اگرچہ ضرورت ایجاد کی ماں ہی، لیکن ہم اکثر سوچتے ہیں کہ اگرآئینہ ایجاد نہ ہوتا تو آدم زاد کی زندگی کتنی پھیکی، بے مزہ اور ویران ہوکر رہ جاتی۔ آئینے نے آدمی کی زندگی میں ہلچل‘ طمانیت اور رنگینی پیدا کردی ہے۔ وہ اپنے دن کا آغازآئینہ دیکھ کر کرتا اور آئینے پر ایک الوداعی نظر ڈال کر دن بھرکی مصروفیات کو سمیٹتا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں ساری عمرآئینہ دیکھنا نصیب نہیں ہوتا۔ سبب اس کا یہ نہیں کہ ا±ن کی مصروفیت انہیں آئینہ نہیں دیکھنے دیتی، بلکہ وہ زندگی کے شکنجے میں ایسے کسے ہوئے ہیں کہ انہیں آئینہ ہی میسر نہیں ہوپاتا۔ وہ اپنا سراپا دیکھے بغیر ساری عمرگزاردیتے ہیں اور بے نیل ومرام دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ ان لوگوں کو عرف ِعام میں عوام کالانعام کہا جاتا ہے۔ دانشورکہتے ہیں کہ آئینہ کیا، ان لوگوں کے لیے کوئی چیز بھی ایجاد نہیں ہوئی۔ اب یہی دیکھیے کہ بجلی اِس دور کی اہم ترین ایجاد ہے لیکن عوام کالانعام کو یہ میسر نہیں۔ وہ یہ تو جانتے ہیں کہ بجلی بہت کام کی چیز ہی، اس سے زندگی میں بہت آسانی پیدا ہوجاتی ہی، بہت سے کام پلک جھپکتے ہوجاتے ہیں، بجلی ہی کے طفیل جان لیوا گرمی میں ٹھنڈی ہوا اور ٹھنڈا پانی میسر آتا ہی، لیکن عوام یہ سب کچھ جاننے کے باوجود بجلی کے دیدار سے محروم رہتے ہیں۔ اگر وہ کبھی آتی بھی ہے تو انہیں اور تڑپا کر چلی جاتی ہے۔لیجیے صاحب! بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ ذکر ہورہا تھا آئینے کا۔ آئینے کو اردو شاعری میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ شاعر نے جہاں اپنے کلام میں محبوب کے حسن اور اس کی ہوشربا اداوں کا ذکرکیا ہے وہیں اپنے بیان کی تائید میں آئینے کی گواہی بھی پیش کی ہے کہ آئینہ جھوٹ نہیں بولتا اور اس کی گواہی بہت معتبر سمجھی جاتی ہے۔ مومن خان مومن اپنے عہد کے نہایت ہوش مند شاعر تھے، انہیں شاعری کے ساتھ ساتھ حکمت اورفلسفے میں بھی درک حاصل تھا، اس لیے وہ اس کوشش میں رہتے تھے کہ ان کا محبوب آئینہ نہ دیکھنے پائے اور وہ اس کے ہوشربا اثرات سے بچے رہیں۔ چنانچہ کہتے ہیں: تابِ نظارہ نہیں آئینہ کیا دیکھنے دوں اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گی لیکن غالب اپنی طرز کے انوکھے شاعر تھے۔ وہ اپنے محبوب سے چہلیں کرنے اور اسے تنگ کرنے سے باز نہیں آتے تھے۔ چنانچہ کہتے ہیں: آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئی صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا وقت کی برق رفتاری نے اچھے بھلے آدمی کو مشین کا پرزہ اور گاڑی کا پہیہ بنادیا ہے لیکن آئینے کا طلسم اور اس کی حشرسامانی بدستور قائم ہے۔ بنت ِحوا جوکسی زمانے میں سارا سارا دن آئینے کے سامنے بیٹھ کر گزار دیتی تھی اب وقت کی گردش کے ہاتھوں کولہو کا بیل بن کر رہ گئی ہے۔ منہ اندھیرے اٹھی، گھرکے ضروری کام کاج نمٹائی، ناشتہ کیا، بچوں کو تیارکرکے اسکول چھوڑا اور خودکسی دفتر یا تعلیمی ادارے یا اسپتال کی راہ لی۔ اب آپ سوچیں گے کہ ایسے میں بھلا اس بے چاری کو آئینہ دیکھنے کا کیا ہوش ہوگا! نہیں صاحب ایسا نہیں ہی، اس مصروف زندگی میں بھی آئینے سے اس کا رشتہ بہرحال قائم ہے۔ صبح آئینے کے سامنے کھڑی ہوکر اپنے سراپے کا جائزہ لیا، بال سنوارے‘نک سک سے درست کیا اور اپنے معمولات پر روانہ ہوگئی۔ اب یہ نہ سمجھئے کہ سارے دن کے لیے آئینے سے اس کا تعلق ٹوٹ گیا ہے۔ نہیں صاحب! ایک چھوٹا سا آئینہ اور میک اپ کا مختصر سامان اس کے پرس میں موجود ہی، وہ جب چاہے پرس سے آئینہ نکال کر اپنے چہرے سے ہمکلام ہوسکتی ہے۔سچ پوچھیے تو آئینہ آدمی کا ہمزاد ہی، وہ اس کے ساتھ رہتا اور اس کی خوبیوں خامیوں سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ ہم جس چیز کا سامنا کرنے سے کتراتے اور جس حقیقت کو دیکھنے سے منہ چھپاتے ہیں آئینہ اسے بلاجھجک ہمارے روبرو کردیتا ہے۔ ہمارے چہرے پر مہ وسال کی گردش سے پڑنے والے اثرات کا پتا سب سے پہلے ہمیں آئینہ ہی دیتا ہی، اور ہم ان اثرات کو چھپانے کے لیے آئینے کا ہی سہارا لیتے ہیں۔ آئینہ ہمارا دمساز بھی ہے اور ہمراز بھی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ آئینے سے بگاڑ اچھا نہیں۔ جو لوگ آئینے سے ناراض ہوتے ہیں اور طیش میں آکر اسے توڑ دیتے ہیں وہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں اور بے خبری میں زندگی گزارتے ہیں۔ سکھوں کے بارے میں ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک سردار جی ٹرین کے درجہ اوّل میں سفرکررہے تھی، انہیں دورانِ سفر واش روم جانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ دروازہ کھولا تو آئینے میں اپنی شکل نظر آئی‘ ”سوری“ کرکے پیچھے ہٹ گئے اور اپنی نشست پر واپس آکر انتظار کرنے لگے کہ اندر موجود شخص باہر نکلے تو وہ جائیں۔ جب کافی دیرتک کوئی آدمی باہر نہ نکلا تو انہوں نے پھر جرا¿ت رندانہ سے کام لیتے ہوئے دروازہ کھولا لیکن آئینے میں اپنی صورت دیکھ کر بڑبڑاتے ہوئے پھر پیچھے ہٹ گئے۔ آدمی شریف تھی، سوچا یہ شخص اس طرح باہر نہیں نکلے گا، ٹرین گارڈ سے مدد لینی چاہیے۔ ٹرین ایک اسٹیشن پر رکی تو گارڈ کے پاس گئے اور اس سے شکایت کی کہ ایک شخص واش روم میں گھسا ہی، نکلنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ گارڈ بھی اتفاق سے سکھ تھا، کہنے لگا ”چلو دیکھتے ہیں کون بدمعاش آپ کو تنگ کررہا ہے“۔ اس نے آکر ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا تو آئینے میں اپنی شکل نظرآئی، آہستہ سے دروازہ بند کرتے ہوئے بولا”اپنا ہی آدمی ہی، آپ دوسرے کمپارٹمنٹ میں ہوآئیں“۔یہ تو ہوا لطیفہ، لیکن عملی زندگی میں بھی بعض لوگوں کا رویہ کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ وہ آئینے میں اپنی شکل نہیں پہچان پاتے اور ساری عمرآئینے سے لڑنے جھگڑنے میں گزار دیتے ہیں۔ سیاست دانوں اور خاص طور پر حکمرانوں میں یہ مرض عام ہے۔ انہیں آئینہ دکھایا جائے تو برا مان جاتے ہیں اور زور زبردستی پر اترآتے ہیں۔ آئینہ جھوٹ نہیں بولتا۔ حکمران بے شک آئینے میں اپنی شکل پہچاننے سے انکارکردیں لیکن اس سے کیا ہوتا ہے۔ پتّا پتّا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہی پوری دنیا ہمارے حکمرانوں کا چہرہ پہچان رہی ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ حکمرانوں کا بگاڑ کہیں پوری قوم کو نہ لے ڈوبے اور آئینہ دہائی دیتا رہ جائے۔
No comments:
Post a Comment