ہندوستان کی ریاستیں اترپردیش اور مدھیہ پردیش کے درمیان سونبھدر اور سنگرولی دو ایسے علاقے ہیں جو بجلی کی پیدوار کرنے کے باوجود اندھیرے میں ڈوبے ہیں اور وہاں کے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔’توانائی کے دارالحکومت‘ کہے جانے والے اس علاقے میں ہر گھنٹے دس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاتی ہے اور یہ علاقے ملک کی بجلی کی پیداوار میں دس فی صد سے زیادہ کی حصہ داری رکھتے ہیں۔سونبھدر کا یہ علاقہ ایشیا میں تجارت کے اعتبار سے اہم ہے لیکن یہاں ہر گھر میں بے روزگاری، بدحالی اور بیماری ہے۔کوئلہ کانوں کی کالکی اور بجلی کے کارخانوں کی راکھ میں ڈوبی ایسی ہی ایک اندھیری بستی میں جب ہم پہنچے تو ہماری ملاقات پچپن سالہ سنیتا سے ہوئی جو گزشتہ پندرہ برسوں میں کبھی اپنے گھر سے باہر نہیں نکلی ہیں۔ ہاتھ پیروں سے معذور سنیتا کے پانچ افراد پر مشتمل خاندان میں چار افراد معذوری کا شکار ہیں۔لرزتے ہاتھوں سے مائیک پکڑنے کی کوشش کرتے ہوئے سنیتا نے کہا ’یہ علاقہ کبھی بہت زرخیز ہوا کرتا تھا۔ میری شادی ہوئی تو سب نے کہا میں یہاں بہت عیش کروں گی۔ لیکن چالیس برس کی عمر ہوتے ہوتے میرے ہاتھ پیر بے جان ہونے لگے۔ تب سے میں صرف بیٹھ کر ہی چل پاتی ہوں۔ بیٹا ہوا تو یہ احساس ہوا کہ بڑھاپے میں سہارا بنے گا لیکن اس کے ہاتھ پاو ¿ں تو بچپن سے ہی بیکار ہیں۔ کسی طرح اس کی شادی ہوئی تو اب پوتے کے پیر ٹیڑھے ہونے لگے ہیں۔‘بجلی کے کارخانوں سے نکلنے والے فلورائڈ کی وجہ سے علاقے میں معذوری پھیل رہی ہے۔سونبھدر اور سنگرولی صنعتی علاقے کے تقریباً سو کلومیٹر کے دائرے میں شاید ہی کوئی گاو ¿ں، کوئی علاقہ ایسا ہو جہاں ہر گلی محلے میں بچے اور بوڑھے رینگتے، لاٹھیوں کے سہارے نہ چلتے ہوئے نظر آئیں۔پانی میں فلورائڈ کی موجودگی لوگوں کے جسم کی ہڈیوں کو نشانہ بناتی ہے۔پاس کے علاقے رینوکوٹ میں سرکاری ڈاکٹر راجیو رنجن کہتے ہیں ’لوگ ہینڈ پمپ اور ندیوں سے پانی لاتے ہیں جس میں کارخانے سے نکلا فلورائڈ پوری طرح گھل چکا ہے۔ اس کا اثر جسم کی ہڈیوں اور دانتوں پر پڑتا ہے۔ فلورائڈ سے ایک بار ہڈی بیکار ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی علاج بھی نہیں ہے۔‘ہندوستان کا شمار دنیا کی دوسری سب سے تیزی ترقی کرنے والی معیشت کے طور پر کیا جارہا ہے اور ترقی کی رفتار مزید تیز کرنے کے لیے اس بجلی کی ہر قیمت پر ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے ہندوستان نے سال دوہزار بارہ اور سترہ کے درمیان بجلی کی پیداوار میں سالانہ اضافہ کا ہدف ایک لاکھ میگا واٹ رکھا ہے۔حکومت شاید اس ہدف کو پورا کربھی لے لیکن جن علاقوں میں بجلی کے کارخانے لگے ہیں وہاں کے لوگوں کی زندگی داو ¿ پر لگی ہے۔ایک تازہ جائزے کے مطابق سونبھدر سنگرولی کے علاقوں میں ہوا، پانی اور مٹی ہی نہیں بلکہ وہاں رہنے والے لوگوں کے خون میں پارے یعنی مرکری کے نمونے پائے گئے ہیں۔اس علاقے میں پارہ اپنا اثر دکھا رہا ہے لیکن حکومت کی جانب اس کی کوئی تفتیش نہیں ہوئی ہے۔ہندوستان میں بجلی کی مطالبہ اور بجلی کی صنعت کے منافے میں اضافہ ہورہا ہے اور ریلائنس جیسی بڑی کمپنیاں ان علاقوں میں بجلی کے کارخانے کھولنے کی تیاری میں ہیں۔ایک اندازے کے مطابق سنہ دوہزار اٹھارہ تک سنگرولی میں بجلی کی پیدوار پینتیس ہزار میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔سنگرولی گاو ¿ں میں پیدا ہونے والی بجلی پورے ملک کو جاتی ہے لیکن گاو ¿ں اندھیرے میں ڈوبا ہے۔ چالیس برس میں ابھی بھی وہاں صرف چند گھنٹوں کے لیے کبھی کبھی بجلی آتی ہے۔تو کیا ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے ان علاقوں کے لیے لوگوں یا حق نہیں ہے کہ انہیں نہ صرف بجلی ملے بلکہ ہو صحت یاب اور اقتصادی اعتبار سے بہتر زندگی گزاریں؟
No comments:
Post a Comment