Thursday, January 8, 2015

کشمیر کی معلق اسمبلی:سانپ کے منہ میں چھچھوندر

جموں و کشمیر میں حکومت سازی کے لئے تینوں اہم کھلاڑی یعنی پی ڈی پی ، بی جے پی اور نیشنل کانفرنس نے جس طرح تمام اصولوں آدرشوں اور پالیسیوں کو نظر انداز کرکے ایک دوسرے سے گٹھ جوڑ کی کوششیں شروع کی ہیں اس سے ہندوستانی سیاست کا بہت ہی کریہہ چہرہ ایک بار پھر سامنے آرہا ہے جس میں اقتدار اور صرف اقتدار ہی سب کچھ ہے اور اس کے لئے سارے اصولوں آدرشوں پالیسیوں اور پروگراموں کو گندے کپڑوں کی طرح اتار پھینکا جاسکتاہے ۔بی جے پی سے نظریاتی اور سیاسی اختلاف کو نظر انداز کرکے جس طرح مفتی سعید کی پی ڈی پی اور عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس نے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی ہے اس سے وادی کا ووٹر خود کو ٹھگا سا محسوس کررہاہے۔
اسی طرح دونوں پارٹیوں سے نظریاتی اور سیاسی اختلاف رکھنے والی بی جے پی اقتدار کے لئے ان دونوں پارٹیوں سے فلرٹ کررہی ہے ۔بی جے پی خصوصاً اس کے اسٹار کمپینر اور وزیر اعظم نریندر مودی نے جس طرح وادی میں انتخابی مہم کے دوران باپ بیٹے ( یعنی نیشنل کانفرنس) اور باپ بیٹی یعنی پی ڈی پی پر بہت ہی اوچھے اور ذاتی نوعیت کے حملے کئے اس کے بعد ان پارٹیوں کا بی جے پی کا ساتھ لینے یادینے کی جو مقابلہ آرائی ہورہی ہے وہ افسوسناک بھی ہے اور حیران کن بھی ۔بی جے پی کی لیڈر شپ کو بھی جواب دیناہوگا کہ اب باپ بیٹے کی باپ بیٹی میں کون سے سرخاب کے پر لگ گئے کہ اب ان کی حمایت سے حکومت بنانے میں ذرہ برابر بھی شرم نہیں آرہی ہے۔
دراصل جموں کشمیر میں حکومت سازی کھینچ تان کا نہیں تکلّفات کا شکار ہے۔ پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی واضح الفاظ میں کہہ رہی ہیں کہ ان کے پاس 55 ممبروں کی حمایت ہے جبکہ حکومت بنانے کے لئے 45 ممبر بہت کافی ہیں ۔اس کے باوجود وہ اس لئے حکومت نہیں بنارہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ حکومت میں جموں کی نمائندگی ہو اور ایسی نمائندگی جسے بی جے پی اپنی سمجھے۔ یہ بہت معقول بات ہے لیکن محبوبہ مفتی صاحبہ کی اس بات سے کوئی اتفاق نہیں کرے گا کہ وہ آج کی بی جے پی کو ساتھ لیں اور تصویر اٹل بہاری باجپئی کی لگائیں۔
اٹل جی بے شک بی جے پی کے لئے ایک مقدس نام ہے ۔یہ ان ہی کا دم تھا کہ جس بی جے پی کی پارلیمنٹ میں صرف دو سیٹیں تھیں اسی بی جے پی کی انہوں نے 1998 میں حکومت بنائی اور چھ سال حکومت کی لیکن محبوبہ مفتی کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بی جے پی کے ماں باپ موہن بھاگوت اور اشوک سنگھل ان چھ برسوں کو بھی غلامی کے دَور میں شامل کرتے ہیں ۔وہ ہندو حکومت یا بی جے پی کی حکومت اسے مانتے ہیں جس نے 26 مئی کی شام کو حلف لیا تھا۔
محبوبہ مفتی ہوں یا مفتی سعید مغل حکومت کی تاریخ پر نظر ڈال لیں تو انہیں اندازہ ہوجائے گا کہ حکومت کے لئے بھائی نے بھائی کے ساتھ باپ نے بیٹوں کے ساتھ اور بیٹوں نے باپ کے ساتھ کیا کیا کیا ہے؟ شری نریندر مودی نے بھلے ہی موقع ملتے ہی انہیں بھارت رتن بنوا دیا لیکن وہ یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے کہ اٹل جی ان سے اچھے وزیر اعظم تھے اور پاکستان یا کشمیر کے لئے جو کچھ انہوں نے سوچا وہ اس سے زیادہ اچھا ہوگا جو مودی سوچ رہے ہیں۔ مودی نے ہر مہینے کشمیر کا دورہ کرکے ثابت کردیا کہ انہیں کشمیر کی سب سے زیادہ فکر ہے۔ اب یہ تقدیر کا فیصلہ ہے کہ وہ ان کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے لئے تیار ہیں جن کے چنگل سے کشمیر کو نکال کر بی جے پی کو دینے کا انہوں نے شیرکشمیر اسٹیڈیم میں مجمع سے عہد لیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ مجمع کشمیر کے باہر کا ہو! 
محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ ہمیں حکومت بنانے کی جلدی نہیں ہے۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ جلدبازی کے بجائے ٹھنڈا کرکے کھائیں ۔ کشمیر کی اسمبلی میں ک ±ل ستاسی نشستیں ہیں اور اکثریت کے لئے چوالیس کا عدد ضروری ہوتا ہے۔
حالیہ انتخابات میں پی ڈی پی کو سب سے زیادہ یعنی اٹھائیس سیٹیں ملی ہیں اور جموں خطے کی سینتیس میں سے پچیس سیٹوں پربی جے پی کو جیت حاصل ہوئی ہے۔ ایک پیچیدہ مسئلہ یہ پیدا ہوا ہے کہ کشمیر میں ہندو ووٹ مستحکم ہوکر بی جے پی کی جھولی میں گیا ہے جبکہ مسلم ووٹ تقسیم در تقسیم ہوکر پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، کانگریس اور آزاد امیدواروں کے درمیان بٹ کے رہ گیا ہے۔یہ ایسی صورتحال ہے جس میں اقتدار کے تین جوڑے ا ±بھرتے ہیں۔ ان میں سرفہرست بی جے پی اور پی ڈی پی ہے۔ان دونوں کے پاس تینتالیس نشستیں ہیں اور ایک سیٹ کی حمایت بالکل ممکن ہے کیونکہ بی جے پی کو دیگر کئی ممبران کی حمایت حاصل ہے لیکن حکومت سازی میں تاخیر کی وجہ سیٹوں کا اعدادوشمار نہیں بلکہ بی جے پی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے متضاد سیاسی نظریات ہیں۔بی جے پی کشمیر پر ہندو اقتدار کی بحالی، کشمیر کا بھارتی وفاق میں مکمل ادغام اور دوسرے مسلم مخالف منصوبوں کا اعلان کرچکی ہے، جبکہ پی ڈی پی بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات، کشمیر میں خودحکمرانی، علیحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت اور نئی دہلی کی محدود مداخلت کی حامی ہے۔اگر پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ اقتدار کا کوئی معاہدہ کرلیا تو یہ براہ راست نیشنل کانفرنس کی اخلاقی جیت ہوگی، جس پر مفتی سعید آمادہ نہیں ہیں۔دوسرا آپشن بی جے پی اور نیشنل کانفرنس ہے۔دونوں کی کل ملاکر سینتیس سیٹیں ملی ہیں۔ عمرعبداللہ کو اپنی سیٹوں کے علاوہ دیگر چار امیدواروں کی حمایت حاصل ہے، لہٰذا دونوں کو چوالیس سیٹوں کا مطلوب عدد حاصل ہوجائے گا۔
لیکن عمرعبداللہ پہلے ہی بی جے پی کے نظریات کی وجہ سے اس پارٹی کے ساتھ شراکت اقتدار کے کسی بھی معاہدے کو خارج از امکان قرار دے چکے ہیں۔ اور وہ جانتے ہیں بی جے پی کے ساتھ مشترکہ حکومت کرنے کے عوض اٹھائیس ممبران کی اپوزیشن کو جھیلنا مشکل ہوگا۔تیسرا آپشن پی ڈی پی کی اٹھائیس اور کانگریس کی بارہ نشستوں کو جوڑ کر چالیس کا عدد بنتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پی ڈی پی اور کانگریس مشترکہ اقتدار پر آمادہ ہوجائے تو انہیں چار ممبران کی حمایت مطلوب ہوگی۔
واضح رہے سابق علیحدگی پسند سجاد غنی لون کے پاس دو ممبران ہیں جبکہ پانچ دیگر آزاد امیدوار ہیں۔ ک ±ل ملاکر ان سات ممبران میں سے بی جے پی کو دو اور نیشنل کانفرنس کو دو ممبران کی حمایت پہلے ہی حاصل ہے۔وہاں صرف سجاد لون کے دو اور انجینئر رشید بچتے ہیں۔ ان تینوں کو ملا کر بھی پی ڈی پی اور کانگریس کو ایک رکن اسمبلی کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ محض ایک ممبر کا مزاج بگڑ گیا تو حکومت گرجائے۔‘ انہوں نے 1999 کا حوالہ دیا جب پارلیمنٹ میں صرف ایک ممبر سیف الدین سوز نے بی جے پی کی حکومت کے خلاف ووٹ دے کر حکومت گرادی۔اب سوال یہ ہے کہ بی جے پی اور پی ڈی پی کیا کریں گے؟دوسری جانب عمر عبداللہ نے پی ڈی پی کو رسمی طورپر حمایت کی پیشکش کی تھی اور کہاتھا کہ اگر بہار کے لالوپرساد اور نتیش کمار ایک ساتھ کام کرسکتے ہیں ہم کیوں نہیں؟مبصرین کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے روایتی حریف مفتی سعید کو نفسیاتی الجھن میں ڈال دیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ موجودہ اسمبلی کی معیاد اٹھائیس دسمبر کو ختم ہوگئی ہے اور پانچ جنوری سے پہلے نئی حکومت کی حلف برداری نہیں ہوئی ہے جو کہ آئینی ضرورت تھی۔ اب ایسے میں اس بات کے بھی غالب امکانات ہیں کہ کشمیر میں چھ ماہ کے لیے گورنر راج کا نفاذہوسکتا ہے اور بعد ازاں دوبارہ انتخابات کا اعلان ہوگا۔
لب و لبا ب یہ کہ جس طرح جموں اور کشمیر کے ووٹروں نے الگ الگ نظریاتی دھاروں کی حمایت کی ہے، انھیں جوڑنا اور دونوں خطوں کے درمیان رواداری پیدا کرنا نئی حکومت کا سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔ اور اس کام کے لئے فی الوقت مفتی صاحب سے زیادہ مناسب کوئی دوسرا لیڈر نہیں دکھائی دیتا مگر وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے کانگریس کو ساتھ لیکر حکومت بنائی تو مودی کی سر براہی والی بی جے پی کی مرکزی حکومت ان کی زندگی اجیرن کردے گی کیونکہ مرکزی امداد کے بغیر جموں و کشمیر حکومت ایک دن بھی کام نہیں کر سکے گی۔ دوسری جانب اگر بی جے پی کو حکومت میں شامل کرلیا تو نہ صرف وہ اپنی پالیسیوں اور پروگراموں پر عمل نہیں کر پائیں گے بلکہ ان کی پی ڈی پی میں پھوٹ بھی پڑ سکتی ہے کیونکہ پارٹی کے زیادہ تر ممبران اسمبلی بی جے پی سے گٹھ جوڑ کے مخالف ہیں۔ مفتی صاحب کے لئے سب سے بہتر متبادل کانگریس کی شمولیت اور نیشنل کانفرنس کی بیرونی امداد سے حکومت بنانا اور جموں کی ترقی نیز کشمیر کی پنڈتوں کی باز آباد کاری کا ٹھوس فارمولہ بنانا اس پر عمل کرنا ہوگا تاکہ جموں کے عوام خود کو الگ تھلگ نہ محسوس کرسکیں اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ وادی میں علاحدگی پسندی کے جذبات کو بھڑکائے گا جس کا فائدہ سرحد پار بیٹھے ہند مخالف عناصر اٹھاسکتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ کشمیر کے ووٹروں نے بی جے پی کو جس تذبذب میں ڈالا ہے وہ سانپ کے منہ میں چھچھوندر کے متراد ف ہے کہ اگلے تو کوڑھی ،نگل لے تو اندھا۔

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...