Monday, May 9, 2011

GAIL KA JALWA


گیل  کا جلوہ
کرکٹ کے کھیل میں کب کیا ہوجائے کچھ کہانہیں جاسکتاہے۔ کون کس پر اور کیسے برس جائے قبل از وقت کہنا بڑا ہی مشکل ہوتاہے ۔ اور وہ بھی فٹافٹ کرکٹ یعنیT-20میں ایسی کوئی پیشن کوئی کرنا تو ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ کب کس بلے باز کا قہر ٹوٹے اور اس کا نشانہ کون بنے یہ کوئی بھی کہنے سے قاصر ہوتاہے۔ جیساکہ اس آئی پی ایل میں دیکھنے کو مل رہاہے۔ جی ہاں، اس آئی پی ایل میں تو ایک سے بڑھ کر ایک نظارے دیکھنے کو مل رہے ہیں جو نہ صرف یہ کہ ایک ریکارڈ بن رہے ہیں بلکہ شائقین کو تالیاں بجانے اور خوشیاں منانے کے ساتھ ساتھ اپنے ٹکٹوں کے پیسے وصول کرانے کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں رائل چیلنجرس بنگلور کا مقابلہ کوچی ٹسکرس سے ہوا۔ ٹاس ہوا اور پہلے کوچی ٹسکرس نے بلے بازی کی۔پھر دوسری اننگ کی شروعات ہوئی۔ یہاں تک تو ٹھیک ٹھاک چل رہاتھا۔ اپنے ہدف کا تعاقب کرنے اتری رائل چیلنجرس کی ٹیم کے کھلاڑی کرس گیل جس نے اس سیزن میں5میچ کھیلتے ہوئے دوسنچریوں کے ساتھ 328رن بنائے تھے،نے اننگ کی تیسری اوور میں ایسا قہر ڈھایا کہ سبھی محو حیرت رہ گئے۔ جب گیند کوچی ٹیم کے گیند باز پرشانت پرمیشورن نے تھامی ہوگی تو انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچاہوگا کہ اس کایہ اوور اتنا خراب جائے گا۔ لیکن جناب کرس گیل نے تو قہر ڈھادیا، پہلی اوور دوسری گیند پرچھکا، پھردوچوکہ، پھرلگاتار دوچھکے اور آخری گیند پر چوکا ایساپڑا کہ پرمیشورن کو میدان پر ہی” پرمیشور “دکھائی دینے لگے۔گیل نے اس اوور میں مجموعی طور پر37رن بنایا جس میں ایک نوبال بھی شامل تھی۔
غضب کی بلے بازی کی کرس گیل نے۔ ویسے گیل کیلئے یہ سیزن کافی اچھارہاہے۔ انہوں نے 5میچ کھیلتے ہوئے82کی اوسط اور 205کے اسٹرائک ریٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے328رن بنائے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ اس آئی پی ایل میں سب سے زیادہ چھکا لگانے والے بلے باز بھی بن گئے ہیں۔ گیل نے اب تک26چھکے لگائے ہیں جو اس آئی پی ایل کا اب تک کاایک ریکارڈہے۔ اب جبکہ گیل کا بلا بول رہاہے اچھے اچھے کرکٹروں کے ہوش باختہ ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ اب اس بات کی ہوڑ شروع ہوگئی ہے کہ اس آئی پی ایل کے ”اورےنج کیپ“ پر کون قبضہ جماتاہے ۔گیل نے اپنی جس جارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا ہے وہ آئندہ میچوں میںدوسروںکیلئے بڑا خطرہ بن گئے ہیں۔ اگر اسی انداز میں گیل کا پر فارمنس جاری رہاتو ممبئی انڈینس، کو لکاتہ نائٹ رائدرس اور دیگر آئی پی ایل کے دعویداروں کو کچھ سوچنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ یہی بات ہے کہ اس آئی پی ایل کی دیگر ٹیموں نے خود کوسجانا اور سنوار نا شروع کردیا ہے جس میں خاص طور سے رائل چیلنجرس بنگلور کے خلاف ہونے والے میچ اور اس میں بھی کرس گیل کا سامنے کرنے کیلئے ایک بہتر اور موثر حکمت عملی اپنانا شامل ہے۔
کرس گیل کیلئے بھلے ہی آئی پی ایل کے فرنچائزی نے بولی نہیں لگائی تھی اور انہیں ورلڈکپ میں ناقص کارکردگی کی بنیاد پر ویسٹ انڈیز ٹیم میں شامل نہیں کیا تھالیکن جیسے ہی چیلنجرس نے ڈرک نینس کی جگہ پر انہیں ٹیم میں شامل کیا مانو ٹیم کو ایک سنجیونی بوٹی ہاتھ لگ گئی جس کا اثر تو آپ کی نظروں کے سامنے ہی ہے۔ آج وہ آئی پی ایل کے تمام ایڈیشنوں میں2سنچری لگاکر سرفہرست ہیں ۔یعنی کہ آج چاروں جانب گیل کا جلوہ ہے۔ سبھی کرکٹ شائقین ان کے اور ان کی قہر برپاکرتی بلے بازی کے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔ ایساہوبھی کیوں نہیں؟ آخر گیل نے ایسا مظاہرہ ہی کردکھایا ہے کہ سبھی کوان پر فخر کرنے پر مجبور ہونا پڑاہے۔ بہرحال کرس گیل کاجادو نہ صرف ہزاروں روپے کا ٹکٹ خرید کر میچ دیکھنے والوں کو تفریح کا سامان مہیا کرارہی ہے بلکہ ٹیم کیلئے بھی ایک نیک شگن ہے ۔ایسے میں رائل چیلنجرس بھی اپنے اس قیمتی اور کارآمد ہےرو کیلئے دعاگو ہوگی کہ اسی طرح گیل کا بلا چلتارہے اور اسی طرح ہم جیتتے رہیں اور آخر میں کہلائیں آئی پی ایل 4-چمپیئن!

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...