ہندوستان کی جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی تعداد اور جیل کے ماحول نے قیدیوں کی اصلاح کے پروگرام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ لیکن جے پور کے مرکزی جیل نے اسی ماحول میں اصلاح کی ایک نئی راہ نکالی ہے۔جیل انتظامیہ نے قیدیوں میں پینٹنگ کے ہنر کے فروغ کا پروگرام تیار کیا ہے۔ عمر قید کی سزا کاٹنے والے انیس قیدیوں نے ایسی شاندار تصویریں بنائیں کہ وہ اب فروخت ہونے لگی ہیں۔جے پور میں پچھلے دنوں مہاتما گاندھی کی سالگرہ کے موقع پر ان کی تصاویر کی نمائش بھی لگائی گءجن میں سے ایک تصویر تقریبا تیس ہزار روپے میں فروخت ہوئی۔راجستھان کے وزیراعلیٰ اشوک گہلوت بھی قیدیوں کے برش سے بنی تصویروں کی نمائش میں شامل ہوئے۔انہوں نے کہا ’یہ قیدیوں میں اصلاح کی جانب ایک پہل ہے۔ مہاتما گاندھی نے بھی ہمیشہ قیدیوں کی زندگی کو بہتر بنانے پر زور دیا تھا۔ ان تصویروں سے قیدیوں کے فن کا پتہ چلتا ہے۔ حکومت ہمیشہ اس سمت میں کوشش کرتی رہی ہے تاکہ قیدی جب جیل سے باہر اپنی نئی زندگی شروع کریں تو اچھے شہری بن کر آئیں۔‘قیدیوں کی پینٹنگ کی حوصلہ افزائی کے لیے جیل انتظامیہ نے پینٹنگ کے اساتذہ کی مدد لی اور ان کی تربیت کا انتظام کیا۔اس جیل میں ایسے چالیس قیدی تھے جنہوں نے پینٹنگ سیکھی۔ ان میں سے انیس قیدیوں نے ایسی تصویریں بنائیں کہ ان کی خوب صورتی کو دیکھتے ہوئے نمائش میں جگہ دی گئی۔قیدیوں کی تصاویر میں امید کی کرن کے طور پر مناظر قدرت کے نمونے ہیں تو چند پینٹنگز میں مذہب اور روحانی ماحول کو بھی دکھایا گیا ہے۔جیل کے نائب انسپکٹر جنرل سرور خان کا کہنا ہے ’ان قیدیوں میں سے ایک مان بہادر تھاپا نے ایک ماہر فنکار کی طرح تصویروں کا گراف کیا ہے۔ قیدیوں کی اس ہنر میں دلچسپی اور لگن پیش نظر جیل کے اندر کا ماحول بہتر بنانے کا کام تیزی سے جاری ہے۔‘ان تصویروں میں زندگی کے رنگ بھرنے والے قیدی ابھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں مگر ان کے ہاتھوں بنی تصو?ریں جیل کے باہر ان کی صلاحیت کا لوہا منوا رہی ہیں۔جے پور کے ایک پینٹر گوپال ?ھیتانچ? ان پینٹنگز کے بارے میں کہتے ہیں ’اگر ان میں سے کچھ کو مناسب تعلیم ملے تو وہ بہتر آرٹسٹ ہو سکتے ہیں۔ پھر فن آپ میں اچھے ہونے کا احساس پیدا کرتی ہے۔ یہ ایک اچھی پہل ہے۔ فن انسان میں نرمی پیدا کرتی ہے۔‘قیدیوں کے ہاتھوں بنی ان تصویروں میں زندگ? کے شوخ رنگ بھی ہیں ان کا کینوس امید کی روشنی سے چمک رہا ہے۔ کبھی ان ہاتھوں نے جرم کی عبارت لکھی اب دلکش تصویر بناتے ہیں۔شاید اسی لیے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جرم کے لیے ہاتھ نہیں حالات ذمہ دار ہوتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment