وقت اور حالات کب کس کروٹ بدلتے ہیں اس کی پیشن گوئی عام انسان کے بس میں نہیں ہوتی ۔ کب کس کا ستارہ گردش میں آجائے یہ بھی قبل از وقت کہنا بڑا ہی مشکل ہو تا ہے ۔جےسا کہ اس وقت قریب ایک صدی سے معاشی ، اقتصادی اور فوجی طاقت کا تاج پہنے بیٹھے امریکہ کے ساتھ پےش آرہا ہے، جس پر قرض کے مرض کا اثر صاف دیکھا جا سکتا ہے۔حالیہ دنوں میں اپنا کریڈٹ ریٹنگ گھٹنے کے صدمے سے امریکہ ابھی ابھر بھی نہیں پا یا تھا کہ اسٹینڈر ڈ اینڈ پوورز نے اسے ایک اور کرارا جھٹکا دے دیا۔ یہ جھٹکا ایسا لگا کہ امریکہ کو دن میں تارے نظر آنے لگے ۔ دنیا کے سب سے طاقتور شخص براک اوبامہ اور سپر پاور امریکہ دونوں اپنی اوقات میں آتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ جیسے ہی ہفتہ کو یہ خبر آئی کہ عالمی سطح پر اقتصادی ساکھ کا تعین کرنے والی ایجنسی اسٹینڈر ڈ اینڈ پوورز نے امریکہ کے قرض لینے کی اہلیت کو گھٹا کر A+کردیا ہے اس خبر نے نہ صرف امریکہ کے ہوش اڑا دیئے بلکہ اس خبر سے ساری دنیا سکتے میں آگئی۔ یہ ایسی خبر تھی جس نے پوری دنیا کے حصص مارکیٹ کو اپنی زد میں لے لیا اور پوری دنیا کے اسٹاک مارکیٹ میں کھلبلی مچ گئی۔ یکے بعد دیگرے مختلف ممالک کے شیئر بازاروں سے رونقیں غائب ہونے لگیں اور اس سے منسلک افراد میں بے چینی اور اضطرابی کیفیت پیدا ہونے لگی ۔ظاہر سی بات ہے کہ جب سپر پاور کے سر پر خطرات کے بادل منڈلائےں گے تو بقےہ کی پےشانی پر بل تو پڑے گا ہی۔ہم جس سپر پاور کی بات کررہے ہیں اب اس کی حالت اس قدر باگفتہ بہ ہوگئی ہے کہ دوسرے ممالک تو کیا خود ان کیہی اپوزیشن اس بات کی اجازت دینے میں لیٹ لطیفی کی تھی کہ جس سے ”سپر پاور “ کی اقتصادی حالت بہتر ہوسکے ۔ یہی کچھ ایک دو ہفتے قبل کی ہی بات ہے جب امریکی صدر براک اوبامہ نے سینیٹ میں ایک تجویز رکھی تھی کہ موجودہ قرض لینے کی حدود کو بڑھا یا جائے جس سے معیشت کو درپیش خطرات سے باہر نکالنے میں دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن اپوزیشن نے اس ایک تجویز کوپاس کرانے کےلئے اوبامہ کو لوہے کے چنے چبانے پر مجبور کر دےا۔ اس بل کو حالانکہ اپوزیشن نے گذشتہ 30اگست کو منظوری دے دی ہے لیکن اسے منظور کرانے میں امریکی صدر براک اوبامہ کو کتنے پسینے آئے اسے ساری دنیا نے محسوس کیا۔ اب تک جس امریکہ کو دنیا سپر پاور تسلیم کرتی رہی ہے اب اس پر قرض کا تنا بڑا بوجھ آن پڑا ہے جس میں دب کر وہ کراہ رہا ہے۔ حالیہ آئی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ پر چین کا 1.2ٹریلین ڈالر ، جاپان کا 912بلین ڈالر ، برازیل کا 211بلین ڈالر ، برطانیہ کا 346بلین ، روس کا 115بلین ڈالر کے علاوہ ، مجموعی طور پر تقرےبا 1.83لاکھ کڑور کا قرض ہے جو مذکورہ ممالک نے امرےکی برانڈ اور سےکورٹی مےں سرماےہ کر رکھا ہے ۔ یعنی کہ اب سپر پاور امریکہ کو ”سپرقرض دار “ کا خطاب دیا جائے اور اسے اس نام سے پکارا جائے تو بے جا نہیں ہو گا۔ اب جبکہ امریکہ اپنے ابتر ہوتے حالات پر بے بس و مجبور نظر آرہا ہے اس سے ہندوستان کو بھی خطرہ لاحق ہے ۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکہ میں غیر ممالک سے جتنی سرماےہ کاری ہوئی ہے اس میں ملک ہندوستان کی حصے داری تقریباً 41ارب ڈالر ہے ۔ یہ رقم فرانس اورآسٹریلیا جیسے ممالک کی جانب سے کی گئی سرمایہ کاری کے مقابلے کافی زیادہ ہے ۔ دوسری جانب اسٹینڈرڈ اینڈ پوورز نے ایک اور انتباہ یہ دے ڈالا ہے کہ امریکی کریڈٹ ریٹنگ کے تعلق سے ہمارا نظریہ منفی ہے اور اگر امریکہ کی اقتصادی حالت اور بگڑتی ہے یا سیاسی گٹ بازی اور پیچیدہ ہوتی ہے تو کریڈٹ ریٹنگ کو اور کم کرنے کا راستہ ہموار ہو جائیگا ۔ یعنی کہ اب سپر پاور کو اپنی جان پر آن پڑی ہے ۔ حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ امرےکہ تباہ و بر باد ہونے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ اس ضمن میں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اب G-7کے ممالک امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی ، جاپان ، فرانس ، کناڈا اور اٹلی نے اےمر جنسی میٹنگ کرکے اس بلاسے چھٹکا را پانے کے لئے غور و خوض کرنے کا من بنایا ہے۔ لب لبا ب یہ کہ ایک صدی سے عالمی منظر نامے پر اپنی دھاک اور اپنا قبضہ جمائے امریکہ پر خطرات کے جو بادل منڈلا رہے ہیں اس سے نہ صرف یہ کہ عالمی سطح پر بے چینی ، بے بسی اور اضطرابی کیفیت پیدا ہوگئی ہے بلکہ پوری دنیا میں ایک بار پھر سے 2008کی طرح معاشی بحران پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ۔ یہ وہ خطرہ ہے جو عالمی معیشت کی کمر توڑ کر اسے بد حال اور غیر فعال بناسکتا ہے ۔
No comments:
Post a Comment