Thursday, January 8, 2015

ہائی ٹیک دہلی اسمبلی انتخابات

اگلے چند ہفتوں میں قومی دارالحکومت دہلی کے ووٹر نئی اور ممکنہ طورپر مستقل حکومت کے لئے ووٹ ڈالیں گے۔ فی الحال دہلی میں فروری 2014 سے صدر راج نافذہے جب سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اپنی 49 دن کی حکومت کے بعد عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔
بھارتی سیاسی نظام میں دہلی کا اپنا ایک الگ ہی درجہ ہے جہاں نہ تو اسے مکمل ریاست کا درجہ حاصل ہے اور نہ ہی مکمل طور پر وہ مرکز کے زیر انتظام ریاست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی کے وزیر اعلی کے پاس ملک کے دیگر وزرائے اعلی کے مقابلے میں سب سے کم حق ہوتے ہیں۔اس کے باوجو د سبھی سیاسی پارٹیاں یہاں کی گدی حاصل کرنے کی جی توڑ کوششوں میںمصروف ہوتی ہیں۔اب جبکہ انتخابات کےلئے وقت کم رہ گیا ہے سبھی پارٹیوں نے اپنے اپنے حربے استعمال کرنے شروع کردیئے ہیں۔انتخابی مہم شروع بھی ہوچکی ہیں۔عام آدمی پارٹی اور کانگریس نے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی کردیا ہے ۔دہلی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کو لے کر بی جے پی نے اپنے اسٹار پرچارکوںکی ایک ٹیم بنائی ہے۔ فہرست میں بی جے پی نے ایم پی ہیما مالنی، شتروگھن سنہا، ونود کھنہ، اسمرتی ایرانی جیسے لیڈروں کو پرچارمیں لگانے کا فیصلہ کیا ہے جو قومی دارالحکومت میں انتخابی ریلیوں کو بھی خطاب کریں گے۔
دہلی بی جے پی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ پارٹی نے اب تک انتخابی مہم کے لئے 18 لوگوں کی فہرست تیار کی ہے۔ اس فہرست میں پی ایم نریندر مودی اور بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کا نام بھی شامل ہے۔دہلی اسمبلی انتخابات کے لئے اپنی تیاریوں میں بی جے پی کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی ہے اور وہ 10 جنوری کو رام لیلا میدان میں ایک بڑی ریلی منعقد کر رہی ہے جسے نریندر مودی خطاب کریں گے۔ اس ریلی میں ہریانہ، جھارکھنڈ اور مہاراشٹر کے وزیر اعلی بھی حصہ لیں گے۔
مودی لہر کی برقراری اور راجدھانی دہلی کو ہتھیانے کیلئے بی جے پی کوئی بھی کسر چھوڑنے والی نہیں ہے۔ پارٹی نے فروری میں متوقع دہلی اسمبلی الیکشن کیلئے جہاں راجدھانی کی ہر بڑی آبادی اور بلاک و ضلع تک اپنے ممبران پارلیمنٹ کو لگایا ہوا ہے وہیں اس نے فلمی دنیا کے اسٹار پرچارکوں کو بھی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلمی ستاروں کی ایک بڑی لائن ہے جو وہ دہلی اسمبلی الیکشن میں استعمال کرنیو الی ہے۔ فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والے بی جے پی لیڈروں میں ہیمامالنی، شتروگھن سنہا، اسمرتی ایرانی، ونود کھنہ اور منوج تیواری بھی اس کی فلمی ستاروں کی فہرست میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی دیگر فلمی ستاروں کو بھی تشہیری مہم میں لیا جائے گا۔ بی جے پی پارٹی ذرائع کی مانیں تو اس نے دہلی اسمبلی انتخابات میں مودی لہر کو برقرار رکھنے کے لئے سارے جتن کئے ہوئے ہیں۔ادھر کانگریس پارٹی سے ملنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ وہ بھی خامو ش نہیں رہے گی۔ کانگریس ذرائع نے بتایا کہ اس کے لیڈران بھی فلمی ستاروں کا سہارا لیں گے لیکن ان کی زیادہ کوشش اس بات پر ہوگی کہ ترجیحات میں ریاستی لیڈروں کو رکھا جائے کیونکہ عوامی لبھاو ¿نے وعدوں کے بجائے انہیں عوامی ذمہ داریوں پر انتخاب لڑنا ہے۔ کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے بتایا کہ ہم بیٹھے نہیں رہیں گے وقت آنے دیجئے تشہیر ی مہم میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ادھر عام آدمی پارٹی بھی جلسے اور جلوسو ں میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔ دہلی کو جیتنے کیلئے تینوں پارٹیوں نے اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہونے سے قبل بڑی بڑی ریلیاں کرڈالی ہیں۔
کانگریس پارٹی اروندر سنگھ لولی کی قیادت میں متحد ہورہی ہے ۔ دہلی اسمبلی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے کانگریس پارٹی نے اپنی الیکشن کمیٹی میں اضافہ کرتے ہوئے پانچ سینئر لیڈران کو شامل کیا ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے مطابق دہلی کے متوقع فروری 2015میں ہونے والے اسمبلی الیکشن کیلئے ریاستی کانگریس کمیٹی میں مزید لوگوں کو شامل کیاگیا ہے۔ دہلی میں کامیابی حاصل کرنے اور لوگوں کو بیدار کرنے کیلئے سابق مرکزی وزیر کپل سبل ،سابق ممبر پارلیمنٹ سندیپ دکشت، سابق مرکزی وزیر کرشنا تیرتھ،سابق اسمبلی اسپیکر یوگ آنند شاستری اور دہلی وقف بورڈ چیئرمین چودھری متین احمد کو شامل کیاگیا ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے اس سے قبل دہلی اسمبلی الیکشن کیلئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی تھیں ان کمیٹیوں میں کپل سبل سندیپ دکشت ، کرشنا تیرتھ،یوگ آنند شاستری وغیرہ کوشامل نہیں کیا تھا جبکہ منشور کمیٹی میں چودھری متین احمد کو بطور ممبر شامل کیاگیا تھا۔ کانگریس پارٹی دہلی میں اپنی کھوئی ہوئی زمین حاصل کرنے کیلئے مسلسل کوشاں ہے اور پارٹی کی جانب سے دعوی کیا جارہا ہے کہ آئندہ ہونے والے اسمبلی الیکشن میں کانگریس پارٹی مضبوط طریقے سے واپسی کرنے کیلئے اپنے لیڈران کو ہدایت جاری کررہی ہے۔
دراصل ہندوستان کی سیاست میں جو گرمجوشی اور دلچسپی اب دکھائی پڑتی ہے وہ ممکنہ طور پر آج سے 10 سال قبل شاید بالکل نہیںتھی۔ ہر پانچ سال کے بعد انتخابات تو ہوتے تھے مگر’گرمجوشی‘ کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ میڈیا کا بڑھتا دائرہ کہیںیا پھرسیاسی پارٹیوں کی دلچسپی پہلے سے انتخابی گرمجوشی میں اضافہ ضرورہوا ہے۔ اب اگر خود ایک ’عام آدمی‘انتخابی اکھاڑے میں اتر جائے تو دیگر لوگوں کا دلچسپی لینا تو فطری ہے نہ؟
دہلی اسمبلی انتخابات میں اس بار پرچارکا اصلی رنگ سوشل میڈیا پر دیکھ سکتے ہیں۔ تقریبا تمام پارٹیاں نوجوان نسل اور کاروباری لوگوں سے جڑنے کے لیے اس کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس طریقے نے پرچارکا خرچ تو کم کیا ہی ہے، امیدواروں اور ووٹروں کے درمیان ڈائیلاگ کی راہ بھی کھولی ہے۔فیس بک جیسی سوشل میڈیا ویب سائٹ پر لوگ امیدواروں اور پارٹیوں سے براہ راست سوال پوچھ رہے ہیں اور مشورہ بھی دے رہے ہیں۔ دہلی میں انتخابی مہم مسلسل ہائی ٹیک ہوتی جا رہی ہے۔ تشہیر کا اصل ذمہ طرح طرح کے کمپیوٹر اور کمپیوٹر پر کام کرنے والے سنبھال رہے ہیں۔ گلی محلوں کی چوپالوں کی جگہ ای چوپال نے لے لی ہے اور رنگین پرچوں کی جگہ ای میل نے۔حال یہ ہے کہ جلسے کرنے کے بجائے امیدوار ووٹروں کو گھر بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے خطاب کر رہے ہیں۔ فیس بک، ٹوئٹر، ای میل، ایس ایم ایس، وہاٹس اےپ، یوٹیوب یہ سب سیاسی جماعتوں کے نئے سپاہی ہیں۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر چل رہی جنگ میں انہی سپاہیوں کے ذریعہ انتخابی طوفان نظر آتا ہے۔
دراصل دہلی میں قریب 50 لاکھ نےٹ استعمال کرنے والے لوگ ہیں۔ یعنی ایسے شہری جو انٹرنیٹ سے جڑے ہیں۔ ایسے میں تمام پارٹیوں نے سوشل میڈیا سیل بنایا ہے تاکہ انہیں لبھایا جا سکے۔ یہی نہیں، کم پیسوں میں انتخاب لڑنے کے مقصد سے بھی ان آن لائن ذرائع کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ فیس بک اور ٹوئٹر پر لوگوں سے حمایت کی اپیل کی جا رہی ہے۔ امیدواروں کا پروفائل بنا کر ان کی تصویر سمیت تمام معلومات دی جا رہی ہیں۔ یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کی پارٹی دوسری جماعتوں سے کیسے مختلف ہے۔ عوام کے سوالات کے جواب دیئے جا رہے ہیں اور منشور بنانے میں لوگوں کے مشورے مانگے جا رہے ہیں۔
دہلی کا الیکشن دراصل نریندر مودی کی ناک کا سوال بن گیا ہے اور یہ بھیت حقیقت ہے کہ یہاں کئی سیٹیں ایسی ہیںجہاں مسلمان ووٹر فیصلہ کن حالت میں ہیں لیکن کیا ان سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ اپنی حیثیت کو سمجھتے ہوئے کوئی بالغ نظر فیصلہ کرسکیں گے۔انہیں میں سے کئی ایسے شورما ہیں جوٹکے ٹکے میں بک جاتے ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ انتخاب جیتنا ان کے بس کی بات نہیں ۔سو دوسو ووٹ پانے والے کئی امیدوار کھڑے ہوجائیں گے ۔ووٹوں کی تقسیم مسلم ووٹوں کی حیثیت پہلے بھی صفر کرچکی ہے۔حریف جماعت نے پہلے ہی ملک کے ووٹروں سے 15فیصد کو الگ کرکے 85فیصد کی شطرنج بچھا رکھی ہے۔ہندوپرائڈ کا نغمہ گاکر جذبات کو اس قدر ابھارا جارہا ہے کہ وہ تو ایک ہوجائیں گے اور آپ اپنی اپنی ڈیڑھ انینٹ کی الگ الگ مسجد بناکر خود ہی نائب خود ہی امام بن جائیں گے۔اب بھی وقت ہے ۔ہندوستان کی تاریخ کروٹ لے رہی ہے۔اور یہ توممکن نہیں کہ اس تاریخ کی سیاہی مسلمانوں کے نام پر ختم ہوجائے۔مگر یہ بھی سچ ہے کہ سوئی آنکھوں کو تو جگایا جاسکتا ہے مگر ہوئے ضمیر جاگ جائیں گے ۔وقت کا انتظار ہے۔


No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...