حضرت شیفتہ لکھنؤ سے واپس کیا لوٹے بقراط صاحب کا مزاج خوشگوار ہوگیا۔ ملتے ہی فرمایا جناب آپکا مصرعہ کل سے کانوں میں گونج رہا تھا کہ ،لکھنؤ سے کوئی آیا کیا دیکھ آ چمن میں، اور بس شیفتہ تشریف لے آئے۔ ہم نے پو چھا حضور لکھنؤ کا کیا حال ہے۔ فرمایا کیا کہیں کیا نہ کہیں۔ ہم نے کہا حضور وہ سپ کچھ کہیے جو ،باباماما، سے میل نہ کھاتا ہو۔ فرمایا اودھ سے لکھنؤ تک کا ایک الگ غم تھا اب لکھؤ سے ،ہتھنؤ، بننے کا دکھ دیکھا نہیں جاتا۔ اودھ کے نوابوں کو بھول کر انکے ہاتھیوں کے مجسمے جابجا نصب کر دئےگیے اور اب اسے،ہتھنؤ، کہنا مناسب لگتا ہے۔ کیا کہیں ، تھی دو نینوں سی گنگا جمنی تہزیب۔ بقراط صاحب نے برجستہ کہا، وہ بیچاری بھی بھینگی ہوگئی۔ فرمایا خوب کہا ۔ شہر لکھنؤ سے رامپور تک کچھ عجب نظارہ تھا۔ ہر جگہ مایا جال، کہیں جی کا جنجال، وہ اکھڑ پن کہ لکھنؤ کی نزاکت و فصاحت کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ کالی سفید حسینائیں مغربی کاروں کی طرح دندناتی پھرے ہے ہر جا۔ اور ایک خاتون کا نام تو ہے پردہ پر رہے ہے بے پردہ۔ چندسال پہلے اہلیانِ حکومت ،منافقت ہی سہی لیکن کچھ نرم و ملائم نظر آتے تھے لیکن اب تو منہ میں کریلا اور تیوری پر ،ہل، چڑھائے گھومتے ہیں۔ ہم نے کہا حضور آپکا مطلب ہے بل چڑھائے فرمایا جناب بل میں تو گنتی کی سلوٹیں ہوتیں ہیں۔ آپ ہل کا تصور کیجیے اور محاورہ تبدیل کر دیجیے۔
بقراط صاحب نے پوچھا اپنے معاشرہ کا کیا حال ہے۔ فرمایا الحمداللہ قدیم لکھنؤ کے شہدوں کی اولادیں بھی اب دین سے جڑگئیں اور تیر و تفنگ پھینک کر جدید علوم سے فارغ التحصیل ہیں۔ اچانک حضرت شیفتہ کو ہماری خاموشی سے بے چینی ہونے لگی ۔ اک استفہامیہ نگاہ ڈالی اورگویا ہوئے۔ آپ کو دیکھکر محسوس ہوتا ہے کہ، آ عندلیب ملکر کریں آہ وزاریاں۔۔تو ہائے گل پکار میں چلاوں ہائے دل۔ ہم نے کہا حضور بقراط صاحب کی کل یہی کیفیت تھی۔ ہمارا حال کچھ مختلف ہے۔ پوچھا کیا بزم میں پھر کوئی انہونی ہوگئی اور یہ ،باباماما، رشتےدار کسکا ہے۔ وہی تو نہیں جسکی خرمنِ ہستی پر بجلی کیا گری ،ق، بُرّاق سے پگھل کر ،ک، ہوگیا۔ بقراط صاحب نے فرمایا حضور یہ وہی برق زدہ ہے۔ شیفتہ نے پوچھا بچ کیسے گیا۔ بقراط نے کہا بس اب بجھے دیے کیطرح ہے۔ اسکے نام سے تشدید بھی پگھل کر غائب ہو گئی اس سے پہلے کے پورا نام پگھل جاتا کسی نے انگریزی کا ،او، لگا کر منجمد کردیا۔ شیفتہ نے کہا ہم لکھنؤ چھٹی کیا گئے دنیا میں کیا کچھ ہوگیا۔ ہم نے کہا اگر آپ دنیا سے چلے گئے تو سوچیے اور کیا ہوجائے ۔ فرمایا حضور توبہ کیجیے ہمارے اب گنگنانے کے دن ہیں۔ ہم نے کہا بڑبڑانے کے بھی لیکن آپ یہ بتائیے کہ ہم دونوں کے لئے لکھنؤ سے کیا لائےہیں۔ فرمایا جناب کیا لاتے۔ اکثر نان بائی اور کبابچی تو بمبئی آگئے تھے اور جو بچے وہ دبئی اور سعودی سدھارے۔ سسرال والوں نے جو ،بہشتی کباب، دیے تھے وہ بیگم ریل کے سفر میں پان کی گلوریاں سمجھکر کھا گئیں۔ لکھنؤ کے کرتے اور اچکن آپ دونوں کے لیے لائے ہیں۔ ایک حسرت ہمیشہ رہی دل میں کہ آپ دونوں کو کبھی شریفانہ لباس میں دیکھتے۔
بقراط صاحب نے فرمایا شکریہ حضور لیکن ہمارے لباس میں قباحت کیا ہے۔ فرمایا نہ قبا ہے نہ کسی قسم کی حت، نہ ملاحت، نہ راحت، نہ صحت اور فصاحت تو زرا بھی نہیں، نہ ہی لباس میں کوئی وزن، ناف کا قافیہ تنگ اور ردیف لا پتہ، گردن سے کلائی تک کوئی بحر نہیں بس سینے سے نیچے ایک بحرِ حمل۔ ہم نے کہا حضور وہ بحرِ رمل ہے۔ فرمایا اور نہ ہی کہیں رنگِ تلمیح، نہ بٹن میں تشبیہ نہ کف میں کوئی استعارہ۔ لباسِ شریفانہ نہ ہوا لباسِ رقیبانہ ہوا۔ ہم نے دل ہی دل کہا شیفتہ تم سے خدا ہی سمجھے، لیکن امریکیوں کی ذلالت سے تو بہتر ہے اپنوں کے ستم ظریفانہ ۔
بقراط صاحب گویا ہوئے۔ حضور ہمارے لباس نرے مغربی تو نہیں۔ فرمایا مکمل مغربی تو نہیں کیونکہ انکا تو وہ حال ہے کہ۔ امیری اور غریبی اوڑھے چیتھڑے دونوں۔کہیں پیسوں کی کہیں حیا کی تنگی ہوگئی۔ ہم نے کہا حضور فرانس میں اہلِ ایمان اپنی شناخت کی جنگ امن اور ثابت قدمی سے لڑ رہے ہیں ہمیں ان پر فخر ہونا چاہیے۔ فرمایا بلکل ہونا چاہیے، لیکن اہلِ بر صغیر آپلوگ بس فخر کرتے رہیو انکے اوصاف مت اپنائیو۔ اور جب کبھی ایکدوسرے سے گلے ملنا ہو تو وہی پرانا جواز ڈھونڈو اور فرنگیوں کو خوب گالیاں دو۔ ہمارے پاس اس کے سوا متحد ہونے اور گلے ملنے کی کوئی وجہ ہے کہاں ۔ بقراط صاحب نے فرمایا اس معاملے میں کم از کم اہلِ مغرب آپس میں متحد ہونے کے لیے کسی عرب یا غیر فرنگی کو گالیاں نہیں دیتے اور یہ انکی اعلی ظرفی ہے۔ ہم نے کہا ظرف سے اہلِ مغرب کا دور دور کا بھی واسطہ نہیں۔ انکے پاس ہر کام کے لیے ایک جادوئی لفظ ہے،اسٹراٹیجک،۔ بس اسے جہاں چاہے وہ استعمال کر لیتے ہیں ۔ چاہے رشتے استوار کرنا ہو یا بگاڑنا ۔ سیاست، شرافت، عداوت اور یہاں تک کے اپنی اولاد کی تربیت کے لیے بھی۔ حضرت شیفتہ کے اوسان خطا ہوگئے فرمایا کاش یہ میر وغالب کو پتہ ہوتا۔ کمالِ فن تو دیکھیے کہ عشق کرنے سے لےکراولاد پیدا کرنے تک سب کچھ ایک کمبخت لفظ کے تحت ہوتا ہوگا۔ نوکری، تجارت، تعلقات، مذہب، حکومت، زندگی موت سب ایک ہی محور کے تحت، یعنی۔ گر نہیں زندگی میں معنی، نہ سہی، اسٹراٹیجی تو ہے۔
بقراط صاحب نے کہا ایک بات انکی یہ بھی قابلِ تعریف ہے کہ اسٹراٹیجی کا جب استعمال کیا تو مذہب کو در کنار نہیں کیا۔ ہم نےکہا اہلِ مغرب نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے مذہب کو مکمل اپاہیج تو کردیا لیکن نہ ہی زندگی سے باہر کیا اورنہ ہی علم وادب سے۔ شیفتہ نے کہاپھر وہ ترقی پسند ادب میں کہاں سے آئے تھے۔ ہم نے کہا حضور اگر آپ انکو بمبئی کے تناظر میں سمجھنا چاہیں تو عرض ہے کہ ستّر کی دہائی میں ہمیں انکو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ سب صبح یٰسین شریف پڑھکر گھر سے نکلتے اور کالج یونیورسٹی میں ،انٹلکچوول، کہلانے کی ہوڑ میں ترقی پسند بننے کا ڈھونگ رچاتے۔ ان سب کے باقاعدہ نکاح ہوئے اور بسترِ مرگ پر اکثر کو کلمہ بھی نصیب ہوا۔ بقراط نے کہا واہ کیا ،اسٹراٹیجی، تھی۔ ہم نے کہا ہاں گنتی کے کچھ ،فرائڈ زدہ، بھی تھے انکا حشر بھی دنیا نے دیکھ لیا۔ مختصر یہ کہ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، بے مذہب ادب اور بے ادب مذ ہب دونوں کو زوال ہوا۔ شیفتہ نے بقراط صاحب کو کچھ کہنے سے روک دیا اور فرمایا بس کیجیے اب اس منحوس لفظ کو زبان پر نہ لائیں سنکر ہی متلی ہونے لگتی ہے۔ ہم نے کہا حضور برداشت کرلیں کچھ دن۔ ،اسٹراٹیجی، بھی زوال پذیر ہے۔ باقی تو وہی رہے گا جو حق ہے۔
بقراط صاحب اچانک ،مہم پسند، نظر آنے لگے اور فرمایا حضور آپ ،مسند نشیں، نہیں ہو کہ معصوم عن الخطاء کہلاو، اسلئے حق کی بات کرنا نادانی ہے۔ اور ویسے بھی بمبئی والوں کے حقوق دیگروں سے مختلف ہے۔ شیفتہ نے کہا لیجیے اب حق بھی علاقائی ہوگیا۔ ہم نے کہا ،یارانِ خرد، حق عالمی بلکہ لاہوتی ہے اور شکر الحمداللہ کہ ہمارے دین کے تحفظ کا ذمہ خود مالکِ دو جہاں نے اٹھا کر اسے ،پریسٹ ھڈ، سے دور رکھا ورنہ جنابِ فلکی کے سابقہ شعر سے استفادہ کرتے ہوئے یہ کہنا پڑے کہ۔ اگر حقوق کے گوشوارے بنیں تو کوئی بھی اہلِ ایمان نہ ہو۔ ہاں ہم سب ،اسٹراٹیجک، زدہ بن جائیں گے۔
No comments:
Post a Comment