Friday, January 23, 2015

کرن بیدی کو بھی ٹھکانہ مل ہی گیا

معراج نوری
دہلی کا تاج کون پہنے گا، اس کا فیصلہ تو دہلی کے عوام ہی کریں گے لیکن دہلی کی سرد ہوائیں انتخابی موسم میں اب گرماہٹ کا احساس کرانے لگی ہیں۔ کرن بیدی کا نیا سیاسی ’اوتار‘ دہلی کی سردی پر بھاری انتخابی گرمی کا احساس کرانے کے لئے کافی ہے۔
سماجی کارکن انا ہزارے کے منچ پر ترنگا لہراتی کرن بیدی کے تیکھے ٹویٹ کبھی نریندر مودی کے خلاف ان کی نفرت کو بیان کیا کرتے تھے۔ جن میں سے ایک میں یہ بھی ذکر تھا کہ گجرات فسادات پر مودی کو ایک دن جواب دینا ہوگا، لیکن مودی کا وقت بدلا تو اب کرن بیدی بھی بدلی بدلی نظر آنے لگی ہیں۔عوامی طور پر ’بھگوا رنگ‘ میں رنگ چکی بیدی کے اس نئے ’اوتار‘ کی جھلک تو کئی ماہ پہلے سے ہی نظر آنے لگی تھی، جب انہوں نے بی جے پی اور نریندر مودی کی تعریف میں قصیدے پڑھنے شروع کر دیئے تھے۔
دہلی انتخابات کے اعلان کے بعد کرن بیدی کا بی جے پی کا دامن تھامنے کے پیچھے کی ممکنہ وجوہات پر بھی بات کریں گے لیکن پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر بی جے پی اور مودی کے تئیں کرن بیدی کا دل تبدیل کیسے ہوا ؟آخر کیاوجہ رہی، جس کی وجہ سے بیدی نے ’کمل کا پھول‘ ہاتھ میں لے لیا ؟بیدی اس کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ مودی کی قیادت سے انہیں اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ اب یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ قیادت تو مودی نے گجرات میں بھی کی تھی لیکن کیا وہ قابل اعتمادنہیں تھا یا پھر مودی پی ایم بننے کے بعد زیادہ قابل اعتمادہو گئے ہیں ؟خیر ہوسکتا ہے بیدی کی بات میں دم ہے، لیکن اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیوں بی جے پی میں شامل ہونے کی خواہش بیدی کو انتخاب کے وقت ہی ہوئی؟
دراصل اس کے پیچھے کی کہانی کو سمجھنے کے لیے اس کردار کو سمجھنا ضروری ہے جس نے ا س کی کہانی لکھی ہے۔اس کی پوری کہانی دراصل 2011میں ہی لکھی جاچکی تھی جب دہلی کے جنترمنتر پر اناہزارے نے ایک تحریک کی شروعات کی تھی۔بظاہر تو یہ عام عوام کے مفاد اور ملک کے مفاد میں تھا لیکن اس کا خاکہ کچھ اس طرح سے کھینچا گیا تھا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی بچ جائے۔اس تحریک کوشروع کرنے کا پلان دراصل ملک کے نوکرشاہوں کی کردار سازی کرنے والی تنظیم وویکانند فاو ¿نڈیشن نے بنایا تھا۔تحریک شروع ہونے سے قبل فاو ¿نڈیشن نے اس تعلق سے ملکی سطح پر ایک منظم سازش رچی ۔اس نے ہندوستان کے سابق فوجی سربراہان،نوکرشاہ ،سیاسی لیڈران ،سماجی خدمت گار،ہندوتوا تنظیموں کے سربراہان کی میٹنگ کرکے اس کا خاکہ تیار کیا ۔اس میٹنگ میں ہندوستان کے ہندوتوا رجحان رکھنے والے تقریباً تمام افراد نے شرکت کی جس نے بعد میں چل کر آرایس ایس اور بی جے پی کو اپنی پناہ گاہ سمجھا اور وہاں آکر ٹھہر گئے۔اس میٹنگ میں اناہزارے،جنرل وی کے سنگھ،اروند کیجریوال ،رام دیو،سوامی اگنی ویش،کمار وشواس کے علاوہ بہت سے ہندوتوانوازوں نے شرکت کی ۔آج کے سیاسی پس منظر میں دہلی بی جے پی کا چہرے بننے والی سابق آئی پی ایس افسر کرن بیدی بھی اس میٹنگ میں اپنی موجودگی درج کراچکی ہیں۔اس میٹنگ میں ہی طے ہوچکا تھا کہ بدعنوانی کو بہانہ بناکر کس طرح اس ملک سے سیکولرزم اور کانگریس حکو مت کا صفایہ کرنا ہے۔اسی میٹنگ کا نتیجہ تھاکہ دہلی کے جنترمنترپر بدعنوانی مخالف تحریک کی شروعات ہوئی اور اس کاچہرا انا ہزارے کو بنایا گیا۔خیر آرایس ایس اور وویکانند فاو ¿نڈیشن نے جس طرح کاپلان بنایا اس نے اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ملک گیرسطح پر کانگریس کے خلاف غم وغصہ کی لہر دوڑگئی جس کا انجام یہ ہواکہ آج گانگریس حکومت سے دور ہے اورہندوتوا نواز پارٹی برسراقتدار ہے۔اسی انا تحریک سے جنم لینے والے متعدد لوگوں نے جب سیاسی پناہ حاصل کی تو یہ بات واض ©ح ہوگئی کہ وہ تحریک تو محض ایک بہانہ تھی،مقصد کانگریس کو اقتدارسے باہر کرناتھا۔انا تحریک کی حقیقت جیسے جیسے سامنے آتی گئی ویسے ویسے تحریک دم توڑتی گئی ۔پہلے تو بابارام دیو ،سوامی اگنی ویش وغیرہ نے الگ تحریک شروع کی اور اپنی اپنی سیاسی روٹیاں سینکیں۔اس کے بعد انا ہزارے کے خاص اروند کیجریوال اور ان کے ہمنواو ¿ں نے عام آدمی پارٹی کی شکل میں سیاسی اننگ کی شروعات کی ۔اس وقت اس پارٹی میں لوگوں نے آنکھ موند کریقین کیا ۔جب عام آدمی پارٹی کا وجود عمل میں آیا اس وقت اس پارٹی میں ملک کے نامور لوگوں نے اپنی زمین تلاش کی لیکن کرن بیدی نے اس وقت یہ کہتے ہوئے اس پارٹی اور سیاست کا حصہ ہونے سے انکار کردیاکہ ملک کی سبھی پارٹیاں بدعنوان ہیں۔ایک طرف توکانگریس سے جس نے ملک کو مہنگائی،بدعنوانی او ر بے روزگاری کے دل دل میں دھکیل دیا ہے وہیں دوسری جانب بی جے پی ہے جس میں گجرات مسلم نسل کشی کے سرغنہ نریندر مودی ہیں ۔میں ایسے ماحول میں نہیں جانا چاہتی ۔بلکہ ایک قدم آگے جاتے ہوئے کرن بیدی نے اس وقت اسی نریندرمودی کو یہ کہہ کر کٹہرے میں لاکھڑا کیا تھا کہ مودی کو مسلم کش فسادات کے لئے ایک نہ ایک دن جواب دینا ہوگا۔لیکن آج کا ایک دن ہے کہ وہی کرن بیدی اسی نریندر مودی کے قصیدے پڑھ رہی ہیں ۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے یا ایسی کون سی مجبوری ہے کہ آج وہی کرن بیدی نریندرمودی کے قصیدے پڑھ رہی ہے؟جواب سیدھا ہے اور وہ یہ کہ ’پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘۔دراصل یہ کہانی اسی وقت لکھی جاچکی تھی جب وویکانند فاو ¿نڈیشن کی میٹنگ ہوئی تھی ۔یہ کہانی اسی وقت لکھی جاچکی تھی جب اناتحریک ہوئی تھی۔یہ کہانی اسی وقت لکھی جاچکی تھی جب ملک میں سیکولرزم کے خلاف آواز بلند ہونے لگی تھی۔ایسے حالات میں اب اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ آنے والے دنوں میں انا تحریک سے جنم لینے والے لوگوں کی طرح پارٹیاں بھی بھگوابریگیڈ کے قدموں میں سرنگوں ہوجائیں۔
 کرن بیدی بی جے پی میں شامل ہوگئیں۔اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔آزاد ہندوستانی شہری ہونے کے ناطے انہیں انتخابات لڑنے کی پوری آزادی ہے لیکن سوالات بہت ہیں جن کے جوابات بھی کرن بیدی کو دینے پڑیں گے۔ چھتیس گڑھ میں اپنی این جی او کی طرف سے ایک پروگرام میں شامل ہونے پر انہوں نے جو سفر کے جھوٹے بل پیش کئے تھے تب بی جے پی نے بھی ان کی مخالفت کی تھی اور ان کی ایمانداری پر سوال اٹھائے تھے۔اب بھارتیہ جنتا پارٹی اس بات کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے کہ عام آدمی پارٹی، جو انا تحریک سے نکلی ہے، کے سامنے اسی تحریک کی ایک لیڈر کو کھڑا کر دیا جائے۔یہ بی جے پی کی موقع پرستی تو ہے ہی، کرن بیدی کی بھی ہے ۔
لب لباب یہ کہ کرن بیدی کو ایک ٹھکانہ مل گیا ہے اور بی جے پی کو ایسا امیدوار مل گیا ہے جو انا تحریک سے جڑی رہی ہیں۔وہ سیاست کتنی جانتی ہیں یا کتنی کر سکتی ہیں، اس پر شک تو ہوتا ہی ہے۔ساتھ ہی اس فیصلہ سے ان کی نیت پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔یاد کیجئے وہ ٹویٹ جس میں کرن بیدی نے لکھا تھا کہ کانگریس اور بی جے پی سیاسی فنڈنگ کو آر ٹی آئی کے دائرے میں نہیں لانا چاہتیں تو یہ شرم کی بات ہے اورمیرا ووٹ ان میں سے کسی پارٹی کو نہیں جائے گا۔ آج کرن بیدی اسی پارٹی میں ہے۔ کیا وہاں کرن بیدی بی جے پی صدر سے پارٹی کی فنڈنگ کا حساب مانگے گی ؟
کرن بیدی ہی ہیں جنہوں نے گجرات فسادات کے معاملے میں کلین چٹ ملنے کے باوجود نریندر مودی کی جانب سے صفائی دیئے جانے کی ضرورت بتائی تھی۔ کیا ’صفائی‘ کی وہ ضرورت اب بھی بچی ہوئی ہے یا سوچھ بھارت ابھیان کے جھونکے میں کہیں بہہ گئی ہے؟
 کیا خواتین کوبااختیار بنانے کی اپنی مہم کوکرن بیدی بی جے پی میں بھی قائم رکھ پائیں گی؟ ریپ اور فسادات کے معاملات میں نامزد وزراءکے خلاف احتجاج درج کرائیں گی؟ساکشیوں اور سادھویوں کی بدزبانی کو روک پائیں گی؟

Friday, January 16, 2015

ہندوتونوازوں کی بنگال پر بری نظر

معراج نوری
حالیہ دنوں میں جس طرح سے مغربی بنگال کی منتخب ترنمول کانگریس حکومت کو مختلف حیلے بہانے کے ذریعہ پریشان اور بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ نہ صرف یہ کہ محض اتفاق ہے بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔تقریباً تین دہائی تک کمیونسٹ حکومت ہونے کے بعد اقتدار میں آئی ترنمول کانگریس کو ۶۱مئی کے بعد ایک منظم طریقے سے رڈار پر رکھا گیا ہے۔چونکہ عام انتخابات میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آرایس ایس کے ایڑی چوٹی کا زور لگا دینے کے باوجود بھی مغربی بنگال میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی سوائے اس کے کہ ایک لوک سبھا سیٹ جیت پائی ،اس بے عزتی اور ناکامی نے سنگھ اور بی جے پی کے پیٹ میں درد پیداکردیا ۔حالانکہ جس کے پیچھے بی جے پی اور سنگھ اس قدر ہاتھ دھوکرپڑا ہے وہی ممتا بنرجی کبھی بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کا حصہ رہ چکی ہیں۔لیکن اب چونکہ وہ بی جے پی کو آنکھیں دکھا رہی ہیں اس لئے بی جے پی ان کے پیچھے پڑگئی ہے۔دراصل سیاست میں یہی وہ اہم چیز ہے جو سبھی کا سایہ بن کر ہروقت اس کے ساتھ ہواکرتی ہے۔اپنے خیمے کے مکیں ہیں تو پارسااورایماندار ہیں اور خیمے سے باہر قدم رکھتے ہی بے ایمان ،بدعنوان اور نہ جانے کیا کیا ہوجاتے ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ اس وقت سیاست میں کوئی دودھ کا دھلا بھی نہیں ہے۔یہ بات دیگر ہے کہ برسراقتدار ہونے کا فائدہ ہوتا ہے کہ اس کے تمام تر گناہوں اور بدعنوانیوں پر کچھ وقت کے لئے ہی صحیح پردہ پڑا ہوتا ہے۔اس کے برعکس آج کل ہندوستان میں ایک ایسی سیاست نے زورپکڑا ہے جس میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے مذہب ،منافرت اور نام نہاد دہشت گردی کی آڑ میں مخالفین پر حملہ آور ہوکر نہ صرف یہ کہ فضاکو مکدر کیا جائے بلکہ سیاسی زمین کو پوری طرح زہر آلود کرکے اپنی سیاسی روٹی سینکی جائے۔یوں تو وقتاً فوقتاً سبھی سیاسی پارٹیوں نے مختلف حربے کے ذریعہ مخالفین کو زیر کرکے کرسی حاصل کی ہے اور اقتدار کا مزہ لوٹا ہے لیکن مذہب ،منافرت اور نام نہاد دہشت گردی کی آڑ میں ہندوستان میں کرسی حاصل کرنے کے ساتھ عوامی جذبات کو مجروح کرنے کا باضابطہ سلسلہ انیسویں صدی کے آخری عشرے میں شروع ہوا جب ہندوستان میں یہودیوں کی ٹولی کو داخلہ دیا گیا۔ اسی ٹولی کی شہ اور سیاست نے ہندوستانی سیاست دانوں کی ذہنیت اورسیاست کو پوری طرح پراگندہ کرنا شروع کیا جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔یہودیوں کی ٹولی کے ہندوستانی کارکنان نے اب اپنا رنگ دکھا نا شروع کردیا ہے۔ہرطرف نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں۔کہیں ’لوجہاد‘تو کہیں تبدیلی مذہب،کہیں ہندوراشٹر تو کہیں ’چاربچے ‘۔یہ سب تو ظاہری طور طریقے ہیں جن سے مذہبی منافرت کا زہر بویا جارہا ہے ۔اس کے برعکس بھی کھیل ہے جو بی جے پی کی زیر قیادت آرایس ایس نواز حکومت کھیل ہے ۔وہ ہے دہشت گردی کے نام پر منتخب حکومتوں کو بدنام اور غیر مستحکم کرنا۔اس کی شروعات بی جے پی حکومت نے مغربی بنگال سے کی ہے جہاں ممتا بنرجی کی حکومت ہے اور خاص بات یہ ہے کہ وہاں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے جو ممتا کے ساتھ ہے۔بات کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ مغربی بنگال کے وردمان میں ایک گھر میں دھماکہ ہوتا ہے جس میں بم بنانے والے شکیل اور سوون منڈل کی موت ہوجاتی ہے۔رپورٹ درج ہوتی ہے اور اس پر کارروائی شروع ہوتی ہے۔جیسے ہی اس دھماکہ کے معاملے میں شکیل نام سامنے آتا ہے ملک کی میڈیا اور سنگھ کے لوگوں کو ایک ہتھیار مل جاتا ہے ۔چاروں طرف سے دہشت گردانہ کارروائی ،حزب المجاہدین،لشکرطبیہ اور ہوجی جیسی تنظیموں کی کارروائی کا شور سنائی دینے لگتا ہے۔بس پھر شروع ہوتا ہے بی جے پی اور آرایس ایس کا کھیل ۔مرکز کی بی جے پی حکومت اسے ملک کی سالمیت اور نہ جانے کس کس چیز کو خطرہ تسلیم کرلیتی ہے اور این آئی اے کو جانچ کا حکم دے دیا جاتا ہے۔افسران کا تانتا لگ جاتا ہے مغربی بنگال میں۔حد تو یہ ہوتی ہے کہ اس ادنیٰ سے معاملے کو تل کا تار بناکر پیش کیا جاتا ہے اور اسے مکمل طور پر دہشت گردانہ کارروائی ثابت کرنے میں کوئی کورکسر نہیں چھوڑی جاتی ۔بہانہ کی متلاشی بی جے پی اور آرایس ایس کو موقع مل جاتا ہے اور وہ اپنے کھیل کی شروعات کردیتی ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ مرکزی سیاست میں بی جے پی کے اہم سیاسی پارٹی کی حیثیت سے ا ±بھرنے کے بعد آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں مثلاً وشوہندوپریشد،بجرنگ دل کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور وہ اب ریاست مغربی بنگال میں اپنے قدم مضبوطی سے جمانے کی کوشش کررہی ہیں۔آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ ملک گیر سطح پرآر ایس ایس کی لہر چل رہی ہے اور بنگال ملک کا ہی ایک حصہ ہے۔ ہمارا مقصد اب ریاست کے ہر بلاک تک پہنچنا ہے۔ آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے حال ہی میں ریاست کا دورہ کیا تھا ۔ 
دراصل مغربی بنگال میں بہت دنوں سے فسادات نہیں ہوئے ہیں اسی لئے یہاں بی جے پی کو زمین بھی نہیں مل پائی مگر اب وہ امن و مان کی اس دھرتی کو اپنے ناپاک عزائم سے خاک وخون میں نہلانا چاہتی ہے۔جس کی شروعات اس نے نام نہاد دہشت گردی کو بہانہ بناکر کردی ہے۔یہاں کا امن وامان اور فرقہ وارنہ یکجہتی کا ماحول فرقہ پرستوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا ہے۔جس طرح یوپی میں جاٹوں کو مسلمانوں نے سے الگ کیا گیا اسی طرح بنگال میں ہندوو ¿ں اور مسلمانوںکے بیچ دوری پیدا کرنے کی کوشش چل رہی ہے۔ ۲۶فیصد مسلم ووٹوں کو تب ہی بے کار کیا جاسکتا ہے جب یہاں کی ہندو اکثریت کو مسلمانوں کے خلاف متحد کردیا جائے۔ اس کے لئے ماحول سازگار کیا جارہا ہے اور ہندووں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں۔ انھیں میڈیا کے ذریعہ یہ باور کرانے کی کوشش چل رہی ہے کہ بنگال کے مسلمانوں کے تار بنگلہ دیشی دہشت گردوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہاں سے دنیا کے دوسرے ملکوں میں ہتھیار بھیجے جارہے ہیں؟یا بردوان دھماکے کے بہانے عوام میں بھرم پھیلانے کی کوشش چل رہی ہے؟ موجودہ حالات کو آئندہ ودھان سبھا انتخابات تک قائم رکھنے کی کوشش ہوگی تاکہ اسے بہانہ بناکر ممتا بنرجی سرکار کے خلاف ہندووں کو متحد کیا جائے جس طرح گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں پورے ملک میں مودی لہر کے نام پر کیا گیا؟ ان دنوں دہلی سے کولکاتہ تک ہر جگہ یہ تاثر دینے کی کوشش ہورہی ہے کہ مغربی بنگال دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے اور یہاں کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ یہاں القاعدہ اپنا نیا ٹھکانہ بنا رہی ہے اور عوام کی زندگی خطروں سے دوچار ہے۔ اسی کے ساتھ سنگھ پریوار نے اپنی پوری طاقت مغربی بنگال میں جھونک دی ہے اور ابھی سے وہ اسمبلی الیکشن کی تیاری میں لگ گیا ہے۔ یہاں وشوہندو پریشد کا کنونشن ہورہا ہے اور موہن بھاگوت جیسے لیڈران دورے کر رہے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں بی جے پی کے اثرات پہلے ہی بڑھے ہوئے تھے مگر اب تو دوسرے علاقوں میں بھی اس کے اثرات میں اضافہ کی کوشش ہورہی ہے۔ میڈیا کی فرضی اور گمراہ کن خبروں کو بہانہ بناکر بنگال کے اس پر امن علاقے میں نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں اور ان کے پھولنے پھلنے کا انتظار کیا جارہاہے تاکہ آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اس پروپگنڈے کے سہارے اقتدار تک پہنچ بنائی جائے۔
اس لئے وقت کی ضرورت ہے کہ فرقہ پرستوں کے اس ناپاک اور گھناونے عزائم کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے ۔ورنہ بعید نہیں کہ ملک ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کے ساتھ ساتھ امن وامان کو خطرات لاحق ہوجائیں۔
merajmn@gmail.com

Thursday, January 8, 2015

دیکھو ،پی کے مت دیکھو PK

ن دنوں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسی تنظیم کچھ زیادہ فعال اور مشتعل تیور میں نظر آ رہے ہیں. اس لئے کہ مرکز میں اب ایسی حکومت ہے جس سے انہیں اپنی طرفداری کا بھروسہ ہے۔ احمد آؓباد، بھوپال اور دوسرے بھی کئی شہروں میں ان تنظیموں کے کارکنوں نے PK فلم پر پابندی لگانے کی مانگ کو لے کر مظاہرہ کرنے کے ساتھ ہی متعلقہ سنیما گھروں میں توڑ پھوڑ کی، فلم کے پوسٹر پھاڑے، آگ لگا دینے کی دھمکیاں دیں۔ مگر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکی ہے! ان تنظیموں کا الزام ہے کہ اس فلم میں ہندوو ¿ں کے دیوی دیوتاو ¿ں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ مگر یہ بات کسی کے گلے نہیں اتر رہی۔ اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ناظرین میں اسے لے کرشوق قائم ہے۔ کچھ دنوں کے اندر ہی اس نے دو سو کروڑ روپے سے زیادہ کی کمائی کر لی۔اصل میں یہ فلم بھی تفریح کے مقصد سے ہی بنائی گئی ہے، جیسے کہ تمام فلمیں بنتی ہیں۔ البتہ اس میں مذہبی پاکھڈو پر طنز ضرور کیا گیا ہے، پر یہ طنز کسی ایک مذہب کے ڈھونگ تک محدود نہیں ہے۔ادب اور مختلف فن میں معاشرے کی بے ضابطگیوں، رسم و رواج پر سوال اٹھانے کی طویل روایت رہی ہے۔ 
فلم پی کے کی کہانی کسی انجان سیارے سے تحقیق کرنے کے مقصد سے آئے ایک شخص کی الجھنوں، مذہبی ’کرم کانڈوں‘پر بھروسہ کرکے ٹھگے جانے اور پھر اس سےمتنفر ہونے کو لے کر بنیہے۔ اس میں اکیلے ہندو مذہب کے نہیں، دیگر مذاہب کے بھی نام نہاد سنتوں، مہتماو ¿ں، پادریوں، مذہبی رہنماو ¿ں سے اس کی ملاقات ہوتی ہے۔تمام جگہ اسے لوگ کرم کانڈوںکے بے معنی اور چھل یا موہ سے ملتے ہیں۔کہیں بھی دلیل کی گنجائش نہیں ہے۔ وہ دلیل دیتا ہے تو کھدےڑا جاتا ہے۔ وہ بھلا کب منطق اور سائنسی نقطہ نظر کا دخل برداشت کریں گے۔ فلم پر پابندی کا مطالبہ کر رہی تنظیموں نے خاص طور پرعامر خان پر نشانہ پر نشانہ لگایا ہے اور اس طرح معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ یہ فلم عامر دماغ کی اختراع نہیں ہے، اس میں ان کا کام محض ایک اداکار کا ہے۔جس فلم کو سینسر بورڈ منظوری دے چکا ہو، اس پر پابندی کیوں لگے؟
اس سے پہلے بھی کئی فلموں کے، کتابیں، پینٹنگ تنگ سوچ کا نشانہ بنی ہیں۔ عظیم مصورمقبول فدا حسین کو توجلاوطنی میں زندگی گزارنے کو مجبور ہونا پڑا تھا۔ وینڈی ڈونگر کی کتاب ان کے ناشر نے مارکیٹ سے واپس لے لی تھی۔ ایک تازہ واقعہ تمل ناڈو کا ہے، جہاں ہندوتوادی تنظیموں نے چار سال پہلے شائع ایک تامل ناول کی کاپیاں جلاکر اس پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ جمہوریت کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا کہ انتخابات ہوتے رہیں اور مختلف جماعتوں کو اقتدار کی اپنی دعویداری آزمانے کا موقع ملتا رہے۔ جمہوریت کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ اظہار کی آزادی سمیت تمام شہری حقوق محفوظ رہیں۔ کیا اب مصنفین، فلم سازوں، فنکاروں وغیرہ کو اپنی تخلیقات پر ثقافت کے ’خود ساختہ ‘محافظوں' کی سفارش لینی پڑے گی!
اوپر سے سبرامنیم سوامی جیسے سرپھرے فلم میں جہادی فنڈ لگنے کی بات کہہ رہے ہیں ۔انہیں اپنی پارٹی کے پریش راول سے سوال کرنا چاہئے کہ ان فلم او مائی گوڈ میں کس کاپیسہ لگا تھا۔ابھینو بھارت کا یہ ہندومہاسبھا کا۔اس کی محافظ تو شیوسینا ہوگی۔اس فلم میں جس قدر ہندو پاکھنڈ کا مذاق بنایا گیا ہے اس کاعشرعشیر بھی پی کے میں نہیں اس لیے کہا جاتا ہے کہ pkدیکھو ’پی کے ‘ مت دیکھو۔
واضح رہے کہ کم وقت میں سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی فلم ’پی کے‘ کے خلاف پورے ہندوستان میںمظاہرے ہوئے ۔ اس کے باوجود بزنس کے اعتبار سے اس فلم نے ’دھوم تھری‘ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔’پی کے‘ کے ڈائریکٹر راجکمار ہیرانی نے بتایا کہ یہ فلم 19 دسمبر کو نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی اور اب تک یہ 278 کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار کر چکی ہے۔ اس فلم کو دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا بھی ہے۔ ان کا مو ¿قف ہے کہ ’پی کے‘ میں ہندو مذہب کی توہین کی گئی ہے۔
بھارتی جنتا پارٹی ’بی جے پی‘ کی سربراہی والی صوبے مہاراشٹر کی حکومت نے عامر خان کی اس فلم پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ۔ صوبائی وزیر داخلہ رام شندے نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے آئی جی پولیس دیوان بھارتی سے اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدار تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پولیس سے درخواست کی ہے کہ اگر فلم کی کہانی یا ڈائیلاگ میں کوئی بھی قابل اعتراض بات سامنے آتی ہے تو فوری طور پر کارروائی کی جائے۔تاہم فلم ڈائریکٹر راجکمار نے ’پی کے‘ پر عائد کیے جانے والے تمام اعتراضات کو مسترد کر دیا ہے۔
اداکار عامر خان اور ڈائریکٹر راجکمار ہیرانی کی یہ دوسری فلم ہے۔ اس سے قبل ان دونوں کی فلم ’تھری ایڈیئٹس‘ نے 202 کروڑ روپے کا کاروبار کیا تھا اور کمائی کے اعتبار سے وہ اپنے وقت کی کامیاب ترین فلم تھی۔ عامر خان کی ’دھوم تھری‘ کو 271 کروڑ، سلمان خان کی ’ کِک‘ 244 اور شاہ رخ خان کی ’چنئی ایکسپریس‘ کو 228 کروڑ کے کاروبار کے حوالے سے بالی ووڈ کی سر فہرست فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ’پی کے‘ بھارت سے باہر بھی تقریباً 124 کروڑ کا بزنس کر چکی ہے۔
دراصل فلم پی کا موضوع ہندی سینما کی روٹین فلموں سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔ یہاں پی کے سے مراد پاکستان نہیں گوکہ اس فلم میں پاکستان کا بھی ذکر ہے اور یہ ذکر اچھے اور مثبت انداز میں ہے بلکہ ایسا شخص ہے جو شراب پیتا ہو لیکن اس فلم میں پی کے پان تو ضرور کھاتا ہے لیکن پیتا نہیں ہے مگر پھر بھی اسے ہر کوئی پی کے نام سے پکارتا ہے اور پھر یہی نام فلم کے مرکزی کردار کا اختتام تک رہتا ہے۔
پی کے کا موضوع بالی ووڈ کی فلم او مائی گاڈ سے ملتا جلتا ہے۔ پی کے کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ جیسے انسان دوسرے سیاروں پر زندگی کو ڈھونڈنے کے لیئے تحقیق کرتے ہیں اور ان پر جاتے ہیں اسی طرح ممکن ہے کہ کسی سیارے پر زندگی ہو اور وہاں کے لوگ اس دنیا پر تحقیق کے لئے آرہے ہوں۔ اسی طرح ایک اسپیس شپ راجستھان میں اترتی ہے جس میں سے پی کے یعنی عامر خان زمین پر قدم رکھتے ہیں۔ اسی صحرا میں پی کے کا ریموٹ کنٹرول جو دراصل اسپیس شپ کو واپس بلانے کا ذریعہ ہوتا ہے ایک چور چھین کر بھاگ جاتا ہے۔ اس کے بعد فلم میں کچھ روایتی مزاح اور گانے شامل ہیں۔ فلم کی اصل کہانی دوسرے حصہ میں شروع ہوتی ہے جب پی کے اپنا ریموٹ کنٹرول تلاش کرنا شروع کرتا ہے۔ وہ مختلف لوگوں سے پوچھتا ہے پولیس کے پاس بھی جاتا ہے سب اس سے یہی کہتے ہیں کہ تمہاری مدد صرف بھگوان ہی کرسکتا ہے یہاں سے وہ حصہ شروع ہے جس پر پورے بھارت میں کافی ہنگامہ ہوا۔یہ فلم اور اس کی کہانی بھگوان خدا یا کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ ہر مذہب کے بڑے یا بقول پی کے مذہب کے ٹھیکے داروںکے خلاف ہے۔

کشمیر کی معلق اسمبلی:سانپ کے منہ میں چھچھوندر

جموں و کشمیر میں حکومت سازی کے لئے تینوں اہم کھلاڑی یعنی پی ڈی پی ، بی جے پی اور نیشنل کانفرنس نے جس طرح تمام اصولوں آدرشوں اور پالیسیوں کو نظر انداز کرکے ایک دوسرے سے گٹھ جوڑ کی کوششیں شروع کی ہیں اس سے ہندوستانی سیاست کا بہت ہی کریہہ چہرہ ایک بار پھر سامنے آرہا ہے جس میں اقتدار اور صرف اقتدار ہی سب کچھ ہے اور اس کے لئے سارے اصولوں آدرشوں پالیسیوں اور پروگراموں کو گندے کپڑوں کی طرح اتار پھینکا جاسکتاہے ۔بی جے پی سے نظریاتی اور سیاسی اختلاف کو نظر انداز کرکے جس طرح مفتی سعید کی پی ڈی پی اور عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس نے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی ہے اس سے وادی کا ووٹر خود کو ٹھگا سا محسوس کررہاہے۔
اسی طرح دونوں پارٹیوں سے نظریاتی اور سیاسی اختلاف رکھنے والی بی جے پی اقتدار کے لئے ان دونوں پارٹیوں سے فلرٹ کررہی ہے ۔بی جے پی خصوصاً اس کے اسٹار کمپینر اور وزیر اعظم نریندر مودی نے جس طرح وادی میں انتخابی مہم کے دوران باپ بیٹے ( یعنی نیشنل کانفرنس) اور باپ بیٹی یعنی پی ڈی پی پر بہت ہی اوچھے اور ذاتی نوعیت کے حملے کئے اس کے بعد ان پارٹیوں کا بی جے پی کا ساتھ لینے یادینے کی جو مقابلہ آرائی ہورہی ہے وہ افسوسناک بھی ہے اور حیران کن بھی ۔بی جے پی کی لیڈر شپ کو بھی جواب دیناہوگا کہ اب باپ بیٹے کی باپ بیٹی میں کون سے سرخاب کے پر لگ گئے کہ اب ان کی حمایت سے حکومت بنانے میں ذرہ برابر بھی شرم نہیں آرہی ہے۔
دراصل جموں کشمیر میں حکومت سازی کھینچ تان کا نہیں تکلّفات کا شکار ہے۔ پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی واضح الفاظ میں کہہ رہی ہیں کہ ان کے پاس 55 ممبروں کی حمایت ہے جبکہ حکومت بنانے کے لئے 45 ممبر بہت کافی ہیں ۔اس کے باوجود وہ اس لئے حکومت نہیں بنارہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ حکومت میں جموں کی نمائندگی ہو اور ایسی نمائندگی جسے بی جے پی اپنی سمجھے۔ یہ بہت معقول بات ہے لیکن محبوبہ مفتی صاحبہ کی اس بات سے کوئی اتفاق نہیں کرے گا کہ وہ آج کی بی جے پی کو ساتھ لیں اور تصویر اٹل بہاری باجپئی کی لگائیں۔
اٹل جی بے شک بی جے پی کے لئے ایک مقدس نام ہے ۔یہ ان ہی کا دم تھا کہ جس بی جے پی کی پارلیمنٹ میں صرف دو سیٹیں تھیں اسی بی جے پی کی انہوں نے 1998 میں حکومت بنائی اور چھ سال حکومت کی لیکن محبوبہ مفتی کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بی جے پی کے ماں باپ موہن بھاگوت اور اشوک سنگھل ان چھ برسوں کو بھی غلامی کے دَور میں شامل کرتے ہیں ۔وہ ہندو حکومت یا بی جے پی کی حکومت اسے مانتے ہیں جس نے 26 مئی کی شام کو حلف لیا تھا۔
محبوبہ مفتی ہوں یا مفتی سعید مغل حکومت کی تاریخ پر نظر ڈال لیں تو انہیں اندازہ ہوجائے گا کہ حکومت کے لئے بھائی نے بھائی کے ساتھ باپ نے بیٹوں کے ساتھ اور بیٹوں نے باپ کے ساتھ کیا کیا کیا ہے؟ شری نریندر مودی نے بھلے ہی موقع ملتے ہی انہیں بھارت رتن بنوا دیا لیکن وہ یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے کہ اٹل جی ان سے اچھے وزیر اعظم تھے اور پاکستان یا کشمیر کے لئے جو کچھ انہوں نے سوچا وہ اس سے زیادہ اچھا ہوگا جو مودی سوچ رہے ہیں۔ مودی نے ہر مہینے کشمیر کا دورہ کرکے ثابت کردیا کہ انہیں کشمیر کی سب سے زیادہ فکر ہے۔ اب یہ تقدیر کا فیصلہ ہے کہ وہ ان کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے لئے تیار ہیں جن کے چنگل سے کشمیر کو نکال کر بی جے پی کو دینے کا انہوں نے شیرکشمیر اسٹیڈیم میں مجمع سے عہد لیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ مجمع کشمیر کے باہر کا ہو! 
محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ ہمیں حکومت بنانے کی جلدی نہیں ہے۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ جلدبازی کے بجائے ٹھنڈا کرکے کھائیں ۔ کشمیر کی اسمبلی میں ک ±ل ستاسی نشستیں ہیں اور اکثریت کے لئے چوالیس کا عدد ضروری ہوتا ہے۔
حالیہ انتخابات میں پی ڈی پی کو سب سے زیادہ یعنی اٹھائیس سیٹیں ملی ہیں اور جموں خطے کی سینتیس میں سے پچیس سیٹوں پربی جے پی کو جیت حاصل ہوئی ہے۔ ایک پیچیدہ مسئلہ یہ پیدا ہوا ہے کہ کشمیر میں ہندو ووٹ مستحکم ہوکر بی جے پی کی جھولی میں گیا ہے جبکہ مسلم ووٹ تقسیم در تقسیم ہوکر پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، کانگریس اور آزاد امیدواروں کے درمیان بٹ کے رہ گیا ہے۔یہ ایسی صورتحال ہے جس میں اقتدار کے تین جوڑے ا ±بھرتے ہیں۔ ان میں سرفہرست بی جے پی اور پی ڈی پی ہے۔ان دونوں کے پاس تینتالیس نشستیں ہیں اور ایک سیٹ کی حمایت بالکل ممکن ہے کیونکہ بی جے پی کو دیگر کئی ممبران کی حمایت حاصل ہے لیکن حکومت سازی میں تاخیر کی وجہ سیٹوں کا اعدادوشمار نہیں بلکہ بی جے پی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے متضاد سیاسی نظریات ہیں۔بی جے پی کشمیر پر ہندو اقتدار کی بحالی، کشمیر کا بھارتی وفاق میں مکمل ادغام اور دوسرے مسلم مخالف منصوبوں کا اعلان کرچکی ہے، جبکہ پی ڈی پی بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات، کشمیر میں خودحکمرانی، علیحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت اور نئی دہلی کی محدود مداخلت کی حامی ہے۔اگر پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ اقتدار کا کوئی معاہدہ کرلیا تو یہ براہ راست نیشنل کانفرنس کی اخلاقی جیت ہوگی، جس پر مفتی سعید آمادہ نہیں ہیں۔دوسرا آپشن بی جے پی اور نیشنل کانفرنس ہے۔دونوں کی کل ملاکر سینتیس سیٹیں ملی ہیں۔ عمرعبداللہ کو اپنی سیٹوں کے علاوہ دیگر چار امیدواروں کی حمایت حاصل ہے، لہٰذا دونوں کو چوالیس سیٹوں کا مطلوب عدد حاصل ہوجائے گا۔
لیکن عمرعبداللہ پہلے ہی بی جے پی کے نظریات کی وجہ سے اس پارٹی کے ساتھ شراکت اقتدار کے کسی بھی معاہدے کو خارج از امکان قرار دے چکے ہیں۔ اور وہ جانتے ہیں بی جے پی کے ساتھ مشترکہ حکومت کرنے کے عوض اٹھائیس ممبران کی اپوزیشن کو جھیلنا مشکل ہوگا۔تیسرا آپشن پی ڈی پی کی اٹھائیس اور کانگریس کی بارہ نشستوں کو جوڑ کر چالیس کا عدد بنتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پی ڈی پی اور کانگریس مشترکہ اقتدار پر آمادہ ہوجائے تو انہیں چار ممبران کی حمایت مطلوب ہوگی۔
واضح رہے سابق علیحدگی پسند سجاد غنی لون کے پاس دو ممبران ہیں جبکہ پانچ دیگر آزاد امیدوار ہیں۔ ک ±ل ملاکر ان سات ممبران میں سے بی جے پی کو دو اور نیشنل کانفرنس کو دو ممبران کی حمایت پہلے ہی حاصل ہے۔وہاں صرف سجاد لون کے دو اور انجینئر رشید بچتے ہیں۔ ان تینوں کو ملا کر بھی پی ڈی پی اور کانگریس کو ایک رکن اسمبلی کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ محض ایک ممبر کا مزاج بگڑ گیا تو حکومت گرجائے۔‘ انہوں نے 1999 کا حوالہ دیا جب پارلیمنٹ میں صرف ایک ممبر سیف الدین سوز نے بی جے پی کی حکومت کے خلاف ووٹ دے کر حکومت گرادی۔اب سوال یہ ہے کہ بی جے پی اور پی ڈی پی کیا کریں گے؟دوسری جانب عمر عبداللہ نے پی ڈی پی کو رسمی طورپر حمایت کی پیشکش کی تھی اور کہاتھا کہ اگر بہار کے لالوپرساد اور نتیش کمار ایک ساتھ کام کرسکتے ہیں ہم کیوں نہیں؟مبصرین کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے روایتی حریف مفتی سعید کو نفسیاتی الجھن میں ڈال دیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ موجودہ اسمبلی کی معیاد اٹھائیس دسمبر کو ختم ہوگئی ہے اور پانچ جنوری سے پہلے نئی حکومت کی حلف برداری نہیں ہوئی ہے جو کہ آئینی ضرورت تھی۔ اب ایسے میں اس بات کے بھی غالب امکانات ہیں کہ کشمیر میں چھ ماہ کے لیے گورنر راج کا نفاذہوسکتا ہے اور بعد ازاں دوبارہ انتخابات کا اعلان ہوگا۔
لب و لبا ب یہ کہ جس طرح جموں اور کشمیر کے ووٹروں نے الگ الگ نظریاتی دھاروں کی حمایت کی ہے، انھیں جوڑنا اور دونوں خطوں کے درمیان رواداری پیدا کرنا نئی حکومت کا سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔ اور اس کام کے لئے فی الوقت مفتی صاحب سے زیادہ مناسب کوئی دوسرا لیڈر نہیں دکھائی دیتا مگر وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے کانگریس کو ساتھ لیکر حکومت بنائی تو مودی کی سر براہی والی بی جے پی کی مرکزی حکومت ان کی زندگی اجیرن کردے گی کیونکہ مرکزی امداد کے بغیر جموں و کشمیر حکومت ایک دن بھی کام نہیں کر سکے گی۔ دوسری جانب اگر بی جے پی کو حکومت میں شامل کرلیا تو نہ صرف وہ اپنی پالیسیوں اور پروگراموں پر عمل نہیں کر پائیں گے بلکہ ان کی پی ڈی پی میں پھوٹ بھی پڑ سکتی ہے کیونکہ پارٹی کے زیادہ تر ممبران اسمبلی بی جے پی سے گٹھ جوڑ کے مخالف ہیں۔ مفتی صاحب کے لئے سب سے بہتر متبادل کانگریس کی شمولیت اور نیشنل کانفرنس کی بیرونی امداد سے حکومت بنانا اور جموں کی ترقی نیز کشمیر کی پنڈتوں کی باز آباد کاری کا ٹھوس فارمولہ بنانا اس پر عمل کرنا ہوگا تاکہ جموں کے عوام خود کو الگ تھلگ نہ محسوس کرسکیں اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ وادی میں علاحدگی پسندی کے جذبات کو بھڑکائے گا جس کا فائدہ سرحد پار بیٹھے ہند مخالف عناصر اٹھاسکتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ کشمیر کے ووٹروں نے بی جے پی کو جس تذبذب میں ڈالا ہے وہ سانپ کے منہ میں چھچھوندر کے متراد ف ہے کہ اگلے تو کوڑھی ،نگل لے تو اندھا۔

ہائی ٹیک دہلی اسمبلی انتخابات

اگلے چند ہفتوں میں قومی دارالحکومت دہلی کے ووٹر نئی اور ممکنہ طورپر مستقل حکومت کے لئے ووٹ ڈالیں گے۔ فی الحال دہلی میں فروری 2014 سے صدر راج نافذہے جب سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اپنی 49 دن کی حکومت کے بعد عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔
بھارتی سیاسی نظام میں دہلی کا اپنا ایک الگ ہی درجہ ہے جہاں نہ تو اسے مکمل ریاست کا درجہ حاصل ہے اور نہ ہی مکمل طور پر وہ مرکز کے زیر انتظام ریاست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی کے وزیر اعلی کے پاس ملک کے دیگر وزرائے اعلی کے مقابلے میں سب سے کم حق ہوتے ہیں۔اس کے باوجو د سبھی سیاسی پارٹیاں یہاں کی گدی حاصل کرنے کی جی توڑ کوششوں میںمصروف ہوتی ہیں۔اب جبکہ انتخابات کےلئے وقت کم رہ گیا ہے سبھی پارٹیوں نے اپنے اپنے حربے استعمال کرنے شروع کردیئے ہیں۔انتخابی مہم شروع بھی ہوچکی ہیں۔عام آدمی پارٹی اور کانگریس نے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی کردیا ہے ۔دہلی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کو لے کر بی جے پی نے اپنے اسٹار پرچارکوںکی ایک ٹیم بنائی ہے۔ فہرست میں بی جے پی نے ایم پی ہیما مالنی، شتروگھن سنہا، ونود کھنہ، اسمرتی ایرانی جیسے لیڈروں کو پرچارمیں لگانے کا فیصلہ کیا ہے جو قومی دارالحکومت میں انتخابی ریلیوں کو بھی خطاب کریں گے۔
دہلی بی جے پی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ پارٹی نے اب تک انتخابی مہم کے لئے 18 لوگوں کی فہرست تیار کی ہے۔ اس فہرست میں پی ایم نریندر مودی اور بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کا نام بھی شامل ہے۔دہلی اسمبلی انتخابات کے لئے اپنی تیاریوں میں بی جے پی کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی ہے اور وہ 10 جنوری کو رام لیلا میدان میں ایک بڑی ریلی منعقد کر رہی ہے جسے نریندر مودی خطاب کریں گے۔ اس ریلی میں ہریانہ، جھارکھنڈ اور مہاراشٹر کے وزیر اعلی بھی حصہ لیں گے۔
مودی لہر کی برقراری اور راجدھانی دہلی کو ہتھیانے کیلئے بی جے پی کوئی بھی کسر چھوڑنے والی نہیں ہے۔ پارٹی نے فروری میں متوقع دہلی اسمبلی الیکشن کیلئے جہاں راجدھانی کی ہر بڑی آبادی اور بلاک و ضلع تک اپنے ممبران پارلیمنٹ کو لگایا ہوا ہے وہیں اس نے فلمی دنیا کے اسٹار پرچارکوں کو بھی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلمی ستاروں کی ایک بڑی لائن ہے جو وہ دہلی اسمبلی الیکشن میں استعمال کرنیو الی ہے۔ فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والے بی جے پی لیڈروں میں ہیمامالنی، شتروگھن سنہا، اسمرتی ایرانی، ونود کھنہ اور منوج تیواری بھی اس کی فلمی ستاروں کی فہرست میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی دیگر فلمی ستاروں کو بھی تشہیری مہم میں لیا جائے گا۔ بی جے پی پارٹی ذرائع کی مانیں تو اس نے دہلی اسمبلی انتخابات میں مودی لہر کو برقرار رکھنے کے لئے سارے جتن کئے ہوئے ہیں۔ادھر کانگریس پارٹی سے ملنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ وہ بھی خامو ش نہیں رہے گی۔ کانگریس ذرائع نے بتایا کہ اس کے لیڈران بھی فلمی ستاروں کا سہارا لیں گے لیکن ان کی زیادہ کوشش اس بات پر ہوگی کہ ترجیحات میں ریاستی لیڈروں کو رکھا جائے کیونکہ عوامی لبھاو ¿نے وعدوں کے بجائے انہیں عوامی ذمہ داریوں پر انتخاب لڑنا ہے۔ کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے بتایا کہ ہم بیٹھے نہیں رہیں گے وقت آنے دیجئے تشہیر ی مہم میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ادھر عام آدمی پارٹی بھی جلسے اور جلوسو ں میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔ دہلی کو جیتنے کیلئے تینوں پارٹیوں نے اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہونے سے قبل بڑی بڑی ریلیاں کرڈالی ہیں۔
کانگریس پارٹی اروندر سنگھ لولی کی قیادت میں متحد ہورہی ہے ۔ دہلی اسمبلی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے کانگریس پارٹی نے اپنی الیکشن کمیٹی میں اضافہ کرتے ہوئے پانچ سینئر لیڈران کو شامل کیا ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے مطابق دہلی کے متوقع فروری 2015میں ہونے والے اسمبلی الیکشن کیلئے ریاستی کانگریس کمیٹی میں مزید لوگوں کو شامل کیاگیا ہے۔ دہلی میں کامیابی حاصل کرنے اور لوگوں کو بیدار کرنے کیلئے سابق مرکزی وزیر کپل سبل ،سابق ممبر پارلیمنٹ سندیپ دکشت، سابق مرکزی وزیر کرشنا تیرتھ،سابق اسمبلی اسپیکر یوگ آنند شاستری اور دہلی وقف بورڈ چیئرمین چودھری متین احمد کو شامل کیاگیا ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے اس سے قبل دہلی اسمبلی الیکشن کیلئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی تھیں ان کمیٹیوں میں کپل سبل سندیپ دکشت ، کرشنا تیرتھ،یوگ آنند شاستری وغیرہ کوشامل نہیں کیا تھا جبکہ منشور کمیٹی میں چودھری متین احمد کو بطور ممبر شامل کیاگیا تھا۔ کانگریس پارٹی دہلی میں اپنی کھوئی ہوئی زمین حاصل کرنے کیلئے مسلسل کوشاں ہے اور پارٹی کی جانب سے دعوی کیا جارہا ہے کہ آئندہ ہونے والے اسمبلی الیکشن میں کانگریس پارٹی مضبوط طریقے سے واپسی کرنے کیلئے اپنے لیڈران کو ہدایت جاری کررہی ہے۔
دراصل ہندوستان کی سیاست میں جو گرمجوشی اور دلچسپی اب دکھائی پڑتی ہے وہ ممکنہ طور پر آج سے 10 سال قبل شاید بالکل نہیںتھی۔ ہر پانچ سال کے بعد انتخابات تو ہوتے تھے مگر’گرمجوشی‘ کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ میڈیا کا بڑھتا دائرہ کہیںیا پھرسیاسی پارٹیوں کی دلچسپی پہلے سے انتخابی گرمجوشی میں اضافہ ضرورہوا ہے۔ اب اگر خود ایک ’عام آدمی‘انتخابی اکھاڑے میں اتر جائے تو دیگر لوگوں کا دلچسپی لینا تو فطری ہے نہ؟
دہلی اسمبلی انتخابات میں اس بار پرچارکا اصلی رنگ سوشل میڈیا پر دیکھ سکتے ہیں۔ تقریبا تمام پارٹیاں نوجوان نسل اور کاروباری لوگوں سے جڑنے کے لیے اس کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس طریقے نے پرچارکا خرچ تو کم کیا ہی ہے، امیدواروں اور ووٹروں کے درمیان ڈائیلاگ کی راہ بھی کھولی ہے۔فیس بک جیسی سوشل میڈیا ویب سائٹ پر لوگ امیدواروں اور پارٹیوں سے براہ راست سوال پوچھ رہے ہیں اور مشورہ بھی دے رہے ہیں۔ دہلی میں انتخابی مہم مسلسل ہائی ٹیک ہوتی جا رہی ہے۔ تشہیر کا اصل ذمہ طرح طرح کے کمپیوٹر اور کمپیوٹر پر کام کرنے والے سنبھال رہے ہیں۔ گلی محلوں کی چوپالوں کی جگہ ای چوپال نے لے لی ہے اور رنگین پرچوں کی جگہ ای میل نے۔حال یہ ہے کہ جلسے کرنے کے بجائے امیدوار ووٹروں کو گھر بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے خطاب کر رہے ہیں۔ فیس بک، ٹوئٹر، ای میل، ایس ایم ایس، وہاٹس اےپ، یوٹیوب یہ سب سیاسی جماعتوں کے نئے سپاہی ہیں۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر چل رہی جنگ میں انہی سپاہیوں کے ذریعہ انتخابی طوفان نظر آتا ہے۔
دراصل دہلی میں قریب 50 لاکھ نےٹ استعمال کرنے والے لوگ ہیں۔ یعنی ایسے شہری جو انٹرنیٹ سے جڑے ہیں۔ ایسے میں تمام پارٹیوں نے سوشل میڈیا سیل بنایا ہے تاکہ انہیں لبھایا جا سکے۔ یہی نہیں، کم پیسوں میں انتخاب لڑنے کے مقصد سے بھی ان آن لائن ذرائع کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ فیس بک اور ٹوئٹر پر لوگوں سے حمایت کی اپیل کی جا رہی ہے۔ امیدواروں کا پروفائل بنا کر ان کی تصویر سمیت تمام معلومات دی جا رہی ہیں۔ یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کی پارٹی دوسری جماعتوں سے کیسے مختلف ہے۔ عوام کے سوالات کے جواب دیئے جا رہے ہیں اور منشور بنانے میں لوگوں کے مشورے مانگے جا رہے ہیں۔
دہلی کا الیکشن دراصل نریندر مودی کی ناک کا سوال بن گیا ہے اور یہ بھیت حقیقت ہے کہ یہاں کئی سیٹیں ایسی ہیںجہاں مسلمان ووٹر فیصلہ کن حالت میں ہیں لیکن کیا ان سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ اپنی حیثیت کو سمجھتے ہوئے کوئی بالغ نظر فیصلہ کرسکیں گے۔انہیں میں سے کئی ایسے شورما ہیں جوٹکے ٹکے میں بک جاتے ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ انتخاب جیتنا ان کے بس کی بات نہیں ۔سو دوسو ووٹ پانے والے کئی امیدوار کھڑے ہوجائیں گے ۔ووٹوں کی تقسیم مسلم ووٹوں کی حیثیت پہلے بھی صفر کرچکی ہے۔حریف جماعت نے پہلے ہی ملک کے ووٹروں سے 15فیصد کو الگ کرکے 85فیصد کی شطرنج بچھا رکھی ہے۔ہندوپرائڈ کا نغمہ گاکر جذبات کو اس قدر ابھارا جارہا ہے کہ وہ تو ایک ہوجائیں گے اور آپ اپنی اپنی ڈیڑھ انینٹ کی الگ الگ مسجد بناکر خود ہی نائب خود ہی امام بن جائیں گے۔اب بھی وقت ہے ۔ہندوستان کی تاریخ کروٹ لے رہی ہے۔اور یہ توممکن نہیں کہ اس تاریخ کی سیاہی مسلمانوں کے نام پر ختم ہوجائے۔مگر یہ بھی سچ ہے کہ سوئی آنکھوں کو تو جگایا جاسکتا ہے مگر ہوئے ضمیر جاگ جائیں گے ۔وقت کا انتظار ہے۔


सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...