معراج نوری
دہلی کا تاج کون پہنے گا، اس کا فیصلہ تو دہلی کے عوام ہی کریں گے لیکن دہلی کی سرد ہوائیں انتخابی موسم میں اب گرماہٹ کا احساس کرانے لگی ہیں۔ کرن بیدی کا نیا سیاسی ’اوتار‘ دہلی کی سردی پر بھاری انتخابی گرمی کا احساس کرانے کے لئے کافی ہے۔
سماجی کارکن انا ہزارے کے منچ پر ترنگا لہراتی کرن بیدی کے تیکھے ٹویٹ کبھی نریندر مودی کے خلاف ان کی نفرت کو بیان کیا کرتے تھے۔ جن میں سے ایک میں یہ بھی ذکر تھا کہ گجرات فسادات پر مودی کو ایک دن جواب دینا ہوگا، لیکن مودی کا وقت بدلا تو اب کرن بیدی بھی بدلی بدلی نظر آنے لگی ہیں۔عوامی طور پر ’بھگوا رنگ‘ میں رنگ چکی بیدی کے اس نئے ’اوتار‘ کی جھلک تو کئی ماہ پہلے سے ہی نظر آنے لگی تھی، جب انہوں نے بی جے پی اور نریندر مودی کی تعریف میں قصیدے پڑھنے شروع کر دیئے تھے۔
دہلی انتخابات کے اعلان کے بعد کرن بیدی کا بی جے پی کا دامن تھامنے کے پیچھے کی ممکنہ وجوہات پر بھی بات کریں گے لیکن پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر بی جے پی اور مودی کے تئیں کرن بیدی کا دل تبدیل کیسے ہوا ؟آخر کیاوجہ رہی، جس کی وجہ سے بیدی نے ’کمل کا پھول‘ ہاتھ میں لے لیا ؟بیدی اس کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ مودی کی قیادت سے انہیں اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ اب یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ قیادت تو مودی نے گجرات میں بھی کی تھی لیکن کیا وہ قابل اعتمادنہیں تھا یا پھر مودی پی ایم بننے کے بعد زیادہ قابل اعتمادہو گئے ہیں ؟خیر ہوسکتا ہے بیدی کی بات میں دم ہے، لیکن اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیوں بی جے پی میں شامل ہونے کی خواہش بیدی کو انتخاب کے وقت ہی ہوئی؟
دراصل اس کے پیچھے کی کہانی کو سمجھنے کے لیے اس کردار کو سمجھنا ضروری ہے جس نے ا س کی کہانی لکھی ہے۔اس کی پوری کہانی دراصل 2011میں ہی لکھی جاچکی تھی جب دہلی کے جنترمنتر پر اناہزارے نے ایک تحریک کی شروعات کی تھی۔بظاہر تو یہ عام عوام کے مفاد اور ملک کے مفاد میں تھا لیکن اس کا خاکہ کچھ اس طرح سے کھینچا گیا تھا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی بچ جائے۔اس تحریک کوشروع کرنے کا پلان دراصل ملک کے نوکرشاہوں کی کردار سازی کرنے والی تنظیم وویکانند فاو ¿نڈیشن نے بنایا تھا۔تحریک شروع ہونے سے قبل فاو ¿نڈیشن نے اس تعلق سے ملکی سطح پر ایک منظم سازش رچی ۔اس نے ہندوستان کے سابق فوجی سربراہان،نوکرشاہ ،سیاسی لیڈران ،سماجی خدمت گار،ہندوتوا تنظیموں کے سربراہان کی میٹنگ کرکے اس کا خاکہ تیار کیا ۔اس میٹنگ میں ہندوستان کے ہندوتوا رجحان رکھنے والے تقریباً تمام افراد نے شرکت کی جس نے بعد میں چل کر آرایس ایس اور بی جے پی کو اپنی پناہ گاہ سمجھا اور وہاں آکر ٹھہر گئے۔اس میٹنگ میں اناہزارے،جنرل وی کے سنگھ،اروند کیجریوال ،رام دیو،سوامی اگنی ویش،کمار وشواس کے علاوہ بہت سے ہندوتوانوازوں نے شرکت کی ۔آج کے سیاسی پس منظر میں دہلی بی جے پی کا چہرے بننے والی سابق آئی پی ایس افسر کرن بیدی بھی اس میٹنگ میں اپنی موجودگی درج کراچکی ہیں۔اس میٹنگ میں ہی طے ہوچکا تھا کہ بدعنوانی کو بہانہ بناکر کس طرح اس ملک سے سیکولرزم اور کانگریس حکو مت کا صفایہ کرنا ہے۔اسی میٹنگ کا نتیجہ تھاکہ دہلی کے جنترمنترپر بدعنوانی مخالف تحریک کی شروعات ہوئی اور اس کاچہرا انا ہزارے کو بنایا گیا۔خیر آرایس ایس اور وویکانند فاو ¿نڈیشن نے جس طرح کاپلان بنایا اس نے اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ملک گیرسطح پر کانگریس کے خلاف غم وغصہ کی لہر دوڑگئی جس کا انجام یہ ہواکہ آج گانگریس حکومت سے دور ہے اورہندوتوا نواز پارٹی برسراقتدار ہے۔اسی انا تحریک سے جنم لینے والے متعدد لوگوں نے جب سیاسی پناہ حاصل کی تو یہ بات واض ©ح ہوگئی کہ وہ تحریک تو محض ایک بہانہ تھی،مقصد کانگریس کو اقتدارسے باہر کرناتھا۔انا تحریک کی حقیقت جیسے جیسے سامنے آتی گئی ویسے ویسے تحریک دم توڑتی گئی ۔پہلے تو بابارام دیو ،سوامی اگنی ویش وغیرہ نے الگ تحریک شروع کی اور اپنی اپنی سیاسی روٹیاں سینکیں۔اس کے بعد انا ہزارے کے خاص اروند کیجریوال اور ان کے ہمنواو ¿ں نے عام آدمی پارٹی کی شکل میں سیاسی اننگ کی شروعات کی ۔اس وقت اس پارٹی میں لوگوں نے آنکھ موند کریقین کیا ۔جب عام آدمی پارٹی کا وجود عمل میں آیا اس وقت اس پارٹی میں ملک کے نامور لوگوں نے اپنی زمین تلاش کی لیکن کرن بیدی نے اس وقت یہ کہتے ہوئے اس پارٹی اور سیاست کا حصہ ہونے سے انکار کردیاکہ ملک کی سبھی پارٹیاں بدعنوان ہیں۔ایک طرف توکانگریس سے جس نے ملک کو مہنگائی،بدعنوانی او ر بے روزگاری کے دل دل میں دھکیل دیا ہے وہیں دوسری جانب بی جے پی ہے جس میں گجرات مسلم نسل کشی کے سرغنہ نریندر مودی ہیں ۔میں ایسے ماحول میں نہیں جانا چاہتی ۔بلکہ ایک قدم آگے جاتے ہوئے کرن بیدی نے اس وقت اسی نریندرمودی کو یہ کہہ کر کٹہرے میں لاکھڑا کیا تھا کہ مودی کو مسلم کش فسادات کے لئے ایک نہ ایک دن جواب دینا ہوگا۔لیکن آج کا ایک دن ہے کہ وہی کرن بیدی اسی نریندر مودی کے قصیدے پڑھ رہی ہیں ۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے یا ایسی کون سی مجبوری ہے کہ آج وہی کرن بیدی نریندرمودی کے قصیدے پڑھ رہی ہے؟جواب سیدھا ہے اور وہ یہ کہ ’پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘۔دراصل یہ کہانی اسی وقت لکھی جاچکی تھی جب وویکانند فاو ¿نڈیشن کی میٹنگ ہوئی تھی ۔یہ کہانی اسی وقت لکھی جاچکی تھی جب اناتحریک ہوئی تھی۔یہ کہانی اسی وقت لکھی جاچکی تھی جب ملک میں سیکولرزم کے خلاف آواز بلند ہونے لگی تھی۔ایسے حالات میں اب اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ آنے والے دنوں میں انا تحریک سے جنم لینے والے لوگوں کی طرح پارٹیاں بھی بھگوابریگیڈ کے قدموں میں سرنگوں ہوجائیں۔
کرن بیدی بی جے پی میں شامل ہوگئیں۔اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔آزاد ہندوستانی شہری ہونے کے ناطے انہیں انتخابات لڑنے کی پوری آزادی ہے لیکن سوالات بہت ہیں جن کے جوابات بھی کرن بیدی کو دینے پڑیں گے۔ چھتیس گڑھ میں اپنی این جی او کی طرف سے ایک پروگرام میں شامل ہونے پر انہوں نے جو سفر کے جھوٹے بل پیش کئے تھے تب بی جے پی نے بھی ان کی مخالفت کی تھی اور ان کی ایمانداری پر سوال اٹھائے تھے۔اب بھارتیہ جنتا پارٹی اس بات کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے کہ عام آدمی پارٹی، جو انا تحریک سے نکلی ہے، کے سامنے اسی تحریک کی ایک لیڈر کو کھڑا کر دیا جائے۔یہ بی جے پی کی موقع پرستی تو ہے ہی، کرن بیدی کی بھی ہے ۔
لب لباب یہ کہ کرن بیدی کو ایک ٹھکانہ مل گیا ہے اور بی جے پی کو ایسا امیدوار مل گیا ہے جو انا تحریک سے جڑی رہی ہیں۔وہ سیاست کتنی جانتی ہیں یا کتنی کر سکتی ہیں، اس پر شک تو ہوتا ہی ہے۔ساتھ ہی اس فیصلہ سے ان کی نیت پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔یاد کیجئے وہ ٹویٹ جس میں کرن بیدی نے لکھا تھا کہ کانگریس اور بی جے پی سیاسی فنڈنگ کو آر ٹی آئی کے دائرے میں نہیں لانا چاہتیں تو یہ شرم کی بات ہے اورمیرا ووٹ ان میں سے کسی پارٹی کو نہیں جائے گا۔ آج کرن بیدی اسی پارٹی میں ہے۔ کیا وہاں کرن بیدی بی جے پی صدر سے پارٹی کی فنڈنگ کا حساب مانگے گی ؟
کرن بیدی ہی ہیں جنہوں نے گجرات فسادات کے معاملے میں کلین چٹ ملنے کے باوجود نریندر مودی کی جانب سے صفائی دیئے جانے کی ضرورت بتائی تھی۔ کیا ’صفائی‘ کی وہ ضرورت اب بھی بچی ہوئی ہے یا سوچھ بھارت ابھیان کے جھونکے میں کہیں بہہ گئی ہے؟
کیا خواتین کوبااختیار بنانے کی اپنی مہم کوکرن بیدی بی جے پی میں بھی قائم رکھ پائیں گی؟ ریپ اور فسادات کے معاملات میں نامزد وزراءکے خلاف احتجاج درج کرائیں گی؟ساکشیوں اور سادھویوں کی بدزبانی کو روک پائیں گی؟

