیں چھوڑی جاتی ۔بہانہ کی متلاشی بی جے پی اور آرایس ایس کو موقع مل جاتا ہے اور وہ اپنے کھیل کی شروعات کردیتی ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ مرکزی سیاست میں بی جے پی کے اہم سیاسی پارٹی کی حیثیت سے ا ±بھرنے کے بعد آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں مثلاً وشوہندوپریشد،بجرنگ دل کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور وہ اب ریاست مغربی بنگال میں اپنے قدم مضبوطی سے جمانے کی کوشش کررہی ہیں۔آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ ملک گیر سطح پرآر ایس ایس کی لہر چل رہی ہے اور بنگال ملک کا ہی ایک حصہ ہے۔ ہمارا مقصد اب ریاست کے ہر بلاک تک پہنچنا ہے۔ آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے حال ہی میں ریاست کا دورہ کیا تھا ۔
دراصل مغربی بنگال میں بہت دنوں سے فسادات نہیں ہوئے ہیں اسی لئے یہاں بی جے پی کو زمین بھی نہیں مل پائی مگر اب وہ امن و مان کی اس دھرتی کو اپنے ناپاک عزائم سے خاک وخون میں نہلانا چاہتی ہے۔جس کی شروعات اس نے نام نہاد دہشت گردی کو بہانہ بناکر کردی ہے۔یہاں کا امن وامان اور فرقہ وارنہ یکجہتی کا ماحول فرقہ پرستوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا ہے۔جس طرح یوپی میں جاٹوں کو مسلمانوں نے سے الگ کیا گیا اسی طرح بنگال میں ہندوو ¿ں اور مسلمانوںکے بیچ دوری پیدا کرنے کی کوشش چل رہی ہے۔ ۲۶فیصد مسلم ووٹوں کو تب ہی بے کار کیا جاسکتا ہے جب یہاں کی ہندو اکثریت کو مسلمانوں کے خلاف متحد کردیا جائے۔ اس کے لئے ماحول سازگار کیا جارہا ہے اور ہندووں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں۔ انھیں میڈیا کے ذریعہ یہ باور کرانے کی کوشش چل رہی ہے کہ بنگال کے مسلمانوں کے تار بنگلہ دیشی دہشت گردوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہاں سے دنیا کے دوسرے ملکوں میں ہتھیار بھیجے جارہے ہیں؟یا بردوان دھماکے کے بہانے عوام میں بھرم پھیلانے کی کوشش چل رہی ہے؟ موجودہ حالات کو آئندہ ودھان سبھا انتخابات تک قائم رکھنے کی کوشش ہوگی تاکہ اسے بہانہ بناکر ممتا بنرجی سرکار کے خلاف ہندووں کو متحد کیا جائے جس طرح گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں پورے ملک میں مودی لہر کے نام پر کیا گیا؟ ان دنوں دہلی سے کولکاتہ تک ہر جگہ یہ تاثر دینے کی کوشش ہورہی ہے کہ مغربی بنگال دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے اور یہاں کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ یہاں القاعدہ اپنا نیا ٹھکانہ بنا رہی ہے اور عوام کی زندگی خطروں سے دوچار ہے۔ اسی کے ساتھ سنگھ پریوار نے اپنی پوری طاقت مغربی بنگال میں جھونک دی ہے اور ابھی سے وہ اسمبلی الیکشن کی تیاری میں لگ گیا ہے۔ یہاں وشوہندو پریشد کا کنونشن ہورہا ہے اور موہن بھاگوت جیسے لیڈران دورے کر رہے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں بی جے پی کے اثرات پہلے ہی بڑھے ہوئے تھے مگر اب تو دوسرے علاقوں میں بھی اس کے اثرات میں اضافہ کی کوشش ہورہی ہے۔ میڈیا کی فرضی اور گمراہ کن خبروں کو بہانہ بناکر بنگال کے اس پر امن علاقے میں نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں اور ان کے پھولنے پھلنے کا انتظار کیا جارہاہے تاکہ آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اس پروپگنڈے کے سہارے اقتدار تک پہنچ بنائی جائے۔
اس لئے وقت کی ضرورت ہے کہ فرقہ پرستوں کے اس ناپاک اور گھناونے عزائم کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے ۔ورنہ بعید نہیں کہ ملک ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کے ساتھ ساتھ امن وامان کو خطرات لاحق ہوجائیں۔
merajmn@gmail.com
No comments:
Post a Comment