Thursday, October 11, 2012

ملالہ کی ڈائری سے



ملالہ کی داستا دکھاتی ہے کہ شمالی - مغربی پاکستان کی سوات میں طالبان کے جانے کے بعد بھی، ایک 14 سالہ لڑکی کی زندگی کتنے خوف، درد اور مشکلات سے بھری ہے۔ خوشحال اسکول میں پڑھنے والی ملالہ بھی اپنے علاقے کی اور لڑکیوں کی طرح بچپن کی عام مسرت کی راہ تکتی رہتی تھی اور مل جائیں تو محفوظ رکھتی تھی۔ لیکن ملالہ الگ نکلےں، کیونکہ انہوں نے ہمت اور جدوجہد کا راستہ منتخب کیا۔ ملالہ پہلی بار شہ سرخیوں میں 2009 میں آئی جب 11 سال کی عمر میں انہوں نے طالبان کے سائے میں زندگی کے بارے میں گل مکائی نام سے بی بی سی اردو کے لیے ڈائری لکھنا شروع کیا۔ وہ ڈائری کسی بھی بیرونی شخص کے لئے سوات کے علاقے اور اس میں رہنے والے بچوں کی مشکل صورت حال کو سمجھنے کا بہترین آئینہ ہے۔ اس کے لئے ملالہ کو بہادری کے لئے قومی اےوارڈملا اور سال 2011 میں بچوں کے لیے بین الاقوامی امن انعام کے لئے نامزد کیا گیا۔ پاکستان کی سوات میں طویل طالبان شدت پسندوں کا دبدبہ تھا لیکن گزشتہ سال فوج نے طالبان کو وہاں سے نکال پھینکا۔ گزشتہ سال بی بی سی سے بات چیت میں ملالہ نے بتایا کہ طالبان کے آنے سے پہلے سوات ایک دم خوش حال تھا لیکن طالبان نے آکر وہاں لڑکیوں کے تقریبا 400 اسکول بند کر دیے۔
اس دور میں ملالہ نے ڈائری میں لکھا، ’طالبان لڑکیوں کے چہرے پر تیزاب پھینک سکتے ہیں یا ان کا اغوا کر سکتے ہیں، اس لیے اس وقت ہم کچھ لڑکیاں یونیفارم کی جگہ سادہ کپڑوں میں اسکول جاتی تھیں تاکہ لگے کہ ہم طالب علم نہیں ہیں۔ اپنی کتابیں ہم شال میں چھپا لیتے تھے۔ ‘اور پھر کچھ دن بعد ملالہ نے لکھا تھا،’ آج اسکول کا آخری دن تھا اس لئے ہم نے میدان پر کچھ زیادہ دیر کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ میرا خیال ہے کہ ایک دن اسکول کھلے گا لیکن جاتے وقت میں نے اسکول کی عمارت کو اس طرح دیکھا جیسے میں یہاں پھر کبھی نہیں آو ¿ں گی۔‘فوج کی کارروائی کے بعد، سوات میں صورتحال بدل رہی ہے۔ نئے اسکول بھی بنائے جا رہے ہیںلےکن ملالہ کہتی ہیں یہ سب بہت جلد ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ گرمی میں تمبوو ¿ں میں پڑھنا بہت مشکل ہے۔ حالانکہ ملالہ اس بات پر چین کی سانس لیتی ہیں کہ کم سے کم اب ان جیسی لڑکیوں کو اسکول جانے میں کوئی خوف نہیں ہے۔ ملالہ کا کہنا ہے کہ وہ بڑے ہو کر قانون کی تعلیم حاصل کر کے سیاست میں جانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا،’میں نے ایسے ملک کا خواب دیکھا ہے جہاں تعلیم سب سے اہم ہو۔‘ساتھ ہی ملالہ یاد کرتی ہیں کہ طالبان کے دور میں لڑکیاں اور خواتین بازار نہیں جا سکتی تھیں،طالبان کو کیا معلوم کہ خواتین جہاں بھی رہیں، انہیں خریداری پسند ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بازار میں کسی طالب سے پکڑے جانے پر ڈانٹا جانا یا گھر لوٹا دیا جانا یا پھر مارا جانا، ایسے تجربے اب بھی یاد آتے ہیں تو وہ سہر جاتی ہیں۔ اس دور میں خواتین گھر سے باہر کس طرح کا برقع پہن کر جائیں اس پر بھی روک ٹوک تھی، ملالہ کہتی ہیں کہ ان چھوٹی چھوٹی پابندیوں سے آزادی کا احساس بہت سکون دیتا ہے۔

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...